Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 161–170 of 200

161

وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

اس کے بعد بات نبوت اور خصائص نبوت کی طرف چلی جاتی ہے تاکہ اس موضوع کے بعد امانت ودیانت کے بارے میں کچھ ہدایات دی جائیں ‘ مثلاً یہ کہ مال غنیمت میں کسی قسم کی بددیانتی اور چوری سخت معیوب چیز ہے ۔ اور یہ کہ جو شخص بھی اجتماعی امانتوں میں بددیانتی کرے گا وہ اس کا حساب دے گا۔ اور ہر شخص کا حق اسے پورا پورا دیا جائے گا۔

وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ

” کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرجائے ……اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورابدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “

احد کی پہاڑی اور گھاٹی سے تیراندازوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اپنی جگہ اس لئے چھوڑ دی تھی کہ انہیں یہ خوف دامن گیر ہوگیا تھا کہ شاید بعد میں رسول اللہ ﷺ انہیں کوئی حصہ نہ دیں۔ اس طرح جنگ بدر کے اموال غنیمت میں بعض منافقین نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ غنیمت میں سے کچھ چیزیں غائب ہوگئی ہیں ۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ حیا بھی نہ آئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا نام لینے سے تو احتراز کریں۔

اس لئے اس آیت میں یہ حکم اور قاطع فیصلہ آگیا کہ حضرت محمد کیا کوئی نبی بھی ہرگز یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اموال غنیمت میں سے کوئی چیز ادہر ادہر کردے۔ یعنی مال غنیمت میں سے کوئی چیز علیحدہ رکھ لیں اور یہ کہ وہ بعض فوجیوں کو زیادہ حصہ دیں یا غرض وہ کسی طرح کی کوئی خیانت کریں۔ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ……………” نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ مال غنیمت میں کوئی خیانت کرے۔ “

یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ وہ اس کے مزاج اور طبیعت نبوت کے خلاف ہے۔ وہ اس کے اخلاق کے خلاف ہے کہ ایسا کرے۔ گویا ذات نبوت سے اس فعل کا وقوع ہی ممکن نہیں ہے ۔ یہاں یہ نفی حلت اور حرمت کی نفی نہیں ہے۔ اس لئے کہ نبی کی امانت دار ‘ منصف مزاج اور پاک طبیعت اور مزاج ہی کے خلاف ہے کہ اس سے اس قسم کی کوئی بات وقوع پذیر ہو۔ بعض قرأتوں لفظ یَغُلَّ ہے۔ یعنی مجہول کا فیصلہ آیا ہے ۔ یعنی یہ بات جائز نہیں کہ نبی کے ساتھ خیانت کا برتاؤ کیا جائے ۔ اور اس کے متبعین اس سے کوئی چیز چھپائیں ۔ اس صورت میں یہاں اس بات کی ممانعت ہوگی کہ رسول ﷺ کے ساتھ اس کے پیروکار خیانت نہ کریں اور یہ قرأت آیت کے آخری حصے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ حسن بصری (رح) کی تلاوت ایسی ہی تھی ۔

اس کے بعد ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ جس نے خیانت کی مال غنیمت میں یا اور حکومتی اموال میں تو ان کا انجام یہ ہوگا۔

مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور جو خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “

امام احمد نے ‘ سفیان ‘ زہری ‘ عروہ ‘ ابواحمد ساعدی کی روایت نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن لتبیہ نامی کو زکوٰۃ کا تحصلیدار مقرر فرمایا۔ وہ جب واپس آیا تو کہا یہ مال آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ اس پر رسول ﷺ ممبرپر کھڑے ہوئے اور یہ تقریر فرمائی :” ان تحصیلداروں کا کیا حال ہے کہ ہم انہیں کام پر لگاتے ہیں اور واپس آکر وہ کہتا ہے کہ یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا اور انتطار کرتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا یا نہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو شخص بھی اس مال سے کوئی چیز لے گا ‘ قیامت کے دن وہ اس کے کاندھے پر ہوگی ۔ اونٹ ہوگا اور وہ آواز دے رہا ہوگا ‘ گائے ہوگی اور وہ آواز دے رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو بھی وہ ممیا رہی ہوگی ۔ (بخاری مسلم)

اور امام احمد نے اپنی سند کے ذریعہ حضرت …

Aal-i-Imraan 3:161Listen in Qur'an →
162

أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے

یہ وہ دوررس تبدیلی ہے جس کے سائے میں ‘ تربیت پانے والوں کی نظروں میں اموال غنیمت کی کوئی حیثیت نہیں ‘ اس دنیا کے بارے میں سوچنا ہی حقیر ہوجاتا ہے اور قرآن منہاج تربیت کے خطوط میں سے ایک خط ہے ۔ یہ عجیب نقوش ہیں جن پر یہ منہاج انسانی دلوں کی تربیت کرتا ہے۔ ان کی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں ‘ ان کے افق ہی بدل جاتے ہیں ۔ اس لئے وہ دوسرے میدانوں کو چھوڑ کر زندگی کے اصل ہدف کی طرف آگے بڑھتے ہیں۔

أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ……………” بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضاپر چلنے والا ہو ‘ وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو ‘ جو بدترین ٹھکانہ ہے ۔ “

یہ ہیں حقیقی اقدار ۔ یہ ہے میدان جس میں امید ہونی چاہئے ۔ یہ ہے وہ میدان جس میں کام ہونا چاہئے اور یہ ہے وہ فیلڈ جس میں کمائی یا خسارے کی بات ہونی چاہئے ۔ اور کس قدر وسیع خلیج ہے اس شخص کے درمیان جو رضامندی باری تعالیٰ کا طلبگار ہو اور اس میں کامیاب بھی ہو اور اس شخص کے درمیان جو راہ غضب پر ہو اور اس میں گھر بھی چکاہو اور جہنم کا مستحق ہوگیا ہو جویقیناً بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:162Listen in Qur'an →
163

هُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

یہ بھی ایک مقام ہے اور وہ بھی ایک مقام ہے اور ان دونوں مقامات کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ……………” یہ درجے ہیں اللہ کے نزدیک۔ “ ہر شخص اپنے مقام تک استحقاق کی بناپر پہنچتا ہے ۔ اس لئے اس معاملے میں نہ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی ہے اور نہ بےجا محبت اور طرفداری ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ……………” اور اللہ اپنے بندوں کے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ “

Aal-i-Imraan 3:163Listen in Qur'an →
164

لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

اب یہ پیراگراف اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کی طرف۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کو رسول بناکر دراصل اللہ تعالیٰ نے مکہ مدینہ اور پوری دنیا کے اہل ایمان پر ایک عظیم احسان کیا ہے ۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ رسالت کی اس اسکیم پر غور کریں۔

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ

” درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے ‘ ان کی زندگیوں کو سنوراتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ‘ حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔ “

اس پیراگراف کا اختتام حقیقت نبوت محمدیہ پر کرنا ‘ اور آپ کی ذاتی حیثیت ومقام کو یہاں بیان کرنا اور اسے ایک عظیم احسان جتانا ‘ اور آپ اور آپ کی نبوت کا اس امت کی تعمیر وتشکیل میں اہم کردار جتلانا اور اس امت کی تعلیم وتربیت اور اس کی قائدانہ صلاحیت اور کھلی گمراہی سے نکل کر اس کا علم و حکمت اور تزکیہ اور طہارت کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جانے کا تذکرہ ان سب امور کے اندر متنوع اور عمیق قرآنی احساسات ہیں جن پر غور ضروری ہے ۔

یہ آیات ابتداً مال غنیمت پر بطور تبصرہ آئی ہیں کہ مال غنیمت کا لالچ ‘ اس سے کسی چیز کے چوری ہونے ‘ اور اس معمولی کام کے اندر بہت زیادہ مشغول ہونے کی وجہ سے تم نے احد کی جیتی ہوئی جنگ ہاری ۔ اور تمہاری فتح شکست میں بدل گئی ۔ اور اس کی وجہ سے مسلمان ملت کے ساتھ وہ کچھ ہوا جو تم نے دیکھ لیا ۔ اس ریفرنس میں رسالت کے عظیم منصب کے تذکرے اور اس عظیم احسان کے تذکرے جو احساس دلانا مقصود ہے وہ بہت ہی گہرا ہے ۔ اور اس سے قرآن اپنے مخصوص انداز کے ساتھ امت کی تربیت کرنا چاہتا ہے ۔ اس عظیم منصب کے ذکر اور یہ سمجھانے سے کہ یہ کس قدرعظیم احسان ہے تمہارے لئے یہ تاثر اور احساس دینا مطلوب ہے کہ تمام زمین کے اموال غنیمت ‘ تمام کرہ ارض سے چھینا ہوامال اور تمام دنیا کے سامان واسباب ‘ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں اور ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ قابل ذکر ہی نہیں ہیں ۔ اس عظیم منصب ونعمت کے ہوتے ہوئے ان حقیر چیزوں کے تذکرے سے بھی ایک مسلمان کو حیا آتی ہے بلکہ اس کے بارے میں سوچنا بھی شرمندگی ہے ۔ چہ جائیکہ مسلمانوں میں سے کوئی اس کے اندر دلچسپی لے ۔

پھر یہ فکر انگیز اشارہ اس وقت دیا گیا کہ مسلمانوں کو شکست ہوچکی تھی ‘ وہ رنج والم میں مبتلا تھے اور اس معرکے میں مسلمانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی تھیں ۔ ایسے حالات میں نبوت کے عظیم منصب کے عظیم کام کو سامنے لاکر یہ فکر دلانا مقصود ہے کہ اس نبوت کے ذریعہ تم پر جو احسانات ہوئے ذرا ان پر بھی تو غور کرو ۔ یہ وہ عظیم احسان ہے جو کو دنیا کے تمام دوسرے امور پر ترجیح دی جاسکتی ہے ۔ “

پھر بتایا جاتا ہے کہ اس احسان عظیم کے نتیجے میں ‘ تمہارے اندر جو تبدیلی آئی اس پر بھی ذرا غور کرو ۔ تمہارے اندر اللہ کی آیات پڑھی جارہی ہیں ‘ تمہاری زندگیوں کو سنوارا جارہا ہے ‘ تمہیں کتاب سکھائی جارہی ہے اور پھر دانائی اور حکمت اور ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جارہا ہے ۔ اگرچہ اس سے قبل تم صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ

” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ایک حال سے بذریعہ انقلاب دوسری حالت میں منتقل کردیا گیا تھا ‘ ایک صورت حال تبدیل ہوگئی تھی اور ایک بالکل نئی صورت حال پیدا ہوگئی تھی ۔ ایک دور گزر گیا تھا اور ایک نیا دور آگیا تھا ۔ اس لئے امت کو یہ شعور دیا جارہا …

Aal-i-Imraan 3:164Listen in Qur'an →
165

أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا ‘ جو اس کا جھنڈا اٹھانے والے ہوں اور جو اس پر پختہ ایمان اور عقیدہ رکھنے والے ہوں ۔ لیکن اس نے اس وعدے کو ایک شرط سے مشروط کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی نصرت کے مستحق وہ اس وقت ہوں گے جب ان کے دلوں میں حقیقت ایمان اچھی طرح جاگزیں اور مستحکم ہوجائے ۔ اور وہ اپنی تنظیم اور طرزعمل میں ایمان کے تقاضے پورے کررہے ہوں ۔ اور ان کی وسعت اور طاقت کے اندر جو کچھ ہو وہ انہوں نے تیار کیا ہو۔ ان کی طاقت میں جس قدر ممکن ہو وہ جدوجہد کررہے ہوں ۔ یہ ہے سنت الٰہیہ اور سنت الٰہیہ کی کسی کے ساتھ خاص دوستی نہیں ہوتی نہ وہ کسی کی رورعایت کرتی ہے ۔ جب اللہ والے ان امور میں سے کسی میں بھی قصور اور کمی رکھتے ہوں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تقصیرات کے نتائج بھی قبول کریں ۔ اس لئے کہ صرف مومن ہونے سے ان کے لئے ضابطہ سنن الٰہیہ معطل نہ کردیا جائے گا۔ نہ ناموس اعلیٰ باطل ہوجائے گا ۔ وہ تو مسلم ہی تب ہوں گے جب وہ اپنی زندگی کے اندر سنن الٰہیہ کو جاری وساری کردیں ۔ اور اپنی فطرت کو ناموس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کردیں ۔

لیکن ان کا نفس مسلمان ہونا بھی بیکار نہیں جاتا۔ نہ وہ بےاثر ہوتا ہے۔ ان کا اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ‘ اس کے جھنڈے اٹھانا ‘ اس کی اطاعت کا عزم کرلینا اور اس کے نظام حیات کا التزام کرنا وغیرہ ان امور کا یہ اثر ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان تقصیرات اور ان غلطیوں میں سے خیر اور برکت کا پہلو نکال دے ۔ اگرچہ ان غلطیوں کی وجہ سے وہ چوٹیں کھائیں ‘ قربانیاں دیں اور وقتی طور پر شکست کھالیں ۔ وہ ان غلطیوں سے ان کے تجربے میں اضافہ کرے گا ۔ اس طرح ان کا عقیدہ صاف ہوجائے گا ۔ ان کے دل صاف ہوں گے ۔ ان کی صفوں کی تطہیر ہوگی اور اس طرح آخر کار وہ اس نصرت کے حق دار ہوجائیں گے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے ۔ آخری انجام خیر و برکت پر ہوگا ‘ مسلمان اللہ کی بارگاہ سے ‘ اس کی رحمت و عنایت سے دھتکارے نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید زاد راہ سے نوازتا ہے۔ اگرچہ اثنائے راہ میں انہیں تکالیف پہنچیں ‘ مشکلات کا سامنا ہو اور رنج والم سے دوچار ہوں۔

اس وضاحت کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ سے خطاب فرماتے ہیں ۔ ان کے اس سوالیہ انداز میں اور جو واقعات پیش آئے ‘ ان پر ان کی حیرانی اور پریشانی کا جواب دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات کا قریبی سبب کیا تھا ؟ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس میں تقدیر الٰہی کے اندر دوررس حکمت کیا پوشیدہ تھی ؟ اور منافقین کو بتایا جاتا ہے کہ موت کا ایک حق راستہ ہے ۔ ڈر سے موت ٹلتی نہیں اور نہ ہی جہاد میں شرکت نہ کرنے سے موت موخر ہوجاتی ہے ۔

” اور تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی ؟ حالانکہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں ان پر پڑچکی ہے ۔ اے نبی ان سے کہو ‘ یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “

جنگ احد میں مسلمانوں پر جو مصائب آئے وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ستر آدمی شہید ہوئے اور زخمی اور مزید مصائب ان کے علاوہ تھے ۔ بہت ہی کڑوادن تھا یہ ان کے لئے ۔ ان پر یہ مصائب نہایت ہی شاق تھے اور ناقابل برداشت تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کررہے ہیں ‘ اور ان کے مخالفین اللہ کے دشمن ہیں اور مشرک ہیں اور مسلمان جو اس مصیبت میں مبتلا ہوئے ‘ اس سے پہلے وہ ان دشمنان اسلام کو دوگنا نقصان پہنچاچکے تھے ۔ یہ اشارہ ہے بدر کی طرف وہاں انہوں نے کفار کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ وہ اللہ کے حکم پر درست کھڑے تھے ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے احکام پر عمل پیرا تھے ۔ اس سے قبل کہ وہ مال غنیمت کو دیکھ کر بےراہ ہوجائیں ۔ اور اس سے قبل کہ ان کے دلوں میں ایسے خیالات پیدا ہوں جو ایمان کے ساتھ لگا نہیں …

Aal-i-Imraan 3:165Listen in Qur'an →
166

وَمَآ أَصَٰبَكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ تمام واقعات کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ ہر معاملہ جو پیش آتا اور ہر حادثہ جو واقعہ ہوتا ہے اس کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے ۔ ہر حرکت اور ہر سکوں کے پیچھے دست تقدیر ہوتا ہے اور اس کائنات میں جو وقوعہ بھی پیش آتا ہوتا ہے اس کی پشت پر تقدیر ہوتی ہے ۔

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ……………” جو نقصان لڑائی کے دن جب دو گروہ متقابل ہوئے ‘ تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ۔ “ یہ نقصان محض اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ازخود پیش نہیں آیا۔ نہ وہ خوامخواہ بطور عبث پیش آیا۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہونے والی ہر حرکت منصوبے اور دست قدرت کے مطابق ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے ان واقعات کے پیچھے حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے یہ واقعات اس پوری کائنات کی اسکیم کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور اس کے باوجود وہ اس کائنات کے اندر جاری سنن الٰہیہ اور ان اٹل قوانین کے مطابق ہوتے ہیں جن کا کبھی بھی نہ تخلف ہوتا ‘ نہ ان میں کوئی تعطل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قوانین کسی کے ساتھ رورعایت کرتے ہیں۔

تقدیر کے مسئلے میں اسلامی تصور حیات اس قدر کامل ‘ شامل اور متوازن ہے ‘ جس کا مقابلہ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک کوئی تصور حیات نہیں کرسکتا۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق اس کائنات کا ایک اٹل قانون ہے اور بعض ناقابل تعطل سنن الٰہیہ ہیں ۔ ان اٹل قوانین فطرت اور ناقابل انحراف سنن الٰہیہ کے پیچھے اللہ کا ارادہ کام کرتا ہے اور اللہ کی آزاد مشیئت ہے ‘ جو کسی قید میں مقید نہیں ہے ۔ اور ان سب یعنی سنن الٰہیہ اور مشیئت الٰہیہ کی پشت پر پھر اللہ کی حکمت مدبرہ ہے ۔ اور یہ تمام پھر اللہ کی حکمت مدبرہ کے موافق چلتے ہیں ۔ ناموس کی حکمرانی ہے اور سنن الٰہیہ میں ہر چیز جاری ہیں ، انسان بھی ان ان کا تابع و محکوم ہے ۔ انسان ان سنن الٰہیہ کے دائرے میں اپنے فعل ارادی کے ساتھ اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کرتا ہے ۔ اور وہ اپنی سوچ اور اپنی تدابیر کے مطابق جو کام کرتا ہے ‘ یہ سنن ان افعال پر بھی منطبق ہوتی ہیں اور اس پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر اور مشیئت کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کی کوئی حکمت اور تدبیر بھی کام کرتی ہے ۔ اس نظام میں انسان کا ارادہ ‘ اس کی حرکت ‘ اس کی سوچ ‘ اس کی قوت عمل یہ سب کچھ سنن الٰہیہ کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ ناموس کائنات کا حصہ ہیں ۔ ان انسانی افعال کے ساتھ بھی اللہ اپنا کام کرتے ہیں ‘ ان کو بھی وہ موثر بناتے ہیں اور یہ سب کچھ پھر بھی اس کے دائرہ قدرت کے اندرہوتا ہے ۔ ان میں سے کوئی چیز نوامیس فطرت اور سنن الٰہیہ کے دائرے سے خارج نہیں ہوتی ۔ اور نہ انسان کی کوئی حرکت اور سوچ ان سنن کے ساتھ متضاد ہوتی ہے یا ان کے بالمقابل ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اللہ کے ارادے کے بالمقابل ہو۔ یہ صورت حال بالکل ممکن نہیں ہے ۔ اسلامی تصورحیات ایسا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان اس کا شریک بالمقابل نہیں ہے۔ نہ انسان اللہ کا دشمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس کا وجود ‘ اس کی فکر ‘ اس کا ارادہ بخشا تھا ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کی تدبیر اور زمین کے اندر اس کی فاعلیت اسے عطاکی تھی تو اس نے اس وقت ان انسانی قوتوں اور سنن الٰہیہ کے درمیان کوئی تضاد نہ رکھا تھا اور نہ ان کے درمیان کوئی مقابلہ رکھا تھا۔ نہ یہ چیزیں مشیئت الٰہیہ کے خلاف تھیں ۔ نہ اللہ کے نزدیک یہ سب امور اللہ کی گہری حکمت سے باہر تھے ۔ جو اللہ کی تقدیر کی پشت پر کارفرما ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کے اندر یہ بات رکھی گئی تھی کہ انسان اپنی تدبیر سے کام لے ۔ وہ متحرک ہو اور اس کائنات میں مؤثر ہو ۔ وہ سنن الٰہیہ کے …

Aal-i-Imraan 3:166Listen in Qur'an →
167

وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًۭا لَّٱتَّبَعْنَٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے

اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے وہ بات ان کے دل میں نہ تھی ۔ “ ان کے دلوں میں تو نفاق کی بیماری تھی ۔ اور یہ نفاق انہیں نظریہ ٔ حیات کے تابع نہ کرتا تھا بلکہ وہ ان کی شخصیات اور ان کی ذاتی حیثیات کو نظریہ حیات سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ان لوگوں کے رئیس عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کی دن اس کی رائے کو قبول نہیں کیا ۔ اور اس واقعہ سے پہلے کے اسباب یہ تھے کہ جب رسول اکرم ﷺ اپنی رسالت کے پیغام کو لے کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ ابن ابی کی سربراہی میں ایک ریاست کی تشکیل کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ اس کے لئے تاج بن رہا تھا ۔ آپ ﷺ کی آمد کے نتیجے میں ریاست کا مقام حاملین اسلام نے حاصل کرلیا ۔ یہ بات ان کے دل میں تیر کی طرح پیوست تھی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ احد کے دن واپس ہوگئے تھے ۔ چونکہ دشمن مدینہ کے دروازے پر تھے ‘ اس لئے یہ لوگ واپس ہوگئے اور مومن صادق کی یہ بات انہوں نے رد کردی ۔ یہ مومن صادق عبداللہ بن عمرو ابن حزام تھے ۔ وہ انہیں پکار رہے تھے تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا……………”(آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دفاع ہی کرو) اس کے جواب ان کا احتجاج و استدلال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کوئی جنگ نہیں ہے ۔ اگر کوئی بات ہوتی وہ ضرور جاتے ۔ اور ان کے موقف کی تردید یوں کی گئی وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ……………” اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ “

یوں وہ اپنے تخلف اور پلٹنے کو حکمت اور مفید قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو نقصان اور ضرر رساں قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے صاف اور ستھرے تصور حیات کو خراب کرتے ہیں ‘ کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ موت وحیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق تقدیر الٰہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ان غلط تصورات کی تردید ضروری سمجھتے ہیں ۔ فوراً ان کے اس تصور کی واضح تردید کردی جاتی ہے ‘ جس سے ایک طرف ان کی تیار کی ہوئی سازش کے تار وپور بکھر جاتے ہیں اور دوسری جانب سے اسلامی تصور حیات ہر قسم کے اجمال اور دھندلے پن سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھادینا ۔ “

موت تو جس طرح مجاہد کو آتی ہے اسی طرح جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں ‘ انہیں بھی آتی ہے ‘ بہادر کو بھی آتی ہے اور بزدل کو بھی آتی ہے۔ نہ کوئی محافظ اسے ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر ۔ نہ بزدلی اور جہاد سے غیر حاضری سے وہ ٹل سکتی ہے۔ اور یہ صورت حال ایسی ہے ‘ جو خود اپنی دلیل آپ ہے اور اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہی حقیقی صورت حال ہے جس کو قرآن مجید خود ان کے خلاف پیش کرتا ہے ۔ یوں ان کی مکروہ سازش کو رد کردیا جاتا ہے ۔ سچائی کو اپنی جگہ رکھ کر مستحکم کردیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دل مطمئن اور مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انہیں اطمینان ‘ آرام اور …

Aal-i-Imraan 3:167Listen in Qur'an →
168

ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ وَقَعَدُوا۟ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا۟ ۗ قُلْ فَٱدْرَءُوا۟ عَنْ أَنفُسِكُمُ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

اہل اسلام کے دلوں کے اندر سکون پیدا کرنے ‘ ان کے دلوں اور ان کے ضمیر کو ‘ ان سنن الٰہیہ پر مطمئن کرنے کے بعد جو اس کائنات میں جاری اور ساری ہیں ‘ انہیں یہ بتانے کے بعد کہ تمام کام اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ‘ اور یہ سمجھانے کے بعد کہ اللہ کی تقدیر کے پیچھے اللہ کی حکمت اور تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنے کے بعد کہ موت کے لئے وقت مقرر ہے ‘ اس کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور جنگ میں شریک نہ ہونا اسے موخر نہیں کرسکتا اور جنگ میں شرکت سے موت پہلے نہیں آسکتی اور یہ سمجھانے کے بعد کوئی محافظ موت سے حفاظت نہیں دے سکتا اور کوئی تدبیر موت کو روک نہیں سکتی ‘ غرض ان تمام امور کے بعد اب سیاق کلام میں ایک دوسری حقیقت کو لیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی ذات میں بھی عظیم ہے اور اس کے اثرات بھی نہایت ہی عظیم ہیں۔

یہ حقیقت کیا ہے ؟ یہ کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں وہ مردہ نہیں ہوتے ‘ وہ تو زندہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب کے ہاں مہمان خصوصی ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی ‘ مرنے کے بعد ‘ اسلامی جماعت کی زندگی سے منقطع نہیں ہوتی ‘ وہ بعد کے واقعات سے لاتعلق نہیں ہوتے ‘ وہ ان واقعات سے خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور واقعات میں ایک موثر فیکٹر بھی ہوتے ہیں اور زندگی عبارت کس چیز سے ہے ؟ تاثیر اور تاثر ہی تو زندگی ہے ۔

یہاں معرکہ احد کے شہداء کی زندگی اور ان واقعات اور حادثات کے درمیان رابطہ قائم کردیا جاتا ہے جو ان کی شہادت کے بعد پیش آئے ۔ اس کے بعد گروہ مومن کی بات متصلاً بیان کردی جاتی ہے ‘ جس نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔ درآنحالیکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ وہ نکلے ‘ انہوں نے قریش کا تعاقب کیا ‘ یہ قریش اگرچہ جاچکے تھے لیکن یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں ۔ اس گروہ نے لوگوں کے اس ڈرامے کی کوئی پرواہ نہ کی کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ۔ ذات باری پر توکل کی اور انہوں نے اس کارنامے کی وجہ سے اپنے ایمان کو حقیقت کا روپ دیا۔

Aal-i-Imraan 3:168Listen in Qur'an →
169

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتًۢا ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

مومنین کے دل و دماغ میں تقدیر اور موت کے مقررہ وقت کے بارے میں صحیح تصورات بٹھانے کے بعد اور منافقین اسلامی صفوں کے اندر جو بےچینی ‘ شکوک اور حسرتیں پیدا کرتے تھے ان کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کے اندر مزید سکون اور پورا اطمینان پیدا کیا جائے ۔ اس لئے منافقین مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے تھے کہ اگر تم اتنے ہی باتدبیر ہو تو خود اپنی موت کو روک لینا جب وہ آئے ۔ لیکن سابقہ آیات میں پیدا کردہ ایمان وایقان اور اس مسکت جواب کے بعد اللہ نے چاہا کہ ان کے دلوں میں شہداء کے مستقبل کے بارے میں مزید اطمینان پیدا کردیاجائے ۔ وہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے (اور شہداء ہوتے ہی وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوں) اور ان کے پیش نظر یہی مقاصد ہوں ۔ اور ان مقاصد کے ساتھ کوئی اور مقصد شریک نہ ہو۔ تو ایسے شہداء جو فی سبیل اللہ قتل ہوئے وہ فی الحقیقت زندہ جاوید ہیں ۔ ان کو ایسے خصائص حاصل ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ انہیں ان کے رب کے ہاں کھانے دیے جاتے ہیں اور کھانے کے علاوہ ان پر فضل خداوندی ہے اور اس فضل پر وہ بہت خوش ہیں ‘ اور ان کو پھر اہل ایمان کے معاملات کی رپورٹ دی جاتی ہے جن معاملات کے لئے انہوں نے اپنی جان دی ۔ وہ پورے واقعات ان کو سنائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد بھائیوں کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب خواص وہ ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں مثلاً سازوسامان ‘ خوشخبری ‘ اہتمام اور تاثر اور تاثیر ۔ یہ سب زندہ لوگوں کی صفات ہیں ۔ لہٰذا ان کی جدائی وفات حسرت آیات نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کا رابطہ زندوں کے ساتھ قائم ہے اور اس کے علاوہ مزید فضل یہ کہ وہ فضل الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ فضل ان کے رزق اور مرتبے ومقام سے علیحدہ ہے ۔ اس لئے لوگ شہداء اور ان کے بعد رہنے والے بھائیوں کے درمیان جو فرق کرتے ہیں وہ درحقیقت کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اس لئے لوگوں کے ذہنوں میں عالم الحیاۃ اور عالم مابعد الممات کے اندر جو فرق ہے وہ شہداء کے حوالے سے کچھ نہیں ہے ۔ مومنین کے نقطہ نظر سے کوئی فرق نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کا معاملہ یہاں بھی اللہ سے ہے اور وہاں بھی اللہ سے ہے۔

اس حقیقت کو ذہن میں بٹھانے کے بعد اس دنیا کے واقعات پر سوچنے کے انداز بدل جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت انسان کی سوچ بدل دیتی ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں ایک مومن کے اندر ایک بالکل نئی سوچ پیدا ہوجاتی ہے ۔ کائنات کی یہ حرکت ایک مومن کے نقطہ نظر سے اپنے اندر تسلسل رکھتی ہے۔ وہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ۔ یوں ایک انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت وجہ سے قبل الممات اور بعد الممات زندگی میں ایک پردہ ساحائل ہوجاتا ہے۔

یہ موت وحیات کے لئے ایک نیا نقطہ نظر ہے ۔ اس سے ایک مسلمان کے شعور میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی اور موت دو کا استقبال ایک مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں۔

وَلا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ……………” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو ‘ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ‘ اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔ “

یہ آیت اس بارے میں نص قطعی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ‘ جنہوں نے زندگی قربان کردی ‘ اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے انہیں مردہ کہنا یا سمجھنا ممنوع ہے ۔ اور یہ آیت اس امر میں بھی قطعی ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔ اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں ۔ اور اس نہی اور اثبات کے بعد ‘ اس آیت میں ان خصائص حیات کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے رزق دئیے جانے کا ذکر ہے۔

ہم اس جہاں فانی میں ‘ شہداء کی زندگی سے صحیح معرفت نہیں پاتے ۔ ہاں ان شہداء کی زندگی کے بعض اوصاف بعض احادیث میں ذکر ہوئے ہیں ‘ لیکن …

Aal-i-Imraan 3:169Listen in Qur'an →
170

فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا۟ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:170Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.