Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 151–160 of 200

151

سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا ۖ وَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى ٱلظَّٰلِمِينَ

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے

[١٣٧] آپ کے زخمی ہونے کے بعد جب مشرکین نے گھیرا ڈالا اور صحابہ کرام (رض) نے نہایت جانبازی سے مشرکین کو منتشر کردیا تو آپ نے ہمت کرکے نہایت دانشمندی اور حربی مہارت سے نقشہ جنگ میں تبدیلی کی اور ثابت قدمی کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ آپ کے اس اقدام سے فوراً جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ ابو سفیان نے آپ کو دیکھا تو فوج لے کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی۔ اوپر سے صحابہ نے پتھر برسائے، لہذا وہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس طرح شکست خوردہ مسلمان پھر سے برابری کی سطح پر آگئے اور ابو سفیان کو ناکام واپس جانا پڑا۔- چونکہ یہ جنگ فیصلہ کن نہ تھی اور اسی حال میں ابو سفیان واپس چلا گیا۔ لہذا آپ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو سفیان واپس مڑ کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کردے۔ لہذا آپ نے صحابہ کو تعاقب کا حکم دیا۔ چناچہ زخم خوردہ اور غمزدہ مسلمانوں میں سے ستر آدمیوں کی ایک جماعت تعاقب کے لیے تیار ہوگئی اور وہ مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک پہنچ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گمان بالکل درست نکلا۔ ابو سفیان جب مقام روحاء پر پہنچا تو اسے خیال آیا کہ کام تو ناتمام ہی رہ گیا۔ لہذا واپس مدینہ چل کر دوبارہ حملہ کرنا چاہئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوئی۔ قبیلہ خزاعہ کا رئیس معبد (یہ قبیلہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ تاہم وہ مسلمانوں کا حلیف اور خیر خواہ ضرور تھا) مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر دلجوئی کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اسے صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سے مشورہ کے بعد وہ ابو سفیان کے پاس گیا۔ ابو سفیان نے اسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر جب اپنا واپس جاکر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو معبد کہنے لگا میں ادھر سے ہی آرہا ہوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( ) ایک لشکر جرار لے کر آپ لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں اور اس لشکر میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اس معرکہ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ ابو سفیان نے جب یہ قصہ سنا تو اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اپنا ارادہ بدل دیا اور مکہ کی راہ لی۔- [١٣٨] مشرکوں کے مرعوب ہوجانے کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتلائی ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو مخلوق ہیں اور اپنے بھی نفع و نقصان پر قادر نہیں تو دوسروں کی کیا مدد کرسکتے ہیں (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ 73؀) 22 ۔ الحج :73) والا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ مومن صرف ایک اللہ کا پرستار ہوتا ہے جو مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ بشرطیکہ مومن اس کی اطاعت کریں اور اسی پر توکل کریں۔ اللہ پر توکل اور تقدیر الٰہی کا عقیدہ اسے اللہ کے علاوہ باقی سب چیزوں سے بےخوف اور نڈر بنا دیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:151Listen in Qur'an →
152

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے

[١٣٩] براء بن عازب کہتے ہیں کہ احد کے دن آپ نے پچاس پیدل آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر کو مقرر کیا اور تاکید کی کہ تم اپنی جگہ سے نہ سرکنا۔ خواہ تم یہ دیکھو کہ پرندے ہم کو اچک لے جائیں جب تک میں تمہیں کہلا نہ بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی ہے اور اسے کچل ڈالا ہے تب بھی تم یہاں سے نہ ہلنا جب تک میں کہلا نہ بھیجوں ابتداء میں مسلمانوں نے کافروں کو مار بھگایا۔ میں نے خود مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے اور پنڈلیاں کھولے بھاگی جارہی تھیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا۔ اب غنیمت کا مال اڑاؤ، تمہارے ساتھی تو غالب آچکے۔ اب کیا دیکھ رہے ہو۔ عبداللہ بن جبیر کہنے لگے : کیا تم وہ بات بھول گئے جو تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہی تھی ؟ وہ کہنے لگے واللہ ہم تو لوگوں کے پاس جاکر غنیمت کا مال اڑائیں گے جب وہ (درہ چھوڑ کر) لوگوں کے پاس آگئے تو (پیچھے سے خالد بن ولید نے حملہ کردیا) اور کافروں نے مسلمانوں کے منہ پھیر دیئے اور شکست کھا کر بھاگنے لگے اور اللہ کا رسول انہیں پیچھے سے بلا رہا تھا۔ اس وقت آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا تھا اور کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کئے جبکہ بدر کے دن مسلمانوں نے ایک سو چالیس کافروں کا نقصان کیا تھا۔ ستر کو قید کیا تھا اور ستر کو قتل کیا تھا۔ اس وقت ابو سفیان نے تین بار یہ آواز دی کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( ) لوگوں میں (زندہ) موجود ہیں ؟ مگر آپ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع کردیا۔ پھر اس نے تین بار آواز دی۔ کہا ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں ؟ پھر تین بار پکارا کیا خطاب کے بیٹے موجود ہیں ؟ پھر اپنے ساتھیوں سے متوجہ ہو کر کہنے لگا : یہ تو سب قتل ہوچکے۔ حضرت عمر (رض) یہ سن کر رہ نہ سکے اور اسے کہا : اللہ کے دشمن جھوٹ کہتے ہو۔ جن کے تم نے نام لیے ہیں سب کے سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے اس وقت ابو سفیان کہنے لگا : اچھا آج بدر کے دن کا بدلہ ہوگیا اور لڑائی تو ڈولوں کی طرح ہوتی ہے (کبھی ادھر کبھی ادھر) تم اپنے مقتولین میں مثلہ کیا ہوا دیکھو گے جس کا میں نے حکم نہیں دیا تھا۔ تاہم اسے برا بھی نہیں سمجھتا۔ پھر اس نے دو مرتبہ ہبل کی جے کا نعرہ لگایا تو آپ نے صحابہ سے کہا اسے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ کیا جواب دیں ؟ فرمایا : کہو اللہ ہی سب سے برتر اور بزرگ ہے پھر ابوسفیان نے پکارا : ہمارا تو عزیٰ بھی ہے جو تمہارا نہیں آپ نے کہا : اسے جواب کیوں نہیں دیتے صحابہ نے پوچھا کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا : یوں کہو : ہمارا تو کارساز اللہ ہے۔ لیکن تمہارا کوئی کارساز نہیں۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب دواء الجرح باحراق الحصیر و غسل المراۃ)- ٢۔ سہل بن سعد ساعدی کہتے ہیں کہ آپ کو غزوہ احد میں جو زخم لگا اس کا یہ علاج کیا گیا کہ حضرت علی (رض) اپنی ڈھال میں پانی لارہے تھے اور حضرت فاطمہ آپ کے منہ سے خون دھو رہی تھیں اور ایک چٹائی جلا کر اس کی راکھ آپ کے زخم میں بھر دی گئی۔ (بخاری کتاب الجہاد، باب ایضاً )- [١٤٠] اس جنگ میں ابتداًء مسلمانوں کو کامل فتح نصیب ہوئی اور اللہ نے اپنا وعدہ نصرت پورا فرمایا۔ پھر عبداللہ بن جبیر کے ہمراہیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صریح نافرمانی کی۔ جس کی پاداش میں مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا یہ قصور معاف کردیا جس کے نتیجہ میں یہ جنگ برابری کی سطح پر منتج ہوئی۔ بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے تعاقب میں جو دستہ بھیجا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا اور یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کی نافرمانی کے جرم کو معاف کردیا تھا اور اگر قصور معاف نہ کیا …

Aal-i-Imraan 3:152Listen in Qur'an →
153

۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّۢ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

[١٤١] غما بغم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا معنی رنج کے بدلے رنج کیا جائے یعنی مسلمانوں نے رسول کی نافرمانی کرکے اسے رنج پہنچایا تو اس کے بدلے اللہ نے مسلمانوں کو شکست دے کر انہیں رنج پہنچایا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں کئی قسم کے رنج پہنچائے۔ ایک منافقوں کے واپس لوٹ جانے کا، دوسرا شکست کا، تیسرا اپنے شہیدوں کا، چوتھا اپنے مجروحین کا، پانچواں رسول کی شہادت کی خبر کا اور چھٹا اس جنگ کے انجام کا، اور تیسرا معنی یہ کہ اللہ نے جو تمہیں رسول کی شہادت کی افواہ کا غم پہنچایا وہ پہلے تمام قسم کے غموں سے بھاری تھا۔- [١٤٢] اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا ایسا ضابطہ بتلایا ہے جو ایک مسلمان کو کسی بھی مشکل کے وقت کم ہمت بننے سے بچاتا ہے۔ جو یہ ہے کہ جو بھی تکلیف یا مصیبت تمہیں پہنچتی ہے وہ پہلے ہی اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور صرف وہی تکلیف اور رنج تمہیں پہنچ سکتا ہے جو پہلے سے تمہارے مقدر ہوچکا ہے۔ لہذا اس پر افسوس کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھو اور اسی کی طرف لو لگاؤ وہی تمہاری مشکلات کو حل کرے گا۔ اسی مضمون کو ذرا تفصیل سے سورة حدید کی آیت نمبر ٢٣ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا : تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جب اللہ تمہیں کوئی بھلائی عطا کرے تو اس پر پھولے نہ سمایا کرو (٥٧: ٢٣) یعنی ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ نہ تو مصیبت کے وقت ڈگمگاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے اور نہ خوشی کے وقت بھی وہ حد سے زیادہ خوش ہو کر اترانے لگتا ہے بلکہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والا اور معتدل مزاج رکھنے والا ہوتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةًۭ نُّعَاسًۭا يَغْشَىٰ طَآئِفَةًۭ مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌۭ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌۭ مَّا قُتِلْنَا هَٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

[١٤٣] اتنے شدید قسم کے غموں کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر اونگھ طاری کرنا ایک نعمت غیر مترقبہ اور غیر معمولی امداد تھی۔ اونگھ سے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا سکون حاصل ہوجاتا ہے۔ بدن کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور غم یکدم بھول جاتے ہیں۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن عین جنگ کے دوران مجھے اونگھ نے آدبایا، تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی، میں اسے تھام لیتا، پھر گرنے کو ہوتی، پھر تھام لیتا۔ (بخاری کتاب التفسیر)- [١٤٤] جو مسلمان غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ سب ایک جیسے پختہ ایمان والے اولوالعزم اور بہادر نہ تھے بلکہ کچھ کمزور دل بھی تھے اور انصار میں سے کچھ منافقین بھی تھے۔ جو انصار کے رشتہ دار ہونے کی وجہ سے جنگ میں شریک تھے۔ اور یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں کے علاوہ تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہیں نہ اسلام کی فکر تھی نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی، انہیں بس اپنی ہی جانوں کی فکر تھی، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ابو سفیان نے دوبارہ حملہ کردیا تو پھر ہمارا کیا حشر ہوگا۔ کبھی وہ یہ سوچتے تھے اللہ اور اس کے رسول نے فتح و نصرت کے جو دعوے کئے تھے وہ کہاں گئے ؟ ان لوگوں کے متعلق ترمذی میں جو روایت آئی ہے وہ یوں ہے : یہ دوسرا گروہ منافقین کا تھا، جنہیں اپنی باتوں کے علاوہ اور کسی بات کی فکر نہ تھی وہ قوم میں سب سے زیادہ بزدل سب سے زیادہ مرعوب اور سب سے زیادہ حق کی حمایت سے گریز کرنے والے تھے۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر)- [١٤٥] یعنی جنگی تدابیر اور ان کے متعلق مشورہ میں ہماری بات کو بھی درخور اعتنا سمجھا جاسکتا ہے ؟ واقعہ یہ ہے کہ اس گروہ کے لوگوں کا بھی یہی خیال اور رائے تھی کہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے اور ان کی یہ رائے کسی صوابدید پر نہیں بلکہ محض بزدلی کی بنا پر تھی۔ اب شکست کے بعد انہیں یہ کہنے کا موقع میسر آگیا کہ اگر ہماری رائے پر عمل کیا جاتا تو یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ نہ ہی ہمارے بھائی بند یہاں مارے جاتے۔- [١٤٦] کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ ہے کہ جس مقام پر کسی کی موت واقع ہونا مقدر ہوتی ہے۔ وہ کسی نہ کسی بہانے اپنے مقررہ وقت پر وہاں پہنچ کے رہتا ہے، وہ مقام کون سا ہوگا ؟ یہ ایسی بات ہے جس کا اللہ کے سوا کسی کو بھی علم نہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے (وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ 34؀ ) 31 ۔ لقمان :34) (٣١: ٣٤) (کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ وہ کس جگہ مرے گا) یعنی اگر جنگ برپا نہ بھی ہوتی تو جن جن لوگوں کا یہاں مرنا مقدر ہوچکا تھا وہ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ کے رہتے اور اگر میدان جنگ میں ان کا مرنا مقدر ہوتا اور میدان جنگ میں نہ آنے کے ہزاروں جتن کرتے، وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے یہاں پہنچ کے رہتے۔ کیونکہ اللہ کی تقدیر باقی سب باتوں پر غالب ہے۔- [١٤٧] اس جنگ اور پھر اس میں شکست کے واقعہ سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوا کہ ہر مسلمان کے متعلق سب کو پتہ چل گیا کہ وہ اپنے ایمان میں کس قدر مضبوط ہے۔ بہادر ہے اور عزم کا پکا ہے اور اسی طرح کمزور ایمان والوں، بزدلوں اور منافقوں کا بھی سب کو پتہ چل گیا۔ گویا یہ جنگ ایک امتحان گاہ تھی جس نے واضح کردیا کہ ہر ایک کے دل میں کیا کچھ ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ مخلص مسلمان اپنی کمزوریوں کو دور کرسکیں اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ آئندہ کے لیے وساوس اور کمزوریوں سے پاک و صاف بنا دے، اور منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آجائے اور لوگ ان کے خبث باطن سے بچ سکیں۔

Aal-i-Imraan 3:154Listen in Qur'an →
155

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ مِنكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ إِنَّمَا ٱسْتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا۟ ۖ وَلَقَدْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے

[١٤٨] یعنی غزوہ احد جو مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان بپا ہوئی۔ اس شکست کے بعد بعض مخلص مسلمانوں نے بھی فرار کی راہ اختیار کرلی تھی۔ بالخصوص اس وقت جب آپ کی وفات کی افواہ پھیلی تھی اور مسلمانوں کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔ اس آیت میں (بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ١٥٥۔ ) 3 ۔ آل عمران :155) سے مراد بھی وہی درہ کو چھوڑنے اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کرنے کی غلطی تھی جو مسلمانوں سے سرزد ہوگئی تھی اور یہ راہ فرار اختیار کرنا ان مومنوں کے اپنے عزم سے نہ تھا بلکہ یہ ایک شیطانی اغوا تھا ورنہ ان کے دل ایمان پر قائم تھے اس دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف تیرہ یا چودہ مسلمان رہ گئے تھے جن میں سات مہاجرین تھے اور سات انصار۔ مہاجرین میں سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عمر فاروق (رض) ، حضرت علی (رض) ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) ، حضرت زبیر بن عوام (رض) اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) تھے اور حضرت عثمان (رض) بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے راہ فرار اختیار کی تھی۔ چناچہ شیعہ حضرات حضرت عثمان (رض) پر ایک یہ طعن بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ فرار محض شیطانی اغوا تھا۔ ایمان کی کمزوری کی بنا پر نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قصور معاف فرما دیا ہے۔- جب آپ زخمی ہوئے اور کفار نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا تو اس دوران دو صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) نے آپ کی جان کی حفاظت کے لیے جانثاری کے بےمثال نمونے پیش کئے۔ چناچہ حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص کے بعد پھر کسی کے لیے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہو۔ غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد سے یوں فرماتے تھے۔ تیر مارو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں (بخاری، کتاب الجہاد باب المجن ومن تترس بترس صاحبہ)- اور حضرت طلحہ (رض) آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آپ بھی ماہر تیر انداز تھے جو کوئی پاس سے گزرتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے اپنے تیر طلحہ کے حوالے کردو۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کافروں کے تیر روکنے کے لیے حضرت طلحہ (رض) کے پاس کوئی چیز نہ تھی تو اپنا بازو آگے کردیا اور سب تیر اسی پر برداشت کرتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک بازو شل ہوگیا تو دوسرا آگے کردیا۔ چناچہ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ (رض) کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچایا تھا، وہ بالکل شل ہوگیا تھا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب ذکر طلحہ بن عبیداللہ )

Aal-i-Imraan 3:155Listen in Qur'an →
156

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَقَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ كَانُوا۟ غُزًّۭى لَّوْ كَانُوا۟ عِندَنَا مَا مَاتُوا۟ وَمَا قُتِلُوا۟ لِيَجْعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

[١٤٩] یہاں کافروں سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ بظاہر ایمان لانے والے اور دلوں میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔- [١٥٠] ایسا عقیدہ رکھنا یا ایسی بات زبان سے نکالنا عقیدہ تقدیر کے خلاف ہے جو ایمان بالغیب کا چھٹا جزو ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ لوگ کافر ہوئے۔ کیونکہ موت کا وقت بھی معین ہے اور جگہ بھی۔ کچھ بھی ہو موت اپنے وقت پر آئے گی اور آ کے رہے گی۔ اس کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے اسی طرح جہاں مرنا مقدر ہے وہاں خود ہی انسان کسی حیلے بہانے جاپہنچتا ہے اور جب موت کا وقت نہ آیا ہو، تو انسان خواہ غزوات میں پوری زندگی گزار دے۔ اسے موت نہیں آتی۔ چناچہ حضرت خالد بن ولید جنہوں نے زندگی بھر جنگیں لڑیں اور جن کے جسم کا کوئی حصہ بھی تلوار یا تیر کے نشان سے بچا ہوا نہ تھا۔ انہیں موت آئی تو گھر پر آئی۔ چناچہ انہوں نے خود اپنی وفات کے وقت یہ الفاظ کہے تھے کہ میرے بدن پر ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہیں جو تلوار یا نیزہ کے زخم سے خالی ہو مگر میں آج اونٹ کی طرح (گھر پر) مر رہا ہوں۔- [١٥١] ایسے خیالات کہ اگر وہ فلاں سفر یا جہاد پر نہ جاتا تو شاید بچ رہتا۔ محض حسرت ہی حسرت ہے۔ ورنہ جو اللہ گھر میں زندہ رکھتا ہے جہاد میں بھی رکھ سکتا ہے اور جو جہاد میں مار سکتا ہے وہ گھر میں بھی مار سکتا ہے۔ زندہ رکھنا اور مارنا سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے علم میں ہے۔

Aal-i-Imraan 3:156Listen in Qur'an →
157

وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

[١٥٢] اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا خود مرجائے یعنی اسے گھر پر طبعی موت آئے دونوں صورتوں میں اللہ کے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ اب منافق یا کافر کی زندگی یا تادیر زندہ رہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دنیوی مفادات اور مال و دولت جمع کرسکے۔ اس کے برعکس مومن کو دونوں صورتوں میں جو اللہ کی مغفرت اور رحمت میسر ہوگی وہ اس مال و دولت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ جسے یہ لوگ دن رات جمع کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنی آخرت کی فکر سے یکسر غافل ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:157Listen in Qur'an →
158

وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحْشَرُونَ

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے

Explained together with ayah 157

Aal-i-Imraan 3:158Listen in Qur'an →
159

فَبِمَا رَحْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى ٱلْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ

(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

[١٥٣] مسلمانوں کو یہ ہدایات دینے کے بعد پھر سے غزوہ احد کے حالات اور نتائج کا ذکر شروع ہوا ہے۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جو سزا ملی وہ عبرت ناک تھی اور اس واقعہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نافرمانی کرنے والوں پر شدید گرفت فرماتے یا کم از کم ان سے خفا ہی ہوجاتے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ مومنوں کے حق میں بہت نرم دل تھے۔ ورنہ اگر آپ سخت دل ہوتے یا کم از کم اسی نافرمانی پر شدید گرفت فرماتے تو پھر مسلمان آپ کے قریب آنے سے ہی گریز کرنے لگتے۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان نافرمانی کرنے والوں کو اور راہ فرار اختیار کرنے والوں کو معاف کر ہی دیا تھا۔ اب اپنے پیغمبر کو ہدایت فرما دی کہ آپ بھی ان سے درگزر کیجئے اور نہ صرف درگزر فرمائیے بلکہ ان کے لیے مجھ سے بخشش بھی طلب کیجئے اور جیسے غزوہ احد سے پیشتر ان سے مشورہ کرتے اور مجلس مشاورت میں شریک کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آئندہ بھی کیا کیجئے۔ یعنی اپنے دل میں ان کے لیے کسی قسم کا رنج نہ رہنے دیجئے۔- [١٥٤] مشورہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملہ کے سارے پہلو کھل کر سامنے آجائیں اور ہر شریک مشورہ شخص کو کھل کر اپنی رائے دینے کا موقع مل سکے۔ مشورہ صرف ان امور میں کیا جاسکتا ہے جن میں کتاب و سنت میں صریح حکم موجود نہ ہو اور جہاں صریح حکم موجود ہو وہاں مشورہ کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ عموماً تدبیری امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً جنگ کہاں لڑی جائے ؟۔ اس کا طریقہ کار کیا ہو ؟۔ قیدیوں سے کیا سلوک کیا جائے ؟ لوگوں کی معاشی اور اخلاقی بہبود کے لیے کیا طریقے استعمال کئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ مشورہ میں صرف یہ دیکھا جائے کہ کون سی رائے اقرب الی الحق ہے۔ یعنی کتاب و سنت کی منشا کے مطابق ہو۔ یہ رائے خواہ تھوڑے آدمیوں کی ہو یا زیادہ آدمیوں کی۔ گویا مشورہ کا اصل مقصد دلیل کی تلاش ہے۔ رائے دینے والوں کی کثرت یا قلت تعداد اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور کسی رائے کو اقرب الی الحق قرار دینے کا اختیار میر مجلس مشاورت کو ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے اور اسی فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے ارادہ کا نام عزم ہے یعنی عزم کے بعد اللہ کا نام لے کر اور اس پر بھروسہ کرکے وہ کام شروع کردینا چاہئے۔

Aal-i-Imraan 3:159Listen in Qur'an →
160

إِن يَنصُرْكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا ٱلَّذِى يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

[١٥٥] جیسا کہ میدان بدر میں اللہ نے مسلمانوں کی کئی طرح سے مدد فرمائی تھی۔ اسی طرح آج احد میں بھی تمہاری مدد کرکے تمہیں غالب کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے دل و جان سے کوشش کرو۔ - [١٥٦] جیسا کہ غزوہ احد میں کچھ وقت کے لیے ہوا، اور جس کی وجہ اللہ کے رسول کی نافرمانی تھی۔ اس آیت میں بتلایا یہ جارہا ہے کہ بھروسہ تو صرف اس پر کیا جاسکتا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور اور سب اسباب پر غالب اور حاکم ہو اور ایسی ذات چونکہ صرف ایک اللہ ہی کی ہے، لہذا وہی بھروسہ کے قابل ہے۔

Aal-i-Imraan 3:160Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.