Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 151–160 of 200

151

سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا ۖ وَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى ٱلظَّٰلِمِينَ

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے

اس کے بعد مومنین کو تسلی دی جاتی ہے اور انہیں یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ کفار کے دلوں میں تحریک اسلامی کا رعب ڈال دیں گے اور یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور یہ نظریہ شرک کی پشت پر اس دنیا میں نہ قوت ہے نہ قوت دلیل ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے بہت ہی براٹھکانہ تیار کیا گیا ہے۔

سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ

” عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جس کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی ۔ “

یہ وعدہ اللہ جل شانہ کی جانب سے ہے ‘ جو غالب ہے اور قادر مطلق ہے ۔ وہ اہل کفر کے دلوں میں رعب بٹھاسکتا ہے ۔ وہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس معرکے کا انجام کیا ہوگا ‘ وہ ضمانت دیتا ہے کہ اس کے دوست فاتح ہوں گے اور اس کے دشمنوں کو شکست ہوگی ۔

اللہ کا یہ وعدہ ہر اس معرکے کے لئے اب بھی قائم ہے جس میں فریقین معرکہ اہل کفر اور اہل ایمان ہوں۔ جب بھی اہل کفر اہل سے دوچار ہوجاتے ہیں ‘ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا رعب بٹھادیتے ہیں ۔ لیکن اہم بات اور اہم شرط یہ ہے کہ اہل ایمان کے دل میں ایمان کی حقیقت موجود ہو۔ ان کو اللہ کی نصرت کا حقیقی شعور ہو ‘ انہیں پورا پورا یقین ہو کہ اللہ ان کا مددگار ہے اور ان کے دل میں ذرہ برابر شک اس بارے میں نہ ہو کہ اللہ کا لشکر ہی غالب رہتا ہے اور یہ کہ اللہ اپنے معاملات پر پورا کنٹرول رکھتے ہی اور یہ کہ اہل کفر اللہ کو شکست نہیں دے سکتے اور نہ وہ اللہ سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ اور ان کا معاملہ اللہ کے اس وعدے کے ساتھ ہو کہ وہ روبعمل ہوکر رہے گا چاہے ظاہری حالات اس کے خلاف نظر آئیں ‘ اس لئے کہ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا ہوتا ہے اگرچہ ہماری آنکھیں الٹ دیکھ رہی ہوں۔

اہل کفر رعب میں اس لئے آجاتے ہیں کہ ان کا تکیہ صحیح نہیں ہے ۔ ان کا بھروسہ نہ قوت پر ہے اور نہ صاحب قوت پر۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے خداؤں کو شریک کیا ہوا ہے جن کے ہاتھ میں کوئی قوت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ان شریکوں کو کوئی قوت دے کر اپنے ساتھ شریک نہیں کرلیا۔

یہ انداز تعبیر کہ اللہ نے ان پر کوئی ” سلطان “ نہیں اتاری ‘ اپنے اندر گہرامفہوم رکھتی ہے ۔ قرآن میں اس انداز تعبیر کو بار بار اپنایا گیا ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹے الہٰوں کے پاس سلطان نہیں ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ غلط عقائد پر کوئی سلطان نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی تصور ‘ کوئی عقیدہ ‘ کوئی نظریہ ‘ کوئی شخصیت اور کوئی بھی تنظیم ‘ اس قدر موثر ہوتی ہے جس قدر اس کے اندر پوشیدہ قوت اور غلبے کا داعیہ ہوتا ہے ۔ اس اندرونی قوت کی مقدار کے مطابق ہی اس کی جدوجہد قائم اور دائم رہتی ہے ۔ اور اس اندرونی قوت کا دارومدار اس کی اس سچائی کی اس مقدار پر ہوتا ہے جو اس کے اندر موجود ہوتی ہے اور یہ کہ اس قوت اور اس قوت کے اندر کی قدر ہم آہنگی ہے جس قوت اور سچائی پر اللہ نے اس پوری کائنات کو قائم کیا ہے ۔ نیز یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کائنات کے سنن اور نوامیس کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کی قدر ہے ۔ کسی شخص یا ادارے کو اللہ اسی قدر قوت اور سلطان دیتا ہے جس قدر وہ ان نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے ‘ جو اس کائنات میں مؤثر ہیں اور کارفرما ہیں ۔ اگر یہ ہم آہنگی نہیں ہے تو وہ شخص ‘ نظریہ اور ادارہ ‘ بوگس ‘ کھوٹا اور ضعیف اور ختم ہونے والا ہے ‘ چاہے بظاہر وہ بہت ہی قوی نظر آئے ‘ بظاہر وہ جس قدر مزین کیا گیا ہو اور بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آتا ہو۔

مشرکین کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ …

Aal-i-Imraan 3:151Listen in Qur'an →
152

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے

یہاں قرآن مجید نے جنگ کی اسٹیج کے تمام مناظر کو پوری طرح ‘ الفاظ کے ذریعہ منقش کردیا ۔ اس میں فتح اور شکست دونوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں ‘ الفاظ کی صورت میں ایک ریل چلتی نظر آتی ہے ‘ جس میں میدان جنگ کے تمام مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آتے چلے جاتے ہیں ‘ بلکہ دلی خیانت ‘ جسموں کے انداز اور ضمیر کی کھٹک تک صاف نظرآتے ہیں ۔ عبارات کے معانی کو اس طرح منتقل کرتی ہیں گویا ریل ہے جو مناظر دکھا رہی ہے ۔ ہر حرکت میں جدید تصویر ‘ متحرک اور زندہ نظرآتی ہے خصوصاً وہ منظر جب لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بھاگ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں پکار رہے ہیں ‘ لیکن وہ ایک نہیں سنتے ۔ دہشت زدہ ہیں ‘ پریشان ہیں ‘ جنگ چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگنے کے لئے اوپر ہی کی طرف جارہے ہیں ۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ دلی وساوس ، قلبی کیفیات ‘ تاثرات اور خلجان بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اتنی بڑی مقدار میں زندہ ‘ متحرک اور چلتی پھرتی تصاویر اور پھر ان کے اندر کے فیصلے ‘ ہدایات اور بہترین تبصرے اور یہ سب کچھ اسی مختصر سی عبارت میں ۔ یہ ہے قرآن کریم کا منفرد اسلوب بیان اور یہ ہے قرآن کریم کی منفرد طرز تربیت۔

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ…………… ” اللہ نے نصرت کا جو وعدہ تم سے کیا تھا ‘ وہ تو اس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم انہیں قتل کررہے تھے ۔ “ یہ معرکہ کی ابتدائی تصویر ہے جب مسلمانوں نے مشرکین کو قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ تَحُسُّونَهُمْ سے مراد تخمدونَ حِسَّھُم…………(تم اس کے احساس کو بجھا رہے تھے ) یا تم ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینک رہے تھے ۔ اس سے پہلے کہ مال غنیمت کالالچ انہیں بےراہ کردے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہہ دیا تھا ” تمہیں فتح نصیب ہوگی لیکن اس وقت تک جب تک تم نے صبر کیا ۔ “ چناچہ یہی بات سچی نکلی۔

حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ

مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز تمہیں اللہ نے دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ‘ تم نے اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ اس لئے کہ تم میں سے بعض لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “

یہ تیراندازوں کے حالات کا جائزہ ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ مال غنیمت کے دھوکے میں آگئے ۔ ان کے اور ان میں سے ان لوگوں کے درمیان نزاع ہوگیا جو رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت کرنا چاہتے تھے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے معصیت اور نافرمانی کا فیصلہ کیا خصوصاً اس وقت جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے فتح مندی کے آثار دیکھ لئے ۔ ان میں دو گروہ بن گئے ۔ ایک گروہ نے مال غنیمت کا ارادہ کرلیا اور دوسرے نے ثواب آخرت کو ترجیح دی ۔ ان کے دلوں کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا۔ اور اسلامی صفوں میں وحدت نہ رہی۔ اور نہ ہی ہدف ایک رہا۔ لالچ نے اخلاص کو مکدر کردیا حالانکہ نظریاتی جنگوں میں خلوص شرط اول ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ نظریاتی جنگ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ جنگ ایک طرف میدان جنگ میں لڑی جاتی ہے اور دوسری طرف خود انسانی ضمیر کے اندر بھی لڑی جاتی ہے اور جب تک ضمیر کے میدان میں فتح حاصل نہ ہو ‘ جنگ کے میدان میں فتح ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے ‘ اس لئے اس میں کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجائیں ۔ جب وہ اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہیں تو اللہ انہیں تب ہی نصرت عطا کرتے ہیں ۔ جب اللہ ان کو چھانٹ کر خالص کردیں اور وہ صرف اسی کے معرکوں میں کامیاب رہتے ہیں حالانکہ وہ باطل کے جھنڈے اٹھا رہے ہوتے ہیں ۔ اس میں بھی حکمت ہوتی ہے ‘ جس کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ حق کا علم بلند کرتے ہیں اور پھر حق کے …

Aal-i-Imraan 3:152Listen in Qur'an →
153

۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّۢ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

اس کے بعد اس شکست کے ایک منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ……………” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش تک تمہیں نہ تھا ‘ اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہا تھا ۔ “ یہ اس لئے یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کے پردہ احساس پر یہ نقش گہرائی کے ساتھ منقش ہوجائے ۔ وہ اپنی جگہ ‘ شرمندگی ‘ حیاء اور پشیمانی محسوس کریں ۔ اس کے اسباب پر غور کریں جو کمزوری ‘ باہم تنازع اور حکم عدولی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی ۔

یہ آیت ان کی جسمانی حرکات اور ان کی نفسیاتی کیفیات کی اس قدر مختصر الفاظ میں نقشہ کشی کرتی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس تصویر میں صاف نظرآتا ہے کہ وہ پہاڑ پر اوپر کی طرف بھاگتے ہوئے چڑھتے ہیں ‘ مرعوب ہوگئے ہیں ‘ دہشت زدہ ہیں اور سخت اضطراب میں ہیں ۔ کوئی کسی کی طرف دیکھتا ہی نہیں ۔ کوئی کسی کی پکار کا جواب نہیں دیتا ۔ رسول ﷺ پکار رہے ہیں تاکہ انہیں مطمئن کردیں کہ آپ زندہ ہیں لیکن وہ نہیں سنتے ، کیونکہ کسی نے یہ پکار دیا تھا کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے ان کے دل متزلزل ہوگئے تھے ۔ ان کے قدم اکھڑگئے تھے ۔ غرض ایک مکمل تصویر کشی ہے لیکن چند الفاظ میں ۔

ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ سے بھاگ کر اور رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑ کر آپ ﷺ کو جو دکھ دیا ‘ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بہت دکھ دیئے ۔ وہ اپنے کئے پر پچھتا رہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑدیا۔ آپ ﷺ کو زخم آئے ‘ لیکن پھر بھی آپ ثابت قدم رہے جبکہ وہ بھاگ گئے تھے ‘ تاکہ تم اس چیز پر حسرت نہ کرو جو چلی گئی ہے اور نہ اس اذیت پر حزن وملال کا اظہار کرو جو اس وجہ سے تمہیں پہنچی ۔ کیونکہ یہ تجربہ جس سے وہ گزرے اور یہ ضربات جو نبی ﷺ کو لگیں وہ ان کے لئے ناقابل برداشت تھیں ۔ ان کو دیکھتے ہوئے وہ خود اپنی تکایف بھول گئے ۔ اور وہ مصائب ان کی نظروں میں کم ہوگئے فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا مَا أَصَابَكُمْ……………” اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دئیے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ “

اور اللہ تو خفیہ باتوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ تمہارے اعمال کی حقیقت اسے اچھی طرح معلوم ہے اور تمہاری تمام حرکات کے پیچھے جو داعیہ ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ “

Aal-i-Imraan 3:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةًۭ نُّعَاسًۭا يَغْشَىٰ طَآئِفَةًۭ مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌۭ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌۭ مَّا قُتِلْنَا هَٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ “ یہ ایک ایسی فضاتھی جس سے رحمت الٰہی کا اظہار ہورہا تھا اور اللہ کے خاص مومن بندوں پر یہ خاص رحمت نازل ہوا کرتی ہے ۔ یہ ایک اونگھ تھی اور خوفزدہ اور پریشان حال مجاہدین پر جب اونگھ آجائے ‘ اگرچہ ایک لحظہ کے لئے کیوں نہ ہو تو وہ ان کے جسم کے اندر ساحرانہ اثر کرتی ہے ‘ اونگھ دور ہوتے ہی وہ تروتازگی محسوس کرتے ہیں ‘ گویا وہ ایک نئی مخلوق ہیں ‘ دلوں پر اطمینان کی حالت طاری ہوجاتی ہے ۔ جسم آرام محسوس کرتا ہے ۔ اس اونگھ کی کیا حقیقت ہے ‘ اس کی حقیقت اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک ہم نہیں کرسکتے ۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے شدید پریشانی کے عالم میں ایسی حالت کو محسوس کیا ہے ۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس میں اللہ اللہ کی رحمت کی شبنم ہے ۔ اور اس قدر معجزانہ کہ ہمارے الفاظ اس کے بیان سے قاصر ہیں ۔

ترمذی ‘ نسائی ‘ حاکم نے حماد ابن سلمہ کے واسطہ سے ثابت کی روایت حضرت انس ؓ نے ابوطلحہ سے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ” میں نے احد کے دن اپنا سر اٹھایا اور دیکھنے لگا ‘ ہر شخص کا سر ہودج پر جھکا ہوا ہے ۔ اور ایک دوسری روایت ابوطلحہ سے یہ ہے ” ہم احد کے دن میدان جنگ میں تھے ‘ کہ ہم پر ایک خاص اونگھ طاری ہوگئی ۔ میری تلوار گرتی اور میں اسے اٹھاتا ‘ گرتی اور میں دوبارہ اٹھاتا۔ “

ایک گروہ کا حال تو یہ تھا اور دوسرے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ متزلزل الایمان تھا۔ یہ لوگ تھے جنہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی ‘ اسی کو اہمیت دیتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی تک جاہلیت کے تصورات سے نکل کر باہر نہیں آئے تھے ۔ نہ انہوں نے پوری طرح اپنے آپ کو اس تحریک کے سپرد کردیا تھا ‘ نہ وہ پوری طرح تن بتقدیر الٰہی ہوگئے تھے ۔ وہ اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہیں جو چوٹ لگی ہے وہ ان میں چھانٹی کے لئے لگی ہے ‘ آزمائش کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہوا کہ اللہ نے اپنے دوستوں اور حامیوں کو دشمنوں کے حوالے کردیا ہے اور نہ کہیں اللہ نے یہ آخری فیصلہ کردیا ہے کفر ‘ شر اور باطل کو اب آخری غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ اور انہیں اب پورا کنٹرول حاصل ہوگیا ہے ۔

وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ

” مگر ایک دوسراگروہ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی ‘ اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سرا سر خلاف حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ” اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “

اسلامی نظریہ حیات ‘ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی جان میں ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ تو سب کے سب اللہ کے ہیں اور جب وہ جہاد فی سبیل اللہ کے نکلتے ہیں تو وہ اللہ کے لئے نکلتے ہیں ‘ وہ اللہ کے لئے حرکت میں آتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے جنگ کرتے ہیں ۔ جہاد کے اس عمل میں ان کی ذات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اس میں پھر وہ اپنے آپ کو اللہ کی تقدیر کے سپرد کردیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر ان پر جو حالات بھی لاتی ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں ‘ مکمل تسلیم ورضا کے ساتھ جو بھی ہو سو …

Aal-i-Imraan 3:154Listen in Qur'an →
155

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ مِنكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ إِنَّمَا ٱسْتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا۟ ۖ وَلَقَدْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے

اللہ کو ان باتوں کا علم ہے جو ذہن کے اندر تھیں ۔ انہوں نے شکست کھائی اور جب اس غزوہ میں انہیں دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کمزوری دکھائی ‘ پیٹھ دکھائی ‘ کیوں اس لئے کہ انہوں نے اپنے کمانڈر کی نافرمانی کی تھی ۔ اس کی وجہ سے ان کے نفوس متزلزل ہوگئے ۔ اس راہ سے شیطان ان کے دلوں میں داخل ہوگیا اور انہیں لغزش میں ڈال دیا اور یہ لوگ پھسل پڑے ۔ فرماتے ہیں ۔

إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ

” تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ “

اس سے مراد وہ تیر انداز ہوسکتے ہیں جن کے دل میں مال غنیمت کی لالچ نے جوش مارا تھا ۔ جس طرح ان کے دلوں میں یہ بات بھی آگئی تھی کہ شاید رسول اللہ ﷺ انہیں ان کا حصہ نہ دیں گے۔ یہ وہ بات تھی جو انہوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے کمائی تھی ۔ اور اسی وجہ سے شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کردیا تھا۔

لیکن اپنے عموم کے اعتبار سے وہ نفس انسانی کی اس حالت کی تصویر ہے جب اس سے کسی غلطی کا ظہور اور ارتکاب ہوتا ہے ۔ اسے اپنے اوپر قابو نہیں ہوتا۔ اللہ کے ساتھ اس کا رابطہ کمزور پڑجاتا ہے ۔ اس کی شخصیت کا توازن ختم ہوجاتا ہے ‘ اسے اپنے اوپر کنٹرول نہیں رہتا ۔ اور وہ خلجان اور وسوسوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اللہ سے ختم ہوجاتا ہے اور اسے اللہ کی رضامندی کا بھروسہ نہیں رہتا ۔ یہ مقام ہوتا جہاں شیطان حملہ آور ہوتا ہے ۔ وہ انسان کے نفس کے اندر داخل ہوجاتا ہے ۔ اب یہ ایسے شخص کی نکیل اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس سے لغزشوں پر لغزشیں کرواتا ہے اور یہ نفس اللہ کی پرامن اور مضبوط بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جن اللہ پرستوں نے نبیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی انہوں نے کفار کے مقابلے میں سب سے پہلے جس ہتھیار کی توجہ کی وہ استغفار تھا۔ کیونکہ استغفار کے ذریعہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مڑجاتی تھی ۔ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق اس کی وجہ سے مضبوط ہوجاتا ۔ ان کے دلوں میں سے تمام خلجان اور غیر یقینی حالت ختم ہوجاتی ۔ تمام وساوس دور ہوجاتے اور وہ دروازہ بند ہوجاتا جس میں سے شیطان درآتا۔ اور یہ دروازہ ہمیشہ تب کھلتا ہے جب اللہ سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ انسان کی اس کی حمایت اور پناہ گاہ سے باہر نکل آتا ہے اور اس سوراخ سے جب شیطان داخل ہوتا ہے تو وہ ان کے پاؤں کو متزلزل کردیتا ہے ۔ وہ بار بار ڈگمگاتے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ انہیں اللہ کی پناہ گاہ سے بہت دور لے جاکر بےآب وگیاہ صحراء میں سرگرداں کردیتا ہے۔

اللہ بتاتے ہیں کہ میری رحمت ان کے شامل ہوگئی ہے ۔ اس لئے شیطان انہیں مجھ سے کاٹ نہ سکا۔ لہٰذا وہ معاف کردیئے گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اپنا ذاتی تعارف بھی کراتے ہیں کہ وہ غفور ہیں ‘ بخشنے والے ہیں اور بردبار ہیں ۔ غلط کاروں کو راندہ درگاہ نہیں کرتے اور نہ ہی سزادہی میں جلدی کرتے ہیں ۔ جب اللہ نے جان لیا کہ ان کے اندر اللہ کی تلاش کا داعیہ موجود ہے اور وہ اس سے جڑنا چاہتے ہیں اور اس نے جان لیا کہ وہ سرکشی نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی غلامی سے فرار چاہتے ہیں تو وہ پھر اپنی مغفرت سے نوازتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:155Listen in Qur'an →
156

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَقَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ كَانُوا۟ غُزًّۭى لَّوْ كَانُوا۟ عِندَنَا مَا مَاتُوا۟ وَمَا قُتِلُوا۟ لِيَجْعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

اب اس مضمون کا خاتمہ موت وحیات کی حقیقت کے بیان کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں کفار اور منافقین کے خیالات کس قدر کھوٹے ہیں ۔ اہل ایمان کو پکار کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا تصور حیات ‘ ان کے تصور حیات سے بالکل جدا کرلیں ۔ آخر میں مشکلات اور قربانیوں کی ایک مختلف قدر و قیمت بتائی جاتی ہے ۔ فرماتے ہیں :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(156) وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ (158)

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچارہوجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ) اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں کی حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ‘ ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤبہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “

اس معرکے کے حالات کے بیان کے دوران آیات کی مناسبت ظاہر ہے ۔ یہ منافقین مدینہ کے اقوال تھے ۔ یہ لوگ اس معرکہ کے آغاز ہی میں لشکر اسلام سے جدا ہوگئے تھے ۔ نیز مدینہ کے مشرکین بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے لیکن ان لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان قرابت کے تعلقات قائم تھے ۔ جنگ احد میں جو لوگ مارے گئے ان کے منافق رشتہ داروں اور مشرک رشتہ داروں کے لئے یہ ایک موضوع بن گیا ‘ ان کو اپنے مسلم رشتہ داروں کے دلوں میں حسرت اور مایوسی پیدا کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اور اس معرکہ میں ان لوگوں کے چلے جانے اور قتل ہوجانے کو یہ مشرک اور منافق ان کے رشتہ داروں میں از سر نو زخم تازہ کرنے کے لئے بار بار استعمال کرتے تھے ۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ اسلامی صفوں پر اس قسم کی باتوں اور پروپیگنڈے سے بہت گہرے اثرات پڑتے تھے اور ان لوگوں نے اس طرح مایوسی اور ہیجان کی فضا پیدا کردی تھی ۔ چناچہ قرآن کریم کو ان کی غلط باتوں ان کے غلط عقائد اور ان کے غلط تصورات کو درست کرنے کے لئے یہاں ان کی تردید کرنا پڑی۔ اس طرح کہ ان کی وہ باتیں خود ان کے گلے پڑگئیں۔

ایک بات کافر یہ کرتے تھے کہ اگر ہمارے ساتھ رہتے یا واپس آجاتے تو وہ نہ مرتے ۔ ان کی اس بات سے یہ بات اچھی طرح سامنے آجاتی ہے کہ ایک شخص جو کسی نظریے کا علم بردار ہوتا ہے اور وہ شخص جس کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا ان دونوں میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔ دونوں کا تصور ‘ ان اصولوں کے بارے میں جن پر زندگی رواں دواں ہے ‘ جس میں مشکلات بھی ہیں اور آسانیاں بھی ہیں ‘ بہت مختلف ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اس کائنات میں اللہ کے تکوینی اصولوں کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر مطمئن ہوتا ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتا اور مانتا ہے کہ اسے وہی کچھ پیش آسکتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا ہے ۔ اور یہ کہ جس دکھ نے اسے پہنچنا ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور جو مصیبت اس پر نہیں آئی ہے وہ آ نہیں سکتی ۔ اس لئے وہ مصیبت پر جزع وفزع نہیں کرتا اور نہ ہی مسرت اور خوشی میں آپے سے باہر ہوتا ہے ۔ اس کے نفس …

Aal-i-Imraan 3:156Listen in Qur'an →
157

وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :

وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ

” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “

غرض اللہ کی راہ میں موت اور قتل ہونا ‘ ان شرائط وقیود کے ساتھ ‘ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ان تمام دنیوی مفادات اور مال و منال سے بہتر ہے جسے رات دن لوگ جمع کررہے ہیں ۔ اس عزت واحترام سے بہتر ہے جس کے لئے لوگ کوشاں ہیں ۔ یہ موت اس لئے بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور مغفرت نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ کے میزان حقیقت نما میں یہ بہتر ہے ‘ ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ یہ مغفرت اور یہ رحمت ہی مطلوب مومن ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ موت وحیات کے اس مقام میں لوگوں کو شخصی برتری اور انسانی مقاصد اور سربلندیوں کے حوالے نہیں کرتے ‘ بلکہ انہیں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو اللہ کے ہاں ہے ‘ ان کے دلوں کو رحمت خداوندی سے جوڑا جاتا ہے ، اور رحمت خداوندی کو یونہی دنیا مال ومنال سے زیادہ خیر اور قیمتی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے تمام ممکنہ مقاصد سے ‘ اسے برتر اور قیمتی قراردیا جاتا ہے ۔

سب لوگ لوٹ کر اللہ کی طرف جائیں گے ‘ سب لوگ حشر کے دن اٹھاکر اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ چاہے وہ اپنے بستر پر مریں ‘ چاہے وہ کرہ ارض پر کسی تجارتی سفر میں مریں اور چاہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید ہوں۔ جانا انہوں نے بہرحال اللہ کی طرف ہے ۔ انجام کار انہوں نے وہاں حاضر ہونا ہے ۔ فرق اگر کوئی ہے تو وہ صرف لوگوں کے نقطہ نظر ‘ ان کے مطمح نظر اور طرزعمل میں ہے ۔ رہا واقعی عملی انجام تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ایک مقررہ وقت میں ‘ ایک مقررہ مقام پر ‘ تحریر شدہ تقدیر کے مطابق جو اٹل ہے ‘ ہر شخص کی موت واقع ہوگی ۔ یوں وہ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ‘ اور پھر ایک مقرر وقت قیامت میں وہ حشر کے میدان میں اٹھے گا ۔ وہاں یا وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت پانے والوں میں ہوگا یا وہ غضب الٰہی اور عذاب الٰہی کے چنگل میں جائے گا۔ اس لئے وہ شخص احمق الحمقاء ہے ‘ جو اپنے لئے برا انجام پسند کرتا ہے ‘ جبکہ اسے ہر حال میں مرنا تو ہے ۔

یوں دلوں میں حقیقت موت وحیات بیٹھ جاتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر کا درس دیا جاتا ہے اور یوں قلوب مومنہ تقدیر کے رواں دواں واقعات کو دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تقدیر کے پردے کے پیچھے جو حکمت کارفرماہوتی ہے اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ابتلا میں جو ثواب آخرت ہے اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس پر غزوہ احد کے اہم واقعات یہاں ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جو متعلقہ باتیں تھیں ان پر کلام ختم ہوجاتا ہے۔

اب سیاق کلام ایک نئے مضمون کو جنم لیتا ہے ۔ اس مضمون کا موضوع قائد انقلاب کی شخصیت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی صفات کے بارے میں ‘ حقیقت نبوت کے بارے میں اور امت مسلمہ کی زندگی ذات نبوی اور حقیقت نبوت کے اہم کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اس امت کے ساتھ کس قدر رحیم وکریم ہیں۔ اس موضوع کے ساتھ کچھ اور تاریں بھی ملی ہوئی ہیں کہ جماعت مسلمہ کی تنظیم کے سلسلے میں ربانی طریق کار کیا ہے۔ اور یہ کہ اس تنظیم کی اساس کیا ہے ۔ یعنی کن نظریات پر اسے قائم کیا گیا ہے اور کن حقائق پر وہ استوار ہے ۔ نیز اس تصور حیات کی اہمیت کیا ہے اور تنظیم کے لئے اس …

Aal-i-Imraan 3:157Listen in Qur'an →
158

وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحْشَرُونَ

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے

اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :

وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ

” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “

غرض اللہ کی راہ میں موت اور قتل ہونا ‘ ان شرائط وقیود کے ساتھ ‘ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ان تمام دنیوی مفادات اور مال و منال سے بہتر ہے جسے رات دن لوگ جمع کررہے ہیں ۔ اس عزت واحترام سے بہتر ہے جس کے لئے لوگ کوشاں ہیں ۔ یہ موت اس لئے بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور مغفرت نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ کے میزان حقیقت نما میں یہ بہتر ہے ‘ ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ یہ مغفرت اور یہ رحمت ہی مطلوب مومن ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ موت وحیات کے اس مقام میں لوگوں کو شخصی برتری اور انسانی مقاصد اور سربلندیوں کے حوالے نہیں کرتے ‘ بلکہ انہیں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو اللہ کے ہاں ہے ‘ ان کے دلوں کو رحمت خداوندی سے جوڑا جاتا ہے ، اور رحمت خداوندی کو یونہی دنیا مال ومنال سے زیادہ خیر اور قیمتی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے تمام ممکنہ مقاصد سے ‘ اسے برتر اور قیمتی قراردیا جاتا ہے ۔

سب لوگ لوٹ کر اللہ کی طرف جائیں گے ‘ سب لوگ حشر کے دن اٹھاکر اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ چاہے وہ اپنے بستر پر مریں ‘ چاہے وہ کرہ ارض پر کسی تجارتی سفر میں مریں اور چاہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید ہوں۔ جانا انہوں نے بہرحال اللہ کی طرف ہے ۔ انجام کار انہوں نے وہاں حاضر ہونا ہے ۔ فرق اگر کوئی ہے تو وہ صرف لوگوں کے نقطہ نظر ‘ ان کے مطمح نظر اور طرزعمل میں ہے ۔ رہا واقعی عملی انجام تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ایک مقررہ وقت میں ‘ ایک مقررہ مقام پر ‘ تحریر شدہ تقدیر کے مطابق جو اٹل ہے ‘ ہر شخص کی موت واقع ہوگی ۔ یوں وہ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ‘ اور پھر ایک مقرر وقت قیامت میں وہ حشر کے میدان میں اٹھے گا ۔ وہاں یا وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت پانے والوں میں ہوگا یا وہ غضب الٰہی اور عذاب الٰہی کے چنگل میں جائے گا۔ اس لئے وہ شخص احمق الحمقاء ہے ‘ جو اپنے لئے برا انجام پسند کرتا ہے ‘ جبکہ اسے ہر حال میں مرنا تو ہے ۔

یوں دلوں میں حقیقت موت وحیات بیٹھ جاتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر کا درس دیا جاتا ہے اور یوں قلوب مومنہ تقدیر کے رواں دواں واقعات کو دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تقدیر کے پردے کے پیچھے جو حکمت کارفرماہوتی ہے اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ابتلا میں جو ثواب آخرت ہے اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس پر غزوہ احد کے اہم واقعات یہاں ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جو متعلقہ باتیں تھیں ان پر کلام ختم ہوجاتا ہے۔

اب سیاق کلام ایک نئے مضمون کو جنم لیتا ہے ۔ اس مضمون کا موضوع قائد انقلاب کی شخصیت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی صفات کے بارے میں ‘ حقیقت نبوت کے بارے میں اور امت مسلمہ کی زندگی ذات نبوی اور حقیقت نبوت کے اہم کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اس امت کے ساتھ کس قدر رحیم وکریم ہیں۔ اس موضوع کے ساتھ کچھ اور تاریں بھی ملی ہوئی ہیں کہ جماعت مسلمہ کی تنظیم کے سلسلے میں ربانی طریق کار کیا ہے۔ اور یہ کہ اس تنظیم کی اساس کیا ہے ۔ یعنی کن نظریات پر اسے قائم کیا گیا ہے اور کن حقائق پر وہ استوار ہے ۔ نیز اس تصور حیات کی اہمیت کیا ہے اور تنظیم کے لئے اس …

Aal-i-Imraan 3:158Listen in Qur'an →
159

فَبِمَا رَحْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى ٱلْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ

(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اس پیراگراف کا موضوع اور محور حقیقت نبوت اور ذات نبوی ہے ۔ اور اس محور کے متعلقہ حقائق کو اس میں لیا گیا ہے ۔ اس میں نظر آتا ہے کہ بڑے بڑے اصول چھوٹی چھوٹی عبارتوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اللہ کی رحمت کو مجسم کرکے نبی ﷺ کے اخلاق اور طرز عمل کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ آپ کی ذات کریمہ نہایت ہی مہربان ‘ نہایت ہی رحم دل ‘ نہایت ہی نرم اور نہایت ہی سہل شکل میں پیش کی گئی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ لوگ پروانوں کی طرح ان کے اردگرد جمع ہوتے ہیں ۔ آپ کے اردگرد ہر وقت ایک بڑی تعداد جمع رہتی ہے ۔ پھر اس محفل میں صاف صاف نظر آتا ہے کہ اس جماعت کا قیام جس کے نظام کے تحت ہے وہ اصول شوریٰ پر قائم ہے ۔

حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جماعت باہم مشورہ کرکے فیصلے کرے ‘ اگرچہ اس مشورے کے تحت ہونے والے فیصلوں کے نتائج تلخ ہوں۔ پھر شوریٰ کے اصول کے ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ دانشمندی اور شوریٰ کے ذریعے فیصلے کئے جائیں اور پھر ان پر عمل کیا جائے ۔ اور یہ عمل فیصلہ کن ہو ۔ اور شوریٰ اور عزم کے بعد پھر توکل کرکے کام کیا جائے ۔ جب منصوبہ تیارہوجائے ‘ اس پر شوریٰ ہوجائے اور پھر اس فیصلہ کن عمل اور اس کا اجراء (Execution) شروع ہوجائے اور اس کے لئے ہر قسم کا انتظام ہوجائے ‘ تو پھر توکل علی اللہ کا مرحلہ آتا ہے اور پھر قدرت الٰہیہ اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ پھر مسلمان اپنا کام اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اس لئے کہ تمام امور میں حقیقی فاعل اور حقیقی متصرف تو صرف اللہ کی ذات ہے ۔ حقیقی تصرف اس کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ۔ تمام نتائج اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ ان امور کے ساتھ ساتھ پھر یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت بہت ہی بڑا جرم ہے ۔ اس سے طمع اور لالچ کا اظہار ہوتا ہے۔ جماعت کے اندر افراتفری پیدا ہوتی ہے ۔ اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے جو شخص اللہ کی رضامندی کے لئے کام کرتا ہے اور جو اللہ کی نافرمانی اور غضب کی راہ پر ہے ان دونوں میں بڑا فرق و امتیاز ہے ۔ دونوں کی اقدار اور ترجیحات میں فرق ہوتا ہے ۔ دونوں کے پیمانہ نفع ونقصان میں فرق ہوتا ہے ۔ آخر میں اہل اسلام اور اہل دنیا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت تمہارے لئے بڑی نعمت ہے اور تم پر ایک عظیم احسان ہے اور معمولی اموال غنیمت جس کے لئے تم دوڑتے ہو اس قیمتی اثاثہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ نیز اس عظیم خزانے کے حصول کے لئے وہ مصائب کچھ نہیں جو تم پر آئے ہیں ۔ یہ عظیم دولت تو عظیم قربانی کا تقاضا کرتی ہے ۔

ہدایات ومعانی کی یہ فوج ہے جو چند فقروں اور آیات میں دریا کو کوزے میں بند کرکے پیش کردی گئی ہے ۔

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

” اے پیغمبر یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بڑے نرم مزاج واقعہ ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ۔ ان کے قصور معاف کردو ‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ اور اہم امور میں ان سے مشورہ کیا کرو ۔ پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “

یہاں روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے ۔ لیکن یہ بات رسول کی قوم کی کچھ کمزوریوں کو سامنے رکھ کر کی جارہی ہے کہ پہلے وہ مدینہ سے باہر نکلنے میں بڑے پرجوش تھے ۔ اس کے بعد ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہوگیا ۔ پورے لشکر کا ایک تہائی حصہ تو جنگ سے پہلے ہی واپس ہوگیا۔ اس کے بعد تیراندازوں نے رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کی ۔ انہوں نے مال غنیمت دیکھ کر کمزوری کا مظاہرہ کیا ۔ پھر جب رسول ﷺ کے قتل کی جھوٹی …

Aal-i-Imraan 3:159Listen in Qur'an →
160

إِن يَنصُرْكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا ٱلَّذِى يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

حقیقت توکل کو مزید ذہن نشین کرانے کے لئے اور اس کے اصول کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لئے اگلی آیت میں ذرا تفصیل سے واضح کرکے اس حقیقت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ حقیقی قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ فتح و کامرانی اور شکست اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اگر نصرت چاہتے ہو تو اسی سے چاہو اور اگر شکست سے بچنا چاہتے ہو تو اسی کے آگے گڑگڑاؤ۔ اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ ‘ اسی پر بھروسہ کرو ‘ لیکن پوری تیاری کے بعد ‘ نتائج سے بےفکر ہوجاؤ اور نتائج و عواقب اللہ پر چھوڑ دو ۔

إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

” اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ‘ اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “

اس کی وجہ سے ایک مومن کا تصور اس بات سے پاک ہوجاتا ہے کہ کوئی چیز اللہ کے سوا کسی اور سے بھی طلب ہوسکتی ہے ۔ ایک مومن کی سوچ براہ راست اس ذات کے ساتھ پیوست ہوجاتی ہے جو اس کائنات میں حقیقتاً متصرف ہے ۔ اس لئے وہ ان تمام کھوٹے خداؤں اور باطل اسباب سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ان کی حمایت اور نصرت طلب نہیں کرتا ۔ اور وہ اچھے نتائج کے لئے صرف اللہ وحدہٗ پر توکل کرتا ہے ۔ اسی سے توقع کرتا ہے کہ وہ معاملات کو اچھے رخ پر ڈالے گا ‘ اور اپنی حکمت سے درست کرے گا ۔ اس عقیدے کے بعد پھر تقدیر الٰہی کے نتیجے میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسے بڑی فراخ دلی سے قبول کرتا ہے ۔ فکر ونظر کا یہ ‘ وہ توازن ہے جسے انسانی فکر نے ‘ صرف اسلام کے زیر سایہ پایا۔

Aal-i-Imraan 3:160Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.