Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 141–150 of 200

141

وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَمْحَقَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے

آیت 141 وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ مسلمانوں میں سے خاص طور پر انصار مدینہ کی آزمائش مطلوب ہے جو ابھی ایمان لائے ہیں ‘ ان میں کچھ پختہ ایمان والے ہیں ‘ کچھ کمزور ایمان والے ہیں اور کچھ منافق بھی ہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ وہ پورے طریقے سے پختہ ہوجائیں ‘ اور اگر کوئی کچا ہی رہتا ہے تو وہ اہل ایمان سے کٹ جائے ‘ تاکہ بحیثیت مجموعی جماعتی قوت کو کوئی ضعف نہ پہنچے۔ تو یہ جو تمہارے اندر ہر طرح کے لوگ گڈمڈ ہوگئے ہیں کہ کچھ مؤمن صادق ہیں ‘ پختہ ایمان والے ہیں ‘ کچھ کمزور ایمان والے ہیں اور کچھ منافق بھی ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ تمحیص کی ہے کہ سب کو چھانٹ کر الگ کردیا ہے۔ چناچہ عبداللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھیوں کے نفاق کا پردہ چاک ہوگیا ‘ ورنہ ان کی اصلیت تم پر کیسے ظاہر ہوتی ؟ بحث و تمحیص ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ بحث کا معنی ہے کریدنا اور تمحیص الگ الگ کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:141Listen in Qur'an →
142

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّٰبِرِينَ

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

آیت 142 اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ گویا ع ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! ابھی تو تمہارے لیے اس راستے میں کڑی سے کڑی منزلیں آنے والی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون ہم سورة البقرۃ کی آیت 214 میں پڑھ آئے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ زیر مطالعہ آیت کا نمبر 142 ہے ‘ یعنی ہندسوں کی صرف ترتیب بدلی ہوئی ہے۔

Aal-i-Imraan 3:142Listen in Qur'an →
143

وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ ٱلْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

آیت 143 وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ یہاں روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو نئے نئے ایمان لائے تھے اور ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو شہادت چاہیے اور ہم تو کھلے میدان میں جا کر مقابلہ کریں گے۔ ان کے جذبات پر تھوڑا سا تبصرہ ہو رہا ہے کہ اس وقت تو جو شِ قتال اور ذوق شہادت کا اظہار ہو رہا تھا ‘ اب تم نے موت دیکھ لی ہے نا ! تو یہ ہے موت جسے انسان اتنی آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرتا۔

Aal-i-Imraan 3:143Listen in Qur'an →
144

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ وَسَيَجْزِى ٱللَّهُ ٱلشَّٰكِرِينَ

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

آیت 144 وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌ ج غزوۂ احد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب کس لیے جنگ کرنی ہے ؟ حضرت عمر رض بھی ان میں سے تھے۔ آپ رض نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے ! یہاں اس طرز عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہارا یہ رویہ غلط تھا۔ محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے ‘ بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہو ‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْ ط کیا اس صورت میں تم الٹے پاؤں راہ حق سے پھر جاؤ گے ؟ کیا یہی تمہارے دین اور ایمان کی حقیقت ہے ؟وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا ط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ حضرت عمر رض چونکہ جذباتی انسان تھے لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑ گئے۔ آپ رض ‘ کی تقریباً یہی کیفیت پھر حضور ﷺ کے انتقال پر ہوگئی تھی۔ آپ رض ‘ تلوار سونت کر بیٹھ گئے تھے کہ جو کہے گا کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے میں اس کا سر اڑا دوں گا۔ حضرت ابوبکر رض ثانئ اسلام و غار وبدر و قبر اس وقت مدینہ کے مضافات میں تھے۔ آپ رض ‘ آتے ہی سیدھے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رض کے حجرے میں گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر چادر تھی ‘ آپ رض نے چادر ہٹائی اور جھک کر آنحضور ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ‘ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی اب دوبارہ آپ ﷺ پر موت وارد نہیں ہوگی ‘ اب تو آپ ﷺ ‘ کو حیات جاودانی حاصل ہوچکی ہے۔ حضرت ابوبکر رض باہر آئے اور لوگوں سے خطاب شروع کیا تو حضرت عمر رض بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رض نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُجو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوچکا ہے ‘ اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہو کہ اللہ تو زندہ ہے ‘ جسے موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد آپ رض نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاءِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَآٰی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ حضرت ابوبکر رض کی زبانی یہ آیت سن کر لوگوں کو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہو۔ 1

Aal-i-Imraan 3:144Listen in Qur'an →
145

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَٰبًۭا مُّؤَجَّلًۭا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْءَاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِى ٱلشَّٰكِرِينَ

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے

آیت 145 وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ الاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلاً ط rّاجل معین کے ساتھ ہر ایک کا وقت طے ہے۔ لہٰذا انسان کی بہترین محافظ خود موت ہے۔ آپ کی موت کا جو وقت مقرر ہے اس سے پہلے کوئی آپ کے لیے موت نہیں لاسکتا۔ وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَاب الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا ج وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْہَا ط یہ مضمون سورة البقرۃ کی آیات 200۔ 202 میں حج کے سلسلے میں آچکا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:145Listen in Qur'an →
146

وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّۢ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌۭ فَمَا وَهَنُوا۟ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا۟ وَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

آیت 146 وَکَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ لا مَعَہٗ رِبِّیُّوْنَ کَثِیْرٌج ۔اے مسلمانو ! تمہارے ساتھ جو یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ پہلا تو نہیں ہے۔ اللہ کے بہت سے نبی ایسے گزرے ہیں جن کی معیت میں بہت سارے اللہ والوں نے ‘ اللہ کے ماننے اور چاہنے والوں نے ‘ اللہ کے دیوانوں اور متوالوں نے ‘ اللہ کے غلاموں اور عاشقوں نے اللہ کے دشمنوں سے جنگیں کی ہیں۔ رِبِّیْ اور ربّائی کا لفظ آج بھی یہودیوں کے ہاں استعمال ہوتا ہے۔فَمَا وَہَنُوْا لِمَآ اَصَابَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَکَانُوْا ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ تو اے مسلمانو ! ان کا کردار اپناؤ اور دل گرفتہ نہ ہو۔

Aal-i-Imraan 3:146Listen in Qur'an →
147

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

آیت 147 وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا ربَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ حضرت طالوت کے ساتھیوں کی بھی یہی دعا تھی اور سورة البقرۃ کے اختتام پر آنے والی دعا کے الفاظ بھی یہی تھے : فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔

Aal-i-Imraan 3:147Listen in Qur'an →
148

فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ ٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

آیت 148 فَاٰ ‘ تٰٹہُمُ اللّٰہُ ثَوَاب الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ط انہیں دنیا کی سربلندی بھی دی ‘ فتوحات سے بھی نوازا اور آخرت کا بہترین اجر بھی عطا فرمایا۔

Aal-i-Imraan 3:148Listen in Qur'an →
149

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے

آیت 148 فَاٰ ‘ تٰٹہُمُ اللّٰہُ ثَوَاب الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ط انہیں دنیا کی سربلندی بھی دی ‘ فتوحات سے بھی نوازا اور آخرت کا بہترین اجر بھی عطا فرمایا۔

Aal-i-Imraan 3:149Listen in Qur'an →
150

بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّٰصِرِينَ

(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے

آیت 150 بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰٹکُمْ ج۔تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ تمہارا مولیٰ ‘ مددگار ‘ پشت پناہ ‘ ساتھی اور حمایتی اللہ ہے۔

Aal-i-Imraan 3:150Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.