Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 141–150 of 200

141

وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَمْحَقَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے

ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔

ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔

Aal-i-Imraan 3:141Listen in Qur'an →
142

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّٰبِرِينَ

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔

ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔

Aal-i-Imraan 3:142Listen in Qur'an →
143

وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ ٱلْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔

ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔

Aal-i-Imraan 3:143Listen in Qur'an →
144

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ وَسَيَجْزِى ٱللَّهُ ٱلشَّٰكِرِينَ

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:144Listen in Qur'an →
145

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَٰبًۭا مُّؤَجَّلًۭا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْءَاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِى ٱلشَّٰكِرِينَ

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:145Listen in Qur'an →
146

وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّۢ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌۭ فَمَا وَهَنُوا۟ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا۟ وَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:146Listen in Qur'an →
147

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:147Listen in Qur'an →
148

فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ ٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:148Listen in Qur'an →
149

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے

جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔

مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔

Aal-i-Imraan 3:149Listen in Qur'an →
150

بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّٰصِرِينَ

(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے

جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔

مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔

Aal-i-Imraan 3:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.