Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 141–150 of 200

141

وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَمْحَقَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے

Explained together with ayah 140

Aal-i-Imraan 3:141Listen in Qur'an →
142

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّٰبِرِينَ

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا ۔۔ : بعض سلف نے اس کا معنی کیا ہے ابھی تک اللہ نے ظاہر نہیں کیا “ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماضی، حال اور مستقبل ہر بات کا علم ہے، اس لیے یہ ترجمہ کہ ” ابھی تک اللہ نے نہیں جانا۔ “ درست نہیں، مگر ” عَلِمَ یَعْلَمُ “ کا معنی تو جاننا ہی ہوتا ہے، ظاہر کرنے کے لیے تو ” لَمَّا یُظْہِرِ اللّٰہُ “ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی بھی ہیں اور کچھ حادث بھی ہیں، مثلاً پیدا کرنا، سننا اور جاننا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا : ( كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) [ الرحمن : ٢٩ ] ” ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔ “ خالق تو وہ ازل سے ہے، مگر جب وہ کوئی چیز پیدا کرے گا تو اس چیز کی خلق اس وقت وجود میں آئے گی۔ اسی طرح آیت : ( قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا) [ المجادلۃ : ١ ] ” یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی “ اس عورت کے جھگڑے کے بعد ہی واقعاتی سماع وجود میں آیا، اسی طرح جہاد کرنے کا واقعاتی علم تو جہاد کے واقع ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مقصد یہ کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا وقوع میں آنا نہیں جانا کہ تم میں سے کس نے جہاد کیا ہے۔ ” وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْن “ میں میم ” لام کے “ کی وجہ سے منصوب ہے، جو یہاں محذوف ہے اس لیے ترجمہ کیا ہے ” اور “ تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔ “ خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش کے بغیر ہی تم کو جنت میں اعلیٰ مراتب مل جائیں گے ؟ مطلب یہ کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلیٰ مراتب حاصل نہیں ہوسکتے۔

Aal-i-Imraan 3:142Listen in Qur'an →
143

وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ ٱلْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَـمَنَّوْنَ الْمَوْتَ : یہاں موت کا معنی جنگ یا شہادت ہے۔ ( بغوی) جن لوگوں کو جنگ بدر میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ دشمن سے مقابلے کا موقع ملے تو ہم بھی شہداء بدر کا درجہ حاصل کرلیں، مگر جب جنگ احد میں موقع ملا تو دشمن کے اچانک حملے کی وجہ سے ثابت قدم نہ رہ سکے اور بعض بھاگ نکلے۔ اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہاری تمنا کے مطابق اب یہ موقع آیا تو تمہیں چاہیے تھا کہ پوری جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کرتے اور پامردی کا ثبوت دیتے۔ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہا کرو، ہاں، اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر صبر کرو اور خوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ “ [ بخاری، - الجہاد والسیر، باب لا تمنوا لقاء العدو : ٣٠٢٥ ]

Aal-i-Imraan 3:143Listen in Qur'an →
144

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ وَسَيَجْزِى ٱللَّهُ ٱلشَّٰكِرِينَ

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ : جنگ احد میں بعض صحابہ نے تو مرتبۂ شہادت حاصل کرلیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے لگے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی زخمی ہوگئے اور کسی شیطان نے آپ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، صحابہ کرام (رض) کے دل اس افواہ سے ٹوٹ گئے اور وہ ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن و تشنیع کے نشتر چبھونے شروع کردیے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے ؟ اس پر یہ آیات اتریں : ( وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ ) ” نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔ “ اس میں حصر قلب ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تم نے جو سمجھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کے مالک ہیں، ایسا نہیں، وہ محض اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ وہ قتل بھی ہوسکتے ہیں، فوت بھی ہوسکتے ہیں اور ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے تم اللہ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) - شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اور اشارتاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر بعض لوگ پھرجائیں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مرتد ہوئے تو ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔ “ (موضح) - 2 عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ (جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو) ابوبکر صدیق (رض) اپنے گھر سے، جو ” اَلسُّنْح “ میں تھا، گھوڑے پر تشریف لائے، وہ گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آگئے، لوگوں سے انھوں نے کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدھے عائشہ ( ) کے ہاں چلے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قصد کیا، اس وقت آپ یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ پر جھک کر آپ کو بوسہ دیا، پھر رو پڑے اور کہنے لگے : ” میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے نبی اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت آپ پر لکھی گئی تھی، وہ آپ فوت ہوچکے۔ “ (بخاری) ابو سلمہ کہتے ہیں، مجھے ابن عباس (رض) نے بتایا کہ ابوبکر (رض) نکلے، عمر (رض) لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، تو فرمایا : ” بیٹھ جاؤ۔ “ انھوں نے نہ مانا، پھر فرمایا : ” بیٹھ جاؤ۔ “ وہ پھر بھی نہ مانے تو ابوبکر (رض) نے خطبہ پڑھا، اب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمر (رض) کو چھوڑ دیا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : ” اما بعد تم میں سے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بیشک اللہ زندہ ہے، کبھی فوت نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ( وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ ) یہ مکمل آیت تلاوت کی۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” اللہ کی قسم ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابوبکر صدیق (رض) نے یہ آیت پڑھی تو لوگوں نے اسے ان سے لے لیا تو جسے سنو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ “ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا : ” اللہ کی قسم میں نے ابوبکر (رض) سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گرگیا۔ “ [ بخاری، المغازی، باب مرض النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ووفاتہ : ٤٤٥٢، ٤٤٥٣، ٤٤٥٤ ]

Aal-i-Imraan 3:144Listen in Qur'an →
145

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَٰبًۭا مُّؤَجَّلًۭا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْءَاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِى ٱلشَّٰكِرِينَ

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنا اور ان کے ذہن میں یہ بات بٹھانا ہے کہ موت سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے انسان موت کے پنجے سے نجات نہیں پاسکتا، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے، جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ ( اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ) میں ” اِذْنٌ“ بمعنی علم ہے، یعنی ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اِذْنٌ“ بمعنی قضا و قدر ہو۔ الغرض تمہیں چاہیے کہ موت سے بھاگنے کی فکر چھوڑ کر بےجگری سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو اور اس جہاد سے تمہارا مقصود آخرت کا ثواب ہونا چاہیے، ورنہ اگر تم صرف دنیا کا ثواب، شہرت اور مال غنیمت وغیرہ ہی چاہو گے تو تمہیں صرف وہی ملے گا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اور آخرت سے محروم رہو گے۔ یہاں ( كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ۭ ) سے مراد وہ کتاب ہے جو ” آجَالٌ“ (مقررہ اوقات) پر مشتمل ہے۔ بعض نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ احادیث میں ہے : ” اللہ تعالیٰ نے قلم سے فرمایا : ( اُکْتُبْ فَکَتَبَ مَا ھُوَ کَاءِنٌ ) ” لکھ دے، تو قلم نے جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا۔ “ [ أحمد : ٥؍٣٧٣، ح : ٢٢٧٩١ ]- اس آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ احد میں حاضر ہونے والے اپنی نیتوں کے اعتبار سے دو قسم کے تھے، بعض غنیمت کے طالب تھے اور بعض آخرت کے۔ یہ آیت گو خاص جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر حکم کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعمال کا مدار انسان کے ارادے اور نیت پر ہے۔ معلوم ہوا مقتول بھی موت کے مقررہ وقت پر مرتا ہے اور مقررہ وقت میں تبدیلی ناممکن ہے۔

Aal-i-Imraan 3:145Listen in Qur'an →
146

وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّۢ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌۭ فَمَا وَهَنُوا۟ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا۟ وَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

آیت ١٤٦ تا ١٤٨ : ربیون : یہ ” رِبِّیٌّ“ کی جمع ہے، جو ” رَبَّانِیٌّ“ کا ہم معنی ہے۔ (کشاف) ایک معنی اور بھی اہل علم نے کیا ہے کہ یہ ” رِبَّۃٌ“ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی کثیر جماعت ہے، یعنی ان کے ہمراہ بہت سی جماعتیں تھیں۔ (قرطبی)- ” وَھْنٌ، ضُعْفٌ اور اِسْتِکَانَۃٌ“ یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں، کمزوری کے معنی میں یہ بالترتیب واقع ہوتے ہیں۔ ” وَہْنٌ“ دل سے ہمت ہارنا، ” ضُعْفٌ“ عام کمزوری اور ” اِسْتِکَانَۃٌ“ دشمن کے سامنے عاجزی کا اظہار۔ ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب اور تنبیہ ہے جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی افواہ سن کر بالکل ہی پست ہوگئے، پس فرمایا کہ تم سے پہلے انبیاء کے متبعین گزر چکے ہیں، ان کی اتباع کرو اور اس قسم کی کمزوری نہ دکھاؤ۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) - یعنی ان لوگوں میں سے بہت سے ” رِبِّیُّوْنَ “ اپنے انبیاء کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے، لیکن انھوں نے اپنی تعداد کی قلت اور بےسروسامانی کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ کبھی اپنے انبیاء کے وفات پا جانے یا شہید ہوجانے کی صورت میں وسوسوں میں مبتلا ہوئے، بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں صبر و استقلال سے کام لیتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں پر عفو و درگزر کی درخواست کرتے رہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب سے نواز دیا، بلکہ آخرت کے حسن ثواب سے اور احسان کا مرتبہ پالینے کی وجہ سے اپنی محبت بھی عطا فرمائی۔ ( وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ )

Aal-i-Imraan 3:146Listen in Qur'an →
147

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

Explained together with ayah 146

Aal-i-Imraan 3:147Listen in Qur'an →
148

فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ ٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

Explained together with ayah 146

Aal-i-Imraan 3:148Listen in Qur'an →
149

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : احد کی عارضی سی شکست کے بعد کفار نے، جن میں منافقین، یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی شامل تھے، مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر کے انھیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ کفار کے فریب میں مت آنا، ورنہ تم خسارے میں پڑجاؤ گے۔ یہ آیت بھی پچھلی آیت کے مضمون کو مکمل کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے بڑا خسارا یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور آخرت کا خسارا ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے۔ پس خسارہ عام ہے۔

Aal-i-Imraan 3:149Listen in Qur'an →
150

بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّٰصِرِينَ

(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ : مولیٰ کا معنی مالک، مدد گار اور دوست وغیرہ ہے۔ یعنی تم کفار کی اطاعت تو اس لیے کرو گے کہ وہ تمہاری کچھ مدد کریں، مگر یہ سراسر جہالت ہے۔ تمہارا مالک، حامی و ناصر تو اللہ تعالیٰ ہے، اس پر بھروسا رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ” خَيْرُ النّٰصِرِيْنَ “ محاورۂ کلام کے اعتبار سے ہے، ورنہ یہ معنی نہیں ہیں کہ کچھ اور ناصرین بھی ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ہے۔ (کبیر)

Aal-i-Imraan 3:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.