Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 200

11

كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کام آئیں گے ان کے مال ان کے اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہی لوگ ایندھن ہیں آگ کا(10) مانند عادت آل فرعون کے اور ان لوگوں کے جو ان سے پہلے تھے، جھٹلایا انھوں نے ہماری آیتوں کو، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بہ سبب ان کے گناہوں کے،اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(11)

[11,10] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انھیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعے سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے ﴿ نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا١ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾(النساء:34؍35) ’’ہمارے مال اور ہماری اولادیں زیادہ ہیں۔ ہمیں عذاب نہیں ہوگا‘‘ قیامت کے دن انھیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انھیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾(الزمر:39؍48) ’’ان کے کمائے ہوئے اعمال کا برا انجام ان کے سامنے آجائے گا اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے‘‘ اللہ کے ہاں مال اور اولاد کی قدر نہیں، بلکہ بندے کو اللہ پر ایمان لانے کا اور نیک اعمال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا١ٞ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍37) ’’تمھارے مال اور تمھاری اولاد وہ چیز نہیں جو تمھیں ہمارا قرب بخشتی ہیں بلکہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے انھی لوگوں کو اپنے اعمال کا دگنا بدلہ ملے گا، اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے‘‘ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ کافر جہنم کا ایندھن ہیں، یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ قانون کہ کافروں کو ان کے مالوں یا اولادوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، گزشتہ امتوں میں بھی اللہ کا یہی قانون جاری رہاہے۔ فرعون، اس سے پہلے اور اس کے بعد آنے والے سب جابر، سرکش، مالوں اور لشکروں والے، ان سب کے ساتھ یہی ہوا کہ جب انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور ان سے دشمنی کی، اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑ لیا، یہ اس کا عدل تھا، ظلم نہیں۔ جو کوئی ایسا کام کرے جو سزا کا مستوجب ہے تو اللہ اسے سخت سزا دے دیتا ہے۔ عذاب کا یہ سبب کفر بھی ہوسکتا ہے، اور دوسرے گناہ بھی جن کی مختلف قسمیں اور بہت سے مراتب ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:11Listen in Qur'an →
12

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

(اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے تم اور اکٹھے کیے جاؤ گے جہنم کی طرف، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(12) تحقیق ہے تمھارے لیے (عظیم) نشانی ان دو گروہوں میں جو باہم (لڑائی کے لیے) ملے، ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا، وہ (مسلمان) دیکھتے تھے ان کو اپنے سے دگنا، دیکھنا (ظاہری) آنکھ سےاور اللہ قوت دیتا ہے ساتھ اپنی نصرت کے جس کو چاہتا ہے، بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے واسطے اہل بصیرت کے(13)

[13,12] اس کے بعد فرمایا: ﴿قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ﴾’’(اے محمدﷺ)کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت ہے اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کرکے جہنم کی طرف ہانک دیے جائیں گے جو برا ٹھکانا ہے۔ اور ان کے بد اعمال کا برا بدلہ ہے۔ ﴿قَدۡ كَانَ لَكُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے نشانی تھی‘‘ یعنی عظیم عبرت تھی۔ ﴿فِيۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا﴾ ’’ان دو جماعتوںمیں جو گتھ گئی تھیں۔ یہ غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔‘‘ یہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام تھے۔ ﴿وَاُخۡرٰؔى كَافِرَةٌ﴾ ’’اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔‘‘ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ سے روکنے کے لیے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی، اس لیے فرمایا:﴿يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡيَ الۡعَيۡنِ﴾ ’’وہ انھیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔‘‘ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انھوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم تر سبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:12Listen in Qur'an →
13

قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌۭ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌۭ تُقَٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌۭ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَٰرِ

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے تم اور اکٹھے کیے جاؤ گے جہنم کی طرف، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(12) تحقیق ہے تمھارے لیے (عظیم) نشانی ان دو گروہوں میں جو باہم (لڑائی کے لیے) ملے، ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا، وہ (مسلمان) دیکھتے تھے ان کو اپنے سے دگنا، دیکھنا (ظاہری) آنکھ سےاور اللہ قوت دیتا ہے ساتھ اپنی نصرت کے جس کو چاہتا ہے، بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے واسطے اہل بصیرت کے(13)

[13,12] اس کے بعد فرمایا: ﴿قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ﴾’’(اے محمدﷺ)کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت ہے اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کرکے جہنم کی طرف ہانک دیے جائیں گے جو برا ٹھکانا ہے۔ اور ان کے بد اعمال کا برا بدلہ ہے۔ ﴿قَدۡ كَانَ لَكُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے نشانی تھی‘‘ یعنی عظیم عبرت تھی۔ ﴿فِيۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا﴾ ’’ان دو جماعتوںمیں جو گتھ گئی تھیں۔ یہ غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔‘‘ یہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام تھے۔ ﴿وَاُخۡرٰؔى كَافِرَةٌ﴾ ’’اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔‘‘ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ سے روکنے کے لیے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی، اس لیے فرمایا:﴿يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡيَ الۡعَيۡنِ﴾ ’’وہ انھیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔‘‘ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انھوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم تر سبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔

Aal-i-Imraan 3:13Listen in Qur'an →
14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَٰطِيرِ ٱلْمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَٰمِ وَٱلْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے

مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت (نفسانی) خواہشوں کی، عورتوں سے اور بیٹوں سے اور خزانے جمع کیے ہوئے سے، سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان زدہ سے اور چوپائے اور کھیتی سے، یہ (سب) سامان ہے حیات دنیا کااور اللہ، اس کے پاس ہی ہے اچھا ٹھکانا(14) کہہ دیجیے، کیا خبر دوں میں تمھیں، ساتھ بہت بہتر کے ان (سب) سے؟ واسطے ان لوگوں کے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، نزدیک ان کے رب کے باغات ہیں، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور بیویاں ہیں پاکیزہ اور رضامندی اللہ کی طرف سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو(15)

[14] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طورپر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا﴾(الکہف:18؍7)’’ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے‘‘ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں۔ اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے، اس لیے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے۔ اور عملی طورپر لوگوں کی دوقسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے انھی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنالیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لیے خاص ہوکر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہوکر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انھوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لیے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنالیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اسے اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی:﴿ذٰلِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے‘‘ انھوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ اسے ایک بازار جانا جس میں انھیں اخروی عظیم نفع کی امید ہے۔ ان کے لیے دنیا آخرت کے سفر کے لیے زاہ راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔

[15] یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارالقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ اُخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالاخانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لیے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھایئے۔ ﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔‘‘ وہ …

Aal-i-Imraan 3:14Listen in Qur'an →
15

۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍۢ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت (نفسانی) خواہشوں کی، عورتوں سے اور بیٹوں سے اور خزانے جمع کیے ہوئے سے، سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان زدہ سے اور چوپائے اور کھیتی سے، یہ (سب) سامان ہے حیات دنیا کااور اللہ، اس کے پاس ہی ہے اچھا ٹھکانا(14) کہہ دیجیے، کیا خبر دوں میں تمھیں، ساتھ بہت بہتر کے ان (سب) سے؟ واسطے ان لوگوں کے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، نزدیک ان کے رب کے باغات ہیں، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور بیویاں ہیں پاکیزہ اور رضامندی اللہ کی طرف سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو(15)

[14] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طورپر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا﴾(الکہف:18؍7)’’ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے‘‘ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں۔ اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے، اس لیے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے۔ اور عملی طورپر لوگوں کی دوقسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے انھی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنالیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لیے خاص ہوکر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہوکر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انھوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لیے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنالیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اسے اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی:﴿ذٰلِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے‘‘ انھوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ اسے ایک بازار جانا جس میں انھیں اخروی عظیم نفع کی امید ہے۔ ان کے لیے دنیا آخرت کے سفر کے لیے زاہ راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔

[15] یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارالقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ اُخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالاخانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لیے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھایئے۔ ﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔‘‘ وہ …

Aal-i-Imraan 3:15Listen in Qur'an →
16

ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)

[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟

Aal-i-Imraan 3:16Listen in Qur'an →
17

ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)

[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟

Aal-i-Imraan 3:17Listen in Qur'an →
18

شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

گواہی دی ہے اللہ نے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، اور فرشتوں نے اور اہل علم نے (بھی) اس حال میں کہ وہ قائم ہے ساتھ انصاف کے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے خوب حکمت والا(18)

[18] اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزوجل کی اپنی گواہی۔ اور اس کے مخلوق میں سے معزز ترین افراد، یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل و براہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق و انفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، نہ کسی اور کے نفع نقصان پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ زبردست دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا باطل ہے۔ فرشتوں کی گواہی کا علم ہمیں اللہ کے بتانے سے اور اس کے رسولوں کے بتانے سے ہوا ہے۔ اہل علم کی گواہی اس لیے معتبر ہے کہ تمام دینی امور میں انھی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ خصوصاً سب سے عظیم، سب سے زیادہ جلالت و شرف والے مسئلہ یعنی توحید کے مسئلہ میں۔ علماء کا اول سے آخر تک اس پر اتفاق ہے، انھوں نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے اور توحید تک پہنچنے کے راستے بتائے ہیں۔ لہٰذا مخلوق پر واجب ہے کہ اتنی عظیم گواہیوں والے حکم کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سب سے زیادہ شرف والا کام توحید کو جاننا ہے۔ لہٰذا اس کی گواہی اللہ نے خود دی ہے۔ اور اپنی مخلوق میں سے عظیم ترین افراد کو اس کا گواہ بنایا ہے۔ شہادت (گواہی) علم و یقین کی بنیاد پر ہی دی جاسکتی ہے، جو آنکھ سے مشاہدہ کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص توحید کے معاملہ میں اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ اہل علم میں شامل نہیں۔ اس آیت میں علم کے شرف و منزلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے انبیاء کو منتخب کرکے اس عظیم ترین مسئلہ پر شہادت دینے کے لیے مقرر کیا۔ (۲) اللہ نے ان کی گواہی کو اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا۔ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (۳) اللہ نے انھیں ’’علم والے‘‘ فرمایا۔ ان کی اضافت علم کی طرف کی۔ کیونکہ وہی اسے لے کر اٹھنے والے اور اس صفت سے متصف ہیں۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے انھیں لوگوں پر شاہد اور حجت قرار دیا اور جس چیز کی انھوں نے گواہی دی تھی، لوگوں کو اس پر عمل کرنے کاحکم دیا۔ اس طرح وہ اس کا سبب بنے اور اس کے مطابق ہونے والے ہر عمل کا ثواب انھیں پہنچے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو گواہ بنایا ہے اس سے ان کا سچا اور قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے انھیں جس چیز کا محافظ بنایا ہے، وہ اس معاملے میں دیانت دار ہیں۔ اپنی توحیدکے اثبات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا عدل ثابت فرمایا ہے۔ ارشاد ہے ﴿قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’عدل کے ساتھ قائم‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں، اور بندوں کے معاملات کے فیصلے کرنے میں ازل سے انصاف کے ساتھ متصف ہے۔ امرونہی میں بھی اس کا راستہ ’’صراط مستقیم‘‘ ہے خلق و تقدیر میں بھی۔ اس کے بعد پھر توحید کی تاکید فرمائی اور فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’ ’اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘بنیادی مسئلہ کہ اللہ کی توحید کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس کے اتنے زیادہ نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ صاحب بصیرت حضرات کے ہاں یہ سورج سے بھی زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ …

Aal-i-Imraan 3:18Listen in Qur'an →
19

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہےاور نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے جو دیے گئے کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا ان کے پاس (صحیح) علم، سرکشی کرتے ہوئے آپس میں، اور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کی آیات کے، تو بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(19) پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)

[19] جب یہ ثابت ہوگیا کہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے، تب یہ بتایا کہ کس طرح عبادت کرنا، اور کس دین کو قبول کرنا ضروری ہے۔ وہ دین اسلام ہے ’’اسلام‘‘ کا مطلب ’’سرتسلیم خم کرنا‘‘ ہے، یعنی اللہ کی توحید اور اطاعت جس کی دعوت اس کے رسولوں نے دی، جس کی ترغیب اس کی کتابوں نے دی۔ اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ محبت، خوف، امید، انابت اور دعا خالصتاً اس کے لیے ہو اور اس مقصد کے لیے اس کے رسول کی پیروی کی جائے۔ یہی تمام رسولوں کا دین ہے ۔ جو ان کی پیروی کرے گا، وہ ان کے راستے پر ہوگا۔

Aal-i-Imraan 3:19Listen in Qur'an →
20

فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْأُمِّيِّۦنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)

[20] اہل کتاب کو ان کی کتابیں متحد ہوکر اللہ کے دین پر عمل کرنے کا حکم دیتی تھیں۔ انھوں نے ان کتابوں کے آنے کے بعد ظلم و زیادتی کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا۔ ورنہ ان کے پاس اختلاف سے بچ کر حق کی راہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا سبب موجود تھا۔ اسے پس پشت ڈال دینا ان کا کفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًۢا بَيۡنَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے۔ اللہ اس کا جلد حساب لینے والا ہے‘‘ پھر وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ بالخصوص جس نے حق کو پہچان کر ترک کیا، یہ سخت وعید اور عذاب الیم کا مستحق ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ عیسائی اور دیگر جو لوگ اسلام پر دوسرے مذاہب کو فوقیت دیتے ہیں ان سے بحث کرتے ہوئے انھیں فرما دیں کہ ﴿اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾ ’’میں نے اور میرے تابع داروں نے اللہ کی اطاعت میں اپنا چہرہ مطیع کردیا‘‘ یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اقرار کیا ہے، گواہی دی ہے اور اپنے مالک کے سامنے سرجھکا دیے ہیں۔ ہم نے اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا ہے، ہمیں ان کے باطل ہونے پر یقین حاصل ہے۔ یہ کہہ کر آپ ان لوگوں کو مایوس کردیں جن کو تمھارے بارے میں کوئی امید ہے (کہ شاید اسلام چھوڑ کر ہمارا دین اختیار کرلیں) اور شبہات پیش آنے پر اس طرح تمھارے دین کی تجدید ہوجائے گی، اور جو شبہات کا شکار ہے اس کے خلاف حجت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل علم بندوں کو توحید کی دلیل اور گواہ کے طورپر پیش کیا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے خلاف حجت بن جائیں، اہل علم کے سردار، سب سے افضل اور سب سے بڑے عالم ہمارے نبی محمدﷺہیں۔ اس کے بعد آپ کے متبعین درجہ بدرجہ عالم ہیں۔ انھیں وہ صحیح علم او رکامل عقل حاصل ہے کہ کسی اور کو ان کے برابر تو کیا، قریب تر بھی حاصل نہیں۔ جب اللہ کی توحید اور اس کے دین کی حقانیت واضح دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے، مخلوقات میں سے کامل ترین او رعالم ترین شخصیت نے انھیں مانا اور پیش کیا، تو اس سے یقین حاصل ہوگیا اور ہر شک و شبہ دور ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا ہر مذہب باطل ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ﴾ ’’اہل کتاب سے (یعنی نصاریٰ اور یہود سے۔) اور ان پڑھ لوگوں سے (یعنی عرب و عجم کے مشرکین سے) کہہ دیجیے‘‘ ﴿ءَاَسۡلَمۡتُمۡ١ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا﴾ ’’کیا تم بھی اطاعت اختیار کرتے ہو پھر اگر یہ بھی تابع دار بن جائیں۔‘‘ اور تمھاری طرح ایمان لے آئیں ﴿ فَقَدِ اهۡتَدَوۡا﴾ ’’تو وہ یقیناً ہدایت پانے والے ہیں۔ جس طرح تم ہدایت یافتہ ہو۔ اس صورت میں وہ تمھارے بھائی بن جائیں گے۔ ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو تمھیں حاصل ہیں۔ اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو تمھارے ہیں ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اور اگر یہ روگردانی کریں‘‘ اور اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کے مخالف مذاہب پر قائم رہیں۔ ﴿فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ﴾ ’’تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے‘‘ آپ کو آپ کا رب ضرور اجر و ثواب دے گا۔ مخالف پر حجت قائم ہوچکی۔ اس …

Aal-i-Imraan 3:20Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.