Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 131–140 of 200

131

وَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِىٓ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ

اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

وَاتَّقُوا النَّارَ ۔۔ : اس آیت میں سود خوروں کو اس آگ سے ڈرایا گیا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا سود لینا اور دینا مسلمان کا کام نہیں۔ جو شخص یہ کام کرتا ہے اور باز نہیں آتا اسے اس آگ کے لیے تیار رہنا چاہیے جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ سورة بقرہ میں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنگ کا اعلان کان کھول کر سننے کا حکم ہے۔ (قرطبی)

Aal-i-Imraan 3:131Listen in Qur'an →
132

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار تو وہ شخص ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرماں بردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں۔ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر نافرمان کے لیے بھی عتاب موجود ہے۔ (رازی)

Aal-i-Imraan 3:132Listen in Qur'an →
133

۞ وَسَارِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ

اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : اہل ایمان کو ان اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا سبب بنتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نیک اعمال سر انجام دینے میں جلدی کرلو، ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے پہلے جو اندھیری رات کے مختلف ٹکڑوں کی طرح ( یکے بعد دیگرے) رونما ہوں گے۔ صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی سامان کے عوض بیچ دے گا۔ “ [ مسلم، - الإیمان، باب الحث علی المبادرۃ۔۔ : ١١٨، عن أبی ہریرۃ (رض) ]- 2 وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ ۔۔ : یعنی جس طرح سود خور کافر کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے، اسی طرح فرماں بردار متقی کے لیے جنت تیار کی گئی ہے اور پھر جنت کے متعلق (عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ ) فرما کر اس کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : ” اے محمد یہ بتائیں کہ جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو آگ کہاں ہے ؟ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ بتاؤ کہ پہلے رات تھی، پھر نہیں رہی تو کہاں چلی گئی ؟ “ اس نے کہا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ [ صحیح ابن حبان : ١٠٣۔ مستدرک حاکم : ١؍٩٢، ح : ١٠٣ و - صححہ و وافقہ الذہبی ]- حقیقت یہ ہے کہ جنت اور جہنم کے جو اوصاف قرآن و حدیث میں جس طرح مذکور ہیں اسی طرح ان پر ایمان رکھنا ضروری ہے، خواہ ہماری عقل و ذہن کی رسائی ان تک نہ ہو، اور یہی نہیں، آخرت کے تمام معاملات کا یہی حال ہے۔

Aal-i-Imraan 3:133Listen in Qur'an →
134

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلْكَٰظِمِينَ ٱلْغَيْظَ وَٱلْعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ ۔۔ : ان آیات میں اہل جنت کی صفات کا ذکر ہے، چناچہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ خوش حالی اور تنگ دستی ہر حالت میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کاموں اور رضائے الٰہی کے لیے مال صرف کرنے سے انھیں کوئی چیز غافل نہیں کرتی۔ (ابن کثیر) - وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظ۔۔ : ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کے بجائے اس پر قابو پالیتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پہلوان وہ نہیں جو پچھاڑ دینے والا ہو، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ “ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب : ٦١١٤، - عن أبی ہریرۃ (رض) ]- ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی : ” مجھے وصیت فرمائیے۔ “ آپ نے فرمایا : ( لاَ تَغْضَبْ ) ” غصہ مت کر۔ “ اس نے کئی دفعہ درخواست دہرائی، آپ نے یہی فرمایا : ( لاَ تَغْضَبْ ) ” غصہ مت کر۔ “ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب : ٦١١٦۔ ترمذی : ٠٢٠ ]- ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ اجر والا گھونٹ، غصے کا گھونٹ ہے، جو آدمی اللہ کے چہرے کی طلب میں پی لیتا ہے۔ “ [ احمد : ٢؍١٢٨، ح : ٦١١٩۔ ابن ماجہ، الزھد، باب الزھد : ٤١٨٩ ]- 3 َ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ : یہ دراصل غصہ پی جانے کا لازمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تین چیزوں پر میں قسم کھاتا ہوں، صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ معاف کردینے سے بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور جو اللہ کے لیے نیچا ہوتا ہے اللہ اسے اونچا کردیتا ہے۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب - استحباب العفو : ٢٥٨٨۔ عن أبی ہریرۃ (رض) ] اور یہ احسان کا مقام ہے اور اللہ محسنین سے محبت رکھتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:134Listen in Qur'an →
135

وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً : یعنی اگر بشری تقاضے کے تحت ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایک آدمی نے گناہ کیا تو کہا : ” اے میرے رب میں نے ایک گناہ کیا ہے، تو مجھے وہ بخش دے۔ “ تو اللہ عزوجل نے فرمایا : ” میرے بندے نے ایک گناہ کیا تو اس نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، سو میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ “ پھر اس نے ایک اور گناہ کیا اور کہا : ” اے میرے رب میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، (فرشتو گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا پھر اس نے ایک اور گناہ کیا تو کہا اے میرے رب میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے (فرشتوں گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا سو وہ جو چاہے کرے۔ “ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (یریدون أن یبدلوا کلام اللہ) : ٧٥٠٧۔ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ۔۔ : ٢٧٥٨ ]- 2 وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا : اصرار کے معنی ہیں اڑ جانا اور بےپروائی سے گناہ کرتے جانا۔ نہ ان پر ندامت کا اظہار کرنا اور نہ توبہ کرنا۔ ورنہ اگر کسی شخص سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہ سرزد بھی ہوجاتا ہے تو اسے اصرار نہیں کہتے، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔ ” وہم یعلمون “ یعنی کسی کام کے گناہ ہونے کا علم ہونے پر اس پر اصرار نہیں کرتے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء : (١٧، ١٨)

Aal-i-Imraan 3:135Listen in Qur'an →
136

أُو۟لَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (٢٥)

Aal-i-Imraan 3:136Listen in Qur'an →
137

قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌۭ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر اور ان کی نافرمانی سے توبہ پر بخشش اور جنت کا وعدہ فرمایا، اب یہاں اطاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور و فکر کا حکم دیا ہے، تاکہ ان میں سے مطیع اور نافرمان کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ سُنَنٌ کا مفرد ” سُنَّۃٌ“ ہے اس کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کی جاتی ہے۔ یہ ” فُعْلَۃٌ“ بمعنی ” مَفْعُوْلَۃٌ“ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل چونکہ مسلمان کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے، اس لیے اسے سنت کہتے ہیں۔ - جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ اس شکست سے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو پہلی امتوں اور انبیاء کے متبعین میں بھی ہوتی چلی آئی ہے کہ ابتدا میں ان کو تکا لیف سے دو چار ہونا پڑا اور بالآخر جھٹلانے والے ذلیل و خوار ہوئے۔ (ابن کثیر)

Aal-i-Imraan 3:137Listen in Qur'an →
138

هَٰذَا بَيَانٌۭ لِّلنَّاسِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةٌۭ لِّلْمُتَّقِينَ

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے

ھٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ۔۔ : یعنی قرآن میں اس کا واضح ثبوت موجود ہے کہ پہلی امتوں کا ان کے دشمنوں کے ساتھ مقابلے میں کیا حال ہوا۔ چناچہ قرآن نے جا بجا متقین کے نیک انجام اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:138Listen in Qur'an →
139

وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیت ” ۭقَدْ خَلَتْ “ اس بشارت کی تمہید تھی اور ” وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ “ کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ یہی حال تمہارا ہے، اس لیے کسی قسم کے ” وَھْنٌ“ (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چناچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔

Aal-i-Imraan 3:139Listen in Qur'an →
140

إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌۭ فَقَدْ مَسَّ ٱلْقَوْمَ قَرْحٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ یعنی اگر ” احد “ کے دن تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بھی بدر کے دن انھیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو اس لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ ” اَلْحَرْبُ سِجَالٌ“ (لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں) جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھاری رہا ہے، کبھی دوسرے کا۔ - وَتِلْكَ الْاَيَّامُ : جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے، یہ حق اور ناحق کا معیار نہیں، آج اگر تم نے زخم کھایا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمہارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھاچکے ہیں اور خود اس جنگ کے شروع میں ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اس آیت ( اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ ) [ آل عمران : ١٥٢ ] ” جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے “ سے معلوم ہوتا ہے۔ تمہاری اس شکست میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، ایک یہ کہ ایمان و اخلاص اور کفر و نفاق میں تمیز ہوگئی، مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے، اگر ہمیشہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تو منافقین کا نفاق ظاہر نہ ہوتا۔ دوسری مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی، فرمایا ( وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ) جو اللہ کے ہاں بہت بڑا شرف ہے، کفار کی اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے، فرمایا : ( ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ ) ” اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ “ تیسری یہ کہ مومنوں کو خالص کرے، اگر ان میں کچھ کمی ہے تو دور کر دے، فرمایا : ( وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا )” اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے “ اور چوتھی یہ کہ کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصود ہے، ( وَيَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ ) اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہوگی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ چناچہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفار نے دفاعی جنگیں تو لڑیں مگر خود حملے کی جرأت نہ کرسکے۔ (رازی۔ شوکانی)

Aal-i-Imraan 3:140Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.