Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–130 of 200

121

وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ ٱلْمُؤْمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

درس 27 ایک نظر میں

اس سے پہلے اس سورت میں ہم مناظرہ اور مباحثہ کے میدان میں تھے ‘ بیانات اور تبصرے ہورہے تھے ‘ ہدایات اور تنبیہات کا ذکر تھا ‘ لیکن اس دوسرے سبق میں ہم کلام وبیان کے میدان سے نکل کر اب سیف وسنان کے میدان جا اترے ہیں ۔ سیف وسنان کا یہ معرکہ ٔ احد کے نام سے مشہور ہے۔

غزوہ احد صرف میدان جنگ میں ہی نہیں لڑا گیا اس معرکے کا میدان بہت ہی وسیع تھا ‘ یہ انسانی ضمیر اور عقائد کے اندر بھی برپا ہوا تھا ‘ میدان جنگ تو اس کے وسیع کارزار کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا ۔ یہ معرکہ نفس انسانی کی گہرائیوں میں ‘ انسان کے تصورات اور اس کے شعور میں ‘ انسانی خواہشات اور اس کے میلانات میں اور اس کے اقدامات اور اس کی رکاوٹوں میں برپا تھا۔ اس معرکہ کے اندر قرآن کریم نے نفس انسانی کی تربیت نہایت ہی لطیف ‘ گہرے ‘ موثر اور جامع طریقہ تربیت کے مطابق کی اور اس پر قرآن نے ان دشمنوں پر زیادہ توجہ دی جو میدان معرکہ میں اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے ۔

اس معرکہ میں داخل ہوتے ہیں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی لیکن انجام کار یہ فتح شکست میں بدل گئی۔ آغاز فتح مبین سے ہوا اور انجام ہزیمت اور شکست وریخت سے ہوا ‘ لیکن اس شکست وریخت کے نتیجے میں مسلمانوں کو علم ومعرفت واقفیت اور تجربے کے میدان میں واضح فتح نصیب ہوئی ‘ ان کی آنکھیں کھل گئیں ‘ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ حقائق دیکھ لئے جنہیں قرآن نے بار بار بیان کیا تھا۔ ان کا شعور ان حقائق کے حوالے سے یقین کی حد تک پختہ ہوگیا ‘ ان کے نفوس پاک ہوگئے ‘ ان کی صفوں میں گندے عناصر چھٹ کر الگ ہوگئے ‘ اور جماعت مسلمہ آگے بڑھنے لگی ۔ وہ ان لوگوں کے بوجھ سے آزاد ہوگئی جن کے نظریات صاف ستھرے نہ تھے ‘ جن کی اقدار حیات ناپختہ تھیں ‘ جن کی فکر ڈانواڈول تھی ۔ یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ اسلامی صفوں سے منافقین کی اکثریت چھٹ کر الگ ہوگئی ‘ نفاق کی علامات واضح ہو کر سامنے آگئیں اور سچائی کے اوصاف نکھر کر واضح ہوگئے ۔ اقوال میں بھی اور افعال میں بھی ۔ شعور میں بھی اور طرز عمل میں بھی اس معرکے کے نتیجے میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں ‘ دعوت ایمانی کے تقاضے کیا ہیں ‘ اور تحریک ایمانی کو لے کر اٹھنے کے تقاضے کیا ہیں ۔ نیز اس تحریک کو لے کر چلنے کے لئے کس قدر علمی استعداد کی ضرورت ہے ‘ کس قدر یکسو ہوکر تیاری کی ضرورت ہے ‘ اور کس قدر مستحکم تنظیم کی ضرورت ہے ۔ اور اس تنظیم وانتظامات کے بعد کس قدر سنگین سمع و اطاعت کی ضرورت ہے ۔ اور تنظیم اور سمع و اطاعت کے بعد کس قدرتوکل علی اللہ کی ضرورت ہے ۔ اس راہ کے ہر قدم پر اللہ پر مکمل بھروسے کی ضرورت ہے اور پوری جدوجہد کرکے بھی نتیجہ ‘ نصرت کی شکل میں ہو یا شکست کی صورت میں ‘ اللہ پر چھوڑدینا ہے۔ زندہ رہ کر غازی ہونا یا مر کر شہید ہونا ہے ‘ کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں دے دینا ہے۔

ان واقعات کے نتیجے میں جماعت مسلمہ کے جو بیلنس شیٹ بنی اور ان واقعات کے بعد جماعت کو قرآن کریم نے جو ہدایات دیں ‘ اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے وہ اس مال غنیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم تھیں جو فتح مبین کی صورت میں مسلمانوں کو حاصل ہوتا ‘ اس صورت میں کہ مسلمان احد کے میدان سے فتح ونصرت لے کر واپس ہوتے ۔ اس لئے کہ اس دور میں مسلمانوں کو ان تجربات کی ضرورت ہزار درجے زیادہ تھی بہ نسبت اس کے کہ وہ میدان سے فتح ونصرت اور مال غنیمت لے کر لوٹتے ۔ اس طرح جماعت مسلمہ کے بعد آنے والی امت کے لئے تجربات کا جو سرمایہ چھوڑا گیا وہ زیادہ اہم اور باقی رہنے والا تھا ‘ بہ نسبت اس فتح اور مال غنیمت کے جو فتح کی صورت میں مسلمان حاصل کرتے ۔ اس شکست کے پس منظر میں عالم بالاکا منصوبہ یہ تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ وہ نقائص ظاہر کردئیے جائیں جو مسلمانوں کی صفوں میں پائے جاتے تھے مثلاً ان کی جسمانی کمزوریاں ‘ اخلاقی …

Aal-i-Imraan 3:121Listen in Qur'an →
122

إِذْ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَٱللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

یہ دو گروہ کون تھے ؟ صحیحین میں اس بارے میں سفیان بن عیینہ کی حدیث نقل ہے ۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلیم تھے ۔ وہ عبداللہ بن ابی کی دغابازانہ حرکت سے متاثر ہوگئے تھے ‘ اس لئے اس حرکت نے اسلامی صفوں میں پہلے ہی قدم پر اضطراب پیدا کردیا تھا ‘ قریب تھا کہ یہ دو گروہ بزدلی دکھاتے اور کمزور ہوکر بیٹھ جاتے لیکن اللہ کی مدد آپہنچی اور اللہ نے ان کے قدم مضبوط کردئیے ۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا……………” اور اللہ ان کا مددگار تھا۔ “

حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔” یاد کرو جب دو گروہ تم سے بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ۔ “ انہوں نے کہا یہ دو گروہ ہم تھے ‘ بنو حارثہ اور بنو سلیم اور میں ایسا نہیں چاہتا (یا مجھے یہ بات اچھی نہیں آتی ) کہ آیت نازل نہ ہوتی ‘ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا…………… یعنی اللہ ان کا دوست اور مددگار ہے۔ “ (بخاری ومسلم)

یوں دلوں کی گہرائیوں میں خفیہ اور پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا جاتا ہے اور اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو تھا کہ یہ قبائل بزدلی پر آمادہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ کمزوری ان کے دل میں ایک لحظہ کے لئے در آئی تھی اور فوراً ہی اللہ نے انہیں گرنے سے بچالیا ۔ ان کے دل سے اس کمزوری کو دور کردیا ‘ اور اللہ نے اپنی دوستی کی وجہ سے ان کی تائید فرمائی ۔ اور وہ پیچھے لوٹنے کے بجائے آگے بڑھے ۔ اس معرکہ کے واقعات کو بیان کرنے کے دوران اللہ نے اس کو دہرایا تاکہ اس معرکے کے واقعات اور مناظر کو زندہ وتابندہ صورت میں پیش کیا جائے ۔ اور نفوس انسانی کے دلوں میں جو بات کھٹکتی ہے اسے ریکارڈ پر لایا جائے ‘ اور لوگوں کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے ۔ تمہارے دلوں کی باتوں سے خبردار ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ……………” اللہ سننے والا ہے اور خبردار ہے ۔ “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نجات کی راہ کیا ہے اور ان کے احساس میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اللہ ان کا مددگار ہے ‘ معاون ہے اور ان کا دوست ہے اور کسی بھی کمزوری میں ان کا ہاتھ پکڑنے والا ہے ۔ جب وہ گرنے کے قریب ہوں تو وہ ان کا دستگیر ہے ۔ یہ اس لئے کہا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ کمزوری اور ضعیفی کے وقت انہوں نے کہاں سے نصرت طلب کرنی ہے اور کہاں انہوں نے پناہ لینا ہے ؟ اس لئے انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جس جہت کے سوا مسلمانوں کے لئے اور کوئی جہت نہیں ہے ۔

وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور اہل ایمان کو صرف اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ “

غرض یہ کہ پہلے ہی منظر کی یہ دونوں جھلکیاں نہایت ہی باموقع دکھائی گئی ہیں اور نہایت ہی موزوں فضا میں ‘ جھلکیاں اپنی موسیقی کے زیروبم کو یکجا کرتی ہیں اور نہایت ہی مناسب موقعہ پر اپنے رمزیہ شان کے ساتھ نظروں کے سامنے آتی ہیں ۔ ایسے ماحول میں کہ لوگوں کے دل لبیک کہنے ‘ اثر لینے اور ان حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ان دوتمہیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دلوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ‘ ان کی تربیت کرتا ہے اور انہیں صحیح سمت پر لگاتا ہے اور اثر اندازی ایسے واقعات کے بطور تبصرہ کی جاتی ہے کہ وہ ابھی تازہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ فرق معلوم ہوجاتا ہے جو روایت قصص اور بیان واقعات میں قرآن کریم اختیار کرتا ہے ‘ اور جو طریق بیان عام انسانی مصادر تاریخ میں اختیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی مصادر میں واقعات کی بڑی تفصیل ہوتی ہے ۔ لیکن تفصیلات کے باوجود وہ واقعات دلوں میں نہیں اترتے ۔ نہ ان کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے ‘ نہ ان سے دلوں کو زندہ کرنا ‘ انہیں گرمی عطا کرنا مقصود ہوتا ہے اور نہ انسانوں کی ہدایت وتربیت مطلوب ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید اپنے …

Aal-i-Imraan 3:122Listen in Qur'an →
123

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدْرٍۢ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌۭ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

بدر میں مسلمانوں کو جو فتح نصیب ہوئی تھی وہ معجزانہ تھی ‘ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ یہ فتح مادی اسباب کی نایابی کے باوجود حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس معروف مادی اسباب نہ تھے ۔ اس جنگ میں ترازو کے دوپلڑے یعنی مومنین اور مشرکین متوازن نہ تھے ‘ نہ ہی ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ توازن کے قریب ہوں ۔ مشرک ایک ہزار کی تعداد میں تھے ‘ اور وہ جنگ کی خاطر بطور عام لام بندی نکلے تھے ‘ اس لئے کہ ان سے ابوسفیان نے مددچاہی تھی ‘ اور ان کا ہدف بھی متعین تھا وہ یہ کہ ابوسفیان کے قافلے کو بچایا جائے اور یہ ہزار آدمی ہر قسم کے ساز و سامان سے لیس تھے ۔ وہ اپنی دولت کے بچاؤ کے لئے نکلے تھے ۔ نیز اپنی عزت اور شرف کو بھی انہوں نے بچانا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان صرف تین فی صد تھے اور وہ اس لئے نہ نکلے تھے ‘ سازوسامان سے لیس اس قدر عظیم فوج سے ‘ ان کا مقابلہ ہوگا وہ ایک ہلکے پھلکے پروگرام کے لئے نکلے تھے ‘ وہ ایک غیر مسلح قفلے پر ہاتھ ڈالنے کے لئے نکلے تھے ‘ اور اس پر ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے ‘ قلیل تعداد میں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس سازوسامان نہ بھی تھا ‘ اور ان کے پیچھے مدینہ میں ابھی تک مشرکین بھی موجود تھے اور وہ بھی اپنی جگہ پر قوت تھے ۔ اس طرح مدینہ میں منافقین کا بھی ایک بڑ طبقہ موجود تھا اور وہ مدینہ کے معاشرے میں اونچامقام رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ مدینہ میں یہودی بھی تھے جو ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ مدینہ میں مسلمانوں پر وار کریں ۔ علاوہ ازیں وہ قلیل تعداد میں مسلمانوں کا ایک گروہ تھے جو جزیرۃ العرب کفر وشرک کی ایک عظیم قوت کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور ان سب اسباب کے علاوہ ابھی وہ مظلوم پناہ گزیں تھے ‘ جنہیں مکہ سے نکال دیا گیا تھا ‘ کچھ انصار تھے جنہوں نے ان مہاجرین کو پناہ دی ہوئی تھی ‘ بہرحال اس معاشرے میں ان کی حیثیت ایک نوخیز پودے کی تھی ۔

ان حالات کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ایسے حالات میں اس قدر عظیم فتح کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی ہے۔

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ……………” اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا تھا ‘ حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے ‘ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو ۔ امید ہے کہ اب تم شکرگزار بنوگے۔ “

صرف اللہ ہی نے انہیں نصرت بخشی اور انہیں اس وجہ سے نصرت بخشی جس کی حکمت کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ ناصر و مددگار نہ وہ خود تھے نہ کوئی اور تھا ‘ اس لئے اگر انہوں نے کسی سے ڈرنا ہے اور کسی سے خائف ہونا ہے تو چاہئے کہ صرف اللہ سے ڈریں اور اس کا خوف اپنے اندر پیدا کریں ۔ اس لئے کہ فتح وشکست اس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہی اللہ ہے جو اقتدار وقوت کا سرچشمہ ہے ۔ اللہ خوفی ہی انہیں شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ ہر حال میں ان پر اللہ کا جو انعام واکرام ہورہا ہے ‘ اس پر ان کا فرج ہے کہ وہ اللہ کا پورا پورا شکر ادا کریں ‘ جو ان انعامات واکرامات کے لائق ہو۔

Aal-i-Imraan 3:123Listen in Qur'an →
124

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَٰثَةِ ءَالَٰفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

یہ ایک جھلکی ہے ‘ جس میں انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ بدر میں انہیں کیونکر فتح نصیب ہوئی ‘ اس کے بعد ‘ وہ مناظر پیش کئے جاتے ہیں جو میدان بدر میں وقوع پذیر ہوئے ‘ ان مناظر کو ان کے پردہ دماغ پر ازسر نو اس طرح یاد کیا جاتا ہے کہ گویا وہ ابھی پیش آئے ۔ ذرا دیکھئے

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ……………” یاد کرو جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے ‘ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ‘ تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ “

یہ کلمات بدر کے دن رسول ﷺ نے ادا کئے تھے ‘ اور ان مٹھی بھر اہل ایمان سے کہے تھے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے ‘ جنہوں نے مشرکین کی فوج کو دیکھ لیا تھا ‘ یہ مٹھی بھر مسلمان صرف قافلے کو پکڑنے کے لئے نکلے تھے ‘ جن کے پاس سامان تجارت تھا ‘ ان کے گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ ایک ایسی فوج کے ساتھ آمنا سامنا کریں گے جو سازوسان سے لیس تھی اور اس دن انہیں رسول اللہ ﷺ نے ان امور سے مطلع کردیا تھا ‘ جن امور سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیا تھا ‘ تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ ثابت قدم رہیں ۔ وہ بہرحال انسان تھے ‘ اور انہیں ایسی امداد کی ضرورت تھی جو ان کے تصورات اور ان کے شعور کے قریب الفہم ہو ‘ اور ایک ایسی صورت میں ہو ‘ جس صورت میں وہ کسی معاونت کے عادی تھے ‘ اور انہیں یہ بھی بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خصوصی امداد دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے ‘ ایک یہ کہ تم صبر سے کام لو اور پرہیزگاری کا رویہ اختیار کرو ‘ صبر اس لئے ضروری ہے کہ جب حملہ ہوتا ہے تو اس وقت حملے کے صدمات پر صبر کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اور تقویٰ وہ چیز ہے جو انسان کا رابطہ اللہ سے قائم کردیتی ہے۔ چاہے فتح ہو یا ہزیمت ہو۔

Aal-i-Imraan 3:124Listen in Qur'an →
125

بَلَىٰٓ ۚ إِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ ءَالَٰفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

یہاں قرآن کریم انہیں سکھاتا ہے کہ آخر کار تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹتے ہیں ‘ اور تمام اشیاء ار واقعات میں اصل فیکٹر اللہ کی ذات ہے ‘ فرشتوں کا اتارا جانا تو اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے تاکہ ان کے دل خوش ہوں ‘ ثابت قدم ہوں اور انہیں اطمینان و سکون نصیب ہو ۔ رہی نصرت تو وہ براہ راست اللہ کی جانب سے ہے ‘ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہے ‘ بغیر کسی واسطہ ‘ بغیر کسی وسیلہ اور بغیر کسی سبب کے ۔

Aal-i-Imraan 3:125Listen in Qur'an →
126

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦ ۗ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ

اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

قرآن کریم نے اسلامی تصور حیات میں مشیئت الٰہی کی کارفرمائی پر بہت زور دیا ہے ۔ اور اسے ہر شک وشبہ سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا باربار ذکر کیا ہے کہ دنیاوی اسباب کسی صورت میں موثر نہیں ہوتے ۔ اللہ کی قدرت اور مومن کے دل و دماغ کے درمیان ایک خاص رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ اللہ اور بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوجاتا ہے اور اس میں کبھی کوئی رکاوٹ قائم نہیں ہوتی ۔ جس طرح عالم موجودات میں اور عالم حقائق میں ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اس قسم کی ہدایات بار بار دہرائی جاتی ہیں ‘ مختلف اسالیب میں ان کی تاکید کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے دل میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے ‘ وہ اس حقیقت کا ایک عجیب گہرا ‘ روشن اور سنجیدہ شعور رکھتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی اس کائنات کے تمام امور میں فاعل اور مؤثر ہے ‘ انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مامور ہیں کہ وہ اسباب ووسائل فراہم کریں ‘ جدوجہد کریں اور ہر کام کے سلسلے میں اپنی سی کوشش کریں ‘ لیکن اس حقیقت کا بھی انہیں پختہ شعور ہو کہ ہوگا وہی جو اللہ کی مشیئت چاہے لیکن اس پختہ یقین کے ساتھ ساتھ وہ اطاعت کرتے ہیں اور شعوری توازن کے ساتھ ہر وقت وہ متحرک رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود قرآن کریم نے یہ شعور ایک عرصہ کے بعد مسلمانوں کی فکر میں بٹھایا ۔ کچھ واقعات پیش آئے ‘ ان واقعات نے مسلمانوں کی تربیت کی ‘ ان واقعات سے نتائج اخذ کئے گئے اور اس سورت میں ایسی تربیت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

ان آیات میں بدر کا منظر نظروں کے سامنے ہے ۔ اس منظر میں رسول اکرم ﷺ اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے خصوصی امداد نازل ہوگی بشرطیکہ وہ صبر وثبات سے کام لیں اور معرکے میں انسانوں سے ڈرنے کے بجائے صرف تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ اختیار کریں ۔ عین اس وقت جب ان کا کفار کے ساتھ آمنا سامنا ہو ‘ اس کے بعد یہاں قرآن کریم نزول ملائکہ کے بھی پس منظر میں جاکر یہ باور کراتا ہے کہ اصل قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں اور اس کے ارادے کے تابع ہیں اور صرف اس کے اذن اور اس کے ارادے سے فتح ونصرت نصیب ہوگی ۔ وَللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ……………” اور اللہ ہی بڑی قوت والا اور بینا ہے۔ “ وہ بڑی قوت والا ہے ‘ صاحب اقتدار ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ نصرت اور فتح عطاکرے اور اس کے ساتھ وہ حکیم بھی ہے اور اس کی قدرت دانائی کے مطابق جاری وساری ہے ۔ اور وہ فتح اس لئے عطا کرتا ہے کہ اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔

Aal-i-Imraan 3:126Listen in Qur'an →
127

لِيَقْطَعَ طَرَفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُوا۟ خَآئِبِينَ

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ ہی اس فتح کے نتیجے میں مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ دست قدرت اپنے بعض اشخاص کو حرکت میں لاتا ہے ۔ پھر خود ان کی تائید کرتا ہے تاکہ اللہ کے پیش نظر جو حکمتیں ہوں ان کا ظہور ہو اور جو مقاصد ہوں وہ بروئے کار لائے جائیں ۔

لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا……………” تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے۔ “ وہ قتل ہوں اور ان کی افرادی قوت کم ہو ‘ ان کی اراضی ان ہاتھوں سے نکلے اور ان کا رقبہ کم ہوتا جائے۔ یا ان کی جابرانہ حکومت کا دائرہ تنگ ہوجائے۔ ان کی دولت میں بوجہ مال غنیمت کمی آجائے اور ہزیمت اور شکست کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں میں کمی آجائے۔

أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ……………” یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں ۔ “ یعنی ذلیل ہوکر ہزیمت اٹھائیں اور اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر لوٹیں جبکہ وہ دبے ہوئے ہوں۔

Aal-i-Imraan 3:127Listen in Qur'an →
128

لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَٰلِمُونَ

(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔

أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی

صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ کفر کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ‘ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نیز وہ اس اصلاحی نظام حیات کے مقابلے میں اتر کر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں جو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی صورت میں دنیا میں نافذ ہونے کے لئے آیا ہے ۔ غرض وہ سب مظالم اس میں شامل ہیں جو کفر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کی راہ کو مسدود کیا جاتا ہے ۔

بہرحال یہ سب پروگرام حکمت الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس آیت کی رو سے خود رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بھی اس پروگرام میں دخل انداز ہونے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ اور ان امور میں فیصلے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فیصلے ذات باری کے شایان شان ہیں ۔ ان میں ذات باری منفرد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔

یوں اہل ایمان کی ذات فتح و کامرانی کے ساتھ اس منظر سے باہر آجاتی ہے ۔ وہ خود فتح و کامرانی کے اسباب کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اس کے نتائج میں ان کا کوئی دخل نہیں رہتا ۔ یوں وہ اس کبر و غرور سے محفوظ رہتے ہیں جو فاتحین کے دلوں میں بالعموم پیدا ہوجاتا ہے ‘ نیز وہ سخت گیری ‘ غرور اور احساس برتری سے بھی مامون ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر فاتحین پھولے نہیں سماتے اور ان کے روح اور طرز عمل غیر متوازن ہوتے ہیں ۔ چناچہ اہل ایمان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں ۔ اختیارات تو سب کے سب اللہ کے پاس ہیں ۔

غرض لوگ مطیع فرمان ہوں یا نافرمان ہوں ان سب کے امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے ‘ خواہ وہ اچھے لوگ ہوں یا برے ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ۔ یہ ہے تحریک اسلامی کی حقیقت اور یہ ہے اس میں لوگوں کا مقام چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ہوں۔ اس میدان میں خود رسول اکرم ﷺ اور اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اور نتائج اللہ پر چھوڑدیں ۔ وہ اپنے کئے پر صرف اللہ سے اجر کے طلب گار ہوں ‘ وہ انہیں پورا پورا اجردے گا اور ان کا والی اور مددگار ہوگا۔

یہ آیت کہ ” فیصلے کے اختیارات میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے “ اس لئے بھی یہاں لائی گئی ہے کہ آنے والی آیت میں بعض لوگوں کی یہ بات نقل ہونے والی ہے ۔ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ……………” اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ (154 : 3) اور یہ کہ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” اگر اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ (157 : 3) اور یہ آیت دراصل ان مزعومات کا پیشگی جواب ہے کہ جی ہاں اختیارات الٰہیہ میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ نہ فتح کسی کے اختیار میں ہے نہ شکست ۔ تمہارا کام صرف اطاعت امر ہے ‘ ادائے فرض ہے اور مکمل وفاداری ہے ۔ یہی امور تم سے مطلوب ہیں ۔ ان کے بعد نتائج کیا نکلتے ہیں تو بس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ان میں کسی کا دخل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی دخل نہیں ہے ۔ یہ وہ اصلی حقیقت جو …

Aal-i-Imraan 3:128Listen in Qur'an →
129

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

غرض یہ امور اللہ کی مشیئت کے تابع ہیں جو بےقید ہے اور جو اس کی بےقید شہنشاہیت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے معاملات میں بےقید متصرف ہے ۔ جس طرح کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک لاشریک ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ان میں سے کسی کی جانب داری کرتا ہے نہ مغفرت میں اور نہ سزادہی میں ۔ بندوں کے درمیان وہ فیصلے حکمت اور عدل کے ساتھ کرتا ہے اور حکمت اور عدالت کے ساتھ ساتھ اس کی صفات رحمت اور عفو بھی اپنا کام کرتی ہیں ‘ اس لئے کہ عفو و درگزر ہی اس کے شایان شان ہے ۔

وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ……………” وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ “ بندوں کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں ‘ وہ ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت سے فیض یاب ہوسکتے ہیں ‘ ہر وقت لوٹ سکتے ہیں ‘ باز آسکتے ہیں ‘ اس لئے کہ تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ فرائض جو اس نے عائد کئے ہیں ان کی ادائیگی اور فرائض سے آگے کے معاملات کو ترک کرنا ‘ یہ اس کی حکمت اور مشیئت کی وجہ سے ہے ‘ جس پر کوئی قید وبند نہیں ہے۔ اور اس کی حکمت اور مشیئت اسباب ووسائل کے پیچھے کام کرتی ہے۔

اس سے قبل کہ سیاق کلام معرکہ احد کے مرکزی واقعات کے بیان کا آغاز کرے ‘ ان واقعات کے نتائج ریکارڈ کرے ‘ اور واقعات کی تفصیلات کا ذکر کرے ۔ یہاں اس عظیم معرکہ کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں ‘ جس کا ذکر ہم نے اس بحث کے آغاز میں کیا ہے ۔ وہ عظیم معرکہ وہ ہے جو انسانی نفیسات کے میدان میں برپا تھا اور ہے جو پوری انسانی زندگی کی سطح پر جاری وساری ہے ۔ اس سلسلے میں یہاں سودخوری اور سودی کاروبار کے بارے میں بات کی جاتی ہے ۔ یہاں اللہ خوفی ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے متعلق بات کی جاتی ہے ۔ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سہولت اور مشکلات کے ہر دور میں انفاق فی سبیل اللہ پر عمل کیا جائے ۔ اسلامی نظام معیشت کے کریمانہ نظام معاونت اور اس کے مقابلے میں سود کی ملعون نظام معیشت کا ذکر ‘ غصہ پی جانا ‘ لوگوں سے عفو و درگزر کرنا اور جماعت مسلمہ کے اندر بھلائی کی اشاعت ‘ گناہوں سے معافی کی طلب گاری اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر عدم اصرار کے مباحث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:129Listen in Qur'an →
130

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوا۟ ٱلرِّبَوٰٓا۟ أَضْعَٰفًۭا مُّضَٰعَفَةًۭ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے رائج کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدایات انسانی زندگی کی بوقلمونیوں کے درمیان اس ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سعی انسانی کے آخری نتائج میں اس ربط کے اثرات بھی بیان کئے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کر آئے ہیں ۔

اسلامی نظام زندگی نفس انسانی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیتا ہے ‘ وہ جماعت مسلمہ کی زندگی کو پوری طرح منظم کرتا ہے ۔ وہ اس کے درمیان بخرے بخرے کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا ۔ اس لئے وہ میدان کارزر کے لئے سازوسامان بھی تیار کرتا ہے اور افراد کار کے اندر صلاحیت جنگ بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ اہل ایمان کے دلوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔ ان کے ذہنوں کی تطہیر کرتا ہے ‘ انسان کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہوائے نفس اور جسمانی خواہشات پر قابو پاسکیں ۔ جماعت مسلمہ کے اندر محبت ‘ ملنساری پیدا کی جاتی ہے اور یہ تمام اوصاف ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ جب ہم ان تمام خصوصیات پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اور ان ہدایات میں سے ہر ایک کی تفسیر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام اوصاف وہدایات کا جماعت مسلمہ کی عملی زندگی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اور یہ اوصاف میدان جنگ اور میدان حیات دونوں میں جماعت مسلمہ کی تقدیر کے ساتھ مربوط ہیں ۔

سود اور سودی نظام معیشت پر بحث فی ظلال القرآن پارہ سوئم میں تفصیل کے بیان ہوچکی ہے ۔ اس لئے یہاں ہم اس پوری بحث کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ لیکن یہاں اضعاف مضاعفہ کے الفاظ پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ اس لئے کہ ہمارے زمانے کے بعض لوگ ان الفاظ کی آڑ لے کر یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اضعاف مضاعفہ ہے ۔ رہا وہ سود جو چار فیصد ہو ‘ پانچ فیصد ہو ‘ سات فی صد ہو ‘ نوفی صد ہو تو وہ اضعاف مضاعفہ نہیں ہے ‘ لہٰذا وہ حرام نہیں ہے ۔

اس کی تردید میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اضعاف مضاعفہ کی قید دراصل نزول قرآن کے وقت موجود واقعی صورتحال کا اظہار کرتی ہے ‘ یہ قید اس حکم کو محدود اور مشروط نہیں کرتی ۔ سورة بقرہ میں جو آیت وارد ہے وہ قطعی ہے ۔ اور ربا کی ہر صورت کو حرام قرار دیتی ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی قید وحد نہیں ہے ۔ وہاں یہ الفاظ نہیں وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا……………” سود میں سے جو کچھ باقی ہے اسے چھوڑدو۔ “ چاہے وہ سود جس شرح سے بھی ہو۔ “

اس اصولی بحث کے بعد اب ہم بتائیں گے کہ ربا کے ساتھ اس صفت اضعاف مضاعفہ کی قید کیوں عائد کی گئی ہے ؟ صرف یہ کہ یہ صفت سودی نظام کی تاریخ کی طرف اشارہ کررہی ہے جس میں سودی کاروبار دوچند چہار چند شرح سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سود کی شرح جو بھی ہو سود کے تباہ کن نظام کے ساتھ یہ صفت اضعاف مضاعفہ ایک لازم صفت ہے ۔

سودی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں پوری دولت کی گردش اس نظام کے مطابق شروع ہوتی ہے ‘ اس لئے سودی کاروبار میں سرگرمیاں سود مفرد کی طرح سادہ سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس گردش کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں مال کی منتقلی بار بار ہوتی رہتی ‘ اس لئے وہ سود مرکب میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ اس لئے بار بار سودی چارج کی وجہ سے بالآخر سود کی رقم …

Aal-i-Imraan 3:130Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.