Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 121–130 of 200

121

وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ ٱلْمُؤْمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:121Listen in Qur'an →
122

إِذْ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَٱللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:122Listen in Qur'an →
123

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدْرٍۢ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌۭ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:123Listen in Qur'an →
124

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَٰثَةِ ءَالَٰفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:124Listen in Qur'an →
125

بَلَىٰٓ ۚ إِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ ءَالَٰفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:125Listen in Qur'an →
126

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦ ۗ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ

اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:126Listen in Qur'an →
127

لِيَقْطَعَ طَرَفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُوا۟ خَآئِبِينَ

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:127Listen in Qur'an →
128

لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَٰلِمُونَ

(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:128Listen in Qur'an →
129

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یہ آیتیں جنگ احد (۳ ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لیے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوںمیں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان مسلمانوں کے سینے کھول ديے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے وقتی کمزوری پیدا ہوجائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑنہیں دیتا بلکہ اس کا مدد گار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ اللہ کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے اب دشمن فوج کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر فوجی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رخ کو ’’مدینہ‘‘ کے بجائے ’’مکہ‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھوں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔

مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر بھی تعداد کی کمی پوری کردے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے لیے سامان کی کمی کی تلافی بن جائے۔ کامیابی کا دارومدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ لینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں مغلوب کرنا۔ پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فریقِ مخالف کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کردیتاہے۔ وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وه فریقِ مخالف کی کمزوری اور اہلِ ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہلِ ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کرکے ان کو فریقِ مخالف پر غالب کردیتا ہے۔

Aal-i-Imraan 3:129Listen in Qur'an →
130

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوا۟ ٱلرِّبَوٰٓا۟ أَضْعَٰفًۭا مُّضَٰعَفَةًۭ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

سودی کاروبار زرپرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زرپرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اس فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کامال حاصل کرنے کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت ونصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لیے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیامیں اس کے لیے شان دار زندگی کی ضمانت ہوجائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت وکامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذّتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس جنت کی طرف دوڑے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو ’’بڑھانا‘‘ ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو ’’گھٹانا‘‘ — پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کی محبت ہے تو دوسرے لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع كا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کے نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔

جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر ’’احسان‘‘ کا مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لیے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آجائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کرلیتے ہیں۔ کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کردیتے ہیں۔ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ وقتی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کردے اور ان كي غلطيوں پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طورپر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔

Aal-i-Imraan 3:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.