Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 111–120 of 200

111

لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًۭى ۖ وَإِن يُقَٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

آیت 111 لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ الاَّ اَذًی ط یہ تمہارے لیے تھوڑی سی زبان درازی اور کو فت کا سبب تو بنتے رہیں گے ‘ لیکن یہ بالفعل تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَقف۔ان میں جرأت نہیں ہے ‘ یہ بزدل ہیں ‘ تمہارا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ یہ ایسے بےبس ہوں گے کہ ان کو کہیں سے مدد بھی نہیں مل سکے گی۔

Aal-i-Imraan 3:111Listen in Qur'an →
112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٍۢ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

آیت 112 ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ جیسے آج پوری عیسائی دنیا ان کا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے بل پر نہیں ‘ بلکہ پوری عیسائی دنیا کی پشت پناہی پر قائم ہے۔ خلیج کی جنگ میں اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ ساری جنگ ہم نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔ گویا اس قدر خونریزی سے صرف اسرائیل کا تحفظ پیش نظر تھا۔ وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ط۔ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔یاد رہے کہ یہ آیت تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں بھی گزر چکی ہے۔ آیت 61

Aal-i-Imraan 3:112Listen in Qur'an →
113

۞ لَيْسُوا۟ سَوَآءًۭ ۗ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ أُمَّةٌۭ قَآئِمَةٌۭ يَتْلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں

آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔

Aal-i-Imraan 3:113Listen in Qur'an →
114

يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔

Aal-i-Imraan 3:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔

Aal-i-Imraan 3:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔

Aal-i-Imraan 3:116Listen in Qur'an →
117

مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍۢ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍۢ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

آیت 117 مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا قریش مکہ اہل ایمان کے خلاف جو جنگی تیاریاں کر رہے تھے تو اس کے لیے مال خرچ کرتے تھے۔ فوج تیار کرنی ہے تو اس کے لیے اونٹ اور دیگر سواریوں کی ضرورت ہے ‘ سامان حرب و ضرب کی ضرورت ہے ‘ تو ظاہر ہے اس کے لیے مال تو خرچ ہوگا۔ یہ اس انفاق مال کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں یا تو دین کی مخالفت کے لیے یا اپنے جی کو ذرا جھوٹی تسلی دینے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم کچھ صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں ‘ چاہے ہمارا کردار کتنا ہی گرگیا ہو۔ تو ان کے انفاق کی مثال ایسی ہے :کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَکَتْہُ ط۔یعنی ان کی یہ نیکیاں ‘ یہ انفاق ‘ یہ جدوجہد اور دوڑ دھوپ سب کی سب بالکل ضائع ہوجانے والی ہے۔

Aal-i-Imraan 3:117Listen in Qur'an →
118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ بِطَانَةًۭ مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًۭا وَدُّوا۟ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ ٱلْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں

آیت 118 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ صاحب ایمان ہے ‘ مسلمان ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرم راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی ٹپکی پڑتی ہے۔ یہ اپنی زبانوں سے آتش برساتے ہیں۔ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط ۔جو کچھ ان کی زبانوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ تو پھر بھی کم ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر دشمنی اور حسد کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی اپنے طرز عمل پر غور کرو اور اس سے باز آجاؤ !

Aal-i-Imraan 3:118Listen in Qur'an →
119

هَٰٓأَنتُمْ أُو۟لَآءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِٱلْكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ عَضُّوا۟ عَلَيْكُمُ ٱلْأَنَامِلَ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا۟ بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

آیت 119 ہٰٓاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَہُمْ یہ تمہاری شرافت اور سادہ لوحی ہے کہ تم ان سے محبت کرتے ہو اور پرانے تعلقات اور دوستیوں کو نبھانا چاہتے ہو۔ وَلاَ یُحِبُّوْنَکُمْ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے۔وَتُؤْمِنُوْنَ بالْکِتٰبِ کُلِّہٖج ۔تم تورات کو بھی مانتے ہو ‘ انجیل کو بھی مانتے ہو۔ سورة النساء میں الفاظ آئے ہیں : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ۔۔ آیت 44 کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔۔ چناچہ تمام آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ کی اس قدیم کتاب اُمُّ الکِتابہی کے حصے ہیں۔ اسی اُمُّ الکتاب میں سے پہلے تورات آئی ‘ پھر انجیل آئی اور پھر یہ قرآن مجید آیا ہے ‘ جو ہدایت کاملہ پر مشتمل ہے۔ تو تم تو پوری کی پوری کتاب کو مانتے ہو۔وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْآ اٰمَنَّاق وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ط جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب ان کی کچھ پیش نہیں جارہی اور اسلام کا معاملہ اور آگے سے آگے بڑھتا جا رہا ہے تو غصے میں پیچ و تاب کھاتے ہیں اور اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:119Listen in Qur'an →
120

إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌۭ يَفْرَحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

آیت 120 اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز۔اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوجائے ‘ کہیں فتح نصیب ہوجائے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّءَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِہَا ط۔اگر تمہیں کوئی گزند پہنچ جائے ‘ کہیں عارضی طور پر شکست ہوجائے ‘ جیسے احد میں ہوگئی تھی ‘ تو بڑے خوش ہوتے ہیں ‘ شادیانے بجاتے ہیں۔وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْءًا ط۔سورۃ البقرۃ میں صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کی تلقین کی گئی تھی ‘ یہاں صلوٰۃ کی جگہ لفظ تقویٰ آگیا ہے کہ اگر تم یہ کرتے رہو گے تو پھر بالآخر ان کی ساری سازشیں ناکام ہوں گی۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ ۔یہ اللہ تعالیٰ کے دائرے سے اور اس کی کھینچی ہوئی حد سے آگے نہیں نکل سکتے۔ یہ اس کے اندر اندر اچھل کود کر رہے ہیں اور سازشیں کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں یہ ضمانت دے رہا ہے کہ یہ تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گے

Aal-i-Imraan 3:120Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.