Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 200

111

لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًۭى ۖ وَإِن يُقَٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

ان آیات میں اللہ مومنین کو فتح ونصرت کی ضمانت دیتے ہیں ‘ اور آخرکار ان کی سلامتی کی بھی صریح ضمانت دیتے ہیں ‘ جب بھی وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنا سامنا کریں گے یہ ضمانت ان کے لئے موجود ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اپنے رب پر یقین کریں۔

لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الأدْبَارَ ثُمَّ لا يُنْصَرُونَ……………” یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے زیادہ سے زیادہ بس ستاسکتے ہیں ‘ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے ‘ پھر ایسے بےبس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی ۔ “

اس لئے وہ دعوت اسلامی کو کوئی حقیقی ضرر نہیں پہنچاسکتے ‘ نہ وہ جماعت مسلمہ کی تشکیل میں کوئی اثر اندازی کرسکتے ہیں اور نہ وہ دعوت اسلامی کو اس کرہ ارض سے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہاں جماعت مسلمہ کے ساتھ جب ان کا تصادم ہوتا ہے تو وہ اذیت دے سکتے ہیں ‘ وہ اس قسم کے عارضی دکھ دے سکتے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن جب وہ مسلمانوں کے ساتھ میدان جنگ میں مقابل ہوں گے تو ان کے لئے شکست لکھی ہوئی ہے اور آخر کار وہ شکست کھائیں گے ‘ ان کی قسمت میں مسلمانوں کے برخلاف کوئی نصرت نہیں ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی مددگار ملے گا اور نہ وہ مسلمانوں کی زد سے بچ سکیں گے ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ان پر ذلت کی زد پڑگئی ہے اور اس کا یہ انجام بد لکھ دیا گیا ہے ‘ اس لئے وہ جس سرزمین میں بھی ہوں گے وہ ذلیل ہوکر رہیں گے ‘ وہ یا تو اللہ کی ذمہ داری میں رہیں گے اور یا مسلمانوں کی ذمہ داری میں رہیں گے ۔ جب وہ مسلمانوں کی ذمہ داری میں داخل ہوں گے تو ان کا مال اور ان کی جان محفوظ ہوگی ماسوائے اس کے کہ ان کے خلاف کوئی حق ثابت ہوچکا ہو ‘ یوں انہیں امن اور اطمینان نصیب ہوگا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودیوں کو صحیح امن مسلمانوں کی ذمہ داری کے اندر نصیب ہوا ہے۔ لیکن یہود اس قدر نمک حرام ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مسلمانوں سے زیادہ اور کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھتے ۔” وہ اللہ کا غضب لے کر لوئے ہیں ۔ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ یعنی گویا وہ دربدر ہوئے ‘ مارے مارے پھرتے رہے اور آخر کار اللہ کے غضب کا سامان سروں پر اٹھائے ہوئے لوٹے۔ “ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ……………” ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ۔ “ ان کے ضمیر اور شعور میں محتاجی کا احساس رچ بس گیا ہے ۔

ان آیات کے نزول کے بعد یہ تمام واقعات یہودیوں کی تاریخ میں انہیں پیش آئے ‘ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان جو معرکے پیش ہوئے ان میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح ونصرت سے سرفراز کیا ‘ جب تک مسلمانوں نے اپنے دین اور اپنے نظام حیات اور اپنے نظریہ حیات کو اپنے سینے سے لگائے رکھا ‘ اور اپنی زندگیوں میں اسلامی نظام حیات قائم رکھا ‘ تو ان کے اعداء کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے ذلت اور خواری کو لکھ دیا۔ الا یہ کہ مسلمانوں کے عہد وذمہ داری کی وجہ سے انہیں چین نصیب ہوا یا یہ کہ خود مسلمانوں نے اسلامی نظام حیات کو ترک کردیا اور اپنے دین کو چھوڑ دیا۔

Aal-i-Imraan 3:111Listen in Qur'an →
112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٍۢ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

قرآن کریم اس بات کا بھی انکشاف کرتا ہے کہ ان لوگوں کی قسمت میں ذلت اور خواری کیوں لکھ دی گئی ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ تو سبب دراصل ایک عام سبب ہے ‘ جس کے آثارونتائج ہر قوم پر منطبق ہوسکتے ہیں ۔ چاہے وہ دین کے معاملے میں جس قدر اونچے دعوے کرتی ہو۔ ان کی ذلت و خواری کا سبب اللہ کی نافرمانی اور ظلم تھا۔

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ

” اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام تھا۔ “

لہٰذا اللہ کی آیات کا سرے سے انکار کردینا اپنی زندگیوں میں انہیں نافذنہ کرنا اور ان کے مطابق اپنا نظام عدالت نہ چلانا اور انبیاء کو ناحق قتل کرنا ‘ اور ان لوگوں کو قتل کرنا جو لوگوں میں داعیان عدل ہوں جیسا کہ اس سورت کی دوسری آیت میں وارد ہے ۔ یعنی صرف نافرمانی اور ظلم کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور شکست ‘ ذلت اور خواری ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ۔ اور یہی وہ اسباب ہیں جو آج کل اس کرہ ارض پر مسلمانوں کی بگڑی ہوئی منحرف نسل کے اندر مکمل طور پر پائے جاتے ہیں ‘ وہ نسل جو اپنے اوپر لفظ اسلام کا اطلاق غلط طور پر کررہی ہے ‘ اور یہی اسباب آج وہ اللہ کے سامنے اپنے کردار کے آئینہ میں ‘ پیش کررہے ہیں ‘ اس لئے اللہ کی جانب سے بھی آج ان کے ساتھ بعینہ وہی سلوک کیا جارہا ہے جو اللہ نے ان ہی اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ کبھی کیا تھا ‘ یعنی آج شکست ‘ ذلت اور خواری ان کا مقدر بن چکی ہے ۔ جب آج ان میں سے کوئی پوچھتا کہ ہم اس کرہ ارض پر غالب کیوں نہیں ہورہے ‘ حالانکہ ہم مسلمان ہیں ؟ تو یہ سوال کرنے سے پہلے اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اسلام ہے کیا ؟ اور مسلمان ہوتے کون ہیں ؟ پھر وہ یہ سوال کرے ۔

بہرحال رسول ﷺ کے وقت اہل کتاب میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے ۔ اگرچہ تھوڑے تھے ‘ یہ ضروری تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا ۔ اس لئے آیت بالا کے بیان کردہ کلیہ میں استثناء کی گئی ۔ بتایا گیا کہ وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ان میں سے اچھے مومن بھی پیدا ہوئے ہیں ۔ اور ان کا تعلق باللہ بعینہ ایک اچھے مسلمان اور صادق مسلمان کی طرح ہے۔ اس لئے جو اس جزا کے مستحق ہوں گے ‘ جس کے سچے اہل ایمان مستحق ہوئے ۔

Aal-i-Imraan 3:112Listen in Qur'an →
113

۞ لَيْسُوا۟ سَوَآءًۭ ۗ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ أُمَّةٌۭ قَآئِمَةٌۭ يَتْلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔

یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔

یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔

Aal-i-Imraan 3:113Listen in Qur'an →
114

يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔

یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔

یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔

Aal-i-Imraan 3:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔

یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔

یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔

Aal-i-Imraan 3:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “

ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق ایمان سے ہو ‘ لیکن قرآن کریم اس کی تعبیر اس طرح نہیں کرتا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو ایک زندہ اور متحرک منظر کی صورت میں پیش کرتا ہے ‘ جو نبض کی طرح متحرک ہو ۔

Aal-i-Imraan 3:116Listen in Qur'an →
117

مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍۢ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍۢ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جس کے سامنے ایک ہر ابھرا کھیت ہے ‘ اس کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ کھیت لہلہارہا ہے ۔ اچانک تیز ہوا چلتی ہے ‘ یہ نہایت سرد برفانی ہوا ہے ‘ شدید سردی کی وجہ سے تیار فصل جل جاتی ہے ‘ یہ دیکھا گیا ہے کہ شدت برودت کی وجہ سے فصل جھلس جاتی ہے ۔ الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں کہ گویا اس کھیت پر بڑی تیزی اور قوت کے ساتھ سنگ باری ہوتی ہے اور پورے پورے کھیت کو برباد اور خراب کردیا جاتا ہے ۔

چشم زدن میں یہ پورا عمل سر انجام پاتا ہے ۔ آناً فاناً کھیت ملیا میٹ اور خراب ہوجاتا ہے ۔ یہی مثال اس دنیا میں ان لوگوں کے انفاق کی ہے جو کافر ہیں ‘ اگرچہ وہ بظاہر کارخیر اور اچھے مقاصد میں خرچ کرتے ہیں نیز ان لوگوں کے اموال اور اولاد بھی کچھ کام نہ دیں گے ۔ قیامت میں سب کے سب بےکار ہوں گے ۔ وہ وہاں نہ کوئی حقیقی دولت ہوں گے اور نہ ان پر کوئی جزاء ہوگی اور نہ مفید بن سکیں گے ۔

وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ……………” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ وہ خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں ۔ “ خود انہوں نے اس نظام زندگی سے روگردانی کی جو تمام انفرادی بھلائیوں اور اچھائیوں کو جمع کرنے والا ہے ‘ ان کو ایک خط مستقیم پر لاتا ہے اور مستحکم کرکے ایک مرکزتک پہنچاتا ہے ۔ جس کا ایک مقرر ہدف ہے ‘ ایک قابل فہم داعیہ ہے ‘ اس میں نیکی کا ایک خاص طریق کار ہے ‘ اس میں نیکی کو کسی عارضی جذبے یا کسی پوشیدہ خواہش اور یا کسی بےربط عمل کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس میں نیکی اور بھلائی ایک مستقل دائمی منہاج کے مطابق سر انجام دی جاتی ہے ۔

ان لوگوں نے خود اپنے لئے گمراہی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا ‘ انہوں نے اللہ کی رسی کی حفاظت سے منہ موڑا ‘ جس کی وجہ سے ان کے تمام اعمال اکارت گئے ‘ یہاں تک کہ جو مال انہوں نے بظاہر کارخیر میں صرف کئے وہ بھی ضائع ہوئے ۔ جب ان کا کھیت بھی تباہ ہوگیا ‘ تو پھر ان کا مال ان کے کس کام اور ان کی اولاد ان کے کس کام ؟ یہ ظلم انہوں نے خود اپنے آپ پر کیا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے خود نافرمانی اور روگردانی کا راستہ اپنے لئے اختیار کیا ۔

غرض یہ فیصلہ کن بات ہے کہ کوئی انفاق فی سبیل اللہ اور کوئی عمل صالح اس وقت تک مفید نہیں ہے جب اس کا رابطہ ایمانی منہاج سے نہ ہو ‘ جب تک وہ ایمانی داعیہ پر مبنی نہ ہو ۔ یہ فیصلہ اللہ کا ہے ‘ یہ اللہ کا کہنا ہے لہٰذا اس میں انسان کے لئے کچھ کہنے کا کوئی موقعہ باقی ہی نہیں رہتا ۔ اس فیصلے کو وہی لوگ چیلنج کرسکتے ہیں جو اللہ کی آیات کو چیلنج کرتے ہیں ‘ لیکن ان کا یہ چیلنج علم و دانش پر مبنی نہیں ہوتا ۔ وہ ہدایت پر مبنی ہوتا ہے ‘ نہ کتاب الٰہی کے روشن دلائل پر۔

یہ سبق جس کا آغاز اہل کتاب کے طرز عمل میں انحراف اور بگاڑ سے ہوا تھا ‘ جس میں بتایا گیا تھا کہ اہل کتاب کے جدال ومناظرے میں کیا کیا مغالطے ہیں ‘ جس میں تفصیلاًبتایا گیا کہ یہ اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف کیا کیا سازشیں کررہے ہیں ‘ جس میں جماعت مسلمہ کو بتایا گیا تھا ‘ کہ اس کرہ ارض پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں ‘ قطع نظر اس سے کہ یہ فاسق ‘ بگڑے ہوئے لوگ جو محاربہ کررہے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔ اس سبق کے آخر میں جو اس پوری سورت میں طویل سبق ہے ‘ جماعت مسلمہ کو بڑی سختی سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ ہرگز ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستی نہ رکھے جو اس کے قدرتی دشمن ہیں ۔ اس کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ان دشمنوں کو اپنا راز دان بنائے یا ان پر بھروسہ کرے ‘ جبکہ وہ ان تمام لوگوں کے بھی پکے دشمن ہیں جو ایمان لائے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی یہ تنبیہ اور تخویف ایک دائمی اصول ثبت ہوتی ہے اور ہم اس کا مصداق آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسی شکل ہے جسے قرآن کریم نے ایک زندہ جاوید صورت میں قلم بند کیا ہے لیکن قرآن کے حاملین آج اس …

Aal-i-Imraan 3:117Listen in Qur'an →
118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ بِطَانَةًۭ مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًۭا وَدُّوا۟ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ ٱلْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں

یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی تکذیب کرتی ہے اور ان کا ہر عضو ان کو جھٹلاتا ہے لیکن مسلمان ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ لوگ مسلمانوں کے لئے صرف بےچینی اور ناکامی ہی کو پسند کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو نافرمان بنانے اور ان کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں کو فروگذاشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جب بھی انہیں فرصت ملے چاہے رات کو ملے یا دن کو ملے۔

یہ تصویر جس کے عجیب خدوخال قرآن کریم نے بتائے ہیں ‘ اور جس کا اطلاق سب سے پہلے ان اہل کتاب پر ہوتا تھا جو مدینہ میں مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے ۔ یہ ایسی تصویر ہے جو اپنے فیچرز سے اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جو پے پناہ کینہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ اسے چھپا رہے تھے ۔ یہ رات دن مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کررہے تھے ‘ اور مسلمانوں کی نسبت ان کی نیت میں ہر وقت کھوٹ پایا جاتا تھا ۔ اور ان کے ان پوشیدہ جذبات میں ہر وقت ابال آتا رہتا تھا ‘ اس کے برخلاف سادہ دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ابھی تک ان میں سے بعض لوگوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی تھی ‘ بعض لوگ ابھی تک ان کے لئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے ‘ اور ابھی تک ان کو یہ اطمینان تھا کہ اگر ہم ان کو کوئی راز بتادیں تو وہ انہیں بطور امانت محفوظ رکھیں گے ۔ اس لئے انہوں نے ان اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کو جگری دوست ‘ ساتھی اور رازدان بنالیا تھا اور وہ جماعت کے اندرونی راز تک انہیں بتانے سے نہ چوکتے تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ روشنی دی گئی جس میں جماعت مسلمہ نے ان کے اندروں کو دیکھ لیا اور حقیقت سے آگاہ ہوگئے ۔ اور اس روشنی کے ساتھ انہیں یہ سخت تنبیہ کی گئی اور انہیں اپنے ان قدرتی دشمنوں کے خفیہ منصوبوں اور سازشوں سے آگاہ کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے دشمن ہیں جو کبھی ان کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ‘ مسلمانوں کی جانب سے محبت اور ہم نشینی ان کے اس دلی بغض کو صاف نہیں کرسکتی ‘ یہ تبصرہ اور یہ تنبیہ اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے ‘ یہ ایک دائمی صورت حال کا مقابلہ ہے اور اس کا مصداق ہم اپنے موجودہ دور میں ایک کھلے مشاہدے کے بطور پر اپنے سامنے پاتے ہیں۔

آج مسلمان اپنے رب کریم کے اس حکم سے غافل ہیں ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہ رکھیں خصوصاً ایسے لوگوں کے ساتھ جو ان کے مقابلے میں اپنی اصلیت کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ‘ نظام زندگی کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں اور اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ان پر اعتماد نہ کریں ‘ ان کو راز دان نہ بنائیں اور ان سے کوئی مشورہ نہ لیں ۔ لیکن مسلمانوں کی غفلت کی انتہاء ہے کہ وہ اپنے رب حکیم کا یہ مشورہ بھول چکے ہیں اور ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے لئے ہر معاملے میں مشیر اور مرجع بنایا ہوا ہے ۔ ہر معاملے میں ‘ ہر موضوع پر اور ہر مسئلے کے بارے میں ‘ ہر سوچ میں ‘ ہر فکر میں ‘ ہر منہاج میں اور ہر طریقہ کار میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنا …

Aal-i-Imraan 3:118Listen in Qur'an →
119

هَٰٓأَنتُمْ أُو۟لَآءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِٱلْكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ عَضُّوا۟ عَلَيْكُمُ ٱلْأَنَامِلَ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا۟ بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اور اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :

هَا أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الأنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ

” اور تم ان سے محبت رکھتے ہو ؟ مگر وہ تو تم سے محبت نہیں رکھتے ‘ حالانکہ تم تمام کتب سماوی کو مانتے ہو ‘ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی مان لیا ہے ‘ مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ وغضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ۔

Aal-i-Imraan 3:119Listen in Qur'an →
120

إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌۭ يَفْرَحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا……………تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ “

بارہا ہم تجربات کے تھپیڑے کھاتے ہیں ‘ مگر ہمیں ہوش نہیں آتی ‘ باربار ہم پر سازشوں اور تخریب کاریوں کا انکشاف ہوتا ہے ‘ جو مختلف بھیس بدل کر کی جاتی ہیں ‘ مگر ہم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘ باربار ان دشمنوں کی زبان پر ایسی باتیں آجاتی ہیں جن سے ان کے دلی کینہ کا اظہار ہوتا ہے ‘ جسے مسلمانوں کی مسلسل محبت اور دوستی کے مساعی زائل نہ کرسکیں اور جسے مسلمانوں کی دینی رواداری بھی صاف نہ کرسکی ‘ لیکن ہم پھر بھی وہی کچھ کرتے ہیں اور ان کے لئے اپنے دل کھول دیتے ہیں ‘ ان میں سے دوست چن لیتے ہیں اپنی زندگی میں بھی اور اپنے نظام زندگی میں بھی ۔ اور ان لوگوں کے ساتھ ہماری رواداری اس حد تک پہنچ جاتی ہے یا ہماری روحانی شکست کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے نظریہ حیات میں بھی ان کے ساتھ مجاملت اور مداہنت کرتے ہیں اور اس رواداری یا روحانی شکست کی وجہ سے ان کے سامنے اپنے نظریہ حیات کے ذکر سے بھی ڈرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ ہم اپنے نظام حیات میں بھی رواداری کرتے ہیں اور اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر استوار نہیں کرتے ‘ ان کی خاطر ہم اپنی تاریخ میں بھی تحریف کرتے ہیں ‘ اپنے نشانات راہ ان کی خاطر مٹاتے ہیں تاکہ اس تاریخ کے بیان میں ان معرکوں کا ذکر نہ آجائے جن میں ہمارے اسلاف نے ان کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ۔ یہی ذہنی شکست ہے جس کی وجہ سے ہم پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے ‘ جو ہر اس قوم پر نازل ہوتا ہے جو اللہ کے امر سے سرتابی کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں ‘ ہم ضعیف وناتواں ہوتے ہیں اور ہم شرمندہ اور نامراد ہوتے ہیں اور ہمیں وہ نقصان پہنچ جاتا ہے جس پر ہمارے دشمن خوش ہوتے ہیں اور ہم اس ناکامی اور خرابی سے دوچار ہوتے ہیں ‘ جس کی سازش وہ ہماری صفوں کے اندر کرتے ہیں ۔

لیکن دیکھو ‘ ہماری یہ کتاب ہمیں وہ طریقہ بتاتی ہے کہ کس طرح ہم ان دشمنوں سے جان بچائیں ‘ جس طرح اس کتاب نے یہ سبق پہلی جماعت اسلامی کو بھی سکھایا تھا ‘ کس طرح ہم ان ایذا رسانیوں سے بچیں گے ‘ کس طرح ہم اس کینہ سے محفوظ ہوں گے جو ہمارے خلاف ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کبھی کبھار اس کی چنگاری ان کے منہ سے نکل جاتی ہے۔

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ……………” مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ ان پر حاوی ہے ۔ “

تو وہ طریقہ صبر اور عزم کا طریقہ ہے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا طریقہ ہے ۔ (اگرچہ وہ بہت ہی طاقتور ہوں) اور ان کی مکاری اور سازشوں کے مقابلے میں جم جانے کا طریقہ ہے ۔ اگر وہ سازشوں اور خفیہ ریشہ دوانیوں کا طریقہ اپنائیں تو ہمارا طریقہ صبر اور اپنے نظریہ حیات پر پختگی سے جم جانے کا طریقہ ہوگا۔ بہہ جانے ‘ ختم ہوجانے اور دوسروں کے مقابلے میں ذلیل ہونے کا طریقہ نہیں ہوگا۔ نہ یہ کوئی صحیح پالیسی ہے کہ دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے یا ان کے متوقع شر و فساد کی وجہ سے ہم اپنے تمام نظریات یا بعض نظریات کو ترک کردیں ۔

دشمنان اسلام کے مقابلے میں وہ دوسرا طریق کار خدا خوفی کا طریق کار ہے ۔ صرف ایک اللہ سے ڈرنا اور صرف اس کی نگرانی کا احساس رکھنا ‘ تقویٰ اور اللہ خوفی ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسانی دل اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں ‘ ان کا تعلق صرف ان لوگوں سے ہوتا ہے جو اس اللہ کے نظام میں داخل ہوتے ہیں اور وہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جب ایک دل ذات باری کی معرفت حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے اندر سے اللہ کے سوا تمام …

Aal-i-Imraan 3:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.