Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–120 of 200

111

لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًۭى ۖ وَإِن يُقَٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

ہو تم بہترین امت جو نکالی (بنائی) گئی ہے لوگوں کے لیے، تم حکم کرتے ہو ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہو برے کاموں سے اور ایمان رکھتے ہو تم ساتھ اللہ کےاور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو البتہ ہوتا بہت بہترین ان کے لیے، بعض ان میں سے ایمان لانے والے ہیں اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں(110) وہ ہرگز نہیں ضرر پہنچا سکیں گے تمھیں مگر ایذا تھوڑی سی اور اگر لڑیں وہ تم سے تو پھیر دیں گے تمھاری طرف پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(111)

[111,110] اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں، یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے۔ اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لیے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں ،یعنی اس فرمان الٰہی میں:﴿وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے، اور برے کاموں سے روکے۔‘‘ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ اٰمَنَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

Aal-i-Imraan 3:111Listen in Qur'an →
112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٍۢ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

مسلط کر دی گئی ان پر ذلت، جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں مگر ساتھ پناہ کے اللہ کی اور (ساتھ) پناہ کے لوگوں کی اور لوٹے وہ ساتھ غضب کے اللہ کی طرف سےاور مسلط کر دی گئی ان پر محتاجی، یہ اس سبب سے کہ بے شک تھے وہ کفر کرتے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اورقتل کرتے تھے نبیوں کو ناحق، یہ بہ سبب اس کے کہ نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ زیادتی کرتے(112)

[112]ان کی یہ ہزیمت دائمی ہوگی، اور ان کی ذلت ہمیشہ رہے گی۔ ان کی کبھی مدد نہیں کی جائے گی، اس لیے اللہ نے ان کا انجام یہ بتایا کہ باطنی طورپر وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور ظاہری طورپر فقر و مسکنت کا۔ لہٰذا وہ کہیں اطمینان اور سکون سے نہیں رہ سکیں گے۔﴿ اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ ﴾ ’’مگر یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں‘‘ اس لیے یہودی یا تو مسلمانوں سے معاہدہ کرکے ان کے ماتحت (ذمی بن کر) رہیں گے، ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے۔ یا نصاریٰ کے ماتحت ہوں گے۔ ﴿ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ غضب الٰہی کے مستحق ہو گئے‘‘ اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ وہ اس حال کو کیوں پہنچے، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے‘‘ یہ لوگ ان آیتوں کا انکار کرتے تھے جنھیں اللہ نے اپنے رسول محمدﷺپر نازل کیا ہے، جن سے ایمان اور یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے سرکشی اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ ﴿ وَيَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۢۡبِيَآءَ۠ بِغَيۡرِ حَقٍّ ﴾ ’’اور انبیاء کو بے وجہ قتل کرتے تھے‘‘ وہ انبیاء جو ان پر سب سے عظیم احسان کرتے تھے، وہ اس احسان کے بدلے میں بدترین سلوک کرتے تھے، یعنی انھیں شہید کردیتے تھے۔ کیا اس جسارت اور اس جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے؟ ان سب بداعمالیوں کی وجہ ان کی نافرمانی اورظلم تھا، جس کی وجہ سے انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور انبیائے کرام کو شہید کرنے کی جسارت کی۔ اس کے بعد فرمایا:

Aal-i-Imraan 3:112Listen in Qur'an →
113

۞ لَيْسُوا۟ سَوَآءًۭ ۗ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ أُمَّةٌۭ قَآئِمَةٌۭ يَتْلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں

نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)

[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔

[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ …

Aal-i-Imraan 3:113Listen in Qur'an →
114

يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)

[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔

[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ …

Aal-i-Imraan 3:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

نہیں ہیں وہ (سب) برابر، اہل کتاب میں سے ایک جماعت ہے (حق پر) قائم، تلاوت کرتے ہیں وہ آیتیں اللہ کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سجدہ کرتے ہیں(113)ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور حکم کرتے ہیں ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہیں وہ برے کاموں سے اور جلدی کرتے ہیں وہ بھلائیوں میں اور یہی لوگ ہیں صالحین میں سے(114) اور جو کچھ کریں گے وہ بھلائی سے، پس ہرگز نہیں محروم کیے جائیں گے وہ اس (کے ثواب) سے اور اللہ خوب جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو(115)

[114,113] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کی سزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا۔ اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں۔ بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں ﴿ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ ﴾ ایک جماعت اللہ کے دین پرقائم رہنے والی، اور اللہ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل پیرا رہنے والی ہے۔ ان نیک اعمال میں نماز قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ﴿ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’وہ راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں‘‘ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں، اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان بھی رکھتے ہیں‘‘ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں ۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طورپر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں۔ اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا۔ اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘‘ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں، اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کرکے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسرے لوگوں کو محمدﷺپر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ﴿ وَيُسَارِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں‘‘ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں، اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ ﴿ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’یہی نیک لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انھیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا، اور انھیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔

[115]﴿ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ﴾ ’’اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں‘‘ تھوڑی ہوں یا زیادہ ﴿ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ ﴾’’ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی‘‘ انھیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دارومدارعمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ …

Aal-i-Imraan 3:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کفایت کریں گے ان سے مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(116) مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں وہ اس زندگانیٔ دنیا میں مانند مثال سخت ہوا کی ہے، اس میں ہو سخت سردی، پہنچی وہ کھیتی کو ایک قوم کی، جس نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور تہس نہس کر دیا اسےاور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے لیکن وہ اپنے نفسوں پر (خود ہی) ظلم کرتے تھے(117)

[117,116] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا:34؍37) ’’یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)‘‘ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾(الانفال:8؍36) ’’بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا:

Aal-i-Imraan 3:116Listen in Qur'an →
117

مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍۢ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍۢ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کفایت کریں گے ان سے مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(116) مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں وہ اس زندگانیٔ دنیا میں مانند مثال سخت ہوا کی ہے، اس میں ہو سخت سردی، پہنچی وہ کھیتی کو ایک قوم کی، جس نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور تہس نہس کر دیا اسےاور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے لیکن وہ اپنے نفسوں پر (خود ہی) ظلم کرتے تھے(117)

[117,116] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا:34؍37) ’’یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)‘‘ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾(الانفال:8؍36) ’’بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا:

Aal-i-Imraan 3:117Listen in Qur'an →
118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ بِطَانَةًۭ مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًۭا وَدُّوا۟ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ ٱلْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)

[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو …

Aal-i-Imraan 3:118Listen in Qur'an →
119

هَٰٓأَنتُمْ أُو۟لَآءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِٱلْكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ عَضُّوا۟ عَلَيْكُمُ ٱلْأَنَامِلَ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا۟ بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)

[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو …

Aal-i-Imraan 3:119Listen in Qur'an →
120

إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌۭ يَفْرَحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)

[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو …

Aal-i-Imraan 3:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.