Muslim99Muslim99
← Tafsir library

3. Aal-i-Imraan

The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 200

101

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا

وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ ۔۔ : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” جاہلیت میں اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی رہی تھی، اب ایک دفعہ وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے آپس میں جو کچھ ہوا تھا اس کا ذکر کیا تو دونوں غصے میں آگئے اور ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے اسلحہ لینے کے لیے اٹھے، تو اس پر یہ آیت اتری : ( وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ ) [ ابن أبی حاتم : ٣؍١١٠، ح : ٣٩٤٨ طبری ]- 2 وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ: یعنی تمہاری طرف سے کفر کا ارتکاب بہت بعید ہے، کیونکہ اللہ کی آیات تم پر پڑھی جا رہی ہیں، اس کا رسول بنفس نفیس تم میں موجود ہے اور جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لے تو یقیناً اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کی گئی۔ اس کے مخاطب صحابہ کرام (رض) ہیں، لیکن نصیحت کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ آج گو ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفس نفیس موجود نہیں ہیں، مگر اللہ کی کتاب، یعنی قرآن کریم اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت موجود ہے، جن پر عمل پیرا ہو کر موجودہ دور کے فتنوں اور ہر قسم کی بدعت و ضلالت سے مسلمان محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اب بغیر دیکھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا اور کتاب و سنت پر عمل کرنا بہت بڑے اجر کا باعث ہے۔ ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے ابو جمعہ (رض) سے کہا : ” ہمیں کوئی حدیث سناؤ جو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو “ انھوں نے کہا : ” ہاں، میں تمہیں ایک جید حدیث سناؤں گا، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ناشتہ کیا اور ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح (رض) بھی تھے، انھوں نے کہا : ” یا رسول اللہ کیا ہم سے بھی کوئی بہتر ہے ؟ ہم آپ کے ساتھ اسلام لائے اور آپ کے ساتھ جہاد کیا ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں، وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ “ [ أحمد : ٤؍١٠٦، ح : ١٦٩٧٨، ١٦٩٧٩، و سندہ صحیح ]- امام احمد کے علاوہ ابو نعیم، حاکم اور ابو یعلی الموصلی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ سورة بقرہ کی شروع کی آیات ( يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ ) کی تفسیر میں اس مفہوم کی کئی احادیث حافظ ابن کثیر (رض) لائے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں موجود نہیں، بلکہ اب ہم ایمان بالغیب لا کر قرآن و سنت پر عمل کریں گے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة حجرات (٧)

Aal-i-Imraan 3:101Listen in Qur'an →
102

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا

اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھٖ ۔۔ : عبداللہ بن مسعود (رض) سے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے : ” اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ “ [ ابن أبی حاتم : ٣؍١١٢۔ مستدرک حاکم : ٢؍٣٢٣، ح : ٣١٥٩ ] ابن کثیر (رض) نے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ مراد حسب استطاعت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْت ) [ التغابن : ١٦ ] ” سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔ “ - وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آجائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔

Aal-i-Imraan 3:102Listen in Qur'an →
103

وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًۭا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءًۭ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًۭا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍۢ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا۔۔ : مومنوں کو اہل کتاب کی اطاعت سے دور رہنے کی نصیحت فرما کر اب یہاں سے چند اصولی باتوں کا حکم دیا جا رہا ہے، جن کی پابندی سے انسان ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا جیسے ڈرنے کا حق ہے، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور جدا جدا نہ ہونا اور اللہ کی نعمت، یعنی دلوں میں الفت ڈالنے کو یاد رکھنا۔ - اللہ کی رسی سے مراد قرآن ہے، درحقیقت یہ ایک استعارہ ہے کہ اگر کچھ لوگ پہاڑ کی بلندی سے کسی گہری کھائی میں گرپڑیں تو انھیں نکالنے کے لیے اوپر سے رسی پھینکی جاتی ہے۔ اب جو لوگ مل کر اس رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں وہ اس رسی کے ساتھ اوپر نکل آئیں گے اور دوسرے گڑھے ہی میں رہ جائیں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے گمراہی کے گڑھے سے نکالنے کے لیے آسمان سے قرآن اتارا ہے، جس کے ساتھ وحی الٰہی، یعنی سنت رسول بھی اتاری ہے۔ مسلمان موجودہ فرقہ بندیوں سے بھی اسی صورت میں نجات پاسکتے ہیں کہ قرآن مجید کو لائحہ عمل قرار دیں اور ذاتی خیالات و آراء کو ترک کر کے سنت کی روشنی میں قرآن کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور مشائخ و ائمہ کے اقوال و فتاویٰ کو قرآن و سنت کا درجہ دے کر گروہ بندی اختیار نہ کریں۔ - اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً ۔۔ : اسلام سے پہلے اوس اور خزرج ہی نہیں بلکہ تمام عرب کفر و شرک اور باہمی عداوتوں میں مبتلا تھے۔ اسی کو یہاں آگ کے گڑھے کے کنارے پر ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگ میں گرنے سے بچا لیا اور عداوت کے بجائے اخوت پیدا کردی۔ اگر اس عداوت کا اندازہ کرنا ہو تو سورة انفال (٦٢، ٦٣) کا مطالعہ کریں۔

Aal-i-Imraan 3:103Listen in Qur'an →
104

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌۭ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑنے اور اختلاف و ضلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے۔ جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی، لوگ ہدایت پر رہیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان سے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنے دل سے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر۔۔ : ٤٩، عن أبی سعید الخدری (رض) ] شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کے لیے اور دین کا تقید کرنے ( پابندی کرنے اور کروانے) کے لیے، تاکہ کوئی دین کے خلاف نہ کرے اور جو اس کام پر قائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے واسطہ نہ رکھے ” موسیٰ بدین خود، عیسیٰ بدین خود “ (موسیٰ اپنے دین پر اور عیسیٰ اپنے دین پر) یہ راہ مسلمان کی نہیں ہے۔ “ (موضح) - یہ تفسیر ” مِّنْكُمْ “ کے ” من “ کو بعض کے معنی میں لینے کی صورت میں ہے جیسا کہ عام طور پر ” وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ“ میں من کو تبعیض کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کی رو سے مسلمانوں کی ایک جماعت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کافی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ “ سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ امت کے ہر فرد پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے کیونکہ آخر میں فرمایا کہ کامیاب صرف وہ ہیں جو یہ فریضہ سرانجام دیں اور ظاہر ہے کہ کامیابی کی ضرورت ہر مسلمان کو ہے۔ اس لیے یہاں مّنْكُمْ کے ” من “ کو بیانیہ ماننا پڑے گا اور یعنی یہ ہوگا کہ اے مسلمانو تمہاری صورت میں ایک ایسی جماعت ہونا لازم ہے جو نیکی کا حکم دیں۔

Aal-i-Imraan 3:104Listen in Qur'an →
105

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُوا۟ وَٱخْتَلَفُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو گئے اور احکام بین آنے کے بعد ایک دوسرےسے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن بڑا عذاب ہوگا

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا۔۔ : اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلاف اور فرقہ بندی کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھیں حق کا پتا نہ تھا اور وہ اس کے دلائل سے بیخبر تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے سب کچھ جانتے ہوئے محض اپنے دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لیے اختلاف اور فرقہ بندی کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس پر جمے ہوئے تھے۔ قرآن مجید نے مختلف طریقوں سے بار بار یہ حقیقت واضح فرمائی اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہود اکہتر (٧١) یا بہتر (٧٢) فرقوں میں جدا جدا ہوگئے، اسی طرح نصاریٰ بھی، اور میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں جدا جدا ہوجائے گی۔ “ [ ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ : ٢٦٤٠ ] دوسری حدیث میں وضاحت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” سب آگ میں جائیں گے مگر ایک۔ پوچھنے پر بتایا : ( مَا أَنَا عَلَیْہِ وَ أَصْحَابِی ) ” جس طریقے پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ “ [ ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فی افتراق ھذہ الأمۃ : ٢٦٤١، و حسنہ الالبانی ]- افسوس امت مسلمہ کے تفرقہ بازوں نے بھی وہی روش اختیار کی کہ حق اور اس کے روشن دلائل قرآن کریم اور سنت صحیحہ کی صورت میں انھیں خوب اچھی طرح معلوم ہیں، مگر وہ اپنی فرقہ بندیوں پر جمے ہوئے ہیں اور اپنی عقل و ذہانت کا سارا زور پہلی امتوں کی طرح تاویل و تحریف کے مکروہ شغل میں ضائع کر رہے ہیں۔

Aal-i-Imraan 3:105Listen in Qur'an →
106

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌۭ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌۭ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ : اس سے بظاہر تو مرتدین مراد ہیں، مگر درحقیقت یہ تمام کفار کو شامل ہے، کیونکہ جب ثابت ہے کہ روز اول کے وقت سب نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا تھا اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ ہر شخص دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لہٰذا جو بھی کفر اختیار کرے گا وہ ایمان لانے کے بعد ہی کافر ہوگا۔ اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ اس آیت میں اصلی کافر، مرتدین، منافقین اور پھر اہل بدعت سبھی آجاتے ہیں، کیونکہ یہ سب ایمان لانے کے بعد کفر کر رہے ہیں۔ (رازی۔ شوکانی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” معلوم ہوا کہ سیاہ منہ ان کے ہیں جو مسلمانی میں کفر کرتے ہیں، منہ سے کلمۂ اسلام کہتے ہیں اور عقیدہ خلاف رکھتے ہیں، سب گمراہ فرقوں کا یہی حکم ہے۔ “ (موضح)

Aal-i-Imraan 3:106Listen in Qur'an →
107

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ ٱللَّهِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْھُھُم : چہروں کی یہ سیاہی اور سفیدی قیامت کے دن ہوگی۔ جو لوگ ایمان پر قائم رہے، پھر بدعات اور گروہ بندی سے بچ کر اصل کتاب و سنت ( مَا أَنَا عَلَیْہِ وَ أَصْحَابِیْ ) پر قائم رہے، ان کے چہرے سفید ہوں گے۔

Aal-i-Imraan 3:107Listen in Qur'an →
108

تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًۭا لِّلْعَٰلَمِينَ

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

ۭوَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ : یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)

Aal-i-Imraan 3:108Listen in Qur'an →
109

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : یعنی جہاد میں خلق کی جان و مال تلف ہو تو مالک کے حکم سے ہے، ہر چیز اللہ کا مال ہے۔ (موضح)

Aal-i-Imraan 3:109Listen in Qur'an →
110

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۗ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ ۔۔ : یعنی یہ امت ہر امت سے بہتر ہے۔ انہی دو صفات میں، امر بالمعروف (یعنی جہاد) اور ایمان (یعنی توحید کا تقید پابندی) اس قدر کسی اور دین میں نہیں۔ (موضح) ان دو صفتوں سے پہلے ایک اور صفت بھی ذکر فرمائی ہے اور وہ ہے ” اُخْرِجَتْ للنَّاسِ “ یعنی یہ امت پیدا ہی لوگوں کی خیر خواہی اور اصلاح کے لیے کی گئی ہے۔ یاد رہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد جہاد ہے، وہ ہاتھ سے ہو یا زبان سے یا دل سے۔ ابوہریرہ (رض) نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : ( خَیْرَ النَّاس للنَّاسِ تَأْتُوْنَ بِہِمْ فِی السَّلاَسِلِ فِیْ أَعْنَاقِہِمْ حَتّٰی یَدْخُلُوْا فِی الْاِسْلاَمِ ) [ بخاری، التفسیر، باب (کنتم خیر أمۃ أخرجت للناس) : ٤٥٥٧ ] ” تم لوگوں کے حق میں تمام لوگوں سے بہتر ہو کہ ان کی گردنوں میں زنجیریں ڈال کر لاتے ہو، حتیٰ کہ وہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔ “ معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم ستر (٧٠) امتوں کو پورا کر رہے ہو، جن میں سے تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہتر اور سب سے معزز ہو۔ “ [ أحمد : ٤؍٤٤٧، ح : ٢٠٠٣٧۔ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة آل عمران : ٣٠٠١ ]- 2 کچھ لوگ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے لوگ خود بخود برائی چھوڑ دیں گے، اگر ایسا ہوتا تو برائی سے منع کرنے کا حکم نہ ہوتا اور سب سے بڑی برائی شرک و کفر کو زبان سے روکنے کے ساتھ قتال ( لڑنا) فرض نہ ہوتا۔ - 3 وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ : یعنی ( امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ) کی صورت میں دنیا کے کاروبار کا جو نقصان ہوتا ہے تم اس کی پروا نہیں کرتے، بلکہ اللہ پر یقین رکھتے ہو کہ وہ اپنا کام سر انجام دینے والوں کے لیے کوئی کمی نہیں رہنے دے گا۔ - 4 مْ خَيْرَ اُمَّةٍ : اس کا ایک معنی پہلے گزر چکا کہ یہ امت تمام امتوں سے بہتر ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ خطاب صحابہ کرام (رض) سے ہے کہ تم پوری امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہتر ہو، کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر (جہاد) اور ایمان باللہ (توحید خالص کا عقیدہ) تم میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ اس سے صحابہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور ان پر کفر کا فتویٰ لگانے والوں کے منہ میں خاک پڑتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ الفاظ کے لحاظ سے دونوں معنی درست ہیں اور حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔ - 5 بہترین امت ہونے کا وصف چند شرطوں کے ساتھ مشروط ہے، یعنی لوگوں کی خیر خواہی و اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر (جہاد) اور ایمان باللہ (توحید خالص) ، جب اس امت میں یہ چیزیں نہیں رہیں گی تو وہ بہترین امت ہونے کے وصف سے محروم ہوجائے گی، جیسا کہ یہود کے بارے میں آتا ہے : (كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ) [ المائدۃ : ٧٩ ] ” وہ ایک دوسرے کو کسی برائی سے، جو انھوں نے کی ہوتی، روکتے نہ تھے۔ “ جیسا کہ اب اس امت کا حال ہو رہا ہے۔- وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب کو اسلام لانے کی ترغیب ہے اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان میں سے کچھ مومن ہیں، مگر اکثر فاسق ہیں اور یہ اللہ کی مشیت ہے جس کی حکمت وہی جانتا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ) [ یوسف : ١٠٣ ] ” اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے، ہرگز ایمان لانے والے نہیں۔ “ اس سے موجودہ جمہوریت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

Aal-i-Imraan 3:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.