وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا
وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ ۔۔ : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” جاہلیت میں اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی رہی تھی، اب ایک دفعہ وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے آپس میں جو کچھ ہوا تھا اس کا ذکر کیا تو دونوں غصے میں آگئے اور ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے اسلحہ لینے کے لیے اٹھے، تو اس پر یہ آیت اتری : ( وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ ) [ ابن أبی حاتم : ٣؍١١٠، ح : ٣٩٤٨ طبری ]- 2 وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ ۭ: یعنی تمہاری طرف سے کفر کا ارتکاب بہت بعید ہے، کیونکہ اللہ کی آیات تم پر پڑھی جا رہی ہیں، اس کا رسول بنفس نفیس تم میں موجود ہے اور جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لے تو یقیناً اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کی گئی۔ اس کے مخاطب صحابہ کرام (رض) ہیں، لیکن نصیحت کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ آج گو ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفس نفیس موجود نہیں ہیں، مگر اللہ کی کتاب، یعنی قرآن کریم اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت موجود ہے، جن پر عمل پیرا ہو کر موجودہ دور کے فتنوں اور ہر قسم کی بدعت و ضلالت سے مسلمان محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اب بغیر دیکھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا اور کتاب و سنت پر عمل کرنا بہت بڑے اجر کا باعث ہے۔ ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے ابو جمعہ (رض) سے کہا : ” ہمیں کوئی حدیث سناؤ جو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو “ انھوں نے کہا : ” ہاں، میں تمہیں ایک جید حدیث سناؤں گا، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ناشتہ کیا اور ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح (رض) بھی تھے، انھوں نے کہا : ” یا رسول اللہ کیا ہم سے بھی کوئی بہتر ہے ؟ ہم آپ کے ساتھ اسلام لائے اور آپ کے ساتھ جہاد کیا ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں، وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ “ [ أحمد : ٤؍١٠٦، ح : ١٦٩٧٨، ١٦٩٧٩، و سندہ صحیح ]- امام احمد کے علاوہ ابو نعیم، حاکم اور ابو یعلی الموصلی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ سورة بقرہ کی شروع کی آیات ( يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ ) کی تفسیر میں اس مفہوم کی کئی احادیث حافظ ابن کثیر (رض) لائے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں موجود نہیں، بلکہ اب ہم ایمان بالغیب لا کر قرآن و سنت پر عمل کریں گے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة حجرات (٧)