وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا
ہاں ‘ ایسے حالات میں ‘ ایمان لانے کے بعد کسی مومن کا کافر ہوجانا بیشک ایک عظیم امر ہے ‘ اور جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا وقت پورا کرلیا اور اپنے رفیق الاعلیٰ کے ساتھ جاملے تو اس صورت میں بھی آیات الٰہی موجود ہیں ۔ اور سنت رسول ﷺ باقی ہے ۔ آج ہم بھی ان آیات کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح قرون اولیٰ کے لوگ مخاطب تھے ۔ اور آج بھی کامیابی کی راہ واضح ہے اور کامیابی کے جھنڈے بلند ہیں ۔ وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ……………” اور جو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔ “
ہاں ‘ اللہ کا دامن تھام لینے میں ہی نجات ہے۔ اللہ جل شانہٗ موجود ہیں ۔ وہ زندہ اور قیوم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام پر ‘ اسلامی نظریہ حیات اسلامی عقائد اور اسلامی نظام زندگی کے سلسلے میں بہت زیادہ سختی فرماتے تھے ۔ جبکہ زندگی کے خالص عملی اور تجربی امور میں آپ انہیں کھلا چھوڑتے تھے ، یعنی ان امور میں جن میں حقیقت کا دارومدار تجربے پر موقوف ہوتا ہے مثلاً طریقہائے زراعت ، طریقہائے جنگ و قتال اور ایسے ہی دوسرے امور جن کا تعلق خالص علمی اور تجرباتی امور سے ہوتا ہے اور جس میدان میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یا جن کا تعلق اسلامی نظام زندگی کے ساتھ نہیں ہوتا اور نہ ان کا تعلق ایک علیحدہ چیز ہے اور خالص علوم ‘ تجرباتی امور اور دوسرے انطباقی معاملات ایک دوسری چیز ہے ۔ اسلام کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق چلایا جائے ۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے عقل انسانی کو ایسے کام میں لگایا اگر وہ علم معرفت کی قوت سے نئی نئی مادی ایجادات سامنے لائیں اور یہ کام اسلامی نظام زندگی کے دائرے کے اندر اندر کیا جائے ۔
امام احمد بن حنبل (رح) ایک حدیث نقل کرتے ہیں ۔ بروایت سفیان ‘ جابر ‘ شعبی عبداللہ بن ثابت رحمہم اللہ ۔ وہ فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا ! رسول اللہ ‘ میں نے بنی قریظہ میں سے اپنے ایک یہودی بھائی کو کہا اور اس نے مجھے تورات سے بعض جامع چیزیں لکھ دیں ‘ کیا میں وہ آپ کی خدمت میں پیش نہ کردوں ؟ فرماتے ہیں کہ یہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا ۔ عبداللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر کیا آثار ہیں ؟ عمر نے کہا میں اس پر راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ‘ اسلام میرا دین ہے اور محمد میرے رسول ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے آثار غضب کے آثار غائب ہوگئے اور آپ نے فرمایا ” خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر آج تم میں موسیٰ (علیہ السلام) آجائے اور تم اس کی اطاعت کرو مجھے چھوڑ دو تو یقینا ً تم گمراہ ہوجاؤگے ۔ تمام امتوں میں سے تم میرا حصہ ہو اور میں تمام نبیوں میں سے تمہارا حصہ ہوں۔ “
حافظ ابویعلیٰ نے حماد ‘ شعبی کی روایت سے حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اہل کتاب سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کرو ‘ اس لئے کہ جب وہ خود گمراہ ہوگئے تو تمہیں کیسے ہدایت دے سکتے ہیں ۔ اگر تم نے ان سے کوئی بات دریافت کی ‘ تو پھر یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کروگے اور یا پھر کسی صحیح بات کی تکذیب کروگے ۔ اور اللہ کی قسم آج اگر تمہارے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوتے تو ان کے لئے میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا اور بعض روایات میں ہے ” اگر موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) زندہ ہوتے ‘ تو ان دونوں کے لئے میرے اتباع کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہوتا۔ “
یہ لوگ ہیں اہل کتاب اور یہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے احکام اس امر کے بارے میں کہ ان تمام امور میں جن کا تعلق عقائد ونظریات سے ہے یا جن کا تعلق نظام زندگی اور اسلامی قانون سے ہے ‘ ان میں اہل کتاب سے مکمل اجتناب کرنا ہے ۔ ہاں جن امور …