Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 241–250 of 286

241

وَلِلْمُطَلَّقَٰتِ مَتَٰعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

اور واسطے مطلقہ عورتوں کے فائدہ پہنچانا ہے مطابق دستور کے، (یہ) حق ہے اوپر متقی لوگوں کے(241) اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ واسطے تمھارے اپنی آیتیں، تاکہ تم سمجھو(242)

[242,241] یعنی ہر طلاق یافتہ عورت کو مناسب فائدہ دینااس کا حق ہے جو ہر متقی پر واجب ہے، تاکہ عورت کی دل جوئی ہوسکے اور اس کے بعض حقوق ادا ہوسکیں۔ جس عورت کو خلوت سے پہلے طلاق دی جائے اسے یہ متعہ (مثلاً کپڑوں کا جوڑا یا کچھ رقم وغیرہ) دینا واجب ہے۔ دوسری صورت میں پورا حق مہر ادا کرنا واجب ہے جیسے پہلے بیان ہوا۔ اس مسئلہ میں یہ قول زیادہ بہتر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر عورت کو طلاق کے بعد متعہ دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔ (اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی) لیکن قانون یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔ اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ متعہ اس عورت کے لیے واجب ہے جسے خلوت سے پہلے اور حق مہر کے تعین سے پہلے طلاق ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم مسائل بیان فرمائے جو اس کی حکمت اور رحمت پر مشتمل ہیں، تو بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے۔‘‘ یعنی حدود، حلال و حرام اور وہ احکام جن میں تمھارا فائدہ ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ تاکہ تم انھیں سمجھو، اور ان کا اصل مقصد تمھیں معلوم ہوجائے، کیونکہ جو ان کو سمجھ لے گا، وہ ان پر عمل کرنا ضروری سمجھے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے:

Al-Baqara 2:241Listen in Qur'an →
242

كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

اور واسطے مطلقہ عورتوں کے فائدہ پہنچانا ہے مطابق دستور کے، (یہ) حق ہے اوپر متقی لوگوں کے(241) اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ واسطے تمھارے اپنی آیتیں، تاکہ تم سمجھو(242)

[242,241] یعنی ہر طلاق یافتہ عورت کو مناسب فائدہ دینااس کا حق ہے جو ہر متقی پر واجب ہے، تاکہ عورت کی دل جوئی ہوسکے اور اس کے بعض حقوق ادا ہوسکیں۔ جس عورت کو خلوت سے پہلے طلاق دی جائے اسے یہ متعہ (مثلاً کپڑوں کا جوڑا یا کچھ رقم وغیرہ) دینا واجب ہے۔ دوسری صورت میں پورا حق مہر ادا کرنا واجب ہے جیسے پہلے بیان ہوا۔ اس مسئلہ میں یہ قول زیادہ بہتر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر عورت کو طلاق کے بعد متعہ دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔ (اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی) لیکن قانون یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔ اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ متعہ اس عورت کے لیے واجب ہے جسے خلوت سے پہلے اور حق مہر کے تعین سے پہلے طلاق ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم مسائل بیان فرمائے جو اس کی حکمت اور رحمت پر مشتمل ہیں، تو بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے۔‘‘ یعنی حدود، حلال و حرام اور وہ احکام جن میں تمھارا فائدہ ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ تاکہ تم انھیں سمجھو، اور ان کا اصل مقصد تمھیں معلوم ہوجائے، کیونکہ جو ان کو سمجھ لے گا، وہ ان پر عمل کرنا ضروری سمجھے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے:

Al-Baqara 2:242Listen in Qur'an →
243

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُوا۟ ثُمَّ أَحْيَٰهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جو نکلے اپنے گھروں سے اور وہ کئی ہزار تھے، موت کے ڈر سے، تو کہا ان سے اللہ نے، مر جاؤ تم! ، پھر زندہ کر دیا ان کو، بے شک اللہ فضل کرنے والا ہے اوپر لوگوں کے اور لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے(243)

[243] اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا واقعہ بیان فرما رہا ہے جو ایک متفقہ مقصد کے تحت کثیر تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ وبا یا کسی اور وجہ سے مرجانے کا خوف رکھتے تھے۔ گھروں سے نکلنے سے ان کا مقصود موت سے بچنا تھا، لیکن تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی، چنانچہ ﴿فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوۡتُوۡا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا: مرجاؤ۔‘‘ تو وہ مر گئے۔ ﴿ ثُمَّؔ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَحۡيَاهُمۡ ﴾ ’’انھیں زندہ کردیا۔، یا نبی کی دعا کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔ یہ ان پر رحمت، مہربانی اور حلم کا اظہار تھا اور مردوں کو زندہ کرنے کی ایک نشانی دکھانا مقصود تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔‘‘ پس وہ نعمت ملنے پر شکر میں اضافہ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید گناہ کرنے لگتے ہیں۔ ان میں ایسے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں جو نعمت کو پہچان کر، اس کا اعتراف کرکے اسے منعم حقیقی کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جنگ کرنے کا حکم دیاہے۔ اس سے مراد اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے اپنے دشمنوں یعنی کافروں کے خلاف جنگ کرنا ہے۔

Al-Baqara 2:243Listen in Qur'an →
244

وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے

اور لڑو تم اللہ کی راہ میں، اور جان لو! بے شک اللہ سننے والا، خوب جاننے والا ہے(244) کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ ، پھر اللہ بڑھا دے وہ (مال) اس کے لیے کئی کئی گنا؟ اور اللہ ہی تنگی کرتا اور فراخی کرتا ہےاور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(245)

[245,244] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننا جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمھارا مقصود ہونا چاہیے اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لیے اس حکم کی تمہید کے طورپر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ موت اس طرح بھی آسکتی ہے، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمھارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اور چونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اللہ نے اس راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور ترغیب دی، اور اسے قرض فرمایا، چنانچہ فرمایا ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟‘‘ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ’’اچھا‘‘ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصودمحض رضائے الٰہی ہو۔ ﴿ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً ﴾ پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔‘‘ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ مفلس ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ﴾ ’’اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔‘‘ یعنی جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے، اورجس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ معاملات صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام امور کا دارومدار اسی کی ذات پر ہے۔ بچا بچا کر رکھنے سے رزق بڑھتا نہیں اور خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں جو خرچ کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ اپنی پیش کی ہوئی اشیا پوری پوری، بلکہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ کئی گنا وصول کرلیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کے مقابلے میں اسباب فائدہ نہیں دیتے۔ خصوصاً وہ اسباب جن سے اللہ کے احکامات پر عمل ترک ہوتا ہو، نیز ان میں اللہ کی عظیم نشانی کا ذکر ہے کہ اسی جہان میں مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیا۔ ان میں اللہ کی راہ میں جہاد و قتال اور خرچ کرنے کا حکم ہے یہاں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جن سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہوتی ہے، مثلاً اسے قرض قرار دینا، اس کا بہت زیادہ بڑھ جانا، رزق کی کمی بیشی اللہ کے ہاتھ میں ہونا اور بندوں کا اسی کی طرف لوٹ کے جانا۔

Al-Baqara 2:244Listen in Qur'an →
245

مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْرِضُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضْعَافًۭا كَثِيرَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

اور لڑو تم اللہ کی راہ میں، اور جان لو! بے شک اللہ سننے والا، خوب جاننے والا ہے(244) کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ ، پھر اللہ بڑھا دے وہ (مال) اس کے لیے کئی کئی گنا؟ اور اللہ ہی تنگی کرتا اور فراخی کرتا ہےاور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(245)

[245,244] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننا جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمھارا مقصود ہونا چاہیے اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لیے اس حکم کی تمہید کے طورپر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ موت اس طرح بھی آسکتی ہے، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمھارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اور چونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اللہ نے اس راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور ترغیب دی، اور اسے قرض فرمایا، چنانچہ فرمایا ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟‘‘ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ’’اچھا‘‘ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصودمحض رضائے الٰہی ہو۔ ﴿ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً ﴾ پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔‘‘ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ مفلس ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ﴾ ’’اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔‘‘ یعنی جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے، اورجس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ معاملات صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام امور کا دارومدار اسی کی ذات پر ہے۔ بچا بچا کر رکھنے سے رزق بڑھتا نہیں اور خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں جو خرچ کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ اپنی پیش کی ہوئی اشیا پوری پوری، بلکہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ کئی گنا وصول کرلیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کے مقابلے میں اسباب فائدہ نہیں دیتے۔ خصوصاً وہ اسباب جن سے اللہ کے احکامات پر عمل ترک ہوتا ہو، نیز ان میں اللہ کی عظیم نشانی کا ذکر ہے کہ اسی جہان میں مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیا۔ ان میں اللہ کی راہ میں جہاد و قتال اور خرچ کرنے کا حکم ہے یہاں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جن سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہوتی ہے، مثلاً اسے قرض قرار دینا، اس کا بہت زیادہ بڑھ جانا، رزق کی کمی بیشی اللہ کے ہاتھ میں ہونا اور بندوں کا اسی کی طرف لوٹ کے جانا۔

Al-Baqara 2:245Listen in Qur'an →
246

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰٓ إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِىٍّۢ لَّهُمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِكًۭا نُّقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَٰتِلُوا۟ ۖ قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبْنَآئِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:246Listen in Qur'an →
247

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًۭا ۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةًۭ مِّنَ ٱلْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةًۭ فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ ۖ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:247Listen in Qur'an →
248

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءَايَةَ مُلْكِهِۦٓ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:248Listen in Qur'an →
249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلْجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍۢ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّىٓ إِلَّا مَنِ ٱغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهِۦ ۚ فَشَرِبُوا۟ مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ قَالُوا۟ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍۢ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةًۭ كَثِيرَةًۢ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:249Listen in Qur'an →
250

وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:250Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.