Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 201–210 of 286

201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ تلاش کرو تم فضل اپنے رب کا، پھر جب لوٹو تم عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر حرام کےاور یاد کرو تم اس کو جس طرح اس نے ہدایت دی تمھیں اور تحقیق تھے تم پہلے اس سے البتہ گمراہوں سے(198) پھر لوٹو تم جہاں سے لوٹیں سب لوگ ،اور مغفرت مانگو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(199) پھر جب پورے کر چکو تم اپنے حج کے احکام،تو یاد کرو اللہ کو مانند یاد کرنے تمھارے اپنے باپ دادا کو،بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرنا، پس کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ(200) اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی اور بچا ہمیں آگ کے عذاب سے(201)یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے(202)

[198] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہو جائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور مسبب کو فراموش کر دینا، یہی عین حرج ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ﴿ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡكُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’پس جب تم عرفات سے لوٹو، تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو‘‘ متعدد امورپر دلالت کرتا ہے:(۱) عرفہ میں وقوف، مناسک حج میں سے ہے اور یہ ارکان حج میں سے ایک معروف رکن ہے، کیونکہ عرفات سے واپسی صرف وقوف کے بعد ہی ہوتی ہے۔ (۲) مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے، مزدلفہ بھی معروف جگہ ہے جہاں قربانی کی رات بسر کرنی ہوتی ہے، نماز فجر کے بعد خوب روشنی پھیلنے تک دعائیں کرتے ہوئے مزدلفہ میں وقوف کرے، مزدلفہ کے پاس دعاؤں اور اذکار میں فرائض اور نوافل بھی داخل ہیں۔ (۳) مزدلفہ کا وقوف، عرفات کے وقوف سے متاخر ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں دی گئی ترتیب دلالت کرتی ہے۔ (۴) عرفات اور مزدلفہ، دونوں ان مشاعر حج میں شمار ہوتے ہیں جن کا فعل اور اظہار مقصود ہے۔ (۵) مزدلفہ بھی حرم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کیا ہے۔ (۶) مزدلفہ کو ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کرنا یہ مفہوم دیتا ہے کہ عرفہ حرم میں شامل نہیں۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡهُ كَمَا هَدٰؔىكُمۡ١ۚ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور اس (اللہ) کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو بتلایا ہے اور اس سے پہلے تم ناواقف تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ اس نے گمراہی کے بعد تمھیں ہدایت سے نوازا اور تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس کا شکر واجب، اور اس کے مقابلے میں قلب اور زبان سے منعم کا ذکر کرنا فرض ہے۔

[199]﴿ ثُمَّؔ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ﴾ ’’پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں‘‘ یعنی مزدلفہ سے۔ اور یہ وہ عمل ہے جو حضرت ابراہیمuسے لے کر اب تک چلا آرہا ہے۔ اور اس افاضہ یعنی واپسی کا مقصد ان کے ہاں معروف تھا اور وہ ہے رمی جمار، قربانیوں کو ذبح کرنا، طواف، سعی، تشریق کی راتوں میں منی میں شب بسری اور باقی مناسک کی تکمیل۔ چونکہ اس افاضہ کا مقصد وہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ امور حج کے آخری مناسک ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سے فارغ ہو کر استغفار اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس لیے کہ استغفار …

Al-Baqara 2:201Listen in Qur'an →
202

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ تلاش کرو تم فضل اپنے رب کا، پھر جب لوٹو تم عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر حرام کےاور یاد کرو تم اس کو جس طرح اس نے ہدایت دی تمھیں اور تحقیق تھے تم پہلے اس سے البتہ گمراہوں سے(198) پھر لوٹو تم جہاں سے لوٹیں سب لوگ ،اور مغفرت مانگو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(199) پھر جب پورے کر چکو تم اپنے حج کے احکام،تو یاد کرو اللہ کو مانند یاد کرنے تمھارے اپنے باپ دادا کو،بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرنا، پس کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ(200) اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی اور بچا ہمیں آگ کے عذاب سے(201)یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے(202)

[198] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہو جائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور مسبب کو فراموش کر دینا، یہی عین حرج ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ﴿ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡكُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’پس جب تم عرفات سے لوٹو، تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو‘‘ متعدد امورپر دلالت کرتا ہے:(۱) عرفہ میں وقوف، مناسک حج میں سے ہے اور یہ ارکان حج میں سے ایک معروف رکن ہے، کیونکہ عرفات سے واپسی صرف وقوف کے بعد ہی ہوتی ہے۔ (۲) مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے، مزدلفہ بھی معروف جگہ ہے جہاں قربانی کی رات بسر کرنی ہوتی ہے، نماز فجر کے بعد خوب روشنی پھیلنے تک دعائیں کرتے ہوئے مزدلفہ میں وقوف کرے، مزدلفہ کے پاس دعاؤں اور اذکار میں فرائض اور نوافل بھی داخل ہیں۔ (۳) مزدلفہ کا وقوف، عرفات کے وقوف سے متاخر ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں دی گئی ترتیب دلالت کرتی ہے۔ (۴) عرفات اور مزدلفہ، دونوں ان مشاعر حج میں شمار ہوتے ہیں جن کا فعل اور اظہار مقصود ہے۔ (۵) مزدلفہ بھی حرم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کیا ہے۔ (۶) مزدلفہ کو ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کرنا یہ مفہوم دیتا ہے کہ عرفہ حرم میں شامل نہیں۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡهُ كَمَا هَدٰؔىكُمۡ١ۚ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور اس (اللہ) کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو بتلایا ہے اور اس سے پہلے تم ناواقف تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ اس نے گمراہی کے بعد تمھیں ہدایت سے نوازا اور تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس کا شکر واجب، اور اس کے مقابلے میں قلب اور زبان سے منعم کا ذکر کرنا فرض ہے۔

[199]﴿ ثُمَّؔ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ﴾ ’’پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں‘‘ یعنی مزدلفہ سے۔ اور یہ وہ عمل ہے جو حضرت ابراہیمuسے لے کر اب تک چلا آرہا ہے۔ اور اس افاضہ یعنی واپسی کا مقصد ان کے ہاں معروف تھا اور وہ ہے رمی جمار، قربانیوں کو ذبح کرنا، طواف، سعی، تشریق کی راتوں میں منی میں شب بسری اور باقی مناسک کی تکمیل۔ چونکہ اس افاضہ کا مقصد وہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ امور حج کے آخری مناسک ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سے فارغ ہو کر استغفار اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس لیے کہ استغفار …

Al-Baqara 2:202Listen in Qur'an →
203

۞ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

اور یاد کرو تم اللہ کو، گنتی کے چند دنوں میں، پس جس نے جلدی کی دو دنوں میں تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر،اور جس نے تاخیر کی تو نہیں کوئی گناہ اس پر (بھی) واسطے اس کے جو ڈرا،اور ڈرو تم اللہ سے اور جان لو، بے شک تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے(203)

[203] اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ گنتی کے چند دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، ان دنوں سے مراد عید کے بعد کے ایام تشریق (کے تین دن) ہیں، کیونکہ انھیں شرف و فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ بقیہ تمام مناسک حج انھی ایام میں پورے کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان دنوں میں لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں روزہ رکھنا حرام قرار دیا ہے۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ایک ایسی خوبی ہے جو اور دنوں میں نہیں پائی جاتی، چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ اَیَّامُ أَکْلٍ وَّشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ‘ ’’ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں‘‘(مسند أحمد:5؍76) اور ان ایام میں جو اللہ کا ذکر کرنے کا حکم ہے، تو اس میں رمی جمار کے وقت، قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد مخصوص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی آجاتا ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں اس حکم میں مطلق تکبیرات داخل ہیں۔ جیسے ذوالحج کے پہلے دس دنوں میں تکبیرات کہی جاتی ہیں اور یہ بعید بھی نہیں۔ ﴿ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’پس جس نے جلدی کی دو دنوں میں، تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی جو کوئی دوسرے روز غروب آفتاب سے قبل منیٰ سے نکل کر کوچ کرتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جس نے دیر کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی جو کوئی تیسری رات منیٰ میں بسر کر کے اگلی صبح کنکر مارتا ہے (تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں) دونوں امور مباح قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تخفیف عطا کی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہے کہ اگرچہ دونوں امور جائز ہیں تاہم تیسری رات کے بعد منی سے کوچ کرنا افضل ہے۔ کیونکہ اس طرح کثرت عبادت کی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ آیت کریمہ میں نفی حرج کا ذکر کیا گیا ہے جس سے کبھی تو صرف اسی معاملے میں نفی حرج کا مفہوم ذہن میں آتا ہے اور کبھی اس کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ صرف تقدیم و تاخیر میں حرج کی نفی کی گئی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ﴿ لِمَنِ اتَّقٰى ﴾ کے ساتھ مقید کیا ہے، یعنی جس نے تمام معاملات میں اور حج کے احوال میں تقویٰ اختیار کیا۔ پس جس نے ہر معاملے میں تقویٰ اختیار کیا اس کے لیے ہر معاملے میں حرج کی نفی حاصل ہو گئی اور جس نے بعض معاملات میں تقویٰ اختیار کیا اور بعض معاملات میں اسے نظر انداز کر دیا تو اس کو جزا بھی اس کے عمل کی جنس سے ملے گی۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’جان لو کہ تمھیں اسی (اللہ تعالیٰ) کے پاس اکٹھا کیا جائے گا‘‘ اور وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پس جس کسی نے تقویٰ اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جزا پائے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں سے باز نہ آیا، اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا۔ جزا و سزا کا علم، تقویٰ کا سب سے بڑا داعیہ ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزائے آخرت کے علم کی بڑی ترغیب دی ہے۔

Al-Baqara 2:203Listen in Qur'an →
204

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ خوش لگتی ہے آپ کو اس کی بات حیات دنیا میں اور وہ گواہ بناتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے(204) اور جب وہ پیٹھ پھیر جاتا ہے تو کوشش کرتا ہے زمین میں، تاکہ فساد کرے اس میں اور برباد کرے کھیتیاں اور نسل، اور اللہ نہیں پسند کرتا فساد کو(205) اور جب کہا جاتا ہے اسے، ڈر تو اللہ سے، تو ابھارتا ہے اسے تکبر گناہ پر، سو کافی ہے اسے جہنم اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے(206)

[204] جب اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخالفت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِي الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں‘‘ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ہی فائدہ مند بات کر رہا ہے۔ اور بات کو مزید موکد بناتا ہے ﴿وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيۡ قَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جو اس کے دل میں ہے، اس پر وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے‘‘ یعنی وہ خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے دل میں وہی کچھ ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کر رہا ہے، درآنحالیکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے کیونکہ اس کا فعل اس کے قول کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس کا فعل اس کے قول کی موافقت کرتا جیسا کہ سچے مومن کا حال ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴾ ’’اور وہ سخت جھگڑالو ہے‘‘ یعنی جب کبھی آپ اس سے بحث کرتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں سخت جھگڑالو پن، سرکشی اور تعصب جیسی مذموم صفات موجود ہیں اور ان کے نتیجے میں، اس کے اندر وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو قبیح ترین اوصاف ہیں۔ یہ اوصاف اہل ایمان کے اوصاف کی مانند نہیں ہیں۔ وہ اہل ایمان جنھوں نے سہولت کواپنی سواری، اطاعت حق کو اپنا وظیفہ اور عفو و درگزر کو اپنی طبیعت بنالیا۔

[205]﴿ وَاِذَا تَوَلّٰى ﴾ ’’اور جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ شخص جب آپ کے پاس موجود ہوتا ہے تو اس کی باتیں آپ کو بہت خوش کن لگتی ہیں،جب وہ آپ کے ہاں سے واپس لوٹتا ہے ﴿ سَعٰى فِي الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا ﴾ ’’تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے۔‘‘ یعنی وہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں ﴿ وَيُهۡلِكَ الۡحَرۡثَ وَالنَّسۡلَ ﴾ ’’اور کھیتی اور نسل کو نابود کردے۔‘‘ اور اس سبب سے کھیتیاں، باغات اور مویشی تباہ ہوتے ہیں یا ان میں کمی واقع ہوتی ہے اور گناہوں کے سبب سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ﴾ ’’اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘ اور جب وہ فساد کو پسند نہیں کرتا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے والے بندے کو سخت ناپسند کرتا ہے خواہ یہ بندہ اپنی زبان سے بہت اچھی اچھی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو لوگوں کے منہ سے صادر ہوتی ہیں ان کے صدق یا کذب، اور نیکی یا بدی پر اس وقت تک دلالت نہیں کرتیں جب تک اس کا عمل ان باتوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ گواہوں، حق پرستوں اور باطل پرستوں کے احوال کی تحقیق اور ان کے اعمال اور قرائن احوال میں غور و فکر کے ذریعے سے ان کی پہچان کی جائے، نیز ان کی ملمع سازی اور ان کے پاکئ داماں کے دعووں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ گناہوں اور نافرمانیوں …

Al-Baqara 2:204Listen in Qur'an →
205

وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ خوش لگتی ہے آپ کو اس کی بات حیات دنیا میں اور وہ گواہ بناتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے(204) اور جب وہ پیٹھ پھیر جاتا ہے تو کوشش کرتا ہے زمین میں، تاکہ فساد کرے اس میں اور برباد کرے کھیتیاں اور نسل، اور اللہ نہیں پسند کرتا فساد کو(205) اور جب کہا جاتا ہے اسے، ڈر تو اللہ سے، تو ابھارتا ہے اسے تکبر گناہ پر، سو کافی ہے اسے جہنم اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے(206)

[204] جب اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخالفت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِي الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں‘‘ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ہی فائدہ مند بات کر رہا ہے۔ اور بات کو مزید موکد بناتا ہے ﴿وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيۡ قَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جو اس کے دل میں ہے، اس پر وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے‘‘ یعنی وہ خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے دل میں وہی کچھ ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کر رہا ہے، درآنحالیکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے کیونکہ اس کا فعل اس کے قول کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس کا فعل اس کے قول کی موافقت کرتا جیسا کہ سچے مومن کا حال ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴾ ’’اور وہ سخت جھگڑالو ہے‘‘ یعنی جب کبھی آپ اس سے بحث کرتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں سخت جھگڑالو پن، سرکشی اور تعصب جیسی مذموم صفات موجود ہیں اور ان کے نتیجے میں، اس کے اندر وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو قبیح ترین اوصاف ہیں۔ یہ اوصاف اہل ایمان کے اوصاف کی مانند نہیں ہیں۔ وہ اہل ایمان جنھوں نے سہولت کواپنی سواری، اطاعت حق کو اپنا وظیفہ اور عفو و درگزر کو اپنی طبیعت بنالیا۔

[205]﴿ وَاِذَا تَوَلّٰى ﴾ ’’اور جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ شخص جب آپ کے پاس موجود ہوتا ہے تو اس کی باتیں آپ کو بہت خوش کن لگتی ہیں،جب وہ آپ کے ہاں سے واپس لوٹتا ہے ﴿ سَعٰى فِي الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا ﴾ ’’تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے۔‘‘ یعنی وہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں ﴿ وَيُهۡلِكَ الۡحَرۡثَ وَالنَّسۡلَ ﴾ ’’اور کھیتی اور نسل کو نابود کردے۔‘‘ اور اس سبب سے کھیتیاں، باغات اور مویشی تباہ ہوتے ہیں یا ان میں کمی واقع ہوتی ہے اور گناہوں کے سبب سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ﴾ ’’اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘ اور جب وہ فساد کو پسند نہیں کرتا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے والے بندے کو سخت ناپسند کرتا ہے خواہ یہ بندہ اپنی زبان سے بہت اچھی اچھی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو لوگوں کے منہ سے صادر ہوتی ہیں ان کے صدق یا کذب، اور نیکی یا بدی پر اس وقت تک دلالت نہیں کرتیں جب تک اس کا عمل ان باتوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ گواہوں، حق پرستوں اور باطل پرستوں کے احوال کی تحقیق اور ان کے اعمال اور قرائن احوال میں غور و فکر کے ذریعے سے ان کی پہچان کی جائے، نیز ان کی ملمع سازی اور ان کے پاکئ داماں کے دعووں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ گناہوں اور نافرمانیوں …

Al-Baqara 2:205Listen in Qur'an →
206

وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ خوش لگتی ہے آپ کو اس کی بات حیات دنیا میں اور وہ گواہ بناتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے(204) اور جب وہ پیٹھ پھیر جاتا ہے تو کوشش کرتا ہے زمین میں، تاکہ فساد کرے اس میں اور برباد کرے کھیتیاں اور نسل، اور اللہ نہیں پسند کرتا فساد کو(205) اور جب کہا جاتا ہے اسے، ڈر تو اللہ سے، تو ابھارتا ہے اسے تکبر گناہ پر، سو کافی ہے اسے جہنم اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے(206)

[204] جب اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخالفت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِي الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں‘‘ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ہی فائدہ مند بات کر رہا ہے۔ اور بات کو مزید موکد بناتا ہے ﴿وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيۡ قَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جو اس کے دل میں ہے، اس پر وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے‘‘ یعنی وہ خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے دل میں وہی کچھ ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کر رہا ہے، درآنحالیکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے کیونکہ اس کا فعل اس کے قول کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس کا فعل اس کے قول کی موافقت کرتا جیسا کہ سچے مومن کا حال ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴾ ’’اور وہ سخت جھگڑالو ہے‘‘ یعنی جب کبھی آپ اس سے بحث کرتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں سخت جھگڑالو پن، سرکشی اور تعصب جیسی مذموم صفات موجود ہیں اور ان کے نتیجے میں، اس کے اندر وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو قبیح ترین اوصاف ہیں۔ یہ اوصاف اہل ایمان کے اوصاف کی مانند نہیں ہیں۔ وہ اہل ایمان جنھوں نے سہولت کواپنی سواری، اطاعت حق کو اپنا وظیفہ اور عفو و درگزر کو اپنی طبیعت بنالیا۔

[205]﴿ وَاِذَا تَوَلّٰى ﴾ ’’اور جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ شخص جب آپ کے پاس موجود ہوتا ہے تو اس کی باتیں آپ کو بہت خوش کن لگتی ہیں،جب وہ آپ کے ہاں سے واپس لوٹتا ہے ﴿ سَعٰى فِي الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا ﴾ ’’تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے۔‘‘ یعنی وہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں ﴿ وَيُهۡلِكَ الۡحَرۡثَ وَالنَّسۡلَ ﴾ ’’اور کھیتی اور نسل کو نابود کردے۔‘‘ اور اس سبب سے کھیتیاں، باغات اور مویشی تباہ ہوتے ہیں یا ان میں کمی واقع ہوتی ہے اور گناہوں کے سبب سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ﴾ ’’اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘ اور جب وہ فساد کو پسند نہیں کرتا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے والے بندے کو سخت ناپسند کرتا ہے خواہ یہ بندہ اپنی زبان سے بہت اچھی اچھی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو لوگوں کے منہ سے صادر ہوتی ہیں ان کے صدق یا کذب، اور نیکی یا بدی پر اس وقت تک دلالت نہیں کرتیں جب تک اس کا عمل ان باتوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ گواہوں، حق پرستوں اور باطل پرستوں کے احوال کی تحقیق اور ان کے اعمال اور قرائن احوال میں غور و فکر کے ذریعے سے ان کی پہچان کی جائے، نیز ان کی ملمع سازی اور ان کے پاکئ داماں کے دعووں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ گناہوں اور نافرمانیوں …

Al-Baqara 2:206Listen in Qur'an →
207

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

اور کچھ لوگ وہ ہیں جو بیچ دیتے ہیں اپنا نفس، واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی اور اللہ بہت شفیق ہے اپنے بندوں کے ساتھ(207)

[207] ’’اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنے آپ کو اللہ کی رضاجوئی میں اور اللہ بڑا مہربان ہے بندوں پر۔‘‘ یہی لوگ توفیق یافتہ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کو ارزاں داموں میں بیچ دیا اور اللہ کی رضا کے حصول اور ثواب کی امید پر اپنی جانوں کو قربان کردیا۔ پس انھوں نے، بندوں کے ساتھ انتہائی مہربان، پورا بدلہ دینے والے مال دار کو قیمت ادا کی ہے، وہ مہربان کہ جس کی شفقت و رحمت ہی سے ہے کہ اس نے ان کو اس قربانی کی توفیق بخشی۔ اور اس نے اس قربانی کے پورے بدلے کا وعدہ فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّةَ ﴾(التوبۃ:9؍111)’’بے شک اللہ نے خرید لیا ہے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور مالوں کو، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ مومنوں نے اپنی جانوں کو فروخت اور قربان کردیا ہے اور اللہ نے ان کے مطلوب و مقصود کے حصول کے لیے اپنی واجب شفقت و رحمت کی خبر دی ہے۔ پس اس کے بعد، ان پر اللہ کریم جو نوازشات فرمائے گا اور جو کامیابی و کامرانی ان کو حاصل ہوگی، اس کی بابت مت پوچھ۔

Al-Baqara 2:207Listen in Qur'an →
208

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

اے لوگوجو ایمان لائے ہو! داخل ہو جاؤ تم اسلام میں پورے کے پورے،اور نہ پیروی کرو تم شیطان کے قدموں کی، بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے ظاہر(208) پھر اگر پھسل جاؤ تم بعد اس کے کہ آگئیں تمھارے پاس واضح دلیلیں، تو جان لو! بے شک اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(209)

[208] یہ اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں، یعنی دین کے تمام احکام پر عمل کریں اور ان احکام میں سے کسی حکم کو ترک نہ کریں اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جنھوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ اگر شرعی حکم ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتا ہے تو اس پر عمل کر لیتے ہیں اگر یہ حکم خواہش نفس کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ یہ فرض ہے کہ بندے کی خواہش دین کے تابع ہو، بھلائی کا ہر وہ کام کرے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور جس کام کے کرنے سے وہ عاجز ہو، اس کی کوشش کرے اور اس کو بجا لانے کی نیت رکھے، پس اپنی نیت سے وہ اسے پا لے گا۔ چونکہ دین میں مکمل طور پر داخل ہونا شیطان کے راستوں کی مخالفت کیے بغیر ممکن نہیں اور نہ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اور شیطان کے نقش قدم کی اتباع نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا ظاہر دشمن ہے۔‘‘ یعنی اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ وہ دشمن جس کی عداوت ظاہر ہو ہمیشہ تمھیں برائی، فواحش اور ایسے کاموں کا حکم دیتا ہے جو تمھارے لیے نقصان دہ ہوں۔ چونکہ بندے سے ہمیشہ کوتاہی اور لغزش واقع ہوتی رہتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[209]﴿ فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم پھسل جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم سے کوئی لغزش ہو جائے اور تم گناہ میں پڑ جاؤ ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡكُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’احکام روشن پہنچ جانے کے بعد‘‘ یعنی علم اور یقین حاصل ہو جانے کے بعد ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ اس آیت میں نہایت سخت وعید اور تخویف ہے جو لغزشوں کو ترک کرنے کی موجب ہے۔ کیونکہ جب نافرمان لوگ اس غالب اور حکمت والی ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نہایت قوت کے ساتھ ان کو پکڑتی ہے اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کو سزا دیتی ہے کیونکہ نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دینا اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔

Al-Baqara 2:208Listen in Qur'an →
209

فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اے لوگوجو ایمان لائے ہو! داخل ہو جاؤ تم اسلام میں پورے کے پورے،اور نہ پیروی کرو تم شیطان کے قدموں کی، بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے ظاہر(208) پھر اگر پھسل جاؤ تم بعد اس کے کہ آگئیں تمھارے پاس واضح دلیلیں، تو جان لو! بے شک اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(209)

[208] یہ اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں، یعنی دین کے تمام احکام پر عمل کریں اور ان احکام میں سے کسی حکم کو ترک نہ کریں اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جنھوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ اگر شرعی حکم ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتا ہے تو اس پر عمل کر لیتے ہیں اگر یہ حکم خواہش نفس کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ یہ فرض ہے کہ بندے کی خواہش دین کے تابع ہو، بھلائی کا ہر وہ کام کرے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور جس کام کے کرنے سے وہ عاجز ہو، اس کی کوشش کرے اور اس کو بجا لانے کی نیت رکھے، پس اپنی نیت سے وہ اسے پا لے گا۔ چونکہ دین میں مکمل طور پر داخل ہونا شیطان کے راستوں کی مخالفت کیے بغیر ممکن نہیں اور نہ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اور شیطان کے نقش قدم کی اتباع نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا ظاہر دشمن ہے۔‘‘ یعنی اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ وہ دشمن جس کی عداوت ظاہر ہو ہمیشہ تمھیں برائی، فواحش اور ایسے کاموں کا حکم دیتا ہے جو تمھارے لیے نقصان دہ ہوں۔ چونکہ بندے سے ہمیشہ کوتاہی اور لغزش واقع ہوتی رہتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[209]﴿ فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم پھسل جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم سے کوئی لغزش ہو جائے اور تم گناہ میں پڑ جاؤ ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡكُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’احکام روشن پہنچ جانے کے بعد‘‘ یعنی علم اور یقین حاصل ہو جانے کے بعد ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ اس آیت میں نہایت سخت وعید اور تخویف ہے جو لغزشوں کو ترک کرنے کی موجب ہے۔ کیونکہ جب نافرمان لوگ اس غالب اور حکمت والی ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نہایت قوت کے ساتھ ان کو پکڑتی ہے اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کو سزا دیتی ہے کیونکہ نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دینا اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔

Al-Baqara 2:209Listen in Qur'an →
210

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

نہیں انتظار کرتے وہ مگر یہ کہ آئے ان کے پاس اللہ سایوں میں بادلوں کے اور فرشتے (بھی) اور چکا دیا جائے معاملہ، اور اللہ ہی کی طرف لوٹا ئے جاتے ہیں سب کام (210)

[210] یہ بہت سخت وعید اور تہدید ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے، زمین میں فساد پھیلانے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو رد کرنے والے روز جزا کے منتظر ہیں جو ہولناکیوں، سختیوں اور خوفناک مناظر سے بھرپور ہو گا اور بڑے بڑے ظالموں کے دل دہلا دے گا۔ اور جس میں فساد برپا کرنے والوں کو ان کے اعمال کی بری جزا گھیر لے گی۔ یہ سب کچھ یوں ہو گا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹ دے گا، ستارے بکھر جائیں گے، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ مکرم فرشتے نازل ہوں گے اور تمام خلائق کو گھیرے میں لے لیں گے اور اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں نزول فرمائے گا، تاکہ وہ اپنے بندوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے۔ ترازو نصب کر دی جائیں گی، اعمال نامے کھول کر پھیلا دیے جائیں گے، سعادت مند لوگوں کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے اور بدبخت گناہ گاروں کے چہرے سیاہ اور تاریک ہوں گے۔ نیک لوگ بدکاروں سے علیحدہ ہو جائیں گے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ پس ظالم وہاں (افسوس کے طور پر) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا، جب اپنی آنکھوں سے روز جزا کی حقیقت کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات اہل سنت والجماعت کے مذہب کی حقانیت پر دلالت کرتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اختیاری، مثلاً استواء علی العرش ’’نزول‘‘ اور ’’آمد‘‘ جیسی صفات کا اثبات کرتی ہیں جن کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺنے خبر دی ہے۔ اہل سنت بغیر کسی تشبیہ، تعطیل اور تاویل و تحریف کے ان صفات کا ان کے ایسے معانی کے ساتھ اثبات کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کے لائق ہیں۔ اس کے برعکس اہل تعطیل کے مختلف گروہ، مثلاً جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ وغیرہ ان صفات کی نفی کرتے ہیں اور پھر اپنے مذہب کی تائید کے لیے ان آیات کریمہ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویلات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تبیین کو ناقص قرار دیتی ہیں۔ وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ اس بارے میں صرف ان کی تاویلات ہی کے ذریعے سے ہدایت حاصل ہو سکتی ہے۔ پس ان لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل بلکہ کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے۔ جہاں تک نقلی دلیل کی بات ہے تو ان لوگوں کو خود اعتراف ہے کہ قرآن اور سنت کے ظاہری الفاظ بلکہ واضح الفاظ اہل سنت کے مذہب پر دلالت کرتے ہیں۔ جب کہ یہ حضرات اپنے باطل مذہب کی تائید اوراس کو ثابت کرنے کے لیے ان نصوص کے ظاہری معنی سے باہر نکلنے اور ان میں کمی بیشی کرنے پر مجبور ہیں۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس چیز کو کوئی ایسا شخص پسند نہیں کر سکتا جس کے دل میں رتی بھر بھی ایمان ہے۔ رہی عقلی دلیل تو کوئی عقلی دلیل ایسی نہیں جو مذکورہ صفات الٰہی کی نفی پر دلالت کرے بلکہ عقل تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاعل، فعل پر قدرت نہ رکھنے والے سے زیادہ کامل ہوتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فعل، جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہو یا اس کی مخلوق سے متعلق، وہ ایک کمال ہی ہے۔ اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ ان صفات کا اثبات، مخلوق کے ساتھ تشبیہ پر دلالت کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ صفات پر بحث، ذات پر بحث کی تابع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوق کی ذات سے مشابہت نہیں رکھتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کے تابع ہیں اور مخلوق کی صفات ان کی ذات کے تابع ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات سے، کسی بھی پہلو سے مخلوق کی صفات کے ساتھ مشابہت لازم نہیں آتی۔ نیز اس شخص سے یہ بھی …

Al-Baqara 2:210Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.