Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 81–90 of 286

81

بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةًۭ وَأَحَٰطَتْ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

خلاصہ تفسیر :- خلود فی النار کا ضابطہ :- (بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ) کیوں نہیں (لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ) جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا (و قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور جو لوگ (اللہ و رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔- فائدہ : خطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قبل اگر کچھ نیک اعمال کئے بھی ہوں تو وہ بھی ضائع اور ضبط ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے کفار میں سر تا پا بدی ہی بدی ہوگی جس کی جزا ابدی جہنم ہوگی بخلاف اہل ایمان کے کہ اول تو ان کا ایمان خود بہت بڑا عمل صالح ہے دوسرے اعمال فرعیہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لئے وہ نیکی کے اثر سے خالی نہیں پس احاطہ مذکور ان کی حالت پر صادق نہیں آتا،- خلاصہ یہ ہوا کہ جب اس ضابطہ کی رو سے کافر کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوگیا تو چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خاتم الانبیاء نہیں ہیں آپ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نبی ہیں تو یہود ان کا انکار کرکے کافروں میں شامل ہوگئے اس لئے اس ضابطہ کی رو سے وہ بھی خالد فی النار ہوں گے تو ان کا دعویٰ مذکور دلیل قطعی سے باطل ٹھرا،

Al-Baqara 2:81Listen in Qur'an →
82

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

Explained together with ayah 81

Al-Baqara 2:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَانًۭا وَذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسْنًۭا وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب لیا ہم نے (تورات میں) قول وقرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا (کسی کی) بجز اللہ کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گذاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بےباپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے (جب کوئی) بات کہنا ہو تو اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا زکوٰۃ پھر تم (قول وقرار کرکے) اس سے پھرگئے بجز معدودے چند کے اور تمہاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کے ہٹ جانا،- فائدہ : یہ معدودے چند وہ لوگ ہیں جو تورات کے پورے پابند رہے تورات کے منسوخ ہونے سے قبل شریعت موسویہ کے پابند رہے جب تورات منسوخ ہوگئی تو شریعت محمدیہ کے متبع ہوگئے،- مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ احکام اسلام اور سابقہ شریعتوں میں مشترک ہیں جن میں توحید، والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کے ساتھ گفتگو میں نرمی وخوش خلقی کرنا اور نماز اور زکوٰۃ سب داخل ہیں،- تعلیم و تبلیغ میں سخت کلامی کافر سے بھی درست نہیں :- وَقُوْلُوْا للنَّاسِ سے مراد قولاً فاحسن ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں سے خطاب کرے تو بات نرم کرے خوش روئی اور کشادہ دلی سے کرے چاہے مخاطب نیک ہو یا بد سنی ہو یا بدعتی، ہاں دین کے معاملہ میں مداہنت اور اس کی خاطر سے حق پوشی نہ کرے وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو یہ ہدایت نامہ دیا کہ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا (٤٤: ٢٠) تو آج جو کلام کرنے والا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل نہیں اور مخاطب کتنا ہی برا ہو فرعون سے زیادہ برا خبیث نہیں،- طلحہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے امام تفسیر و حدیث عطاء سے کہا کہ پاس فاسد عقیدے والے لوگ بھی جمع رہتے ہیں مگر میرے مزاج میں تیزی ہے میرے پاس ایسے لوگ آتے ہیں تو میں ان کو سخت باتیں کہہ دیتا ہوں حضرت عطاء نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم ہے کہ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ ، اس میں تو یہودی و نصرانی بھی داخل ہیں مسلمان خواہ کیسا ہی ہو وہ کیوں نہ داخل ہوگا (قرطبی)

Al-Baqara 2:83Listen in Qur'an →
84

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَآءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کر لیا، اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

خلاصہ تفسیر :- اوپر جو عہد میثاق لیا گیا تھا اس آیت میں اس کا تتمہ بیان کیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم کو یہ قول وقرار (بھی) لیا کہ (خانہ جنگی کرکے) باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا پھر (ہمارے اس اقرار لینے پر) تم نے اقرار بھی کرلیا اور اقرار بھی (ضمنًا نہیں بلکہ) ایسا جیسے تم (اس پر) شہادت (بھی) دیتے ہو،- فائدہ : بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی تقریر سے کسی امر کا اقرار مترشح ہوتا ہے گو صاف اقرار نہیں ہوتا مگر عرفا اور عقلا اس کو اقرار ہی سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں تو ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ سے اس شبہ کو بھی رفع کردیا اور بتادیا کہ یہ اقرار اتنا صریح اور واضح تھا جیسے شہادت صاف اور واضح ہوا کرتی ہے ترک وطن کرانے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آزار پہنچا کر اتنا تنگ مت کرنا کہ بیچارہ ترک وطن پر مجبور ہوجائے،

Al-Baqara 2:84Listen in Qur'an →
85

ثُمَّ أَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًۭا مِّنكُم مِّن دِيَٰرِهِمْ تَظَٰهَرُونَ عَلَيْهِم بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَٰرَىٰ تُفَٰدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَٰبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍۢ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْىٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰٓ أَشَدِّ ٱلْعَذَابِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں

خلاصہ تفسیر :- تتمہ میثاق میں جو حکم ان کو دیا گیا ہے اس کے متعلق عہد شکنی کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے پھر (اس اقرار صریح کے بعد) تم (جیسے ہو) یہ (آنکھوں کے سامنے) موجود (ہی) ہو کہ باہم قتل و قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو، (اس طور پر کہ) ان اپنوں کے مقابلہ میں (ان کی مخالف قوموں کی) امداد کرتے ہو، گناہ اور ظلم کے ساتھ (سو ان دونوں حکموں کو تو یوں غارت کیا) اور (ایک تیسرا حکم جو سہل سا سمجھا اس پر عمل کرنے کو خوب تیار رہتے ہو کہ) اگر ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا تو ایسوں کو کچھ خرچ کرا کر رہا کرا دیتے ہو حالانکہ یہ بات (بھی معلوم) ہے کہ تم کو ان کا ترک وطن کرا دینا (اور قتل تو اور بھی بدرجہ اولیٰ ) نیز ممنوع ہے،- معارف و مسائل :- فائدہ : اس باب میں ان پر تین حکم لازم تھے اول قتل نہ کرنا، دوم اخراج یعنی ترک وطن نہ کرانا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو قید وبند میں گرفتار دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا تو ان لوگوں نے اول کے دو حکم کو تو چھوڑ دیا اور تیسرے حکم کو اہتمام کرنے لگے اور صورت اس کی یہ ہوئی تھی کہ اہل مدینہ میں دو قومیں تھیں : اوس و خزرج، اور ان میں باہم عداوت رہتی تھی اور کبھی کبھی قتال کی نوبت بھی آجاتی تھی اور مدینہ کے گرد ونواح میں یہودیوں کی دو قومیں بنی قریظہ اور بنی نضیر آباد تھیں اوس وبنی قریظہ کی باہم دوستی تھی اور خزرج و بنی نضیر میں باہم یارانہ تھا جب اوس و خزرج میں باہم لڑائی ہوتی تو دوستی کی بنا پر بنو قریظہ تو اوس کے مددگار ہوتے اور بنو نضیر خزرج کی طرفداری کرتے تو جہاں اوس و خزرج مارے جاتے اور خانماں آوارہ ہوتے ان کے دوستوں اور حامیوں کو بھی یہ مصیبت پیش آتی اور ظاہر ہے کہ بنو قریظہ کے قتل واخراج میں بنو نضیر کا بھی ہاتھ ہوتا اور ایسا ہی بالعکس البتہ یہود کی دونوں جماعتوں میں سے اگر کوئی جنگ میں قید ہوجاتا تو ہر جماعت اپنے دوستوں کو مال پر راضی کرکے اس قیدی کو رہائی دلا دیتے اور کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہو تو اس کو جواب دیتے کہ اسیر کر رہا کرا دینا ہم پر واجب ہے اور اگر کوئی قتل و قتال میں معین و مددگار بننے پر اعتراض کرتا تو کہتے کہ کیا کریں دوستوں کا ساتھ نہ دینے سے عار آتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکایت فرمائی ہے اور ان کی حیلہ سازیوں کا پردہ چاک فرمایا ہے ،- اس آیت میں جن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر ہے اس سے اوس و خزرج مراد ہیں کہ اوس بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے،- اثم وعدوان (ظلم وگناہ) دو لفظ لانے سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حکم الہی کی تعمیل نہ کرکے حق ضائع کیا اور دوسرے کو آزار پہنچا کر حق العباد بھی ضائع کردیا،- آگے اس عہد شکنی پر ملامت و شکایت کے ساتھ ساتھ سزا کو بھی بالتصریح بیان فرمایا ہے ارشاد ہے،- کیا تو (بس یوں کہو کہ) کتاب (تورات) کے بعض (احکام) پر تم ایمان رکھتے ہو اور بعض (احکام) پر ایمان نہیں رکھتے تو اور کیا سزا ہونا (چاہئے) ایسے شخص کی جو تم لوگوں میں سے ایسی حرکت کرے بجز رسوائی کے دنیوی زندگانی میں اور روز قیامت کو بڑے سخت عذاب میں ڈال دیئے جاویں گے اور اللہ تعالیٰ (کچھ) بیخبر نہیں ہیں تمہارے اعمال (زشت) سے،- فائدہ : ہرچند کہ وہ یہودی جن کا قصہ میں ذکر ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنے کی بناء پر کافر ہی تھے مگر یہاں ان کا کفر مذکور نہیں بلکہ بعض احکام پر عمل نہ کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ جب تک حرام کو حرام سمجھے کافر نہیں ہوتا سو اس شبہ کو جواب یہ ہے کہ جو گناہ بہت شدید ہوتا ہے اس پر محاورات شرعیہ میں اس کی شدت کے پیش نظر کفر کا اطلاق کردیا جاتا ہے ہم اپنے محاورات عرفیہ میں اس کی مثالیں دن رات …

Al-Baqara 2:85Listen in Qur'an →
86

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

خلاصہ تفسیر :- (اور وجہ سزا ان کے لئے یہ ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے (احکام کی مخالفت کرکے) دنیاوی زندگانی (کے مزوں) کو لے لیا ہے بعوض (نجات) آخرت کے (جس کا ذریعہ اطاعت ہے) سو نہ تو (سزا دینے والے کی طرف سے) ان کی سزا میں (کچھ) تخفیف دی جاوے گی اور نہ کوئی (وکیل مختار یا دوست رشتہ دار) ان کی طرفداری (پیروی) کرنے پاوے گا،

Al-Baqara 2:86Listen in Qur'an →
87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ بِٱلرُّسُلِ ۖ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًۭا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًۭا تَقْتُلُونَ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے (اے بنی اسرائیل تمہاری ہدایت کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے سب سے اول) موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (توراۃ) دی اور (پھر) ان کے بعد (درمیان میں) یکے بعد دیگرے (برابر مختلف) پیغمبروں کو بھیجتے رہے اور (پھر اس خاندان کے سلسلہ کے اخیر میں) ہم نے (حضرت) عیسیٰ بن مریم کو (نبوت کے) واضح دلائل (انجیل اور معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کو روح القدس ( جبرئیل علیہ السلام) سے جو تائید دی (سو الگ جو بجائے خود ایک دلیل واضح تھی تو) کیا (تعجب کی بات نہیں کہ اس پر بھی تم سرکشی کرتے رہے اور) جب کبھی بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسے احکام لائے جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا (جب ہی) تم نے (ان پیغمبروں کی اطاعت سے) تکبر کرنا شروع کردیا سو (ان پیغمبروں میں سے) بعضوں کو تو (نعوذباللہ) تم نے جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے،- فائدہ : قرآن و حدیث میں جابجا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو روح القدس کہا گیا ہے جیسے قرآن کی اس آیت میں نیز قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ (١٠٢: ١٦) میں اور حدیث میں حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر - وجبریل رسول اللہ فینا، وروح القدس لیس لہ کفاء - اور جبریل (علیہ السلام) کے واسطے سے عیسیٰ (علیہ السلام) کئی طریقوں سے تائید ہوئی اول تو ولادت کے وقت مس شیطان سے حفاظت کی گئی پھر ان کے دم کرنے سے حمل عیسوی قرار پایا پھر یہود چونکہ کثرت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف تھے اس لئے جبرئیل (علیہ السلام) حفاظت کے لئے ساتھ رہتے تھے حتٰی کے آخر میں ان کے ذریعہ سے آسمان پر اٹھوالئے گئے یہود نے بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی حتی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی اور حضرت زکریا و حضرت یحییٰ ٰ (علیہم السلام) کو قتل بھی کیا،

Al-Baqara 2:87Listen in Qur'an →
88

وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًۭا مَّا يُؤْمِنُونَ

اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

خلاصہ تفسیر :- اور وہ (یہودی طنزیہ طور پر) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب کا جو اسلام ہے اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے (کہ اسلام جو مذہب حق ہے اس سے نفور اور منسوخ مذہب پر مصر ہیں) سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے) - فائدہ : یہ تھوڑا سا ایمان ان امور کے بابت ہے جو ان کے مذہب اور اسلام میں مشترک ہیں مثلاً خدا کا قائل ہونا قیامت کا قائل ہونا کہ ان امور کے وہ بھی قائل تھے لیکن خود نبوت محمدیہ اور قرآن کے کلام الہی ہونے کے منکر تھے اس لئے پورا ایمان نہ تھا،- اور اس تھوڑے ایمان کو باعتبار لغت ایمان کہا جس کے معنی یقین کے ہیں گو وہ بعض اشیاء کے ساتھ ہی متعلق ہو شرعاً اس کو ایمان نہیں کہتے شرعاً وہ ایمان معتبر ہے جو کل امور وارد فی الشرع کے یقین کے ساتھ ہو،

Al-Baqara 2:88Listen in Qur'an →
89

وَلَمَّا جَآءَهُمْ كِتَٰبٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا۟ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُوا۟ كَفَرُوا۟ بِهِۦ ۚ فَلَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت

خلاصہ تفسیر :- اور جب ان کو (ایک) ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن مجید) جو منجانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے (جو پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ) حالانکہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے (اور) کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب انکار کریں) - فائدہ : قرآن کو جو مصدق توراۃ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ توراۃ میں بعثت محمدیہ اور نزول قرآن کی جو پیشینگوئیاں تھیں ان سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا سو توراۃ کا ماننے والا تو قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر ہی نہیں سکتا ورنہ توراۃ کی تکذیب لازم آئے گی، - ایک شبہ اور اس کا جواب :- اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب وہ حق کو حق جانتے تھے تو پھر ان کو مومن کہنا چائیے کافر کیسے کہا گیا ؟- تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے ورنہ یوں تو شیطان سب سے زیادہ حق کو حق جانتا ہے مگر جاننے کے باوجود انکار کرنے کی وجہ سے اور بھی کفر میں شدت بڑھ گئی اسی لئے اگلی آیت میں ان کے کفر کی وجہ ان کا عناد بتلایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ،

Al-Baqara 2:89Listen in Qur'an →
90

بِئْسَمَا ٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍۢ ۚ وَلِلْكَٰفِرِينَ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

خلاصہ تفسیر :- وہ حالت (بہت ہی) بری ہے جس کو اختیار کرکے (وہ بزعم خود) اپنی جانوں کو (عقوبت آخرت سے) چھڑانا چاہتے ہیں (اور وہ حالت) یہ (ہے) کہ کفر (انکار) کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے (ایک سچے پیغمبر پر) نازل فرمائی (یعنی قرآن اور وہ انکار بھی) محض (اس) ضد پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں) نازل فرما دے سو ( اس حسد بالائے کفر سے) وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور (آخرت میں) ان کفر کرنے والوں کو ایسی سزا ہوگی جس میں (تکلیف کے علاوہ) ذلت (بھی) ہے۔- فائدہ : ایک غضب کفر پر دوسرا حسد پر یوں غضب بالائے فرمایا عذاب کے ساتھ مہین کی قید سے بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے کیونکہ گناہگار مومن کو عذاب اس کو پاک کرنے کے لئے ہوگا ذلت کے لئے نہیں، آگے کی آیت میں جو ان کا قول نقل کیا ہے اس سے ان کا کفر ثابت ہوتا ہے اور حسد بھی مترشح ہوتا ہے ،

Al-Baqara 2:90Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.