Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 71–80 of 286

71

قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا ذَلُولٌۭ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌۭ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٰٔنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ

موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

Explained together with ayah 68

Al-Baqara 2:71Listen in Qur'an →
72

وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًۭا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌۭ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر (اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم (میں کے مجرم ومشتبہ لوگ) مخفی رکھنا چاہتے تھے، اس لئے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا) آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت) تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام کرو (اور ایک نظیر سے دوسری نظیر کے انکار سے باز آؤ) - فائدہ : جب اس مردہ کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام بتایا اور پھر فوراً ہی مرگیا،- اس جگہ صرف مقتول کا بیان اس لئے کافی سمجھا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مقتول سچ بولے گا ورنہ صرف مقتول کے بیان سے بغیر شرعی شہادت کے کسی پر قتل کا ثبوت کافی نہیں ہوتا،- یہاں یہ شبہ کرنا بھی درست نہیں کہ حق تعالیٰ کو تو مردہ زندہ کرنے کی ویسی ہی قدرت تھی یا مقتول کو زندہ کئے بغیر قاتل کا نام بتایا جاسکتا تھا پھر اس سامان کی کیا ضرورت تھی تو بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی فعل ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تو ہوتا نہیں بلکہ مصلحت اور حکمت کے لئے ہوتا ہے اور ہر واقعہ کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے نہ ہم اس کے مکلف ہیں کہ ہر واقعہ کی مصلحت معلوم کریں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر واقعہ کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے اس لئے اس کے پیچھے پڑ کر اپنی عمر عزیز ضائع کرنے کے بجائے بہتر طریقہ تسلیم و سکوت کا ہے،

Al-Baqara 2:72Listen in Qur'an →
73

فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

Explained together with ayah 72

Al-Baqara 2:73Listen in Qur'an →
74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِىَ كَٱلْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةًۭ ۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ ٱلْمَآءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں

خلاصہ تفسیر :- (گذشتہ واقعات سے متاثر نہ ہونے پر شکایت کے طور پر ارشاد ہوتا ہے) ایسے ایسے واقعات کے بعد (چاہئے تھا کہ تم لوگوں کے دل بالکل نرم اور حق تعالیٰ کی عظمت سے پر ہوجاتے لیکن) تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے تو (یوں کہنا چاہئے کہ) ان کی مثال پتھر کی سی ہے یا (یوں کہئے کہ وہ) سختی میں ان سے (بھی) زیادہ (ہیں) اور زیادہ سخت اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بعضے پتھر تو ایسے ہیں جن سے (بڑی بڑی) نہریں پھوٹ کر چلتی ہیں اور انہی پتھروں میں بعض ایسے ہیں کہ جو شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے (اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی) پانی نکل آتا ہے اور ان ہی پتھروں میں بعضے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک آتے ہیں (اور تمہارے قلوب میں کسی قسم کا اثر ہی نہیں ہوتا) اور (قساوت سے جو اعمال بد صادر ہوتے ہیں) حق تعالیٰ تمہارے (ان) اعمال سے بیخبر نہیں ہیں (بہت جلد تم کو سزا تک پہنچادیں گے) - فائدہ : اس جگہ پتھر کے تین اثرات بیان کئے گئے ہیں اول ان سے زیادہ پانی نکلنا دوم کم پانی نکلنا، ان دو میں تو کسی کو شبہ نہیں پڑتا، تیسری صورت یعنی خدا کے خوف سے پتھر کا نیچے آگرنا اس میں ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کیونکہ پتھر کو تو عقل کی ضرورت نہیں کیونکہ حیوانات لایعقل میں خوف کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے البتہ حس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جمادات میں اتنی حس بھی نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ حس حیات پر موقوف ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان میں ایسی لطیف حیات ہو جس کا ہم کو ادراک نہ ہوتا ہو جیسا جوہر دماغ کے احساس کا بہت سے عقلاء کو ادراک نہیں ہوتا، وہ محض دلائل سے اس کے قائل ہوتے ہیں تو دلائل طبیہ سے ظاہر نص قرآن کی دلالت اور قوت کسی طرح بھی کم نہیں، - پھر ہمارا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ ہمیشہ پتھر گرنے کی علت خوف ہی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بعض پتھر اس وجہ سے گرجاتے ہیں سو بہت ممکن ہے کہ گرنے کے اسباب مختلف ہوں ان میں سے بعض طبعی ہوں اور ایک سبب خوف خدا بھی ہو،- اس مقام پر تین قسم کے پتھروں کے ذکر میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود نہایت بلیغ انداز میں کیا گیا ہے یعنی بعض پتھروں میں تاثر اتنا قوی ہے جس سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جن سے مخلوق خدا فائدہ اٹھاتی ہے اور ان (یہودیوں) کے دل ایسے بھی نہیں (کہ مخلوق خدا کی تکلیف و مصیبت میں پگھل جائیں) اور بعض پتھروں میں ان سے کم تاثر ہوتا ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے تو یہ پتھر بہ نسبت اول کے کم نرم ہوئے اور ان کے قلوب ان درجہ دوم کے پتھروں سے بھی سخت ہیں، - اور بعض پتھروں میں گو اس درجہ کا اثر نہیں مگر پھر بھی ایک اثر تو ہے (کہ خوف خدا سے نیچے گرآتے ہیں) گو درجے میں پہلی قسموں سے یہ ضعیف تر ہیں مگر ان کے قلوب میں تو کم درجہ اور ضعیف ترین جذبہ انفعال بھی نہیں

Al-Baqara 2:74Listen in Qur'an →
75

۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں

خلاصہ تفسیر :- (مسلمان یہودیوں کو مومن بنانے کی جو کوشش کر رہے تھے اور اس میں کلفت اٹھاتے تھے تو یہود کے حالات و واقعات بتا اور سنا کر مسلمانوں کو امید کا انقطاع کرکے ان کی کلفت اس آیت کے ذریعہ فرماتے ہیں) - (اے مسلمانو ) کیا (یہ سارے قصے سن کر) اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے حالانکہ (ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہوچکی ہے کہ) ان میں کچھ لوگ ایسے گذرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے اور اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے (اور) اس کو سمجھنے کے بعد (ایسا کرتے) اور لطف یہ کہ یہ بھی) جانتے تھے (کہ ہم برا کر رہے ہیں محض اغراض نفسانیہ اس کاروائی کا باعث ہوتیں) - فائدہ : مطلب یہ کہ جو لوگ ایسے بیباک اور اغراض نفسانی کے اسیر ہوں اور کسی کے کہنے سننے سے کب باز آنے والے اور کسی کی کب سننے والے ہیں، - اور کلام اللہ سے مراد یا تو تورات ہے اور سماع سے مراد بواسطہ انبیاء (علیہم السلام) کے ہے اور تحریف سے مراد اس کے بعض کلمات یا تفاسیر یا دونوں بدل ڈالنا ہیں اور یا کلام سے مراد وہ کلام ہے جو ان ستر آدمیوں نے بطور تصدیق موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر سنا تھا، اور سماع سے مراد بلاواسطہ اور تحریف سے مراد قوم سے یہ نقل کردینا کہ اخیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو حکم تم سے ادا نہ ہوسکے وہ معاف ہے،- امور مذکورہ بالا میں سے کسی امر کا صدور گو ان یہودیوں سے نہ ہوا ہو جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے لیکن چونکہ یہ لوگ بھی اپنے اسلاف کے ان اعمال پر انکار ونفرت نہ رکھتے تھے اس لئے حکما یہ بھی ویسے ہی ہوئے،

Al-Baqara 2:75Listen in Qur'an →
76

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ قَالُوٓا۟ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

خلاصہ تفسیر :- اور جب ملتے ہیں (منافقین یہود) مسلمانوں سے تو (ان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں جاتے ہیں یہ بعضے (منافق یہودی) دوسرے بعضے (علانیہ) یہودیوں کے پاس (تو ان سے ان کو معیت و ہم مشربی کے مدعی ہوتے ہیں اس وقت) وہ (دوسرے یہودی) ان سے کہتے ہیں کہ تم (یہ) کیا (غضب کرتے ہو کہ) مسلمانوں کو (خوشامد میں) وہ باتیں بتلا دیتے ہو جو ( ان کے مفید مذہب) اللہ تعالیٰ نے (تورات میں) تم پر منکشف کردی ہیں (مگر ہم بمصلحت پوشیدہ رکھتے ہیں) نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کردیں گے کہ (دیکھو) یہ مضمون اللہ کے پاس (سے تمہاری کتاب میں آیا) ہے کیا تم (اتنی موٹی سی بات) نہیں سمجھتے،- فائدہ : منافقین کبھی ایک آدھ بات خوشامد میں اپنے ایمان کی سچائی جتلانے کے لئے مسلمانوں سے کہہ دیتے تھے کہ تورات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بشارت آئی ہے یا قرآن مجید کے متعلق خبر آئی ہے وغیرہ وغیرہ، اس پر دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے تھے۔

Al-Baqara 2:76Listen in Qur'an →
77

أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے

خلاصہ تفسیر :- کیا ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کو سب خبر ہے ان چیزوں کی بھی جن کو وہ مخفی رکھتے ہیں اور ان کی بھی جن کا وہ اظہار کرتے ہیں (تو اگر منافقین نے مؤمنین سے اپنا کفر چھپایا تو کیا اور ان ملامت گروں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت وغیرہ کے مضامین چھپائے تو کیا، اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مضامین سے مسلمانوں کو جابجا مطلع فرما دیا ہے) - اس آیت میں تو یہودیوں کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا آگے ان کے ناخواندہ لوگوں کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ، - اور ان (یہودیوں) میں بہت سے ناخواندہ (بھی) ہیں جو کتابی علم نہیں رکھتے لیکن (بلاسند) دل خوش کن باتیں (بہت یاد ہیں) اور وہ لوگ کچھ اور نہیں (ویسے ہی بےبنیاد) خیالات پکا لیتے ہیں ( اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تو ان کے علماء کی تعلیم ناقص اور مخلوط ہے اور پھر اوپر سے ان میں فہم کی کمی ہے ایسی صورت میں بجز بےبنیاد خیالات کے حقائق واقعیہ کی تحقیق کہاں نصیب ہوسکتی ہے بقول شخصے " کریلا اور نیم چڑھا " اس میں مٹھاس کہاں - اور چونکہ ان کی اس توہم پرستی میں ان کے علماء کی خیانت بڑا سبب ہے اس لئے جرم میں بھی وہ اپنے عوام سے زیادہ ہوئے اسی کا بیان اب یہاں کرتے ہیں، ) - جب عوام مذکورین قابل زجر وتوبیخ ہیں اور ان کا جہل کا اصلی سبب ان کے علماء ہی ہیں) تو بڑی خرابی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں (بدل سدل کر) کتاب (تورات) کو اپنے ہاتھوں سے (اور) پھر (عوام سے) کہہ دیتے ہیں کہ یہ (حکم) خدا کی طرف سے (یوں ہی آیا ہے اور غرض (صرف) یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے قلیل وصول کرلیں سو بڑی خرابی (پیش) آوے گی ان کی اس (تحریف کتاب) کی بدولت (بھی) جس کو ان کے ہاتھوں نے لکھا تھا اور بڑی خرابی ہوگی ان کو اس (نقد) کی بدولت بھی جس کو وہ وصول کرلیا کرتے تھے،- فائدہ : عوام کی رضا جوئی کے لئے غلط سلط مسئلے دینے سے ان کو کچھ نقد وغیرہ بھی وصول ہوجاتا تھا اور ان کی نظر میں وقعت اور وقار بھی رہتا تھا اسی غرض سے تورات میں لفظی اور معنوی پھیر پھار بھی کرتے رہتے تھے اس آیت میں اسی پر وعید سنائی گئی ،

Al-Baqara 2:77Listen in Qur'an →
78

وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّآ أَمَانِىَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

Explained together with ayah 77

Al-Baqara 2:78Listen in Qur'an →
79

فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ ٱلْكِتَٰبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشْتَرُوا۟ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۖ فَوَيْلٌۭ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌۭ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں

Explained together with ayah 77

Al-Baqara 2:79Listen in Qur'an →
80

وَقَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًۭا مَّعْدُودَةًۭ ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ ٱللَّهِ عَهْدًۭا فَلَن يُخْلِفَ ٱللَّهُ عَهْدَهُۥٓ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

خلاصہ تفسیر :- اور یہودیوں نے (یہ بھی) کہا کہ ہرگز ہم کو آتش (دوزخ) چھوئے گی (بھی تو) نہیں (ہاں) مگر (بہت) تھوڑے روز جو (انگلیوں پر) شمار کرلئے جاسکیں (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے یوں فرما دیجئے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے (اس کے متعلق) کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کریں گے یا (معاہدہ نہیں لیا) بلکہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا رہے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے،- فائدہ : یہود کے اس قول کی مفسرین نے مختلف تقریریں کی ہیں منجملہ اس کے یہ کہ یہ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو بقدر گناہ دوزخ کے عذاب میں داخل ہو لیکن ایمان کی وجہ سے دائمی عذاب جہنم نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجائے گی، - پس یہود کے دعوے کا حاصل یہ تھا کہ چونکہ ان بزعم دین موسوی منسوخ نہیں ہے لہذا وہ مومن ہیں انکار نبوت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وجناب حضور مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کافر نہیں ہوئے پس اگر کسی عصیان کے سبب دوزخ میں چلے بھی گئے پھر نکال لئے جائیں گے اور چونکہ یہ دعویٰ بناء الفاسد علی الفاسد ہے کیونکہ دین موسوی کی ابدیت کا دعویٰ خود غلط ہے لہذا انکار نبوت مسیحیہ ومحمدیہ کے سبب وہ لوگ کافر ہوں گے اور کفار کے لئے بعد چندے دوزخ سے نجات پاجانا کسی بھی آسمانی کتاب میں نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے عہد سے تعبیر فرمایا پس ثابت ہوا کہ دعویٰ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل ہے،

Al-Baqara 2:80Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.