Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 286

21

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

خلاصہ تفسیر :- اے لوگو عبادت اختیار کرو اپنے پروردگار کی جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں عجب نہیں کہ تم دوزخ سے بچ جاؤ (شاہی محاورہ میں عجب نہیں کا لفظ وعدہ کے موقع پر بولا جاتا ہے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر (پردہ عدم سے) نکالا بذریعہ اس پانی کے پھلوں سے غذا کو تم لوگوں کے واسطے اب ٹھراؤ اللہ پاک کے مقابل اور تم تو جانتے بوجھتے ہو، (یعنی یہ جانتے ہو کہ یہ تمام تصرّفات خدا تعالیٰ کے سوا کوئی کرنے والا نہیں پھر خدا کے مقابلہ میں دوسری چیزوں کو معبود بنانا کیسے درست ہوسکتا ہے) - معارف و مسائل :- ربط آیات :- سورة بقرہ کی دوسری آیت میں اس دعاء و درخواست کا جواب تھا جو سورة فاتحہ میں آئی ہے یعنی اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ جو صراط مستقیم تم طلب کرتے ہو وہ اس کتاب میں ہے کیونکہ قرآن کریم اول سے آخر تک صراط مستقیم ہی تشریح ہے،- اس کے بعد قرآنی ہدایات کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے اعتبار سے انسان کے تین گروہوں کو بیان کیا گیا پہلی تین آیات میں مؤمنین متقین کا ذکر ہوا جنہوں نے ہدایات قرآنی کو اپنا نصب العین بنا لیا بعد کی دو آیتوں میں اس گروہ کا ذکر کیا جس نے کھلے طور پر اس ہدایت کی مخالفت کی اس کے بعد تیرہ آیتوں میں اس خطرناک گروہ کے حالات بیان کئے گئے جو حقیقت میں تو قرآنی ہدایات کے مخالف تھے مگر دنیا کی ذلیل اغراض یا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے خیال سے اپنے کفر و مخالفت کو چھپا کر مسلمانوں میں شامل رہتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے،- اسی طرح سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں ہدایت کے قبول کرنے اور نہ کرنے کے معیار پر کل انسانوں کو تین گروہوں میں بانٹ دیا گیا جس میں اس طرف بھی اشارہ پایا گیا کہ انسانوں کی گروہی اور قومی تقسیم نسب اور وطن یا زبان اور رنگ کی بنیادوں پر معقول نہیں بلکہ اس کی صحیح تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی ہدایات کو ماننے والے ایک قوم اور نہ ماننے والے دوسری قوم جن کو سورة مجادلہ میں حزب اللہ اور حزب الشیطان کا نام دیا گیا ،- غرض سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں قرآنی ہدایات کو ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر انسان کو تین گروہوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کا کچھ حال بیان فرمایا گیا،- اس کے بعد مذکورہ اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں تینوں گروہوں کو خطاب کرکے وہ دعوت پیش کی گئی ہے جس کے لئے قرآن نازل ہوا اس میں مخلوق پرستی سے باز آنے اور ایک خدا کی عبادت کرنے کی طرف دعوت ایسے انداز سے دی گئی ہے کہ اس میں دعویٰ کے ساتھ اس کے واضح دلائل بھی موجود ہیں جن میں ادنٰی سمجھ بوجھ والا انسان بھی ذرا سا غور کرے تو توحید کے اقرار پر مجبور ہوجائے،- پہلی آیت میں يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ سے خطاب شروع ہوا لفظ النَّاس عربی زبان میں مطلق انسان کے معنی میں آتا ہے اس لئے مذکورہ تینوں گروہ اسمیں داخل ہیں جن کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ عبادت کے معنی ہیں اپنی پوری طاقت مکمل فرمانبرداری میں صرف کرنا اور خوف و عظمت کے پیش نظر نافرمانی سے دور رہنا (روح البیان ص ٧٤ ج ١) اور لفظ رَبّ کے معنی پروردگار کے ہیں جس کی پوری تشریح پہلے گذر چکی ہے، ترجمہ یہ ہوا کہ عبادت کرو اپنے رب کی،- یہاں پر لفظ رب کی جگہ لفظ اللہ یا اسما حسنیٰ میں سے کوئی اور نام بھی لایا جاسکتا تھا مگر ان میں سے اس جگہ لفظ رب کا انتخاب کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس مختصر سے جملے میں دعوے کے ساتھ دلیل بھی آگئی کیونکہ عبادت کی مستحق صرف وہ ذات ہوسکتی ہے جو انسان کی پرورش کی کفیل ہو جو اس کو ایک قطرہ سے تدریجی تربیت کے ساتھ ایک بھلا چنگا، سمیع وبصیر، عقل و ادراک والا ماہر انسان بنا دے اور اس کی بقا وارتقاء کے وسائل مہیا کرے اور یہ ظاہر ہے …

Al-Baqara 2:21Listen in Qur'an →
22

ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ فِرَٰشًۭا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءًۭ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو

کائنات زمین و آسمان میں قدرت حق کے مظاہر :- پھر دوسری آیت میں رب کی دوسری صفات کا بیان اس طرح فرمایا گیا ہے : الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ یعنی رب وہ ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر اس پانی کے ذریعہ پردہ عدم سے نکالی پھلوں کی غذا تمہارے لئے،- پہلی نعمت : - اس سے پہلی آیت میں ان انعامات کا ذکر تھا جو انسان کی ذات سے متعلق ہیں اور اس آیت میں آیت میں ان انعامات کا ذکر ہے جو انسان کے گرد وپیش کی چیزوں سے متعلق ہیں یعنی پہلی آیت میں انفسی اور دوسری میں آفاقی نعمتوں کا ذکر فرما کر تمام اقسام نعمت کا احاطہ فرمایا گیا۔- ان آفاقی نعمتوں میں سے زمین کی پیدائش کا ذکر ہے کہ اس کو انسان کے لئے فرش بنادیا نہ پانی کی طرح نرم ہے جس پر قرار نہ ہو سکے اور نہ لوہے پتھر کی طرح سخت ہے کہ ہم اسے اپنی ضرورت کے مطابق آسانی سے استعمال نہ کرسکیں بلکہ نرمی اور سختی کے درمیان ایسا بنایا گیا جو عام انسانی ضروریات زندگی میں کام دے سکے۔- فراش کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین گول نہ ہو کیونکہ زمین کا یہ عظیم الشان کرہ گول ہونے کے باوجود دیکھنے میں ایک سطح نظر آتا ہے اور قرآن کا عام طرز یہی ہے کہ ہر چیز کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جس کو ہر دیکھنے والا عالم، جاہل، شہری، دیہاتی سمجھ سکے،- دوسری نعمت یہ ہے کہ آسمان کو ایک مزیّن اور نظر فریب چھت بنادیا تیسری نعمت یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسایا پانی آسمان سے برسانے کے لئے ضروری نہیں کہ بادل کا واسطہ درمیان میں نہ ہو بلکہ محاورات میں ہر اوپر سے آنے والی چیز کو آسمان سے آنا بولتے ہیں۔- خود قرآن کریم نے متعدد مقامات میں بادلوں سے پانی برسانے کا ذکر فرمایا ہے مثلاً ارشاد ہے ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (واقعہ : ٦٩) کیا بارش کا پانی سفید بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم اس کے اتارنے والے ہیں،- دوسری جگہ ارشاد ہے،- وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا (نباء : ١٤) ہم نے اتارا پانی بھرے ہوئے بادلوں سے پانی کا ریلا۔- پروردگار عالم کی چار مذکورہ صفات میں سے پہلی تین باتیں تو ایسی ہیں کہ ان میں انسان کی سعی وعمل تو کیا خود اس کے وجود کو بھی دخل نہیں بیچارے انسان کا نام ونشان بھی نہ تھا جب زمین اور آسمان پیدا ہوچکے تھے اور بادل اور بارش اپنا کام کررہے تھے ان کے متعلق تو کسی بیوقوف جاہل کو بھی یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام سوائے حق جل شانہ کے کسی انسان یا بت یا کسی اور مخلوق نے کئے ہوں گے، ہاں زمین سے پھل اور پھلوں سے انسانی غذا نکالنے میں کسی سادہ لوح اور سطحی نظر رکھنے والے کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ انسانی سعی وعمل اور اس کی دانشمندانہ تدبیروں کا نتیجہ ہیں کہ وہ زمین کو نرم کرنے اور کمانے میں پھر بیج ڈالنے اور جمانے میں پھر اس کی تربیت اور حفاظت میں اپنی محنت خرچ کرنا ہے لیکن قرآن کریم نے دوسری آیات میں اس کو بھی صاف کردیا کہ انسان کی سعی اور محنت کو درخت اگانے یا پھل نکالنے میں قطعاً کوئی دخل نہیں بلکہ اس کی ساری تدبیروں اور محنتوں کا حاصل رکاوٹوں کو دور کرنے سے زیادہ کچھ نہیں یعنی انسان کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ پیدا ہونے والے درخت کی راہ سے رکاوٹیں دور کرے اور بس۔- غور کیجئے کہ زمین کا کھودنا، اس میں ہل چلانا، اس میں سے جھاڑ جھنکاڑ کو دور کرنا، اس میں کھاد ڈال کر زمین کو نرم کرنا جو کاشتکاروں کا ابتدائی کام ہے اس کا حاصل اس کے سوا کیا ہے کہ بیج یا گٹھلی کے اندر سے جو نازک کونپل قدرت خداوندی سے نکلے گی زمین کی سختی یا کوئی جھاڑ جھنکاڑ اس کی راہ میں حائل نہ ہوجائیں بیچ میں سے کونپل نکالنے اور اس میں …

Al-Baqara 2:22Listen in Qur'an →
23

وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍۢ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

رسالت محمدی کا اثبات :

بذریعہ اعجاز قرآن :

وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 23؀ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ

خلاصہ تفسیر :

اگر تم لوگ کچھ خلجان میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندے خاص پر تو پھر تم بنا لاؤ ایک محدود ٹکڑا جو اور اس کا ہم پلہ ہو (کیونکہ تم بھی عربی زبان جانتے ہو اور اس کی نظم ونثر کے مشاق ہو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی کوئی مشق بھی نہیں کی، اور جب اس کے باوجود تم قرآن کے ایک ٹکڑے کی بھی مثل نہ بنا سکو تو بشرط انصاف بےتامل ثابت ہوجاوے گا کہ یہ معجزہ منجانب اللہ ہے اور آپ اللہ کے پیغمبر ہیں) اور بلالو اپنے حمائیتیوں کو (جو) خدا سے الگ (الگ تجویز کر رکھے ہیں) اگر تم سچے ہو پھر اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور قیامت تک بھی نہ کرسکو گے تو پھر ذرا بچتے ہوئے دوزخ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہوئی ہے کافروں کے واسطے،

معارف و مسائل ؛

ربط آیات و خلاصہ مضمون :

یہ سورة بقرہ کی تیئیسویں اور چوبیسویں آیتیں ہیں اس سے پہلی دوآیتوں میں توحید کا ثبوت تھا ان دونوں آیتوں میں رسالت محمدی کا اثبات ہے (علیہ الصلوٰم والسلام) وہ ہدایت جو قرآن لے کر آیا ہے اس کے دو عمود ہیں، توحید اور رسالت، پہلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے چند مخصوص کام ذکر کے توحید ثابت فرمائی گئی ہے اور طریق اثبات دونوں کا ایک ہی ہے کہ پہلی دو آیتوں میں چند ایسے کام مذکور تھے جو سوائے حق تعالیٰ کے کوئی نہیں کرسکتا مثلا زمین اور آسمان کا پیدا کرنا، آسمان سے پانی اتارنا، پانی سے پھل پھول پیدا کرنا،

اور خلاصہ استدلال یہ تھا کہ جب یہ کام اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا اور ان دونوں آیتوں میں ایک ایسا کلام پیش کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا نہیں ہوسکتا، اور نہ کوئی انسانی فرد یا جماعت اس کی مثال ونظیر لاسکتی ہے جس طرح زمین و آسمان کی بناوٹ، پانی برسانے اور اس سے پھل پھول نکالنے سے انسانی طاقت پیش کانے سے پوری مخلوق کا عاجز رہنا اس کی دلیل ہے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہے کسی مخلوق کا نہیں اس آیت میں قرآن نے پوری دنیا کے انسانوں کو خطاب کرکے چیلنج دیا ہے کہ اگر تم اس کلام کو اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام سمجھتے ہو تو تم بھی انسان ہو تمہیں بھی ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہونا چاہئے پورا کلام تو کیا تم اس کلام کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی نظیر و مثال بنا کر دکھلا دو اور اس پر تمہارے لئے یہ مزید آسانی دی جاتی ہے کہ تنہا کوئی آدمی نہ بنا سکے تو تمہیں اختیار ہے سارے جہان سے اپنے حمایتی اور مددگار جمع کرلو اور ایک بین العالمی کانفرنس کر کے اس قرآن کی چھوٹی سی سورت کی مثال بنا لاؤ،

پھر اسی پر بس نہیں کیا دوسری آیت میں ان کو غیرت دلائی کہ تمہاری مجال نہیں کہ اس جیسی ایک سورت بناسکو، پھر عذاب سے ڈرایا کہ جب تم اس کلام کی مثال بنانے سے اپنا عجز محسوس کرتے ہو، اور یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ انسان کا کلام نہیں بلکہ ایسی ہستی کا کلام ہے جو تمام مخلوق سے مافوق اور بلند وبالا ہے جس کی قدرت کاملہ سب پر حاوی ہے تو پھر اس پر ایمان نہ لانا اپنے ہاتھوں جہنم میں اپنا ٹھکانہ کرنا ہے اس سے بچو۔

حاصل یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں قرآن کریم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلیٰ معجزہ بتلا کر آپ کی رسالت اور سچائی کا ثبوت پیش کیا گیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات …

Al-Baqara 2:23Listen in Qur'an →
24

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ وَلَن تَفْعَلُوا۟ فَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ

لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ - اگر تم اس کی مثال نہ لاسکے اور ہرگز نہ لاسکو گے تو پھر اس جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے .

Al-Baqara 2:24Listen in Qur'an →
25

وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا۟ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍۢ رِّزْقًۭا ۙ قَالُوا۟ هَٰذَا ٱلَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا۟ بِهِۦ مُتَشَٰبِهًۭا ۖ وَلَهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

خلاصہ تفسیر :- اور خوش خبری سنا دیجئے آپ ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور کام کئے اچھے اس بات کی کہ بیشک ان کے واسطے بہشتیں ہیں کہ چلتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں جب کبھی دیئے جاویں گے وہ لوگ ان بہشتوں میں سے کسی پھل کی غذا تو ہر بار میں یہی کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہم کو ملا تھا اس سے پہلے اور ملے گا بھی ان کو دونوں بار کا پھل ملتا جلتا اور ان کے واسطے ان بہشتوں میں بیبیاں ہوں گی صاف پاک کی ہوئی اور وہ لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ کو بسنے والے ہوں گے (ہر بار میں ملتا جلتا پھل ملنا لطف کے واسطے ہوگا کہ دونوں مرتبہ پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہوگا جس سے حظ و سرور بڑھے گا) ،- ربط آیات :- اس سے پہلی آیت میں قرآن کریم کو نہ ماننے والوں کے عذاب کا بیان تھا اس آیت میں ماننے والوں کے لئے بشارت اور خوشخبری مذکور ہے جس میں جنت کے عجیب و غریب پھلوں کا اور حوران جنت کا ذکر ہے :- معارف و مسائل :- اہل جنت کو مختلف پھل ایک ہی شکل و صورت میں پیش کرنے سے مقصد بھی ایک تفریح اور لطف کا سامان بنانا ہوگا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ پھلوں کے متشابہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جنت کے پھل صورت شکل میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں گے جب اہل جنت کو ملیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو دنیا میں ہمیں ملا کرتے تھے مگر ذائقہ اور لذت میں دنیا کے پھلوں سے ان کو کوئی نسبت نہ ہوگی صرف نام کا اشتراک ہوگا،- جنت میں ان لوگوں کو پاک صاف بیبیاں ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی تمام ظاہری اور اخلاقی گندگیوں سے پاک ہوں گی بول وبراز حیض ونفاس اور ہر ایسی چیز سے پاک ہوں گی جن سے انسان کو نفرت ہوتی ہے اسی طرح کج خلقی بیوفائی معنوی عیوب سے بھی پاک ہوں گی، - آخر میں فرمایا کہ پھر جنت کی نعمتوں کو دنیا کی آنی فانی نعمتوں کی طرح نہ سمجھو جن کے فنا ہوجانے یا سلب ہوجانے کا ہر وقت خطرہ لگا رہتا ہے بلکہ یہ لوگ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ خوش وخرم رہیں گے،- یہاں مومنین کو جنت کی بشارت دینے کے لئے ایمان کے ساتھ عمل صالح کی بھی قید لگائی ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح کے انسان کو اس بشارت کا مستحق نہیں بناتا اگرچہ صرف ایمان بھی جہنم میں خلود اور دوام سے بچانے کا سبب ہے اور مومن کتنا بھی گنہگار ہو کسی نہ کسی وقت میں وہ جہنم سے نکالا جائے گا اور جنت میں پہنچنے گا مگر عذاب جہنم سے بالکل نجات کا بغیر عمل صالح کے کوئی مستحق نہیں ہوتا (روح البیان، قرطبی)

Al-Baqara 2:25Listen in Qur'an →
26

۞ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًۭا مَّا بَعُوضَةًۭ فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًۭا ۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًۭا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًۭا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَٰسِقِينَ

الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو

خلاصہ تفسیر :- (بعض مخالفین نے قرآن کے کلام الہی ہونے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں بہت ہی حقیر و ذلیل چیزوں کا ذکر تمثیلات میں کیا گیا ہے جیسے مچھر مکھی وغیرہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو ایسی حقیر چیزوں کا ذکر اس میں نہ ہوتا اس کا جواب دیا گیا کہ) ہاں واقعی اللہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے کہ بیان کردیں کوئی مثال بھی خواہ مچھر ہو خواہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہو (یعنی حقیر ہونے میں مچھر سے بھی بڑھی ہوئی ہو) سو جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں (خواہ کچھ ہی ہو) وہ تو یہ یقین کریں گے کہ بیشک یہ مثال بہت ہی موقع کی ہے ان کے رب کی جانب سے اور رہ گئے وہ لوگ جو کافر ہوچکے ہیں (سو چاہے کچھ ہی ہوجائے) وہ یوں ہی کہتے رہیں گے کہ وہ کونسا مطلب ہوگا جس کا قصد کیا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس حقیر مثال سے گمراہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس مثال کی وجہ سے بہتوں کو اور ہدایت کرتے ہیں اس کی وجہ سے بہتوں کو اور گمراہ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ اس مثال سے کسی کو مگر صرف نافرمانی کرنے والوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدہ کو جو اللہ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد (یعنی عہد ازل جس میں سب کی ارواح نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا تھا) اور قطع کرتے رہتے ہیں ان تعلقات کو کہ حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو جوڑنے کا (اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہیں خواہ وہ تعلقات ہوں جو بندہ اور خدا کے درمیان ہیں یا وہ جو اس کے اور اقرباء اور رشتہ داروں کے درمیان ہیں اور عام اہل اسلام کے درمیان ہیں اور جو عام انسانوں کے درمیان ہیں) اور فساد کرتے رہتے ہیں زمین میں (کفر و شرک خود بھی فساد ہے اور دوسروں پر ظلم اور ناحق شناسی جو کفر کے لوازم میں سے ہے وہ بھی اس فساد میں شامل ہے) بس یہ لوگ ہیں پورے خسارہ میں پڑنے والے (کہ دنیا کی راحت اور آخرت کی نعمت سب ہاتھ سے دے بیٹھے کیونکہ حاسد کی دنیوی زندگی بھی ہمیشہ تلخ ہی رہتی ہے) - معارف و مسائل :- ربط آیات :- چند آیات پہلے قرآن کریم کا یہ دعویٰ مذکور ہے کہ قرآن کریم میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اور اگر کسی کو کوئی شک اس کے کلام الہی ہونے میں ہو تو وہ اس کی چھوٹی سی سورت کی مثل بنا کر دکھلا دے ان آیات میں منکرین قرآن کا ایک شبہ ذکر کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے شبہ یہ تھا کہ قرآن کریم میں مکھی اور مچھر جیسے حقیر جانوروں کا ذکر آیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو اس میں ایسی حقیر گھناؤ نی چیزوں کا ذکر نہ ہوتا کیونکہ بڑے لوگ ایسی چیزوں کے ذکر سے شرم وحیاء محسوس کرتے ہیں، - جواب یہ دیا گیا کہ جب کسی حقیر و ذلیل چیز کی مثال دینی ہو تو کسی ایسی ہی حقیر چیز سے مثال دینا مقتضائے عقل و بلاغت ہے، اس غرض کے لئے کسی حقیر گھناؤ نی چیز کا ذکر شرم وحیاء کے قطعاً منافی نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ایسی چیزوں کے ذکر سے نہیں شرماتے اور یہ بھی بتلادیا کہ ایسے احمقانہ شبہات صرف ان لوگوں کو پیدا ہوا کرتے ہیں جن کے قلوب اور دماغوں سے ان کے کفر کی وجہ سے سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی ہو ایمان والوں کو کبھی ایسے شبہات دامن گیر نہیں ہوتے،- اس کے بعد اس کی ایک اور حکمت بھی بتلادی کہ ایسی مثالوں سے لوگوں کا ایک امتحان بھی ہوتا ہے نظر وفکر کرنے والوں کے لئے یہ مثالیں ہدایت کا سامان پیدا کرتی ہیں اور بےپروائی برتنے والوں کے لئے اور زیادہ گمراہی کا سبب بنتی ہیں اس کے بعد یہ بھی بتلا دیا کہ قرآن کریم کی ان مثالوں سے صرف ایسے سرکش لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں اور جن تعلقات وروابط کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہ لوگ ان کو توڑتے ہیں جس کا نتیجہ زمین میں فساد پھیلانا ہوتا ہے ،- بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا اس لفظ کے معنی یہ ہیں کہ مچھر ہو یا اس سے بھی زیادہ اس جگہ زیادہ سے مراد یہ ہے کہ حقارت میں …

Al-Baqara 2:26Listen in Qur'an →
27

ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ سے ثابت ہوا کہ عہد و معاہدہ کی خلاف ورزی شدید گناہ ہے، جس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمام نیکیوں سے محروم ہوجائے۔- تعلقات کے حقوق شرعیہ ادا کرنا واجب ہے اس کے خلاف کرنا گناہ عظیم :- وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ سے معلوم ہوا کہ جن تعلقات کو قائم رکھنے کا شریعت اسلام نے حکم دیا ہے ان کا قائم رکھنا ضروری اور قطع کرنا حرام ہے، غور کیا جائے تو دین و مذہب نام ہی ان حدود وقیود کا ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایئگی کے لئے مقرر کی گئی ہیں، اور اس عالم کا صلاح و فساد انہیں تعلقات کو درست رکھنے یا توڑنے پر موقوف ہے، اسی لئے ان تعلقات کے قطع کرنے کو يُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ کے الفاظ میں وجہ فساد عالم بتلایا ہے۔- اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ میں خسارہ والا صرف اسی شخص کو قرار دیا ہے جو مذکورہ احکام کی خلاف ورزی کرے، اس میں اشارہ ہے کہ اصل خسارہ اور نقصان آخرت ہی کا ہے، دنیا کا خسارہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں۔

Al-Baqara 2:27Listen in Qur'an →
28

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَٰتًۭا فَأَحْيَٰكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

خلاصہ تفسیر :- بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ ( اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ) تھے تم بےجان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے) سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے (یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب (یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو فائدہ نہ پہونچتا ہو اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کا ہر استعمال حلال ہو جیسے سمیات قاتلہ بھی فائدہ انسان سے خالی نہیں مگر ان کا کھا لینا عقلاء کے نزدیک ممنوع) پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف (یعنی اس کی تخلیق و تکمیل کی طرف) تو درست کرکے بنا دئیے ان کو سات آسمان اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں،- معارف و مسائل :- ربط آیات :- پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے وجود، توحید اور رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے - خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا مذکورہ دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے کیسے یہ ظالم کفر و انکار میں مبتلا ہیں جس میں اس پر تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تو کم ازکم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم و اطاعت پر آجاؤ، - پہلی آیت میں ان مخصوص نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر انسان کی ذات اور نفس کے اندر موجود ہیں کہ پہلے وہ بےجان ذرات کی صورت میں تھا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے زندگی پیدا فرمائی، دوسری آیت میں ان عام نعمتوں کا ذکر ہے جن سے انسان اور تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ انسان کی زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہیں ان میں پہلے زمین اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا گیا جس سے انسان کا قریبی تعلق ہے پھر آسمانوں کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ زمین کی حیات اور پیداوار وابستہ ہے،- كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ (کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو) ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر خدا کا انکار نہیں کیا مگر رسول خدا کے انکار کو خدا ہی کا انکار قرار دے کر ایسا خطاب کیا گیا ہے، - كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم اموات، میت کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی اصل حقیقت پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود کی ابتداء وہ بیجان ذرات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا، پھر ان میں جان ڈالی ان کو زندہ انسان بنادیا یہ اس کی ابتداء پیدائش کا ذکر ہے،- ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی قیامت کے روز ہوگی،- پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا فَاَحْيَاكُم اور چونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا اس لئے وہاں لفظ ثُمَّ اختیار کیا گیا ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کیونکہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے ،- ثُمَّ …

Al-Baqara 2:28Listen in Qur'an →
29

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍۢ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

(آیت) ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب یہ اس نعمت عامہ کا ذکر ہے جس میں تمام انسان بلکہ حیوانات وغیرہ بھی شریک ہیں اور لفظ میں ان تمام نعمتوں کا اجمال آگیا جو دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہوئیں یا ہوسکتی ہیں کیونکہ انسان کی غذا، لباس، مکان، اور دوا اور راحت کے کل سامان زمین ہی کی پیدوار ہیں، - ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے کے ہیں مراد یہ ہے کہ زمین کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد راست فرمایا جس میں کوئی حائل اور مانع نہ ہوسکے یہاں تک کہ سات آسمانوں کی تخلیق مکمل فرمادی اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اس لئے تخلیق کائنات اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں، - دنیا کی ہر چیز نفع بخش ہے کوئی شے بیکار نہیں :- اس آیت میں زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے پیدا فرمانے کا بیان ہوا ہے، اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو کسی نہ کسی حیثیت سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فائدہ نہ پہونچتا ہو خواہ یہ فائدہ دنیا میں استعمال کرنے کا ہو یا آخرت کے لئے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ انسان کو ان سے فائدہ پہونچتا ہے مگر اس کو خبر بھی نہیں ہوتی یہاں تک کہ جو چیزیں انسان کے لئے مضر سمجھی جاتی ہیں جیسے زہریلی اشیاء زہریلے جانور وغیرہ غور کریں تو وہ کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کے لئے نفع بخش بھی ہوتی ہیں جو چیزیں انسان کے لئے ایک طرح سے حرام ہیں دوسری کسی طرح اور حیثیت سے ان کا نفع بھی انسان کو پہنچتا ہے،- نہیں ہے چیز نکمّی کوئی زمانے میں۔۔ کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں - عارف باللہ ابن عطاء نے اس آیت کے تحت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو تمہارے واسطے پیدا فرمایا کہ ساری کائنات تمہاری ہو اور تم اللہ کے لئے ہو اس لئے عقل مند کا کام یہ ہے کہ جو چیز اسی کے لئے پیداہوئی ہے وہ اس کو ملے گی اس کی فکر میں لگ کر اس ذات سے غافل نہ ہو جس کے لئے یہ پیدا ہوا ہے (بحرمحیط) - اشیاء عالم میں اصل اباحت ہے یا حرمت :- اس آیت سے بعض علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ انسان کے لئے حلال ومباح ہوں کیونکہ وہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہیں بجز ان چیزوں کے جن کو شریعت نے حرام قرار دے دیا اس لئے جب تک کسی چیز کی حرمت قرآن وسنت سے ثابت نہ ہو اس کو حلال سمجھا جائے گا،- اس کے بالمقابل بعض علماء نے یہ قرار دیا کہ انسان کے فائدے کے لئے کسی چیز کے پیدا ہونے سے اس کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے اصل اشیاء میں حرمت ہے جب تک قرآن وسنت کی کسی دلیل سے جواز ثابت نہ ہو ہر چیز حرام سمجھی جائے گی، - بعض حضرات نے توقف فرمایا :- تفسیر بحر محیط میں ابن حیان نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اقوال مذکورہ میں سے کسی کے لئے حجت نہیں کیونکہ خَلَقَ لَكُمْ میں حرف لام سببیت بتلانے کے لئے آیا ہے کہ تمہارے سبب سے یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں اس سے نہ انسان کے لئے ان چیزوں کے حلال ہونے پر کوئی دلیل قائم ہوسکتی ہے نہ حرام ہونے پر بلکہ حلال و حرام کے احکام جداگانہ قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں انھیں کا اتباع لازم ہے،- اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا بلفط ثم بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے اور سورة والنازعات میں جو یہ ارشاد ہے والْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا (٣٠: ٧٩) یعنی زمین کو آسمانوں کے پیدا کرنے کے بعد بچھایا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین کی پیدائش آسمانوں کے بعد ہوئی ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی درستی اور اس میں سے پیداوار نکالنے وغیرہ کے تفصیلی کام آسمانوں کی پیدائش کے بعد …

Al-Baqara 2:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةًۭ ۖ قَالُوٓا۟ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

خلاصہ تفسیر :- اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے (تاکہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں جس میں حکمت و مصلحت تھی مشورہ کی حاجت سے تو حق تعالیٰ بالا و برتر ہیں غرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ) ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب (یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجراء ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا) کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اس میں اور خوں ریزیاں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں بحمد اللہ اور آپ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں (فرشتوں کی یہ گذارش نہ بطور اعتراض اور نہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے بلکہ فرشتوں کو کسی طرح یہ معلوم ہوگیا تھا کہ جو نئی مخلوق زمین سے بنائی جائے گی ان میں نیک وبد ہر طرح کے لوگ ہوں گے بعض لوگ اس نیابت کے کام کو اور زیادہ خراب کریں گے اس لئے نیاز مندانہ عرض کیا کہ ہم سب کے سب ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور گروہ ملائکہ میں کوئی گناہ کرنے والا بھی نہیں اس لئے کوئی نیا عملہ بڑھانے اور نئی مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے خصوصاً جب کہ اس نئی مخلوق میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ آپ کی مرضی کے خلاف کام کریں گے جس سے آپ ناخوش ہوں ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہماری خدمت آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہوگی) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے (یعنی جو چیز تمہاری نظر میں تخلیق بنی آدم سے مانع ہے کہ ان میں بعض فساد بھی پھیلائیں گے وہی چیز درحقیقت ان کی تخلیق کا اصلی سبب ہے کیونکہ اجراء احکام و انتظام تو جبھی وقوع میں آسکتا ہے جب کوئی اعتدال سے تجاوز کرنے والا بھی ہو یہ مقصود تم فرمانبرداروں کے جمع ہونے سے پورا نہیں ہوسکتا، اور اعتدال سے تجاوز کرجانے والی ایک مخلوق جنات پہلے سے موجود تھی اس سے یہ کام کیوں نہ لیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کام کے لئے موزوں وہ مخلوق ہوسکتی ہے جن میں شر و فساد کا عنصر موجود تو ہو مگر غالب نہ ہو جنات میں یہ عنصر غالب تھا اس لئے تخلیق آدم کی تجویز فرمائی آگے اسی حکمت الہیہ کی مزید توضیح اس طرح کی گئی کہ نیابت خداوندی کے لئے ایک خاص علم کی ضرورت ہے وہ علم ملائکہ کی استعداد سے خارج ہے اس لئے فرمایا کہ) اور علم دے دیا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو (ان کو پیدا کرکے) سب چیزوں کے اسماء کا (یعنی سب چیزوں کے نام اور ان کے خواص وآثار سب کا علم آدم کو دے دیا گیا) پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کردیں پھر فرمایا کہ بتلاؤ مجھ کو اسماء ان چیزوں کے (یعنی مع ان کے آثار و خواص کے) اگر تم سچے ہو (یعنی اپنے اس قول میں سچے ہو کہ ہم خلافت ارضی کا کام اچھا انجام دے سکیں گے) فرشتوں نے عرض کیا کہ آپ تو پاک ہیں (اس الزام سے (کہ آدم (علیہ السلام) پر اس علم کو ظاہر فرمادیا ہم سے پوشیدہ رکھا کیونکہ کسی آیت یا روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو علم اسماء کی تعلیم فرشتوں سے الگ کرکے دی گئی اس سے ظاہر یہ ہے کہ تعلیم تو سب کے سامنے یکساں دی گئی مگر آدم (علیہ السلام) کی فطرت میں اس علم کے حاصل کرلینے کی صلاحیت تھی انہوں نے حاصل کرلیا فرشتوں کی طبیعت اس کی متحمل نہ تھی ان کو یہ علم حاصل نہ ہوا) مگر ہم کو ہی علم نہیں مگر وہی جو کچھ آپ نے ہم کو علم دیا بیشک آپ بڑے علم والے ہیں حکمت والے ہیں (کہ جس قدر جس کے لئے مصلحت جانا اسی قدر علم وفہم اس کو عطا فرمایا اس سے فرشتوں کا یہ اعتراف تو ثابت ہوگیا کہ وہ اس کام سے عاجز ہیں جو نائب کے سپرد کرنا ہے آگے حق تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ آدم (علیہ السلام) میں اس علم خاص کی مناسبت کو فرشتوں کے سامنے آشکارا فرمادیں اس لئے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم تم بتلادو ان کو ان چیزوں کے اسماء (یعنی مع حالات و خواص کے جب آدم (علیہ السلام) نے یہ سب فرشتوں کے روبرو بتلا دیا تو فرشتے اتنا سمجھ گئے کہ …

Al-Baqara 2:30Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.