Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 281–286 of 286

281

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

یہ وہ دن ہوگا ، جس میں سب اللہ کی طرف لوٹیں گے اور ہر شخص کو اس کی کمائی پوری پوری دی جائے گی ۔ وہ دن بڑا مشکل ہوگا۔ اس دن کی بابت دل مسلم میں بڑا خوف پایا جاتا ہے ۔ مومن کے ضمیر کی گہرائیوں میں شاید قیامت کا نقشہ اور اس کی ہولناکیاں موجود ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور ہی اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اس سے انسان کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ یہ خاتمہ کلام ایسا ہے جو مذکورہ معاملات کی فضا کے ساتھ متناسق ہے ۔ یہ فضا لینے اور دینے کی فضا ہے ۔ کسب اور جزاء کی فضا ہے ۔ اس فضا میں انسان کی پوری زندگی کا تصفیہ ہورہا ہے ۔ انسان کی پوری زندگی کے فیصلے کی فضا ہے ۔ اس فضا سے دل مومن خائف ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس کی ہولناکیوں سے بچاتا ہے ۔

تقویٰ اور خدا خوفی وہ چوکیدار ہے جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں میں بیٹھا ہوتا ہے ۔ اسلام ہر مومن کے دل کی گہرائیوں میں یہ چوکیدار بٹھا دیتا ہے۔ تاکہ دل مومن کے فرار کی کوئی راہ ہی نہ رہے ۔

یہ ہے اسلامی نظام جو ایک مضبوط اور قوی نظام ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ اور زندگی سے بھرپور نظام زندگی ہے اور ایسا نظام ہے جو اس کرہ ارض پر عملاً چلنے کے قابل ہے ۔ انسانیت کے لئے یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ورأفت ہے ۔ یہ انسانیت کے لئے ایک اعزا ہے ۔ یہ ایک ایسی بھلائی ہے جس سے انسانیت کو دور رکھا جارہا ہے ۔ اور اللہ کے دشمن اور انسانیت کے دشمن انسانوں کو اس کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔

Al-Baqara 2:281Listen in Qur'an →
282

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌۭ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً حَاضِرَةًۭ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌۭ وَلَا شَهِيدٌۭ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

درس 21 ایک نظر میں

درس سابق کا موضوع سودخوری اور صدقہ تھا ، اس درس میں اسی موضوع کے تکمیلی احکام بابت قرضہ جات ، تجارت وغیرہ کا ذکر ہے ۔ درس سابق میں سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح وہاں سودی قرضہ جات اور سودی نظام تجارت اور بیع وشراء کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ قرض حسن ، جس میں ربا کا کوئی شبہ نہ ہو ، جس پر کوئی سودی منافع عائد نہ ہو ، کی بات ہورہی ہے ۔ ان تجارتی امور پر بحث ہورہی ہے جو دستی طور پر طے ہوتے ہیں اور جن میں کسی قسم کے سودی نفع کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔

اس درس پر ایک نظر ڈال کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم قانون سازی کے لئے جو انداز تعبیر اختیار کرتا ہے وہ حیران کن انداز ہے ۔ قانون مدعی کو اس باریک بینی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اس میں کسی لفظ کو بدل کر دوسرا لفظ اس کی جگہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ کوئی فقرہ نہ بدلاجاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے ۔ اس خالص قانونی انداز تعبیر کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی خوبصورت ادیبانہ طرز ادا اور الفاظ کی خوشگواری اور مٹھاس اور روانی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قانونی مدعا دینی وجدان کے رنگ میں بیان ہوتا ہتے ۔ جو بہت ہی لطیف انداز میں اور نہایت ہی اثر آفرینی کے ساتھ اور بہترین طرز کے ساتھ جبکہ اس آیت کے ربط میں بھی کوئی خلل نہیں آتا ۔ اور مکمل قانونی مدعا بھی بیان ہوجاتا ہے ۔ اس میں معاہدہ کرنے والے فریقین کے درمیان جو جو احتمالات ہوسکتے ہیں ، جو جو موقف بھی ہوسکتا ہے ، لکھنے والوں کی ذمہ داری ، گواہوں کی ذمہ داری وغیرہ سب امور کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ غلط طور پر اثر انداز ہونے والے تمام عوامل کی نفی کردی گئی ہے ۔ اور ہر ممکن صورت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔

بیان مدعا میں ایک قانونی نکتے سے دوسرے قانونی نکتے کی طرف منتقل ہونے سے پہلے اسے مکمل طور پر بیان کردیا جاتا ہے۔ جسے دوبارہ نہیں دہرایا جاتا ۔ الایہ کہ اسکے اور جدید نکتے کے درمیان کوئی خاص تعلق ہو ۔ اس صورت میں پہلے بیان کردہ قانونی نکتے کے ساتھ اسے جوڑ دیا جاتا ہے اور اشارہ کردیا جاتا ہے۔

قرآن کریم جس طرح اپنی قانون سازی کے لئے انتخاب الفاظ وفقرات میں اعجاز رکھتا ہے ، اسی طرح وہ انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیات میں بھی صاحب اعجاز ہے ۔ بلکہ قانونی عبارات میں اس کا اعجاز عام آیات سے بھی زیادہ واضح اور حیران کن ہے ۔ یہاں کوئی بھی قانونی مدعا اور اصول ایسے لطیف اور ٹیکنیکل پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی ایک لفظ کو بھی کسی دوسرے لفظ سے بدل کر وہ مدعا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ نہیں لے سکتا ۔ اگر قرآن مجید معجزہ نہ ہوتاتو خالص قانونی تعبیرات میں ، اس طرز ادا کے ساتھ ، کالص ادبی اور فنی پیرایہ اظہار میں کلام نہ کیا جاسکتا ، جس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔

ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ دیوانی ، شہری ، اقتصادی اور تجارتی معاملات میں دور جدید سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پہلے قرآن کریم نے یہ قانون سازی کی ہے ۔ جسے تمام جدید ماہرین قانون تسلیم کرتے ہیں اور فقہاء اور محدثین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس معاملے میں سرخیل ہے ۔

یہ ایک عام قانون ہے اس آیت میں طے کیا گیا ہے ۔ اس آیت کی رو سے کسی معاہدے کا لکھنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اور اگر کسی قرضے کا معاملہ ہو اور اس قرضے کے سلسلے میں کوئی معیاد مقرر ہو تو اس صورت میں اس کا تحریر میں آنا فرض ہے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تحریر میں نہ لائے ۔ اور اس کی حکمت بھی اس آیت کے آخر میں بیان کردی گئی ہے ۔

یہاں اس شخص کو بھی متعین کردیا گیا جو ان قرضہ جات کے سلسلے میں دستاویز تیار کرے گا۔ مثلا عرضی نویس ، یہ ایک تیسرا شخص ہوگا ۔ فریقین میں سے کوئی نہ ہوگا۔ کسی معاملے میں فریقین …

Al-Baqara 2:282Listen in Qur'an →
283

۞ وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبًۭا فَرِهَٰنٌۭ مَّقْبُوضَةٌۭ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًۭا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا۟ ٱلشَّهَٰدَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌۭ قَلْبُهُۥ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌۭ

اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

لیکن اس ظاہری ضمانت کے ساتھ شارع اہل ایمان کے ضمیر کے اندر اللہ خوفی کا جذبہ پیدا کرکے انہیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ امانت دار بنیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، اس لئے کہ ظاہری ضمانت کے مقابلے میں اللہ خوفی وہ آخری ضمانت ہے جو کسی معاملے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور جس کی اساس پر کسی قانون پر صحیح طرح عمل کیا جاسکتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے کسی حق دار تک اس کا حق اچھی طرح پہنچ سکتا ہے ۔ اور سب کے حقوق محفوظ ہوسکتے ہیں۔

مدیون پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرضہ پوری طرح ادا کرے گا اور مقروض پر یہ اعتماد کیا گیا ہے کہ وہ مرہون چیز کو اپنی اصلی حالت میں واپس کرے گا ۔ دونوں کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ خدا خوفی کا رویہ اختیار کرکے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اس لئے کہ اللہ ہی ہے جو ان دونوں کا رب ہے ۔ وہی دونوں کا نگہبان ، مربی ، سربراہ ، حکم اور قاضی ہے ۔ یہ تمام تصورات ، معاملات اور فرائض وذمہ داریوں کی ادائیگی کے معاملے میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے امانتداری کے معاملے میں آیت کتابت کو مسنوخ کردیا ہے ۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے ۔ اس لئے کہ صرف حالت سفر میں معاملات کے اندر تحریر نہ کرنے کی رخصت ہے اور یہ امانت داری اور قرض مکفول کا تعلق بھی سفر کی حالت سے ہے اور سفر میں قرض خواہ اور قرض دار دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرکے معاملہ کرتے ہیں ۔ غرض تقویٰ و طہارت پر ابھارتے ہوئے یہاں شہادت کے سلسلے میں بات اختتام تک پہنچتی ہے ۔ اور یہاں شہادت سے مراد وہ شہادت نہیں ہے جو بوقت کتابت کسی تحریر پر ڈالی جاتی ہے بلکہ اس سے مراد ہو شہادت ہے جو عدالت میں دی جاتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ شہادت گواہ کے پاس ایک قسم کی امانت ہوتی ہے ۔

یہاں بات کی نسبت قلب مومن کی طرف کی جاتی ہے ۔ اور گناہ کا استناد قلب مؤمن کی طرف کیا جاتا ہے ۔ یوں شہادت کا چھپانا دراصل اپنے ضمیر میں گناہ کا چھپانا ہے ۔ دونوں باتوں کا تعلق دل و دماغ کی گہرائیوں سے ہے۔ چناچہ خاتمہ کلام ایک دہمکی آمیز فقرے سے کیا جاتا ہے۔ جس میں یہ توجہ دلائی جاتی ہے کہ

اور وہ اپنے علم کے مطابق پوشیدہ قلبی اعمال پر بھی جزاء وسزادے گا۔ “

انہی ہدایات کی مزید تاکید اگلی آیت میں بھی جاری ہے ۔ مالک ارض وسماوات کے خوف پر دلوں کو ابھارا جاتا ہے ۔ جو اس کائنات کی تمام چیزوں کا مالک حقیقی ہے ۔ جو تمام دلی بھیدوں کا بھی جاننے والا ہے اور تمام ظاہری باتوں سے بھی خبردار ہے ۔ اور وہ تمام اعمال پر سزا اور جزاء بھی دینے والا ہے ۔ وہی ہے جو تمام بندوں کے معاملات پر فیصلے کرتا ہے۔ کسی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور کوئی اس کے عذاب میں گرفتار ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کی مشیئت کے تابع ہے ۔ اور اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔

Al-Baqara 2:283Listen in Qur'an →
284

لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ خالص قانون سازی کرنے والی آیات کے خاتمہ کلام پر بھی خالص وجدانی اور اخلاقی راہنمائی کرتا ہے ۔ یوں وہ دنیاوی زندگی کے لئے ضابطہ بندی کا تعلق بھی خالق کائنات سے جوڑ دیتا ہے ۔ اور یہ رابطہ ایک مستحکم رابطہ ہوتا ہے۔ جس میں ایک طرف تو اللہ خوفی کا تصور ہوتا ہے اور دوسری جانب مالک ارض وسما کی مغفرت اور رحمت کی امیداواری ہوتی ہے ۔ یہی اخلاقی ضمانت ہے جو اسلامی نظام قانون کو حاصل ہوتی ہے ۔ اور جو اسے دوسرے نظامہائے قانون سے ممتاز اور ممیز کردیتی ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کے دل میں اسلامی قانون کا بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔ یہ اخلاقی گارنٹی اور قانون سازی اسلامی معاشرہ میں متوازی طور پر چلتی ہیں ۔ اسلام ان دونوں کی اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ نیز اسلام اس معاشرے کی اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ اور یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی مکمل اور متوازن حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے ۔ کہ ایک طرف افراد ومعاشرہ کی اخلاقی تربیت ہورہی ہوتی ہے ، اور دوسری جانب ان کے لئے حکیمانہ قانون سازی ہورہی ہوتی ہے ۔ اللہ کا خوف اور قانون کا خوف ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ اور انسان کے کے لئے قانون وہی ہوتا ہے جو انسان کے خالق نے اس کے لئے تجویز کیا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے مقابلے میں اہل زمین کے قوانین ، اہل دنیا کی ضابطہ بندیاں ، اہل زمین کے نظام کیسے چل سکتے ہیں ۔ انسان کی کوتاہ سوچ ، انسان کا محدود علم ، انسان کی محدود فکر ، اس کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے ۔ انسان کی خواہشات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ کبھی وہ انسان کسی بات پر متفق نہیں ہوتے ۔ انسان کی کسی رائے کو قرار وثبات حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کی معلومات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ ایسے حالات میں انسانیت کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے جداہوکر ماری ماری پھر رہی ہے ۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے جس چیز کی تخلیق کی ہے اس کی فطرت کیا ہے ۔ اس کی مصلحت کیا ہے ، ہر آن اور ہر جگہ اس کے بدلتے ہوئے مصالح اور ضروریات کیا ہیں ۔

انسانیت جان لے کہ اس کی یہ عظیم بدبختی ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور اللہ کے منہاج زندگی سے روگردانی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یاد رہے کہ الٰہی نظام زندگی سے فرار اور بغاوت کا آغاز مغرب میں اس وقت شروع ہوا ، جب لوگوں ظالم اور باغی کلیسا کا جؤا اپنی گردن سے اتارنا چہا ۔ مغرب میں لوگوں نے کنیسا کے تصور خدا اور تصور الٰہ کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ جس کی طرف کنیسا لوگوں بلاتا تھا۔ اور جس تصور کے مطابق لوگوں کے لئے غور وفکر کرنا اور عقل سے کام لینا حرام تھا ۔ اور کلیسا نے مغرب میں عوام پر بھاری ٹیکس عائد کر رکھے تھے ۔ اور ان پر ایک ظالمانہ استبدادی نظام مسلط کررکھا تھا ، جس سے عوام کے اندر سخت نفرت پیدا ہوگئی تھی ۔ جب لوگوں نے اس جبر و استبداد سے گلوخاصی چاہی تو انہوں نے سوچا کہ جب تک وہ کنیسا کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں گے اور اس جبر و استبداد سے گلو خاصی حاصل نہیں کرسکتے ۔ لیکن اس معاملے میں اہل مغرب حد اعتدال پر قائم نہ رہے ، انہوں نے اہل کنیسا سے آزادی حاصل کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خدا اور خدا کے اقتدار اعلیٰ سے بھی اپنے آپ کو آزاد کرلیا۔ اس طرح انہوں نے کرہ ارض پر سے ہر اس دین کو مٹادیا جس کی دعوت یہ ہو کہ لوگ اللہ کے نظام زندگی کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانیت پر ایک عظیم تباہی نازل ہوئی اور اس پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔

رہے ہم جو اسلام کے مدعی ہیں ، تو ہمارے حالات قابل غور ہیں ۔ ہمارا حال یہ ہے ہم نے اسلامی نظام زندگی سے بغاوت حاصل کرلی ہے ۔ اللہ کی شریعت اور اسلامی قانون کو ترک کردیا ہے ۔ اور ہمارے یہ حالات اس حقیقت کے باوجود ہیں کہ ہمارے سیدھے …

Al-Baqara 2:284Listen in Qur'an →
285

ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

درس 22 ایک نظر میں

یہ سبق اس عظیم سورت کا اختتامیہ ۔ یہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے ۔ اور اس کی تعبیرات بھی اپنے اندر ایک بڑا حجم رکھتی ہیں ۔ اس سورت کے اس حجم اور طوالت کے اندر اسلامی تصور حیات کے ایک بڑے حصے کو سمودیا گیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ ، اسلامی جماعت کی مختلف صفات ، اس کے فرائض ، اس کے طریقہ کار اور اس کرہ ارض پر مختلف امور کے بارے میں اس کی پالیسیوں کے بارے میں پوری تفصیلات اس سورت میں موجود ہیں ۔ اس پوری کائنات میں امت مسلمہ کا کیا کردار ہے ؟ اسلامی نظام زندگی کے مخالفین ، مقابلین اور دشمنان کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے ؟ ان دشمنان کا مزاج کیا ہے اور اسلامی نظام کی محاربت میں ان کے وسائل کیا ہیں ؟ نیز اسلامی جماعت ان کے مقابلے میں کیا وسائل وذرائع اختیار کررہی ہے ۔ اور ان کی سازشوں کا مقابلہ کن ذرائع سے کررہی ہے ۔ ان امور کے علاوہ اس سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی لحاظ سے خود حضرت انسان کا اس کرہ ارض پر کیا کردار مقرر کیا گیا ہے ؟ انسان کی فطرت کیا ہے ؟ اور انسانی تاریخ میں انسان کیا سے کیا کو تاہیاں اور لغزشیں ہوئی ہیں ۔ تاریخی قصص پیش کرکے ان کی وضاحت کی گئی ہے ۔ غرض یہ اور وہ تمام دوسری باتیں جن کی تفصیلات اس طویل سورت میں بیان کی گئیں ۔

یہ سبق اس طویل سورت کا اختتامیہ ہے اور صرف دو آیات میں لیکن ان دو آیات میں ان تمام مضامین اور افکار کو سمودیا گیا ہے ۔ جو اس طویل ترین سورت میں زیر بحث آئے ۔ یہ آیات فی الواقع سورت کا ایک اچھا اختتامیہ ہیں جو اس پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ، متناسب اور اس سورت کے مقاصد اور اس کے اندر پائی جانے والی واقعاتی فضاء کے ساتھ مناسب ہیں ۔

اس سورت کا آغاز ان الفاظ ان الفاظ سے ہوا تھا ۔” لاف ، لام ، میم ، یہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ “

ان الفاظ میں اس حقیقت کی طرف واضح اشارات دئیے گئے ہیں کہ اہل ایمان تمام رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ۔ اب ذرا اس اختتامیہ کے الفاظ پر غور کریں ۔ اور رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں ۔ انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ یہ سب اللہ اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ۔ “ غرض یہ ایک ایسا اختتامیہ ہے جس طرح کتاب کے کور کے دوحصے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔

اس سورت میں امت مسلمہ کے فرائض کا بڑا حصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اور زندگی کے مختلف میدانوں میں اسلامی قوانین کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح اپنے فرائض کو نظر انداز کیا اور جس طرح انہوں نے شریعت خداوندی سے روگردانیاں کیں ان کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا ۔ چناچہ اختتامیہ میں یہ آیات صاف بتادیتی ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور شریعت کی اطاعت کس طرح ہوتی ہے اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی اور شریعت سے نافرمانیاں کیوں کر جاتی ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر کوئی مصیبت ڈالنا نہیں چاہتے ۔ نہ اس پر کوئی بھاری بوجھ لادنا چاہتے ہیں ۔ نہ اللہ تعالیٰ کو امت مسلمہ سے کوئی خاص دوستی ہے ۔ جس طرح یہود ونصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص محبوبین میں سے ہیں۔ اور نہ یہ صورت حال ہے …

Al-Baqara 2:285Listen in Qur'an →
286

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًۭا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

یو ایک مسلمان کی سوچ ہی میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس کا رب رحیم ہے ، وہ بطور خلیفہ اس پر جو فرائض وواجبات عائد کرتا ہے وہ نہایت ہی عادلانہ اور منصفانہ ہیں ۔ اس کی جانب سے ڈالی جانے والی آزمائشیں بھی عادلانہ ہیں اور آخرکار قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا ۔ اور وہ پوری طرح مطمئن ہوگا۔ اس لئے وہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرائض پر کوئی تنگی اور دشواری محسوس نہیں کرتا ۔ وہ انہیں بوجھ نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اس کا یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس اللہ نے یہ فرائض عائد کئے ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ میرے اندر ان کے سر انجام دینے کی استطاعت فی الواقعہ ہے ۔ اگر طاقت نہ ہوتی تو وہ فرض ہی نہ کرتا ۔ اس تصور سے ایک طرف تو دل مومن اطمینان اور انس و محبت سے بھرجاتا ہے ، دوسری جانب اس کے اندر ان فرائض وواجبات کو سر انجام دینے کے لئے عزم اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرائض اس پر عائد کردیئے ہیں تو لامحالہ وہ اس ڈیوٹی کا حصہ ہیں ۔ اور جب بھی وہ ضعف محسوس کرتا ہے ، کبھی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ، یہ فرائض بھاری ہونے لگتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی کمزوری ہے ۔ بوجھ زیادہ نہیں ہے ۔ چناچہ وہ اپنے عزم کو از سر نو تازہ کرتا ہے ۔ اپنی کمزوری کو دور کرتا ہے اور از سر نو فرائض پورے کرنے کا عزم صمیم کرلیتا ہے ۔ جب تک وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ ازسر نو عزم کرنے کے لئے مومن کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر راہ طویل ہوجائے تو از سر نو عزم کرو چناچہ تصور روح مومن اور اس کی ہمت مردانہ کے لئے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ اور اس طرح اس کی ہمت اور اس کے ارادے میں پختگی آجاتی ہے ۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

اس تصور حیات کا دوسرا اہم حصہ ہے ۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ................ ” ہر شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو برائی سمیٹی اس کا وبال اسی پر ہے۔ “

ہر فرد اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اس لئے اسے وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ۔ نیز سزا بھی کسی کو صرف اس کے جرم کی ملے گی جو وہ خود کرے گا ۔ ہر کوئی اپنے کئے کا ذمہ دار خود ہوگا۔ ہر شخص اپنے رب کے سامنے خود اپنا اعمال نامہ لے کر جائے گا۔ اور اس میں وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ کوئی شخص وہاں حیلہ بہانہ نہ کرسکے گا ۔ نہ وہاں کسی کو کسی کی امداد یا سفارش کی امید ہوگی ۔ انسان بحیثیت فرد اپنے رب کے سامنے ہوگا۔

جب انفرادی مسئولیت کا یہ تصور کسی مومن کے قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے ، تو ہر فرد اپنے اللہ کے جو حقوق اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ ان کا ذمہ دار بن جاتا ہے ۔ وہ دوسرے انسانوں کی وجہ سے کسی صورت میں بھی ان حقوق الٰہیہ سے دست بردار نہیں ہوتا الا یہ کہ شریعت کے مطابق یہ دست برداری ہو ۔ اب ہر انسان مومن کی ذات کے ساتھ جو حقوق اللہ وابستہ ہوتے ہیں وہ اس بارے میں ہر دھوکے ، ہر حدود شکنی ، ہر گمراہی اور ہر فساد کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کے بارے میں ذاتی طور پر خود جوابدہ ہے ۔ اور ہر نفس کے ساتھ اللہ کے جو حقوق وابستہ ہیں وہ صرف وہی ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے یا جن سے اس نے منع فرمایا ہے۔ یعنی ہر فرد اپنے طرز عمل اور اپنے شعور میں صرف اللہ وحدہ کی بندگی بجالائے ۔ اگر وہ ان حقوق میں کسی انسان کی وجہ سے کمی کرتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اسے کوئی گمراہ کردے ، اسے دھوکہ دیدے ، یا اسے مجبور کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ انسان اس مومن کی کوئی امداد نہ کرسکیں گے ۔ (ہاں اگر یہ نافرمانی وہ بحالت جبر کرتا ہے اور دل اس کا اسلامی فرائض حقوق پر مطمئن ہے ، تو پھر یہ معذور تصور ہوگا۔ ) غرض ایسے اشخاص قیامت کے دن نہ اس مومن کی مدافعت کرسکیں گے …

Al-Baqara 2:286Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.