درس 21 ایک نظر میں
درس سابق کا موضوع سودخوری اور صدقہ تھا ، اس درس میں اسی موضوع کے تکمیلی احکام بابت قرضہ جات ، تجارت وغیرہ کا ذکر ہے ۔ درس سابق میں سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح وہاں سودی قرضہ جات اور سودی نظام تجارت اور بیع وشراء کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ قرض حسن ، جس میں ربا کا کوئی شبہ نہ ہو ، جس پر کوئی سودی منافع عائد نہ ہو ، کی بات ہورہی ہے ۔ ان تجارتی امور پر بحث ہورہی ہے جو دستی طور پر طے ہوتے ہیں اور جن میں کسی قسم کے سودی نفع کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔
اس درس پر ایک نظر ڈال کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم قانون سازی کے لئے جو انداز تعبیر اختیار کرتا ہے وہ حیران کن انداز ہے ۔ قانون مدعی کو اس باریک بینی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اس میں کسی لفظ کو بدل کر دوسرا لفظ اس کی جگہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ کوئی فقرہ نہ بدلاجاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے ۔ اس خالص قانونی انداز تعبیر کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی خوبصورت ادیبانہ طرز ادا اور الفاظ کی خوشگواری اور مٹھاس اور روانی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قانونی مدعا دینی وجدان کے رنگ میں بیان ہوتا ہتے ۔ جو بہت ہی لطیف انداز میں اور نہایت ہی اثر آفرینی کے ساتھ اور بہترین طرز کے ساتھ جبکہ اس آیت کے ربط میں بھی کوئی خلل نہیں آتا ۔ اور مکمل قانونی مدعا بھی بیان ہوجاتا ہے ۔ اس میں معاہدہ کرنے والے فریقین کے درمیان جو جو احتمالات ہوسکتے ہیں ، جو جو موقف بھی ہوسکتا ہے ، لکھنے والوں کی ذمہ داری ، گواہوں کی ذمہ داری وغیرہ سب امور کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ غلط طور پر اثر انداز ہونے والے تمام عوامل کی نفی کردی گئی ہے ۔ اور ہر ممکن صورت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔
بیان مدعا میں ایک قانونی نکتے سے دوسرے قانونی نکتے کی طرف منتقل ہونے سے پہلے اسے مکمل طور پر بیان کردیا جاتا ہے۔ جسے دوبارہ نہیں دہرایا جاتا ۔ الایہ کہ اسکے اور جدید نکتے کے درمیان کوئی خاص تعلق ہو ۔ اس صورت میں پہلے بیان کردہ قانونی نکتے کے ساتھ اسے جوڑ دیا جاتا ہے اور اشارہ کردیا جاتا ہے۔
قرآن کریم جس طرح اپنی قانون سازی کے لئے انتخاب الفاظ وفقرات میں اعجاز رکھتا ہے ، اسی طرح وہ انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیات میں بھی صاحب اعجاز ہے ۔ بلکہ قانونی عبارات میں اس کا اعجاز عام آیات سے بھی زیادہ واضح اور حیران کن ہے ۔ یہاں کوئی بھی قانونی مدعا اور اصول ایسے لطیف اور ٹیکنیکل پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی ایک لفظ کو بھی کسی دوسرے لفظ سے بدل کر وہ مدعا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ نہیں لے سکتا ۔ اگر قرآن مجید معجزہ نہ ہوتاتو خالص قانونی تعبیرات میں ، اس طرز ادا کے ساتھ ، کالص ادبی اور فنی پیرایہ اظہار میں کلام نہ کیا جاسکتا ، جس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔
ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ دیوانی ، شہری ، اقتصادی اور تجارتی معاملات میں دور جدید سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پہلے قرآن کریم نے یہ قانون سازی کی ہے ۔ جسے تمام جدید ماہرین قانون تسلیم کرتے ہیں اور فقہاء اور محدثین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس معاملے میں سرخیل ہے ۔
یہ ایک عام قانون ہے اس آیت میں طے کیا گیا ہے ۔ اس آیت کی رو سے کسی معاہدے کا لکھنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اور اگر کسی قرضے کا معاملہ ہو اور اس قرضے کے سلسلے میں کوئی معیاد مقرر ہو تو اس صورت میں اس کا تحریر میں آنا فرض ہے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تحریر میں نہ لائے ۔ اور اس کی حکمت بھی اس آیت کے آخر میں بیان کردی گئی ہے ۔
یہاں اس شخص کو بھی متعین کردیا گیا جو ان قرضہ جات کے سلسلے میں دستاویز تیار کرے گا۔ مثلا عرضی نویس ، یہ ایک تیسرا شخص ہوگا ۔ فریقین میں سے کوئی نہ ہوگا۔ کسی معاملے میں فریقین …