Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 286

11

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ ” زمین میں فساد نہ کرو۔ “ یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ ” بھائی ہم کب فساد برپاکر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ ” مصلح تو ہیں ہی ہم۔ “

ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپاکررہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم تو بس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں تو ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے اور نفس انسانی میں فساد پیدا ہوجائے تو تمام اعلیٰ قدریں اور حسن وقبح کے پیمانے از خود ختم ہوجاتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور ایمان نہ رہے ۔ وہ کبھی بھی فساد فکر وعمل کا شعور نہیں پاسکتے اور ان کے دل و دماغ میں خیر وشر اور اصلاح و فساد کا جو پیمانہ ہوتا ہے ، وہ ان کی خواہشات نفسانی کی طرف ، جھکتا رہتا ہے اور ربانی نظام حیات کی طرف مائل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے ان کے اس دعوے کا یہ سخت لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا جاتا ہے۔

Al-Baqara 2:11Listen in Qur'an →
12

أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ

دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں، لیکن خبر نہیں رکھتے

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “

Al-Baqara 2:12Listen in Qur'an →
13

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ ۗ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “

Al-Baqara 2:13Listen in Qur'an →
14

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں

سوال یہ ہے کہ کوئی بیوقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بیوقوف ہے ، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے ۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ ، فریب کاری ، تحقیر مسلمین اور ادعاء وتعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت ، لئیم ، سازشی اور مکار بھی ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ” جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “

بعض لوگ اس ذلت اور کمینگی کو قوت اور حکمت سمجھتے ہیں ، مکروفریب ان کے پر خیال میں غایت درجے کی فراست وسیاست ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ چیز درحقیقت بےچارگی اور خسیس پنے کی آخری حد ہوتی ہے ۔ ایک پرشوکت اور قوی انسان کبھی کمینہ اور خبیث النفس نہیں ہوسکتا۔ نہ اسے مکر و فریب کی ضرورت پڑتی ہے ۔ نہ اسے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ تنہائی میں چغل خوریاں کرے اور طعنے اور طنز سے دل کا غبار نکالے ۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے اور مومنین سے مل کر اپنی طرف سے بھی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہم مومن ہیں تاکہ اس طرح وہ مومنین کی جانب سے ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رہیں اور اس طرح محفوظ ومامون ہو کر مومنین کے خلاف نیش زنی کرتے رہیں ۔ یہ لوگ جب اپنے شیاطین کے پاس جاتے ، جو غالباً (یہود ہوا کرتے تھے ، اور جنہیں ایسے لوگوں میں سے ایسے کئی افراد مل جاتے تھے جو اسلامی صفوں میں انتشار واختلاف پھیلانے کے لئے استعمال ہوں ۔ دوسری طرف یہودی بھی ایسے لوگوں کے لئے ایک سہارے اور ملجاوماویٰ کا کام کرتے تھے ۔ چناچہ یہ منافقین ” جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے تو کہتے کہ اصل میں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ مومنین سے ان کا مذاق یہ تھا کہ وہ ایمان اور تصدیق قلبی کا اقرار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مومنین کیا جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں ۔

ان کی اس عیارانہ گفتگو اور مکارانہ طر زعمل کی وضاحت کے فوراً بعد قرآن کریم انہیں ایسی سخت ڈانٹ پلاتا ہے کہ اگر احساس ہو تو پہاڑ بھی مارے خوف کے کانپ اٹھیں۔

Al-Baqara 2:14Listen in Qur'an →
15

ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ” اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ “ کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار وجبار جس کے ساتھ مذاق کررہا ہے ؟ اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں ” اللہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں ۔ “ جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جو لانی دکھاتا ہے تویہاں آکر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بےحس و حرکت کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان مکاریوں کو یوں اپنے حال پر چھوڑدیا جاتا ہے ۔ نہ ان کا کوئی مرشد ۔ نہ کوئی راہ سجھائی دیتی ہے ۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے ۔ یہ لوگ اسی سرگردانی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ دست قدرت انہیں اپنی شدید گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ چوہوں کی طرح غفلت و لاپرواہی کے عالم میں جال میں کو دجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ ایک خوفناک انجام ہے اور اس کے مقابلے میں اس مذاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو یہ اپنے خیال کے مطابق کررہے ہیں ۔

یہاں اس حقیقت کا اظہارہورہا ہے جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ کفر واسلام کے معرکہ میں خود اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اللہ کے دوستوں اور بندوں کے لئے اس کی سرپرستی میں اگر طمانیت قلب کا ایک عظیم سرمایہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے مخبوط الحواس ، غافل اور راندہ درگاہ دشمنوں کے لئے انجام بد اور ایک خوفناک پایان کار کی نشان دہی ہے ، جو اس کے لئے دھوکہ کھائے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے لئے رسی دراز کئے جارہا ہے اور وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں سرگرداں ہیں ۔ یہ اندھے ہورہے ہیں ، غفلت میں ڈوبے جارہے ہیں ، حالانکہ ایک خوفناک انجام ان کا منتظر ہے۔

Al-Baqara 2:15Listen in Qur'an →
16

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ “ اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی ۔ ان پر ہدایت کے دریا بہادیئے گئے تھے ۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی ۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے ۔ ویسا ہی انجام ان کا بھی ہوا۔ اس سودے میں انہیں کوئی نفع نہ ہوا اور ہدایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی ۔

آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے ۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی ۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں ۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے ۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھا جارہا ہے ۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے ۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری ، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے ۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں ۔

اس تفصیلی بحث سے ایک طرف تو وہ کردار بھی اچھی طرح ہمارے سامنے آجاتا ہے جو منافقین مدینہ ، فدائیان اسلام کی ایذارسانی ، ان کے اندرانتشار اور بےچینی پھیلانے کے سلسلے میں ادا کررہے تھے ۔ دوسری طرف اسلامی جماعت کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ ہر دور میں ایک منافق ، نظم جماعت کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور اسلامی جماعت میں ان منافقین کی پردہ وری اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کرنے کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے ۔

Al-Baqara 2:16Listen in Qur'an →
17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَٰتٍۢ لَّا يُبْصِرُونَ

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

چناچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات ، اس کے مزاج کے تلون ، اس کی بےثباتی اور قلابازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آجائیں ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ

” ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ “

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں ان کا رویہ ایسا نہ تھا کہ انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا ہو ، یا اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہوں ، آنکھیں بند کرلی ہوں اور نہ یہ صورت تھی کہ انہوں نے اس تحریک کے مطالعے سے انکار کیا ہو ، جیسا کہ کفار نے کیا لیکن بعد میں انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر غور وخوض کے بعد کیا ۔ انہوں نے آگ جلائی ۔ اس نے ان کے ماحول کو روشن بھی کیا لیکن انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ وہ روشنی کے متلاشی تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنی مطلوب روشنی کو پاکر بھی اس منہ موڑا تو اللہ نے ان کے اس رویے کی وجہ سے ان کا نور بصارت ہی سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکی میں بھٹکتے پھریں کیونکہ انہوں نے عین اس چیز سے منہ موڑا جس کے وہ طالب تھے ۔

Al-Baqara 2:17Listen in Qur'an →
18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ

(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

اللہ نے انسان کو آنکھ ، کان اور زبان دی ہی اس لئے ہے کہ انسان بات سن سکے ۔ روشنی کو دیکھ سکے اور نور ہدایت سے فائدہ اٹھائے ۔ لیکن انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا ۔ بہرے قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی زبان سے بھی کام نہ لیا ۔ پس گونگے قرار دیے گئے ، انہوں نے آنکھ سے دیکھنا ہی بند کردیا لہٰذا اندھے بن گئے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ سکیں ، راہ ہدایت کی طرف مڑسکیں اور صداقت کی روشنی کو دیکھ سکیں ۔

Al-Baqara 2:18Listen in Qur'an →
19

أَوْ كَصَيِّبٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٰتٌۭ وَرَعْدٌۭ وَبَرْقٌۭ يَجْعَلُونَ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ ۚ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے

اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں ۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “

عجیب منظر ہے یہ بھی ، جس دوڑ بھاگ ، قلق و اضطراب ، گمراہی وضلالت ، خوف ورعب ، جزع وفزع ، حیرانی و پریشانی ، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں ۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اچانک اندھیرا ہوجاتا ہے ۔ بےچارے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حیران وپریشان ہیں ، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں ، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ۔

پورامنظر اس تگ وتاز سے بھرا ہوا ہے ، موسلا دھار بارش ، تاریکیاں ، کڑک اور چمک ، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں ۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب ، حیرانی و پریشانی ، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں ۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں ۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے ۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے ۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھارہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کررہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے ۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئیی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں ۔

Al-Baqara 2:19Listen in Qur'an →
20

يَكَادُ ٱلْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٰرَهُمْ ۖ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوْا۟ فِيهِ وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۟ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں ۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “

عجیب منظر ہے یہ بھی ، جس دوڑ بھاگ ، قلق و اضطراب ، گمراہی وضلالت ، خوف ورعب ، جزع وفزع ، حیرانی و پریشانی ، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں ۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اچانک اندھیرا ہوجاتا ہے ۔ بےچارے کھڑے ہوجاتے ہیں ، حیران وپریشان ہیں ، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں ، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ۔

پورامنظر اس تگ وتاز سے بھرا ہوا ہے ، موسلا دھار بارش ، تاریکیاں ، کڑک اور چمک ، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں ۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب ، حیرانی و پریشانی ، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں ۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں ۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے ۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے ۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھارہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کررہا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے ۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئیی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں ۔

Al-Baqara 2:20Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.