كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ
جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے
اس آیت کے مضمون پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے ، جن کی دعوت اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی تھی ۔ اس وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے ۔ جناب خلیل اللہ نے دعا فرمائی تھی کہ :” اے اللہ ، میری اولاد میں سے جو اس گھر کے جوار میں رہتی ہے ، ایک نبی مبعوث فرما ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے ۔ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کردے۔ “ یوں مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کا مبعوث کیا جانا ، اور خود ان کا بطور مسلمان پایاجانا ، یہ دراصل ان کے اباجان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی براہ راست قبولیت ہے ۔ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ ان کی تحریک کوئی نئی تحریک نہیں ہے ۔ ایک قدیم تحریک ہے ۔ ان کا قبلہ کوئی نیا قبلہ نہیں ہے ، بلکہ ان کے ابا ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے ۔ اور ان پر اسلام نے جو جودوکرم کیا ہے وہ وہی جودوکرم ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست سے کیا تھا ۔
اس نے تمہیں تمہارا پرانا قبلہ دے دیا ، تمہیں ایک مستقل شخصیت عطاکردی ۔ یہ تو اس کے انعامات کا ایک نمونہ ہے جو وہ تم پر مسلسل کرتا چالا آرہا ہے ۔ اور سب سے پہلی نعمت یہ ہے کہ اس نے تم میں اپنا رسول ﷺ تم ہی میں سے مبعوث فرمایا : كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولا مِنْكُمْ ” جس طرح میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا “
اس نے تمہارے اندر رسالت قائم کردی ۔ کیا یہ تمہارے لئے کوئی کم عزت افزائی ہے ؟ یہودی ایک عرصہ سے آخری رسول کا انتظار کررہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں میں سے ہوگا اور اس کی قیادت میں وہ قریش پر فتح پائیں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ خاتم الرسل تم میں سے چن لیا : يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا ” تمہیں میری آیات سناتا ہے۔ “
وہ جو کچھ پڑھ کر تمہیں سناتا ہے وہ حق ہے ۔ اس فقرے میں ایک شاہانہ حوصلہ افزائی ہے ۔ اللہ کا کلام ، رسول اللہ ﷺ پر نازل ہورہا ہے ، لیکن خطاب اپنے بندوں سے ہورہا ہے ۔ اس انداز کلام پر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم عزت افزائی معلوم ہوتی ہے ۔ دل مارے خوشی کے جھوم جاتا ہے ۔ کیا شان ہے ان لوگوں کی ! وہ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ خداوند قدوس ان سے خطاب کررہا ہے ۔ خود اپنے الفاظ میں ان سے بات ہورہی ہے ۔ کیا عظیم قدردانی ہے یہ ؟ اگر اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل وکرم نہ کرتا تو یہ وہ شان کہاں سے حاصل کرتے ۔ یہ محض اللہ کی جانب سے باران رحمت کا نتیجہ ہے ۔ ابتدائے آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا ڈھانچہ تیار کیا اور اس میں روح پھونکی ۔ اس کی نسل چلائی تاکہ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں۔ وہ ایسے ہوں ، جو انعامات کو خوش آمدید کہیں۔
وَيُزَكِّيكُمْ ” وہ تمہیں پاک کردے گا۔ “ اگر اللہ نہ ہوتا تو مشرکین اہل عرب اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی پاک نہ ہوتا ۔ نہ پاک ہوتا اور نہ ہی مرتبہ بلند پاتا ۔ اللہ نے ان میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ انہیں پاک کردے ۔ ان کے دل کو شرک کی آلائش اور جاہلیت کی آلودگی سے پاک کردے ۔ ان کی روح کو ایسے تمام تصورات سے پاک کردے جن کے بوجھ تلے انسانی روح صدیوں سے دفن ہوکر رہ گئی تھی۔
وہ انہیں شہوانی قوت کی آلودگیوں سے بھی پاک کرتا ہے ، لہٰذا ان کی روح جنسی بےراہ روی کے گڑھے میں نہیں گرتی ۔ وہ لوگ جنہیں اسلام پاک نہیں کرتا ، چاہے زمانہ قدیم کے باشندے ہوں یا زمانہ جدید کے ، وہ گویا گندے پانی کے چشمے سے جنسی پیاس بجھاتے ہیں ۔ جس سے طبیعت نفرت کرتی ہے اور جس سے انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اور ایک حیوان جو صرف حیوانی فطرت کا پابند ہوتا ہے ۔ اس انسان سے ارفع و برتر ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگ جو ایمان سے محروم ہیں ان سے یہ حیوان بدرجہا پاک ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ ان کے معاشرے …