Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 131–140 of 286

131

إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “

یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔

اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “

یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “

یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

Al-Baqara 2:131Listen in Qur'an →
132

وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَٰهِۦمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “

یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔

اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “

یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “

یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

Al-Baqara 2:132Listen in Qur'an →
133

أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى قَالُوا۟ نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں

سکرات الموت کے وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا یہ منظر ایک عظیم منظر ہے ۔ یہ منظر ایک نہایت ہی نصیحت آموز ، سبق آموز اور پر تاثیر منظر ہے ایک شخص موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور ان لمحات میں اس کے دل و دماغ پر کیا چھایا ہوا ہے ؟ وہ کیا دلچسپی ہے جس میں اس کا دل و دماغ مشغول ہے حالانکہ وہ زندگی کے آخری لمحات میں ہے۔ اس وقت وہ کس عظیم الشان معاملے میں بات کرکے اس کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنی اولاد کے لئے کیا ترکہ چھوڑ رہے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ وہ اس ترکہ کی آخردم تک حفاظت کریں اور وہ آخری ہچکیوں میں اسے اولاد کے حوالے کررہے ہیں اور اس پر بڑی تفصیل سے بات کرتے ہیں ۔ یہ ترکہ نظریہ حیات اور عقیدے کا ترکہ ہے ۔ یہی وہ دولت ہے جسے وہ بیٹوں کے حوالے کرتے ہیں اور یہی وہ اہم مسئلہ ہے جس میں وہ بےحد دلچسپی لے رہے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم الشان مسئلہ جس میں وہ بےحد دلچسپی لے رہے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم الشان معاملہ جو آخری لمحات میں بھی انہیں یاد ہے مَا تَعبُدُونَ مِن بِعدِی تم میرے بعد کس کی بندگی کروگے ۔ “

یہ ہے وہ عظیم معاملہ جس کے لئے تمہیں بلایا ہے ۔ اور اس اہم معاملے میں ، میں چاہتا ہوں کہ تم اسے اطمینان حاصل کرلوں ۔ یہ میری دولت ہے ، میرا ترکہ ہے اور وہ اہم امانت ہے جو میں تمہارے سپرد کررہا ہوں قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ” ان سب نے کہا ! ہم اس ایک اللہ کی بندگی کریں گے جسے آپ نے ، آپ کے بزرگوں ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) نے اللہ مانا۔ اور ہم اس کے مسلم ہیں۔ “

یوں وہ اپنے دین کو دین کو پہچان لیتے ہیں ۔ اسے یاد کرلیتے ہیں ۔ اس ورثے کو وہ قبول کرتے ہیں ۔ اور اس کی حفاظت کا مصمم ارادہ کرلیتے ہیں اور یوں وہ اپنے والد محترم کو مطمئن کردیتے ہیں جو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ہے۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد نے آخر تم تک ہمیشہ اس وصیت کا خیال رکھا اور وہ ہمیشہ اس بات کے معترف رہے کہ وہ مسلم ہیں ۔ اس موقع پر قرآن مجید بنی اسرائیل سے یہ سوال کرتا ہے۔ أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ

” کیا تم موجود تھے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے موت آگئی۔ “

ہاں یہ واقعہ ہوا تھا ، قرآن مجید اس کی گواہی دیتا ہے ، اس کی تائید کرتا ہے۔ یوں قرآن مجید ان لوگوں کے مکر و فریب کا پردہ چاک کردیتا ہے اور یہ فیصلہ کردیتا ہے کہ بنی اسرائیل کا اب اپنے جد امجد اسرائیل کے ساتھ کوئی نظریاتی یا روحانی تعلق نہیں ہے ۔

” اس بیان کی روشنی میں وہ فرق و امتیاز کھل کر سامنے آجاتا ہے جو دور رفتہ کی امت مسلمہ اور تحریک اسلامی کے مزاحم بنی اسرائیل کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ دور رفتہ کی اس امت مسلمہ اور اب کے نام نہاد جانشینوں کے درمیان کوئی تعلق کوئی وراثت اور کوئی روحانی وراثت کا تعلق نہیں ہے۔ “

Al-Baqara 2:133Listen in Qur'an →
134

تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

ہر شخص اپنا حساب خود دے گا ۔ ہر ایک کا اپنا راستہ ہے ، ہر ایک کا ایک عنوان ہے اور ہر کسی کی اپنی خصوصیات ہیں ۔ وہ ایک مومن جماعت تھی جس کا بعد میں آنے والے اس کے فاسق جانشینوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بعد میں آنے والے ناخلف اور نالائقوں کا ان پاک بازوں سے کیا واسطہ ؟ وہ ایک علیحدہ جماعت تھے اور یہ ایک علیحدہ جماعت ہیں ۔ ان کا جھنڈا علیحدہ تھا اور ان کا جھنڈا جدا ہے ۔ ان کا تصور حیات ایک ایمانی تصور حیات تھا اور ان نالائقوں کا تصور حیات بالکل جاہل تصور ہے ۔ جاہلی تصور حیات میں ایک جماعت اور دوسری جماعت اور ایک دور ایک دوسرے دور میں فرق نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کے تصور کے مطابق اگر دو معاشروں کے درمیان اگر خون اور نسب کا اتحاد ہے تو گویا دونوں معاشرے ایک ہی ہیں لیکن ایمانی تصورحیات میں ایک مومن معاشرے اور ایک فاسق معاشرے کے درمیان امتیاز ہوتا ہے۔ ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ۔ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ یہ دونوں معاشرے ایک امت بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ دونوں علیحدہ امتیں ہیں ۔ اس لئے مومنین کی اقدار حیات کے مطابق بھی یہ دونوں مختلف اور متضاد ہیں ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق ایک امت صرف وہ ہوتی ہے ، جو صرف ایک نظریہ حیات اور عقیدہ پر ایمان رکھتی ہو ، چاہے جسمانی تعلق کے لحاظ اور رنگ نسل کے اعتبار سے اس کا تعلق مختلف علاقوں سے ہو۔ اسلامی جماعت کا تعلق کسی زمین کسی علاقے یا کسی رنگ ونسل سے نہیں ہوتا ، یہ وہ تصور حیات ہے جو شرف انسایت کے زیادہ مناسب ہے ۔ جس کی اساس بلند اور عالم بالا کی روحانیت پر ہے اور اس کی بنیاد خاکی اور سفلی تعلقات پر نہیں ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور کے تاریخی واقعات کے اس تفصیلی بیان کے ضمن میں مسلمانوں کے بیت الحرام اور کعبہ کی تاریخ کے بیان کے ضمن میں اور اسلامی نظام زندگی کی حقیقت اور موروثی تصورات کی حقیقت کے بیان کے ضمن میں ، اب قرآن کریم معاصر اہل کتاب کے بوگس دعوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اور ان کے غلط۔ خیالات ، بےبنیاد دلائل اور غیر معقول مباحث کی تردید کرتا ہے ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سب تصورات دلائل کے اعتبار سے اور بحث وجدال کے میدان میں پائے چوبین ہیں ۔ اور محض ضد ، عناد پر مبنی ہیں اور ان کے ان مزعومات کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یوں قرآن مجید یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلامی نظریات و عقائد دراصل معقول اور فطری عقائد ہیں ۔ اور ان سے انحراف صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو صرف ضدی اور معاند ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

Al-Baqara 2:134Listen in Qur'an →
135

وَقَالُوا۟ كُونُوا۟ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ تَهْتَدُوا۟ ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِۦمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “

رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “

یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔

اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔

یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان …

Al-Baqara 2:135Listen in Qur'an →
136

قُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَآ أُوتِىَ ٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ

(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “

رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “

یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔

اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔

یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان …

Al-Baqara 2:136Listen in Qur'an →
137

فَإِنْ ءَامَنُوا۟ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “

رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “

یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔

اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔

یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان …

Al-Baqara 2:137Listen in Qur'an →
138

صِبْغَةَ ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبْغَةًۭ ۖ وَنَحْنُ لَهُۥ عَٰبِدُونَ

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

یہودیوں کا کہنا یہ تھا کہ تم یہودیت اختیار کرلو تو راہ ہدایت پالوگے اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پالوگے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان دونوں دعوؤں کو جمع کرکے رسول اکرم ﷺ کو بتایا کہ وہ ان الفاظ میں ان کے باطل دعوؤں کی تردید فرمادیں قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ” کہو ملت ابراہیم (علیہ السلام) راہ ہدایت ہے جو مشرکین میں سے نہ تھے ۔ “

رسول اکرم ﷺ کو سمجھایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں ، آئیے ہم اور آپ سب اپنے اصل کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ یعنی ملت ابراہیمی کی طرف جو ہمارے بھی باپ ہیں اور آپ کے بھی جد امجد ہیں اور اسلام کا منبع اور سرچشمہ ہیں اور ان کے رب نے ان کے ساتھ جو عہد کیا ہوا تھا وہ مشرک نہ تھے ، جبکہ آپ لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم دینی وحدت اور دینی اتحاد کے اعلان کا حکم دیتے ہیں ، جو دین ابوالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری رہا اور جس کی آخری کڑی اب اسلام ہے ۔ اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس متحدہ اور مسلمہ دین پر ایمان لائیں قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) ” کہو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۔ “

یہ سب ملتوں کا اتحاد ہے ۔ سب رسولوں کے درمیان وحدت ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کی اساس ہے ۔ اور یہی وہ فکر ہے جو امت مسلمہ کو ایک ایسی ملت بنادیتی ہے جو اس زمین پر اس نظریہ کی واحد حامل اور وارث ہے جو نظریہ اللہ کے دین پر مبنی ہے ۔ اور جس کی جڑ اصل ابراہیمی سے مربوط ہے اور جس کی وجہ سے ........ یہ امت انسانی تاریخ میں ہدایت اور روشنی کی علمبردار ہے ۔ اور یہی تصور حیات ہے جو اسلامی نظام ِ زندگی کو ایک حقیقی عالمی نظام بنا دیتا ہے جس میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ اور کوئی ظلم واستحصال نہیں ہے اور جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ Open Society معاشرہ قرار پاتا ہے جس کے دروازے تمام انسانوں کے لئے وا ہیں ۔ اور ان افراد معاشرہ کے درمیان باہم مکمل انس و محبت پائی جاتی ہے۔

اس لئے یہاں دوران کلام ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات پر ڈٹ جائیں ۔ وہ یہ کہ یہی عقیدہ اور یہی تصور حیات راہ ہدایت ہے ۔ جس نے اس تصور حیات اور اس راہ کو اپنالیا تو گویا اس نے منزل مراد کو پالیا ۔ اور جو شخص اس حقیقت سے منہ موڑ لے گا تو وہ کبھی بھی ثابت قدمی سے کسی مقام پر ٹک نہ سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم تمام ایسے فرقوں سے اختلاف کرتا ہے جو ثابت قدمی سے کسی اصولی موقف پر قائم نہ ہوں۔ قرآن کہتا ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔

یہ کلمات الٰہی ہیں اور یہ خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہادت ہے ۔ یوں قلب مومن کو ایک گونہ احساس عزت دلایا جارہا ہے کہ وہ جس موقف کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ قابل فخر بات ہے ۔ کیونکہ ان …

Al-Baqara 2:138Listen in Qur'an →
139

قُلْ أَتُحَآجُّونَنَا فِى ٱللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَآ أَعْمَٰلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَٰلُكُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُخْلِصُونَ

(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

اب قرآن مجید کی یہ دندان شکن محبت اور دلیل اپنے فیصلہ کن انجام تک یوں پہنچتی ہے۔

قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ (139)

” اے نبی ان سے کہو ! کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ۔ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لئے ۔ اور ہم اللہ ہی کے لئے اپنی بندگی خالص کرچکے ہیں۔ “

اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی صفت ربوبیت میں کسی کو مجال اختلاف نہیں۔ وہ ہمارا بھی رب اور تمہارا بھی رب ہے ۔ ہم اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور تم اپنے اعمال کے جوابدہ ہوگے ۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم صرف اس کے ہوگئے ہیں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور اس کے ساتھ کسی اور سے امیدیں وابستہ نہیں کرتے ۔ یو اللہ تعالیٰ اہل اسلام کی زبانی ان کے نظریاتی موقف کی وضاحت فرماتے ہیں اور یہ موقف ایسا ہے کہ جس میں بحث و مباحثہ اور نزاع واختلاف کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے ۔

Al-Baqara 2:139Listen in Qur'an →
140

أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطَ كَانُوا۟ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ ۗ قُلْ ءَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ ٱللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَٰدَةً عِندَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں

اب اس ناقابل نزاع موقف سے روئے سخن ایک دوسرے موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ، جس میں اختلاف موجود تھا ، لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس میں جو بھی اختلاف کیا گیا وہ بھی غیر ضروری اور غیر معقول اختلاف ہے ۔ فرماتے ہیں أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى یا پھر تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ “

یہ لوگ تو حضرت موسیٰ سے بھی پہلے گزرے ہیں اور یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور ان کے دین کی حقیقت اللہ نے بیان بھی کردی ہے ۔ اور اس کی گواہی دے دی ہے کہ ان کا دین اسلام تھا۔ جس طرح اوپر تفصیل سے بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ” کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ “

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف پر صرف ایک سوال کردیا ہے ۔ اس لئے کہ ان کا موقف بادی النظر میں غلط تھا ۔ جواب دینے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ صرف سوالیہ نظروں سے تنبیہہ کردی گئی ۔

اس کے بعد بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے کہا جاتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ حضرات یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہ اس ابتدائی دین کے حامل تھے جسے حنیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ کہ تمہاری کتابوں میں ، تمہارے پاس یہ شہادت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب نبی آخرالزمان کو الٰہی دین حنیف کے ساتھ بھیجنے والے ہیں ۔ جو دین ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہے لیکن تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ ” اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے۔ “

اور اللہ کو اس بات کی اچھی طرح خبر ہے کہ جس شہادت کو تمہارے پاس بطور امامت ودیعت کیا گیا تھا ، اسے تم چھپا رہے ہو ۔ اور اس کے برعکس تم اسے چھپانے کے لئے بحث وجدال اور تلبیس بھی کررہے ہو ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اور اللہ اس بات سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔ “

Al-Baqara 2:140Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.