Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 286

91

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ” ہم تو اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہمارے ہاں (بنی اسرائیل میں) اتری ہے ۔ “

اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ۔ یہ بات وہ اس وقت کہتے تھے ، جب انہیں قرآن پر ایمان لانے اور اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ ” ہم پر جو کچھ نازل ہوا ہے ، ہم اس پر ایمان لاچکے اور وہ کافی وشافی ہے۔ “ اس کے سوا وہ تمام ہدایات کا انکار کرتے تھے ۔ خواہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ہوں یا نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر اتری ہوں۔

قرآن کریم کے نزدیک ان کا یہ طرز عمل اور ان کی جانب سے توریت کے علاوہ تمام دوسری ہدایات کا انکار ایک عجیب حرکت ہے ۔

وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ” کیونکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود ہے۔ “

یعنی بنی اسرائیل کو حق سے کیا واسطہ ؟ کیا ہوا کہ سچائی ان تعلیمات کی تصدیق کررہی ہے جو ان کے پاس موجود ہیں ، کیونکہ اس سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ یہ تو خود اپنے نفس کے پجاری ہیں ، اپنی قومی عصبیت کے بندے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے وہ تو اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس سے قبل وہ ان ہدایات کو بھی ٹھکراچکے ہیں جو خود ان کے انبیاء پر اتاری گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو سکھاتے ہیں کہ ان کی حقیقت کھولنے کے لئے اور ان کے موقف کی کمزوری کی وضاحت کے لئے وہ ان پر اس پہلو سے حملہ آور ہوں قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

” کہہ دیجئے کہ اگر تم اس تعلیم پر ہی ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی تو اس سے پہلے اللہ کے ان پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ) کیوں قتل کرتے رہے ؟ تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل تمہارے پاس جو تعلیم وہدایت لے کر آئے تھے ، تم ان پر ایمان لائے ہوئے تھے ، تو اگر تم سچے مومن تھے ، تو تم نے انبیاء عظام کو قتل کیوں کیا ؟ “

Al-Baqara 2:91Listen in Qur'an →
92

۞ وَلَقَدْ جَآءَكُم مُّوسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

بات یہ نہیں کیونکہ حضرت موسیٰ تمہارے پہلے نبی تھے اور تمہارے عظیم نجات دہندہ تھے ۔ وہ تمہارے پاس جو ہدایت لے آئے تھے تم نے اس کا بھی انکار کیا تھا وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ” تمہارے پاس موسیٰ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آئے ، پھر بھی تم اتنے ظالم تھے کہ ان کے پیٹھ موڑتے ہیں بچھڑے کو معبود بنایا تھا ۔ کیا یہ تمہارے ایمان اور وحی الٰہی کا مقتضاء تھا کیا اس طرز عمل کے ہوتے ہوئے تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم ان ہدایات اور نشانیوں پر ایمان لاچکے ہو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس لائے تھے ؟ “

Al-Baqara 2:92Listen in Qur'an →
93

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱسْمَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

یہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک چٹان اور پہاڑ کے سائے میں تم سے ایک پختہ میثاق لیا تھا ، کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے اس قسم کے غیر معمولی میثاق کو بھی توڑدیا تھا اور تم سرکشی اور معصیت میں مبتلا ہوگئے تھے ۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ” پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو جو طور کو تمہارے اوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو ۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا ، مگر مانیں گے نہیں ۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ “

یہاں آکر خطابی انداز گفتگو ، حکامت وبیان میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ پہلے تو بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تم یہ یہ کرتے رہے ، اس کے بعد کلام کا رخ مومنین اور عام انسانوں کی طرف پھرجاتا ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ بنی اسرائیل یہ یہ کام کرتے رہے ، اور نبی ﷺ کو سمجھادیا جاتا ہے کہ آپ اچانک انہیں آڑے ہاتھوں لیں ۔ اور ان سے پوچھیں کہ ان کا ایمان کس قدر گھٹیا اور مکروہ ایمان ہے جو بقول ان کے انہیں ایسا صریح کافرانہ اور ناپسندیدہ رویہ اختیار کرنے کے لئے مجبور کررہا ہے ۔

قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ” کہو اگر تم مومن ہو ، تو عجیب ایمان ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔ “

قرآن کریم کی یہ دو مصورانہ تعبیریں کس قدر گہری سوچ بچار کی مستحق ہیں ۔ یہ کہ ” انہوں نے کہا ” ہم نے سن لیا مگر مانیں گے نہیں۔ “ اور یہ کہ ؟” اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں کو بچھڑا پلادیا گیا تھا۔ “

انہوں نے کہا ” ہم نے سن لیا۔ “ اور بعد میں کہا ، ہم مانیں گے نہیں ۔ لیکن پہلے ہی سے یہ نہیں کہا ؟” ہم مانیں گے نہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں وہ ایک ہی سانس میں کس طرح کہہ گئے ؟ درحقیقت یہ ایک خاموش موقف اور حقیقت واقعہ کی حکایتی تعبیر ہے ۔ انہوں نے اپنے منہ سے کہا ” ہم نے سن لیا ۔ “ لیکن اپنے عمل سے انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ ” مانیں گے نہیں ۔ “ کیونکہ عمل ہی دراصل زبانی تکلم کو معنی پہناتا ہے ۔ اور عملی اظہار قولی اظہار سے زیادہ قوی ہوتا ہے ۔ واقعاتی صورت حال کی اس تعبیر سے دراصل اسلام کے اس ہمہ گیر اصول کا اظہار ہوتا ہے کہ عمل کے بغیر محض باتوں اور زبانی جمع خرچ کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اسلام میں اصل اعتبار عمل ہی کا ہے ۔ واقعاتی حرکات اور الفاظ کی تعبیروں کے درمیان عمل ہی اصل رابطہ ہے اور فیصلے عمل پر ہی کئے جاتے ہیں ۔

دوسری تعبیر کہ ” ان کے دلوں کو بچھڑا پلادیا گیا۔ “ بڑی ہی سخت اور اپنی نوعیت کی منفرد تعبیر ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ” وہ پلائے گئے ہیں “ یعنی کسی نے انہیں کچھ پلادیا ہے۔ کیا پلادیا ہے ؟ انہیں بچھڑا پلایا گیا ہے ۔ کہاں ؟ ن کے دلوں میں ، کس قدر سخت تعبیر ہے یہ ؟ انسانی تخیل یہ کوشش کررہا ہے کہ دلوں میں ایک بچھڑے کو داخل ہوتے ہوئے دیکھے یا تصور کرے ۔ یعنی گویا مجسم بچھڑا دلوں میں داخل ہورہا ہے اور یہ بچھڑا ان کے دلوں کی دنیا میں چھایا ہوا ہے ۔ تعبیر معانی کے لئے ایسی حسی تجویز کی گئی ہے کہ ایک لمحہ کے لئے انسان کے پردہ خیال سے اصل مفہوم و مدعا ، یعنی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت و عبادت ، اوجھل ہوجاتا ہے ۔ اور انسان یہ سوچتا ہے کہ گویا فی الواقعہ بچھڑا انہیں گھول کر پلادیا گیا ہے۔

ایسے مقامات پر ادبیاتی نقطہ نظر سے غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے مصورانہ طرز ادا کی کیا قدر و قیمت ہے ؟ نظریاتی اور ذہنی تعبیروں کے مقابلے میں قرآن …

Al-Baqara 2:93Listen in Qur'an →
94

قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟

Al-Baqara 2:94Listen in Qur'an →
95

وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

لیکن ان اعمال کی وجہ سے، جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے، اور خدا ظالموں سے (خوب) واقف ہے

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟

Al-Baqara 2:95Listen in Qur'an →
96

وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٍۢ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍۢ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِۦ مِنَ ٱلْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے، مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں، خدا ان کو دیکھ رہا ہے

یہ موت کی تمنا اس لئے نہ کریں گے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو کمائی کی ہے ، اس پر انہیں عالم آخرت میں کسی اجر کی توقع نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ اس کے ذریعے وہ عذاب الٰہی سے بچ سکیں گے ۔ بلکہ عذاب تو وہاں ان کا منتظر ہے ۔ اللہ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی بداعمالیاں بھی اس کی نظر میں ہیں۔

صرف یہی نہیں ، بلکہ یہودیوں کے اندر ایک دوسری خصلت بھی پائی جاتی ہے ۔ قرآن کریم اس خصلت کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جس سے ان کی ذلت ، حقارت اور رذیل پنا ٹپکتا ہے ۔ قرآن کریم کہتا ہے وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ ” تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤگے ۔ “ کیسا جینا ؟ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے ، زندگی ہو ، چاہے جیسی ہو۔ ان کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ وہ زندگی باعزت بھی ہو۔ بس وہ تو صرف زندگی چاہتے ہیں ۔ چاہے وہ ذلت اور حقارت کی زندگی ہو ۔ زندگی اور عافیت ........ بس یہی یہودیوں کی حقیقت رہی ہے ۔ یہی یہودیوں کا ماضی ہے ، یہی حال ہے اور یہی مستقبل کا مطمح نظر ہے ۔ یہودی صرف اسی وقت سر اٹھاتے ہیں جب خطرہ دور ہوجاتا ہے ۔ جب تک خطرہ سروں پر قائم ہو وہ سر نہیں اٹھاتے ، ان کی گردنیں جھکی رہتی ہیں کیونکہ وہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انہیں زندہ رہنے سے بےحد محبت ہے ........ وہ کیسی زندگی چاہتے ہیں ؟

وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

” جب حیات کے معاملے میں یہ مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیئے ۔ حالانکہ لمبی لمبی عمر بہرحال انہیں عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی ۔ جیسے کچھ اعمال یہ کررہے ہیں اللہ تو انہیں دیکھ رہا ہے ۔ “

ان میں سے ہر صاحب ایک ہزار سال عمر کی تمنا رکھتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کے بارے میں کوئی پختہ یقین نہیں ہے ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس زندگی کے علاوہ بھی کوئی زندگی ہے ؟ اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے تو اس پر عرصہ حیات تنگ ہوجاتا ہے ۔ اسے اپنی دنیاوی زندگی بہت ہی تنگ نظر آتی ہے ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے صرف انہی معدودے چند گھنٹوں اور سانسوں کی مہلت ملی ہوئی ہے۔

” جب اس نقطہ نظر پر غور کیا جائے تو اخروی زندگی پر ایمان ، ایک عظیم نعمت ہے جو انسان کو بخشی گئی ہے ۔ ایسی نعمت جس کا فیضان ، ایمان کے ذریعے ، انسان کے دل پر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ یہ نعمت اس فانی انسان کو اس لئے عطا کرتا ہے کہ اسے اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں آرزوؤں کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے ، لہٰذا اسے زندگی کیتنگ دامانی کا احساس نہیں رہتا جو لوگ اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کردیتے ہیں ، اور اپنے لئے حیات دوام کا دروازہ بند کردیتے ہیں ، ان کے ذہنوں میں ” زندگی “ کا ایک ناقص اور مسخ شدہ تصور ہوتا ہے ۔ غرض یوم آخرت پر ایمان لانا تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور آخرت میں مکافات عمل پر ایمان لانا ہے ، دوسرے یہ کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ مومن کا وجود زندگی کی فیوض سے مالامال ہے ، اور اسے ایک ایسی دائمی زندگی بخشی گئی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ کسی سرحد پر جاکر رکتی ہے ، بلکہ یہ زندگی تمام سرحدوں سے گزر کر بقائے دوام کے حدود تک جاپہنچتی ہے ۔ اور جس کی انتہاء کا علم صرف اللہ کی ذات کو ہے ، یہ زندگی مستقلاً بلندیوں تک اٹھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وصال باری کی منزل تک جاپہنچتی ہے۔ “

اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو کی طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔ یہودیوں کو کھلا چیلنج دیا جاتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ؟

Al-Baqara 2:96Listen in Qur'an →
97

قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّۭا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

اس چیلنج کے ذریعے ہمیں یہودیوں کی ایک عجیب و غریب نئی خاصیت معلوم ہوجاتی ہے ۔ یہودیوں نے محض اس لئے کہ ایک غیر یہودی پر وحی نازل ہوئی ۔ شدید بغض میں مبتلا ہوگئے ، بلکہ انہوں نے بغج وحسد کا ریکارڈ قائم کردیا ہے اور اس سلسلے میں وہ حماقت کی حد تک جاپہنچے ہیں ایسی متضاد باتیں کررہے ہیں جن کی توقع کسی عقلمند انسان سے نہیں کی جاسکتی ۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوتے ہیں تو یہ لوگ حسد اور بغض کی وجہ سے جل بھن گئے اور ایک واہیات قصہ گھڑلیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) تو ان کے پرانے دشمن ہیں ، کیونکہ وہ ہمیشہ اللہ کا عذاب ان پر لاتے رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں بنی اسرائیل ہمیشہ تباہ وبرباد ہوتے رہے ہیں چونکہ محمد ﷺ کا تعلق حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے ہے ، اس لئے وہ اس پر ایمان نہیں لاتے ، اگر حضرت میکائیل وحی لاتے تو وہ ضرور ایمان لاتے کیونکہ حضرت میکائیل اللہ کے وہ فرشتے ہیں جو بارش ، تروتازگی اور انسانوں کے لئے خوشی کے سامان فراہم کرتے ہیں ۔ کیا واہیات دلیل ہے یہ ؟

ان کی اس احمقانہ بات پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے لیکن جب انسان بغض وحسد کا شکا رہوتا ہے تو اس کی جانب سے اس سے بھی کہیں بڑی حماقتوں کا صدور ہونا کوئی امر بعید نہیں ہوتا۔ کیونکہ جبرئیل کوئی انسان نہ تھے کہ وہ کسی سے دشمنی کرسکیں یا وہ کسی کے ساتھ ازخود کوئی دوستی گانٹھ سکیں ۔ وہ اپنی مرضی سے کوئی کام کرنے کی سرے سے قدرت ہی نہ رکھتے تھے۔ حضرت جبرئیل فرشتہ ہونے کی وجہ سے ، اللہ کے احکامات کی سرتابی نہیں کرسکتے تھے وہ وہی کرتے تھے جس کا انہیں حکم دیا جاتا تھا۔

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ ” کہو اگر کسی کو جبرئیل سے عداوت ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرئیل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔ “

جبرئیل (علیہ السلام) نہ ذاتی رجحان رکھتے تھے اور نہ انہوں نے آپ کے دل پر قرآن کریم اپنے ذاتی ارادے سے نازل کیا تھا۔ وہ تو صرف ارادہ الٰہی کو نافذ کرنے والے تھے اور آپ کے قلب پر نزول قرآن کا کام وہ اللہ کے احکامات کے تحت کررہے تھے ۔ قرآن کریم کا نزول دل پر ہورہا تھا ۔ دل ہی دراصل محل ادراک ہے اور وہی ہے جو ادراک کے بعد معانی کو سمجھتا ہے اور مدرکات کو محفوظ رکھتا ہے۔ قرآن کریم انسان کی قوت مدرکہ کی تعبیر ” قلب “ سے کرتا ہے لہٰذا قلب مدرک سے مراد خون اور گوشت کا معروف طبیعی لوتھڑا نہیں ہے بلکہ وہ ملکہ ہے جو فہم وادراک کا کام کرتا ہے ۔

جبرئیل نے آپ ﷺ کے قلب پر اس حال میں قرآن اتارا کہ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ” جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق وتائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔ “

قرآن کریم اصولی طور پر تمام سابقہ کتب کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ تمام سماوی کتب اور تمام الٰہی ادیان کی اساسی تعلیمات ایک ہی تھیں اور وہ صرف مومنین کے لئے ہدایت اور پیغام مسرت ہے کیونکہ اس کی تعلیمات کے لئے صرف ایک مومن دل ہی کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ مومن ہی اس کی تعلیمات پت لبیک کہتے ہیں ۔ یہ ایک نہایت اہم حقیقت ہے جس کا کھول کر بیان کرنا نہایت ضروری ہے ۔ قرآن کریم کی آیات دل مومن کے اندر اس قدر انس پیدا کرتی ہیں ۔ اس کے اندر معرفت وادراک کی ایسی راہیں کھولتی ہیں اور اس کے اندر ایک ایسا شعور اور احساس پیدا کردیتی ہیں جن سے ہر وہ دل محروم رہتا ہے جس میں ایمان نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ قلب مومن کو قرآن کریم میں ہدایت ملتی ہے اور اس کے لئے اس پیغام میں مسرت ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو مختلف مقامات کے اندر بیان کیا ہے ۔” ھُدًی لِلمُتَّقِینَ ، متقین کے لئے ہدایت ہے۔ “” ھُدًی لِّقَومٍ یُّؤمِنُونَ ، وہ اس قوم کے …

Al-Baqara 2:97Listen in Qur'an →
98

مَن كَانَ عَدُوًّۭا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوٌّۭ لِّلْكَٰفِرِينَ

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ ” جو اللہ کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرئیل اور میکائیل کے دشمن ہیں ، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ “

اس کے بعد روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ پر جو سچائی اور کھلی نشانیاں نازل ہورہی ہیں ، آپ ان پر جم جائیں ۔ سوائے فساق وفجار کے اور کوئی ان کا منکر نہیں ہوسکتا ۔ اور بنی اسرائیل کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے ۔ چاہے وہ عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہو یا انبیائے سابقین کے ساتھ کیا ہو۔ یا وہ عہد انہوں نے نبی آخرالزمان کے ساتھ کیا ہو ۔ قرآن کریم ان کی مذمت کرتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی کتاب الٰہی کو پس پشت ڈال دیا ہے جو ان کی تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو خود ان کے پاس موجود ہیں ۔

Al-Baqara 2:98Listen in Qur'an →
99

وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍۢ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ إِلَّا ٱلْفَٰسِقُونَ

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں

یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب کھول کر بیان کردئیے ہیں جن کی بناء پر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی ان واضح آیات کا انکار کررہے تھے جو خود اللہ کی جانب سے نازل ہوئی تھیں ۔ یعنی وہ لوگ فسق وفجور میں مبتلا تھے ۔ ان کی فطرت بگڑی ہوئی تھی کیونکہ فطرت سلیمہ کے لئے تو اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہ تھا کہ وہ ان آیات پر ایمان لے آئے اگر دل میں کجی نہ ہو تو یہ آیات از خود اپنے آپ کو منواتی ہیں اور یہودیوں نے کفر کا جو رویہ اختیار کیا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی آیات میں دلائل کی کچھ کمی ہے یا وہ تشفی بخش نہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ خود ان کی فطرت بگڑ چکی ہے اور وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

اس کے بعد روئے سخن مسلمانوں اور تمام دوسرے انسانوں کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یہودیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کی صفات رذیلہ میں سے ایک دوسری صفت کو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں بھی مختلف خواہشات اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ اپنے اس مذموم تعصب کے باوجود ان کے درمیان قدر مشترک ہے ۔ وہ کسی ایک رائے پر جمتے بھی نہیں نہ ہی وہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ وہ کسی ایک رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ۔ اگرچہ وہ اپنے ذاتی مفاد اور اپنے قومی مفاد کے سلسلے میں پرلے درجے کے خود غرض ہیں اور اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے سوا کسی اور کو بھی اللہ کا فضل وکرم نصیب ہو۔ لیکن اس قومی تعصب کے ہوتے ہوئے بھی وہ باہم متحد نہیں ہیں۔ وہ خود ایک دوسرے کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی بھی نہیں کرتے ۔ جب بھی وہ آپس میں کوئی پختہ عہد کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک گروہ اٹھ کر اسے توڑ دیتا ہے اور ان کے اس متفقہ فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

Al-Baqara 2:99Listen in Qur'an →
100

أَوَكُلَّمَا عَٰهَدُوا۟ عَهْدًۭا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٌۭ مِّنْهُم ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں

أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يُؤْمِنُونَ ” کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرورہی بالائے طاق رکھ دیا بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ “

انہوں نے کوہ طور کے نیچے اللہ کے ساتھ پختہ پیمان باندھا اور بعد میں اس کی خلاف ورزی کی ۔ نبی ﷺ سے قبل آنے والے پیغمبروں کے ساتھ انہوں نے جو عہد کئے ان کی خلاف ورزی کی اور نبی ﷺ نے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد یہودیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا اسے بھی انہوں نے پس پشت ڈال دیاحالان کہ اس معاہدے میں ان کے ساتھ شرائط طے کی گئی تھیں اور انہوں نے پہل کرکے حضور ﷺ کے دشمنوں سے معاونت کی ، نبی ﷺ کے پیش کردہ نظام زندگی پر تنقید شروع کردی اور مسلمانوں کے اندرانتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ حالانکہ یہ سب باتیں میثاق مدینہ کے خلاف تھیں۔

یہ تھی بنی اسرائیل کی مذموم عادت جب کہ مسلمانوں کا رویہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں ” مسلمانوں کے خون باہم مساوی ہیں اور وہ سب دوسروں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ان میں ادنیٰ ترین آدمی بھی سب کی طرف سے امان دے سکتا ہے ۔ “ اور جب وہ کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو ان میں سے کسی کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ اسے توڑے یا اس کی خلاف ورزی کرے۔

حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ان کمانڈر انچیف حضرت ابوعبیدہ ؓ نے لکھا کہ عراق کے ایک گاؤں والوں کو ہمارے ایک غلام نے امان دے دی ہے ۔ اب ہم ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں ؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے معاہدے کی پابندی کرنے کو ایک عظیم فریضہ قرار دیا ہے ۔ اور جب تک آپ لوگ اپنے اس عہد کو پورانہ کریں گے اس وقت تک آپ کو وفادار نہیں کہا جاسکتا۔ چناچہ انہوں نے اس عہد پر عمل کرتے ہوئے اس شہر کے باشندوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔

Al-Baqara 2:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.