قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا ذَلُولٌۭ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌۭ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٰٔنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ
موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، بے شک اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ذبح کرو تم ایک گائے، انھوں نے کہا، کیا بناتا ہے تو ہمیں ہنسی مذاق؟ موسیٰ نے کہا، پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی، اس بات سے کہ ہو جاؤں میں جاہلوں سے(67) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، وہ بیان کرے ہمارے لیے کیسی ہے وہ گائے؟ کہا موسیٰ نے، بلاشبہ اللہ کہتا ہے کہ بے شک وہ ایک گائے ہے، نہ بوڑھی اور نہ بچی، اوسط عمر کی ہے درمیان اس کے، پس کرو وہ جو تم حکم دیے جاتے ہو(68) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے کیسا ہے رنگ اس کا؟ کہا موسیٰ نے، اللہ فرماتا ہے بلاشبہ وہ ایک گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو انھوں نے کہا، دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے، کس قسم کی ہے وہ گائے؟ بے شک وہ گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر(69)اور یقیناً ہم، اگر چاہا اللہ نے، تو ضرور راہ پا لیں گے(70)(موسیٰ نے) کہا، بے شک اللہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ وہ ایک گائے ہے، نہیں ہے محنت کرنے والی کہ (بذریعہ ہل) پھاڑتی ہو زمین کو اور نہیں سیراب کرتی کھیتی کو، بے عیب ہے، نہیں ہے کوئی داغ دھبہ اس میں، انھوں نے کہا، اب لایا ہے تو حق، پس ذبح کیا انھوں نے اس کو اور نہ قریب تھے وہ کہ (ذبح) کرتے(71) اور جب قتل کیا تم نے ایک نفس کو، پھر جھگڑا کیا تم نے اس کی بابت اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے اس کو جسے تھے تم چھپاتے(72)پس کہا ہم نے، مارو تم اس مردے کو ایک ٹکڑا اس (گائے) کا، اس طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کواور وہ دکھاتا ہے تمھیں نشانیاں اپنی (قدرت کی) تاکہ تم سمجھو(73) پھر سخت ہو گئے دل تمھارے بعد اس کے، پس ہیں وہ مانند پتھروں کے یا (ان سے بھی) زیادہ سخت ،اور تحقیق کچھ پتھر البتہ وہ ہیں کہ پھوٹتی ہیں ان سے نہریں اور بلاشبہ کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ پھٹ پڑتے ہیں، پس نکلتا ہے ان سے پانی ،اورتحقیق کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سےاور نہیں اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(74)
[67] ان واقعات کو یاد کرو جو تمھارے اور موسیٰuکے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہو جاتے۔ حضرت موسیٰuنے قاتل کو تلاش کرنے کے لیے تمھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے ﴿اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ ’’کیا تو ہمارے ساتھ مذاق کرتا ہے۔‘‘ اللہ کے نبی نے فرمایا: ﴿ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہل بنوں۔‘‘ کیونکہ جاہل ہی ایسی بات کیا کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہی لوگوں کا تمسخر اڑایا کرتا ہے۔ عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے جیسے کسی آدمی کا مذاق اڑانا عقل و دین کا سب سے بڑا عیب ہے۔ اگرچہ اسے اس آدمی پر فضیلت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ فضیلت تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ جب حضرت موسیٰuنے ان سے یہ کہا تو انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ سچ ہے۔
[68] کہنے لگے ﴿ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ﴾ ’’اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟‘‘ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے ﴿ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ﴾ ’’موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہ ہو‘‘ ﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَا بِكۡرٌ﴾ یعنی نہ …