Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 61–70 of 286

61

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍۢ وَٰحِدٍۢ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ مِنۢ بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ ٱلَّذِى هُوَ أَدْنَىٰ بِٱلَّذِى هُوَ خَيْرٌ ۚ ٱهْبِطُوا۟ مِصْرًۭا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۦنَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں نے (یوں) کہا کہ اے موسیٰ (روز کے روز) ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر بھی کبھی نہ رہیں گے (یعنی من وسلویٰ پر) آپ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کریں جو زمین میں اگا کرتی ہیں ساگ (ہوا) ککڑی (ہوئی) گیھوں (ہوا) مسور (ہوئی) پیاز (ہوئی) آپ نے فرمایا کیا تم عوض میں لینا چاہتے ہو، ادنی درجہ کی چیزوں کو ایسی چیز کے مقابلہ میں جو اعلیٰ درجہ کی ہے (اچھا اگر نہیں مانتے تو) کسی شہر میں (جاکر) اترو (وہاں) البتہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کی تم درخواست کرتے ہو اور (ایسی ایسی گستاخیوں سے ایک زمانہ میں جاکر نقش کی طرح) جم گئی ان پر ذلت (کہ دوسروں کی نگاہ میں قدر نہ رہی) اور پستی (کہ خود ان کی طبائع میں اولو العزمی نہ رہی) اور مستحق ہوگئے غضب الہی کے (اور) یہ (ذلت وغضب) اس وجہ سے (ہوا) کہ وہ لوگ منکر ہوجاتے تھے احکام الہیہ کے اور قتل کردیا کرتے تھے پیغمبروں کو (کہ وہ قتل خود ان کے نزدیک بھی) ناحق (ہوتا تھا) اور (نیز) یہ (ذلت وغضب) اس وجہ سے (ہوا) کہ ان لوگوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ (اطاعت) سے نکل نکل جاتے تھے،- فائدہ : یہ قصہ بھی وادی تیہ کا ہے من وسلویٰ سے اکتا کر ان ترکاریوں اور غلوی کی درخواست کی اس میدان کے داخل حدود میں کوئی شہر آباد تھا وہاں جاکر رہنے کا حکم ہوا کہ بؤ و جو تو کھاؤ کماؤ ،- اور منجملہ ذلت ومسکنت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کیلئے چھین لی گئی البتہ بالکل قیامت کے قریب محض لٹیروں کا سا بےضابطہ تھوڑا زور شور دجال یہودی کا کل چالیس دن کے لیے ہوجائے گا اور اس کو کوئی عاقل سلطنت نہیں کہہ سکتا اور ان کو یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت جتلادی گئی تھی کہ اگر بےحکمی کرو گے تو ہمیشہ دوسری قوموں سے محکوم رہو گے جیسا کہ سورة اعراف کی آیت وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، (١٦٧: ٧) میں مذکور ہے (موجودہ اسرائیل حکومت کی حیثیت بھی امریکہ اور برطانیہ کے غلام سے زیادہ کچھ نہیں) - اور بہت سے پیغمبر مختلف اوقات میں یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے جس کو وہ لوگ بھی دل میں سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ فعل ناحق ہے لیکن عناد اور ضد نے اندھا بنا رکھا تھا،- معارف و مسائل :- یہودیوں پر ابدی ذلت کا مطلب اور اسرائیل کی موجودہ حکومت سے شبہ اور اس کا جواب :- آیات مذکورہ میں یہود کی سزا دنیا میں دائمی ذلت ومسکنت اور دنیا وآخرت میں غضب الہی کو بیان کیا گیا ہے، ان کی دائمی ذلت ومسکنت کا مفہوم جو ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے منقول ہے اس کا خلاصہ ابن کثیر کے الفاظ میں یہ ہے کہ لا یزالون مستذلین من وجدہم استذلہم وضرب علیم الصغار یعنی وہ کہتے ہی مالدار بھی ہوجائیں ہمیشہ تمام اقوام میں ذلیل و حقیر ہی سمجھے جائیں گے جس کے ہاتھ لگیں گے ان کو ذلیل کرے گا اور ان پر غلامی کی علامتیں لگادے گا،- امام تفسیر ضحاک ابن مزاحم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ان کی ذلت ومسکنت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے کہ ہم اہل القبالات یعنی لا جزیۃ مطلب یہ ہے کہ یہودی ہمیشہ دوسروں کی غلامی میں رہیں گے ان کو ٹیکس وغیرہ ادا کرتے رہیں گے خود ان کو کوئی قوت و اقتدار حاصل نہ ہوگا،- اس مضمون کی ایک آیت سورة آل عمران میں ایک زیادتی کے ساتھ اس طرح آئی ہے،- ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (١١٢: ٣) جمادی گئی ان پر بےقدری جہاں کہیں جائیں گے مگر ہاں ایک تو ایسے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایک ایسے ذریعہ سے جو آدمیوں کی طرف سے ہو۔ - اللہ تعالیٰ کے ذریعہ کا مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے قانون میں امن دے دیاہو جیسے نابالغ بچے، عورتیں یا …

Al-Baqara 2:61Listen in Qur'an →
62

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے

خلاصہ تفسیر :- اس مقام پر یہودیوں کی شرارت کا حال معلوم کرکے سامعین کو یا خود یہود کو یہ خیال گذر سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر عذر پیش کرکے ایمان لانا بھی چاہئیں تو غالبا وہ اللہ کے نزدیک قبول نہ ہو اس خیال کو دفع کرنے کے لئے اس آیت میں ایک قانون اور ضابطہ ذکر فرمایا کہ یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان یہودی اور نصارٰی اور فرقہ صابئین (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ تعالیٰ (کی ذات وصفات) پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (موافق قانون شریعت کے) ایسوں کے لئے ان کا حق الخدمت بھی ہے ان کے پروردگار کے پاس (پہنچ کر) اور (وہاں جاکر) کسی طرح کا اندیشہ بھی نہیں ان پر اور نہ وہ مغموم ہوں گے،- فائدہ : قانون کا حاصل ظاہر ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی تخصیص نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو ہمارے ہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور ظاہر ہے کہ نزول قرآن کے بعد پوری اطاعت محمدی یعنی مسلمان ہونے میں منحصر ہے مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجائے گا مستحق نجات اخروی ہوگا اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا یعنی ان شرارتوں کے بعد بھی اگر مسلمان ہوجائیں تو ہم سب معاف کردیں گے،- اور صابئین ایک فرقہ تھا جس کے معتقدات اور طرز عمل کے بارے میں چونکہ کسی کو پورا پتہ نہ چلا اس لئے مختلف اقوال ہیں واللہ اعلم،- اور اس قانون میں بظاہر تو مسلمان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن اس سے کلام پاک میں ایک خاص بلاغت اور مضمون میں ایک خاص وقعت پیدا ہوگئی اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص بھی اطاعت کرے گا مورد عنایت ہوگا اب ظاہر ہے کہ موافق تو اطاعت کر ہی رہا ہے سنانا تو اصل میں مخالف کو ہے لیکن اس میں نکتہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو جو موافقین پر عنایت ہے سو اس کی علت ان سے کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان کی صفت موافقت پر مدار ہے ہماری عنایت کا سو اگر مخالف بھی اختیار کرلے تو وہ بھی اس موافق کے برابر ہوجائے گا اس لئے مخالف کے ساتھ موافق کو بھی ذکر کردیا گیا،

Al-Baqara 2:62Listen in Qur'an →
63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا (کہ توراۃ پر عمل کریں گے) اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) ہم نے طور پہاڑ کو اٹھا کر تمہارے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا (اور اس وقت کہا) کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی توراۃ) مضبوطی کے ساتھ اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ ،- فائدہ : جب موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر تورات عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو وہ دکھائی اور سنائی تو اس میں احکام ذرا سخت تھے مگر ان لوگوں کی حالت کے مطابق ایسے ہی احکام مناسب تھے تو اول تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ جب ہم سے اللہ تعالیٰ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے تب مانیں گے (جس کا قصہ اوپر گذر چکا ہے) غرض وہ ستر آدمی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں (اپنی طرف سے) اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ فرما دیا تھا کہ تم سے جس قدر عمل ہوسکے کرنا جو نہ ہوسکے معاف ہے تو کچھ جبلی شرارت کچھ احکام کی مشقت اور کچھ اس آمیزش کا حلیہ ملا غرض صاف کہہ دیا کہ ہم سے تو اس کتاب پر عمل نہیں ہوسکتا حق تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو مانو ورنہ ابھی گرا، آخرچار ناچار ماننا پڑا،- ایک شبہ کا ازلہ : یہاں ہوسکتا ہے کہ دین میں تو اکراہ نہیں ہے یہاں کیوں اکراہ کیا گیا ؟- جواب یہ ہے کہ اکراہ ایمان لانے پر نہیں بلکہ اول اپنی خوشی سے ایمان واسلام قبول کرلینے اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے ہے باغیوں کی سزا تمام حکومتوں میں بھی عام مخالف اور دشمن قوموں سے الگ ہوتی ہے ان کے لئے ہر حکومت میں دو ہی راستے ہوتے ہیں یا اطاعت قبول کریں یا قتل کئے جائیں اسی وجہ سے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے کفر کی سزا قتل نہیں ،

Al-Baqara 2:63Listen in Qur'an →
64

ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَكُنتُم مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

خلاصہ تفسیر :- پھر تم اس قول وقرار کے بعد بھی (اس سے) پھرگئے سو اگر تم لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم نہ ہوتا (تو اس عہد شکنی کا مقتضا تو یہ تھا کہ) ضرور تم (فورا) تباہ (اور ہلاک) ہوجاتے (مگر ہماری عنایت و رحمت عامہ ہے کہ حیات مستعار کے ختم ہونے تک مہلت دے رکھی ہے لیکن کب تک ؟ آخر بعد از مرگ وبال اعمال میں مبتلا ہوگے) - فائدہ : حق تعالیٰ کی رحمت عامہ دنیا میں مومن کافر سب پر ہے جس کا اثر عافیت اور دنیوی راحت ہے رحمت خاصہ کا ظہور آخرت میں ہوگا جس کا اثر نجات اور قرب خداوندی ہے،- بظاہر اس آیت کے جزو آخر کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں موجود تھے چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور مثال فرمایا گیا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا پہلے بےایمانوں اور عہد شکونوں پر ہوتا رہا یہ محض خدا کی رحمت ہے، اور چونکہ اب از روئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت ہے اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے،- اس مضمون کی تائید کے لئے گذشتہ بےایمانوں کا ایک واقعہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے،

Al-Baqara 2:64Listen in Qur'an →
65

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوْا۟ مِنكُمْ فِى ٱلسَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

خلاصہ تفسیر :- اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے (حد شرع سے) تجاوز کیا تھا دوبارہ (اس حکم کے جو) ہفتہ کے دن کے (متعلق تھا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کریں) سو ہم نے ان کو (اپنے حکم قہری تکوینی سے مسخ کرنے کے لئے) کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ (چنانچہ وہ بندروں کے قالب میں مسخ ہوگئے) پھر ہم نے اس کو ایک (واقعہ) عبرت (انگیز) بنادیا ان لوگوں کے لئے بھی جو قوم کے معاصر تھے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مابعد کے زمانے میں آتے رہے اور (نیز اس واقعہ کو) موجب نصیحت (بنایا، خدا سے) ڈرنیوالوں کے لئے، - فائدہ : یہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا دن معظم اور عبادت کے لئے مقرر تھا اور مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے اور مچھلی کے شوقین تھے اس حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسخ صورت کا عذاب نازل ہوا تین دن کے بعد وہ سب مرگئے،- اس واقعہ کو دیکھنے اور سننے والے دو قسم کے لوگ تھے فرمانبردار و نافرمان تو نافرمانوں کے لئے تو یہ واقعہ نافرمانی سے توبہ کرانے والا تھا اس لئے اس کو نکال فرمایا اور فرمانبرداروں کو یہ واقعہ فرمانبرداری پر قائم رکھنے والا تھا اس کو موعظۃ فرمایا،- معارف و مسائل :- دینی معاملات میں کوئی ایسا حیلہ جس سے اصل حکم شرعی باطل ہوجائے حرام ہے،:- اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتداء یعنی حدود سے تجاوز کا ذکر کرکے اس کو سبب عذاب بتلایا گیا ہے روایات سے ثابت ہے کہ وہ صاف طور پر حکم شرعی کی خلاف ورزی نہ تھی بلکہ ایسے حیلے تھے جن سے حکم شرعی کا ابطال لازم آتا تھا مثلاً ہفتہ کے دن مچھلی کی دم میں ایک پھندا لگا کر دریا میں چھوڑ دیا اور یہ ڈور زمین پر کسی چیز سے باندھ دی پھر اتوار کے روز اس کو پکڑ کر کھالیا تو یہ ایک ایسا حیلہ ہے جس میں حکم شرعی کا ابطال بلکہ ایک قسم کا استہزاء ہے اس لئے ایسا کرنے والوں کو بڑا سرکش نافرمان قرار دے کر ان پر عذاب آیا،- مگر اس سے ان فقہی حیلوں کی حرمت ثابت نہیں ہوتی جن میں سے بعض خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلائے ہیں مثلاً ایک سیر عمدہ کھجور کے بدلے دو سیر خراب کھجور خریدنا سود میں داخل ہے مگر اس سے بچنے کا ایک حیلہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتلایا کہ جنس کو تبادلہ جنس سے نہ کرو قیمت کے ذریعہ خریدو فروخت کرلو مثلا دو سیر خراب کہجوریں دو درہم میں فروخت کردیں پھر ان دو درہموں میں سے ایک سیر عمدہ کھجور خریدلی تو یہاں حکم شرعی کی تعمیل مقصود ہے، ابطلال نہ مقصود ہے نہ واقع ہے اسی طرح بعض دوسرے مسائل میں بھی فقہا نے حرام سے بچنے کی بعض ایسی ہی تدبیریں بتلائی ہیں ان کو یہودیوں کے حیلوں کی طرح کہنا اور سمجھنا غلط ہے،- واقعہ مسخ صورت یہود :- تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہود نے اول اول تو اس طرح کے حیلے کرکے مچھلیاں پکڑیں پھر ہوتے ہوتے عام طور پر شکار کھیلنے لگے تو ان میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت علماء وصلحا کی تھی جنہوں نے ان کو ایسا کرنے سے روکا یہ باز نہ آئے تو ان سے برادرانہ تعلقات قطع کرکے بالکل الگ ہوگئے اور بستی کے دو حصے کرلئے ایک یہ نافرمان لوگ رہ گئے دوسرے میں علماء وصلحاء رہے ایک روز ان کو یہ محسوس ہوا کہ جس حصہ میں یہ نافرمان لوگ رہتے تھے ادھر بالکل سناٹا ہے تو وہاں جاکر دیکھا تو سب کے سب بندروں کی صورت میں مسخ ہوگئے تھے اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ان کے جوان بندر بنا دئیے گئے تھے اور بوڑھے خنزیر کی شکل میں منتقل کردئیے گئے تھے اور مسخ شدہ بندر اپنے رشتہ دار اور تعلق والے انسانوں کو پہچانتے تھے ان کے قریب آکر روتے تھے،- ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلتی :- اس معاملہ میں صحیح بات وہ ہے جو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بروایت عبداللہ بن مسعود …

Al-Baqara 2:65Listen in Qur'an →
66

فَجَعَلْنَٰهَا نَكَٰلًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ

اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا

Explained together with ayah 65

Al-Baqara 2:66Listen in Qur'an →
67

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا۟ بَقَرَةًۭ ۖ قَالُوٓا۟ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًۭا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے، کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ (اگر اس لاش کے قاتل کا پتہ لگانا چاہتے ہو تو) تم ایک بیل ذبح کرو وہ کہنے لگے کہ آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں (کہاں قاتل کی تحقیق کہاں جانور کا ذبح کرنا) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا نعوذ باللہ جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں (کہ احکام خداوندی میں تمسخر کرنے لگوں) - فائدہ : یہ قصہ اس طرح ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا جس کی وجہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں یہ لکھی ہے کہ کسی شخص نے مقتول کی کسی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی مگر اس نے انکار کردیا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا قاتل لاپتہ تھا اس کا پتہ نہ لگتا تھا۔- اور معالم نے کلبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس وقت تک توریت میں اس کے متعلق کوئی شرعی قانون بھی نازل نہیں ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ نزول تورات سے قبل کا ہے غرض بنی اسرائیل نے موسیٰ ٰعلیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ چلے آپ نے بحکم خداوندی ایک بیل ذبح کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے حسب عادت اور اپنی جبلت کے مطابق اس میں حجتیں نکالنا شروع کیں آیات آئندہ میں اسی کی تفصیل ہے،

Al-Baqara 2:67Listen in Qur'an →
68

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا فَارِضٌۭ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَٱفْعَلُوا۟ مَا تُؤْمَرُونَ

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو

خلاصہ تفسیر :- وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ ( میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے رب سے دریافت کردیجئے کہ (اول بار کے سوال کا جواب ذرا اور واضح) ہم سے بیان کردیں کہ اس کے اوصاف کیا کیا ہوں کیونکہ ہم کو اس بیل میں (قدرے) اشتباہ (یہ باقی) ہے (کہ وہ معمولی بیل ہوگا یا کوئی اور عجیب و غریب جس میں تحقیق قاتل کا خاص اثر ہو) اور ہم ضرور انشاء اللہ تعالیٰ (اب کی بار) ٹھیک سمجھ جاویں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ حق تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ وہ (کوئی عجیب و غریب جانور نہیں ہے یہی معمولی بیل ہے البتہ عمدہ ہونا چاہئے کہ اوصاف مذکورہ کے ساتھ) نہ تو ہل میں چلا ہوا ہو، جس سے زمین جوتی جاوے اور نہ (کنویں میں جوڑا گیا ہو کہ) اس سے زراعت یا آبپاشی کی جاوے غرض ہر قسم کے عیب سے) سالم ہو اور اس میں (کسی طرح کا) کوئی داغ نہ ہو (یہ سن کر) کہنے لگے کہ (ہاں) اب آپ نے پوری (اور صاف) بات فرمائی (القصہ جانور تلاش کرکے خریدا) پھر اس کو ذبح کردیا حالانکہ بظاہر کرتے ہوئے معلوم نہ ہوتے تھے،- فائدہ : حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ یہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے ذمہ نہ ہوتیں جو بھی بقرہ ذبح کردیا جاتا کافی ہوجاتا،

Al-Baqara 2:68Listen in Qur'an →
69

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ صَفْرَآءُ فَاقِعٌۭ لَّوْنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّٰظِرِينَ

انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو

Explained together with ayah 68

Al-Baqara 2:69Listen in Qur'an →
70

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ إِنَّ ٱلْبَقَرَ تَشَٰبَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهْتَدُونَ

انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی

Explained together with ayah 68

Al-Baqara 2:70Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.