Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 51–60 of 286

51

وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:51Listen in Qur'an →
52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:52Listen in Qur'an →
53

وَإِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:54Listen in Qur'an →
55

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:55Listen in Qur'an →
56

ثُمَّ بَعَثْنَٰكُم مِّنۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:56Listen in Qur'an →
57

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے، وہ دیتے تھے تمھیں سخت عذاب، ذبح کرتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری بیٹیوں کو اوراس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بڑی(49) اور جب پھاڑا ہم نے تمھاری وجہ سے سمندر کو، پھر نجات دی ہم نے تمھیں اورغرق کر دیا ہم نے آل فرعون کو اور تم دیکھ رہے تھے(50) اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ظالم تھے(51) پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو بعد اس کے، شاید کہ تم شکر کرو(52) اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والی چیز، شاید کہ تم ہدایت پاؤ(53) اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے،اے میری قوم! بے شک تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر بوجہ بنا لینے تمھارے بچھڑے کو (معبود) پس توبہ کرو تم طرف اپنے پیدا کرنے والے کی اور قتل کرو تم اپنے آپ کو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے نزدیک تمھارے پیدا کرنے والے کے ، پھر اللہ متوجہ ہوا تم پر، بلاشبہ وہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(54) اور جب کہا تم نے، اے موسیٰ! ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے تجھ پر یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ (سامنے) پس پکڑ لیا تم کو بجلی (کے عذاب) نےاور تم دیکھ رہے تھے (55)، پھر زندہ کیا ہم نے تم کو، بعد تمھاری موت کے، شاید کہ تم شکر کرو(56) اور سایہ کیا ہم نےتم پربادلوں کا اور نازل کیا ہم نے تم پر من اور سلویٰ، کھاؤ تم (ان)پاکیزہ چیزوں سے، جو دیں ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے(57)

[54-49]﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ ﴾یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انھیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ﴿يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوٓءَ الۡعَذَابِ﴾ وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب ۔یعنی ایذا پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے﴿يُذَبِّحُوۡن اَبۡنَآءَ كُمۡ﴾ اور وہ یہ کہ تمھارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمھاری تعداد بڑھ نہ جائے ﴿وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَ كُمۡ﴾ ’’اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تمھاری حالت یہ تھی کہ یا تو تمھیں قتل کر دیا جاتا تھا یا تم سے مشقت کے کام لے کر تمھیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اور تمھیں احسان کے طور پر اور اظہار غلبہ کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔ یہ توہین اور اہانت کی انتہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل نجات عطا کر کے اور ان کے آنکھوں دیکھتے ان کے دشمن کو غرق کر کے ان پر احسان فرمایا۔ تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔ ﴿وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’اور اس میں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس نجات عطا کرنے میں ﴿بَلَآءٌ مِنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ پس یہ چیز تم پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے احکامات کی اطاعت کو واجب کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ(u)کے ساتھ چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان پر تورات نازل کرے گا جو عظیم نعمتوں اور مصالح عامہ کو متضمن ہو گی۔ پھر وہ اس میعاد کے مکمل ہونے تک صبر نہ کر سکے چنانچہ انھوں نے حضرت موسیٰuکے چلے جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کر دی ﴿وَاَنۡتُمۡ ظَالِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم ظالم تھے‘‘ یعنی اپنے ظلم کو جاننے والے۔ تم پر حجت قائم ہو گئی۔ پس یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی موسیٰ(u)کی زبان پر تمھیں توبہ کرنے کا حکم دیا۔ اور اس توبہ کی صورت یہ تھی کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے تمھیں معاف کر دیا ﴿لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

[55]﴿وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يَامُوۡسٰي لَنۡ نُؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَۃً﴾ …

Al-Baqara 2:57Listen in Qur'an →
58

وَإِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ فَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًۭا وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَٰيَٰكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

اور جب کہا ہم نے، داخل ہو تم اس بستی میں اور کھاؤاس میں سے جہاں سےچاہو تم فراغت سے اور داخل ہو تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہو بخش دے ہمیں، تو معاف کر دیں گے ہم تمھاری خطائیں اور عنقریب زیادہ دیں گے ہم احسان کرنے والوں کو(58) پس بدل دیا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہی گئی تھی ان سے، تو نازل کیا ہم نے اوپران لوگوں کے جنھوں نےظلم کیا، عذاب آسمان سے، اس وجہ سے کہ تھے وہ نافرمانی کرتے(59)

[58] یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہو جائیں یہ بستی ان کے لیے باعثِ عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہو گی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بے روک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں ﴿سُجَّدًا﴾ ’’سجدے کی حالت میں‘‘ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں داخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول وہ ﴿حِطَّۃٌ﴾ ’’بخش دے‘‘ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کر دی جائیں۔ ﴿نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰؔكُمۡ﴾ تمھارے مغفرت کے سوال کرنے پر وہ تمھاری خطائیں معاف کر دے گا ﴿وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی بھلائی کا کام کرنے والوں کو ہم دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کی جزا زیادہ دیں گے۔

[59]﴿فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی ان لوگوں نے اس قول کو بدل دیا تھا جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (فَبَدَّلُوْا) ’’ان سب نے بدل دیا‘‘ نہیں فرمایا کیونکہ سب لوگ قول کو بدلنے والے نہ تھے ﴿قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ ’’بات، سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی توہین اور اس سے استہزا کرتے ہوئے حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ حِنْطَۃٍ) کا لفظ کہا۔ جب ’’قول‘‘ کو باوجود اس کے کہ وہ آسان تھا، انھوں نے اسے بدل دیا تو ’’فعل‘‘ کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے، اس لیے وہ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے برعکس) اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے۔ چونکہ یہ سرکشی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے واقع ہونے کا سب سے بڑا سبب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَاَنۡزَلۡنَا عَلَي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا﴾ یعنی ان میں سے ظالموں پر عذاب نازل کیا۔ ﴿مِنَ السَّمَآءِ﴾ یعنی ان کی نافرمانی اور ان کے بغاوت کے رویہ کے سبب سے (آسمان سے یہ عذاب نازل ہوا۔)

Al-Baqara 2:58Listen in Qur'an →
59

فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

اور جب کہا ہم نے، داخل ہو تم اس بستی میں اور کھاؤاس میں سے جہاں سےچاہو تم فراغت سے اور داخل ہو تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہو بخش دے ہمیں، تو معاف کر دیں گے ہم تمھاری خطائیں اور عنقریب زیادہ دیں گے ہم احسان کرنے والوں کو(58) پس بدل دیا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہی گئی تھی ان سے، تو نازل کیا ہم نے اوپران لوگوں کے جنھوں نےظلم کیا، عذاب آسمان سے، اس وجہ سے کہ تھے وہ نافرمانی کرتے(59)

[58] یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہو جائیں یہ بستی ان کے لیے باعثِ عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہو گی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بے روک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں ﴿سُجَّدًا﴾ ’’سجدے کی حالت میں‘‘ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں داخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول وہ ﴿حِطَّۃٌ﴾ ’’بخش دے‘‘ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کر دی جائیں۔ ﴿نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰؔكُمۡ﴾ تمھارے مغفرت کے سوال کرنے پر وہ تمھاری خطائیں معاف کر دے گا ﴿وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی بھلائی کا کام کرنے والوں کو ہم دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کی جزا زیادہ دیں گے۔

[59]﴿فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی ان لوگوں نے اس قول کو بدل دیا تھا جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (فَبَدَّلُوْا) ’’ان سب نے بدل دیا‘‘ نہیں فرمایا کیونکہ سب لوگ قول کو بدلنے والے نہ تھے ﴿قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ ’’بات، سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی توہین اور اس سے استہزا کرتے ہوئے حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ حِنْطَۃٍ) کا لفظ کہا۔ جب ’’قول‘‘ کو باوجود اس کے کہ وہ آسان تھا، انھوں نے اسے بدل دیا تو ’’فعل‘‘ کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے، اس لیے وہ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے برعکس) اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے۔ چونکہ یہ سرکشی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے واقع ہونے کا سب سے بڑا سبب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَاَنۡزَلۡنَا عَلَي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا﴾ یعنی ان میں سے ظالموں پر عذاب نازل کیا۔ ﴿مِنَ السَّمَآءِ﴾ یعنی ان کی نافرمانی اور ان کے بغاوت کے رویہ کے سبب سے (آسمان سے یہ عذاب نازل ہوا۔)

Al-Baqara 2:59Listen in Qur'an →
60

۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا

اور جب پانی مانگا موسیٰ نےاپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا، مار تو اپنا عصا پتھر کو، پس بہہ نکلے اس (پتھر) سے بارہ چشمے،تحقیق پہچان لیا ہر قوم نے گھاٹ اپنا اپنا، کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق سے اور نہ پھرو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے(60)

[60] یعنی جب حضرت موسیٰuنے بنی اسرائیل کے لیے پانی مانگا تاکہ وہ اس پانی کو پینے کے لیے استعمال کر سکیں ﴿فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’تو ہم نے کہا، اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔‘‘ یہاں ’’الْحَجَرَ‘‘ کے معرفہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہ کوئی مخصوص پتھر تھا جسے حضرت موسیٰuجانتے تھے یا اسم جنس کی بنا پر معرفہ ہے۔ ﴿فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَيۡنًا﴾ ’’پس اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے‘‘ اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ قبیلے تھے۔ ﴿قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ یعنی ہر ایک قبیلے نے اپنی وہ جگہ معلوم کر لی جہاں انھوں نے ان چشموں سے پانی پینا ہے تاکہ وہ پانی پیتے وقت ایک دوسرے کے مزاحم نہ ہوں، بلکہ وہ بغیر کسی تکدر کے خوش گواری کے ساتھ پانی پئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰهِ﴾ یعنی وہ رزق جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں بغیر کوشش اور جدوجہد کے عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ پیؤ ﴿وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ﴾ یعنی فساد پھیلانے کی خاطر زمین کو مت اجاڑو۔

Al-Baqara 2:60Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.