وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ
اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جبکہ وعدہ کیا تھا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے (تورات دینے کا ایک مدت گذرنے پر جس میں دس رات کا اضافہ ہوکر) چالیس رات کا (زمانہ ہوگیا تھا) پھر تم لوگوں نے (پرستش کے لئے) تجویز کرلیا گوسالہ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے (جانے کے) بعد اور تم نے (اس تجویز میں صریح) ظلم پر کمر باندھ رکھی تھی (کہ ایسی بےجا بات کے قائل ہوگئے تھے) - فائدہ : یہ قصہ اس وقت ہوا جب فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل بقول بعض مصر میں واپس آکر رہنے لگے یا بقول بعض کسی اور مقام پر ٹھر گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اب ہم بالکل مطمئن ہوگئے اگر کوئی شریعت ہمارے لئے مقرر ہو تو اس کو اپنا دستور العمل بنائیں موسیٰ (علیہ السلام) کی عرض پر حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کوہ طور پر آکر ایک مہینہ ہماری عبادت میں مشغول رہو ایک کتاب تم کو دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا اور تورات آپ کو مل گئی مگر دس روز مزید عبادت میں مشغول رہنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد افطار فرما لیا تھا اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کا رائحہ (جو خلوئے معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتا ہے پسند ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ دس روزے اور رکھیں تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے اس طرح یہ چالیس روزے پورے ہوگئے موسیٰ (علیہ السلام) تو یہ یہاں رہے اور وہاں ایک شخص سامری نامی تھا اس نے چاندی یا سونے کا ایک بچھڑے کا قالب بنا کر اس کے اندر وہ مٹی جو اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اٹھا کر اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی ڈال دی اس بچھڑے میں جان پڑگئی اور جہلا بنی اسرائیل نے اسی کی پرستش شروع کردی،