Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 286

51

وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے

اور (وہ زمانہ یاد کرو) جبکہ وعدہ کیا تھا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے (تورات دینے کا ایک مدت گذرنے پر جس میں دس رات کا اضافہ ہوکر) چالیس رات کا (زمانہ ہوگیا تھا) پھر تم لوگوں نے (پرستش کے لئے) تجویز کرلیا گوسالہ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے (جانے کے) بعد اور تم نے (اس تجویز میں صریح) ظلم پر کمر باندھ رکھی تھی (کہ ایسی بےجا بات کے قائل ہوگئے تھے) - فائدہ : یہ قصہ اس وقت ہوا جب فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل بقول بعض مصر میں واپس آکر رہنے لگے یا بقول بعض کسی اور مقام پر ٹھر گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اب ہم بالکل مطمئن ہوگئے اگر کوئی شریعت ہمارے لئے مقرر ہو تو اس کو اپنا دستور العمل بنائیں موسیٰ (علیہ السلام) کی عرض پر حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کوہ طور پر آکر ایک مہینہ ہماری عبادت میں مشغول رہو ایک کتاب تم کو دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا اور تورات آپ کو مل گئی مگر دس روز مزید عبادت میں مشغول رہنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد افطار فرما لیا تھا اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کا رائحہ (جو خلوئے معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتا ہے پسند ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ دس روزے اور رکھیں تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے اس طرح یہ چالیس روزے پورے ہوگئے موسیٰ (علیہ السلام) تو یہ یہاں رہے اور وہاں ایک شخص سامری نامی تھا اس نے چاندی یا سونے کا ایک بچھڑے کا قالب بنا کر اس کے اندر وہ مٹی جو اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اٹھا کر اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی ڈال دی اس بچھڑے میں جان پڑگئی اور جہلا بنی اسرائیل نے اسی کی پرستش شروع کردی،

Al-Baqara 2:51Listen in Qur'an →
52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو

خلاصہ تفسیر :- پھر بھی ہم نے (تمہاری توبہ کرنے پر) درگذر کیا تم سے اتنی بڑی بات ہوئے پیچھے اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے،- فائدہ : اس توبہ کا بیان آگے کی تیسری آیت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس توقع رکھنے کا مطلب نعوذ باللہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کو شک تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ درگذر کرنا ایسی چیز ہے کہ دیکھنے والوں کو شکر گذاری کی توقع کا گمان ہوسکتا ہے،

Al-Baqara 2:52Listen in Qur'an →
53

وَإِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) دی اور فیصلہ کی چیز اس توقع پر کہ تم چلتے رہو،- فائدہ : فیصلہ کی چیز یا تو ان احکام شرعیہ کو کہا جو تورات میں لکھے ہیں (کیونکہ) شرع سے تمام تر اعتقادی اور عملی اختلافات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یا معجزوں کو کہا کہ ان سے بچے، جھوٹے دعوی کا فیصلہ ہوتا ہے یا خود تورات ہی کو کہہ دیا کہ اس میں کتاب ہونے کی صفت بھی ہے اور فیصل ہونے کی صفت بھی۔

Al-Baqara 2:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم بیشک تم نے اپنا بڑا نقصان کیا اس گوسالہ (پرستی) کی تجویز سے سو تم اب اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو پھر بعض ( جنہوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی) بعض آدمیوں کو ( جنہوں نے گوسالہ پرستی کی) قتل کرو یہ (عمل درآمد) تمہارے لئے بہتر ہوگا تمہارے خالق کے نزدیک پھر (اس عملدر آمد کرنے سے) حق تعالیٰ تمہارے حال پر (اپنی عنایت سے) متوجہ ہوئے بیشک وہ تو ایسے ہی ہیں کہ توبہ قبول کرلیتے ہیں اور عنایت فرماتے ہیں، - فائدہ : یہ اس طریق کا بیان ہے جو ان کی توبہ کے لئے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کئے جائیں جیسا ہماری شریعت میں بھی بعض گناہوں کی سزا باوجود توبہ کے بھی قتل وجان ستانی مقرر ہے مثلاً قتل عمد کے عوض قتل اور ثبوت زنا بالشہادۃ پر رجم، کہ توبہ سے یہ سزا ساقط نہیں ہوتی چناچہ ان لوگوں نے اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے آخرت میں مورد رحمت و عنایت ہوگئے،

Al-Baqara 2:54Listen in Qur'an →
55

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں نے (یوں) کہا کہ اے موسیٰ ہم تمہارے کہنے سے ہرگز نہ مانیں گے (کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے) یہاں تک کہ ہم (خود) اللہ تعالیٰ کو علانیہ طور پر دیکھ لیں سو (اس گستاخی پر) تم پر کڑک بجلی کی آ پڑی اور تم (اس بجلی کا آنا) آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔- فائدہ : اس کا قصہ اس طرح ہوا تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور سے تورات لاکر پیش کی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے تو بعض گستاخ لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ ہماری کتاب ہے تو بیشک ہم کو یقین آجائے گا موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے باذن الہی فرمایا کہ کوہ طور پر چلو یہ بات بھی ہوجائے گی بنی اسرائیل نے اس کام کے لئے ستر آدمی منتخب کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر روانہ کئے وہاں پہنچنے پر اللہ تعالیٰ کا کلام ان لوگوں نے خود سنا تو اس وقت اور رنگ لائے کہ ہم کو تو کلام سننے سے قناعت نہیں ہوتی خدا جانے کون بول رہا ہوگا اگر خدا کو دیکھ لیں تو بیشک مان لیں چونکہ دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے اس گستاخی پر ان پر بجلی آپڑی اور سب ہلاک ہوگئے (ہلاکت کے متعلق اگلی آیت میں بیان ہے)

Al-Baqara 2:55Listen in Qur'an →
56

ثُمَّ بَعَثْنَٰكُم مِّنۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو

خلاصہ تفسیر : - پھر ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے) تم کو زندہ کر اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے،- فائدہ : موت کے لفظ سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بجلی سے مرگئے تھے ان کے دوبارہ زندہ کئے جانے کا قصہ یہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ بنی اسرائیل یوں ہی بدگمان رہتے ہیں اب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں نے ان کو کہیں لے جا کر کسی تدبیر سے ان کا کام تمام کرا دیا ہوگا مجھ کو اس تہمت سے محفوظ رکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو پھر زندہ کردیا

Al-Baqara 2:56Listen in Qur'an →
57

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

خلاصہ تفسیر :- اور سایہ فگن کیا ہم نے تم پر ابر کو (میدان تیہ میں) اور (خزانہ غیب سے) پہنچایا ہم نے تمہارے پاس ترنجین اور بٹیریں (اور تم کو اجازت دی کہ) کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں (مگر وہ لوگ اس میں بھی خلاف بات کر بیٹھے) اور (اس سے) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے،- فائدہ : دونوں قصے وادی تیہ میں واقع ہوئے وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وقت میں مصر آئے تھے اور یہاں ہی رہ پڑے اور ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہوگیا فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو ان کے قبضہ سے چھڑا لو بنی اسرائیل اس ارادہ پر مصر سے چلے اور ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زور وقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے گھر پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا، - یہ میدان کچھ بہت بڑا رقبہ نہ تھا بلکہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ کوس یعنی تقریباً دس میل کا رقبہ تھا روایت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لئے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں ہیں اسی طرح چالیس سال سرگرداں و پریشان اس میدان میں پھرتے رہے اسی لئے میدان کو وادی تیہ کہا جاتا ہے۔ تیہ کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی کے یہ وادی تیہ ایک کھلا میدان تھا نہ اس میں کوئی عمارت تھی نہ درخت جس کے نیچے دھوپ اور سردی اور گرمی سے بچا جاسکے اور نہ یہاں کوئی کھانے پینے کا سامان تھا نہ پہننے کے لئے لباس مگر اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید رقیق ابر کا سایہ کردیا اور بھوک کا تقاضا ہوا تو من وسلوٰی نازل فرما دیا یعنی درختوں پر ترنجین جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی یہ لوگ اس کو جمع کرلیتے اسی کو من کہا گیا ہے اور بٹیریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں ان سے بھاگتی نہ تھیں یہ ان کو پکڑ لیتے اور ذبح کرکے کھاتے اسی کو سلویٰ کہا گیا ہے یہ لوگ دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے چونکہ جرنجین کی کثرت معمول سے زائد تھی اور بٹیروں کا وحشت نہ کرنا یہ بھی معمول کے خلاف ہے لہذا اس حیثیت سے دونوں چیزیں خزانہ غیب سے قرار دی گئیں ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا گیا اس پتھر سے چشمے پھوٹ پڑے جیسا کہ دوسری آیات قرآنی میں مذکور ہے ان لوگوں نے رات کی اندھیری کا شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک روشنی عمودی شکل میں ان کے محلہ کے درمیان قائم فرمادی کپڑے میلے ہوئے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بطور اعجاز یہ صورت کردی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوں نہ پھٹیں اور بچوں کے بدن پر جو کپڑے ہیں وہ ان کے بدن کے بڑہنے کے ساتھ ساتھ اسی مقدار میں بڑہتے رہیں (تفسیر قرطبی) - اور ان لوگوں کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر خرچ لے لیا کریں، آئندہ کے لئے جمع کرکے نہ رکھیں مگر ان لوگوں نے حرص کے مارے اس میں بھی خلاف کیا تو رکھا ہوا گوشت سڑنا شروع ہوگیا اسی کو فرمایا ہے کہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے،

Al-Baqara 2:57Listen in Qur'an →
58

وَإِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ فَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًۭا وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَٰيَٰكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے حکم کیا کہ تم لوگ اس آبادی کے اندر داخل ہو پھر کھاؤ اس کی چیزوں میں جس جگہ تم رغبت کرو بےتکلفی سے اور (یہ بھی حکم دیا کہ جب اندر جانے لگو تو) دروازہ میں داخل ہونا (عاجزی سے) جھکے جھکے اور (زبان سے یہ) کہتے جانا کہ توبہ ہے ( تو یہ ہے) ہم معاف کردیں گے تمہاری (پچھلی) خطائیں (توسب کی) اور مزید برآں اور دیں گے دل سے نیک کام کرنے والوں کو،- فائدہ : بقول شاہ عبد القادر صاحب یہ قصہ بھی زمانہ وادی تیہ کا ہے کہ جب من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے اور اپنے معمولی کھانے کی درخواست کی (جیسا آگے کی چوتھی آیت میں آرہا ہے) تو ان کو ایک شہر میں جانے کا حکم ہوا تھا کہ وہاں کھانے پینے کی اور معمولی چیزیں ملیں گی سو یہ حکم اس شہر کے اندر جانے کے متعلق ہے اس میں قولی اور فعلی ادب داخل ہونے کے متعلق بیان کیا گیا اور اندر جاکر کھانے پینے میں توسیع کی گئی اس قول پر بہت سے بہت یہ کہا جاسکے گا کہ قصہ کے بیان میں تقدم وتأخر ہوگیا کہ بعد کا قصہ پہلے بیان ہوا اور پہلے کا بعد میں تو یہ اشکال اس وقت ہوتا جب قرآن مجید میں خود قصوں کا بیان کرنا مقصود اصلی ہوتا اور جب نظر نتائج پر ہے تو اگر ایک قصہ کے اجزا میں ہر جزو کا نتیجہ جدا ہو اور ان نتائج کے کسی اثر کا لحاظ کرکے جزو مقدم کو مؤ خر اور جزو مؤ خر کو مقدم کردیا جائے تو اس میں نہ کوئی مضائقہ ہے اور نہ کوئی اشکال، - دیگر مفسرین حضرات نے اس حکم کو اس شہر سے متعلق سمجھا ہے جس پر جہاد کرنے کا حکم ہوا تھا اور بعد مدت تیہ کے پھر اس پر جہاد ہوا اور وہ فتح ہوا اس وقت یوشع (علیہ السلام) نبی تھے یہ حکم ان کی معرفت اس شہر کے بارے میں ہوا تھا، - قول اول کی بناء پر پچھلی خطاؤں میں وہ درخواست بھی داخل کرلینا مناسب ہے جو من وسلویٰ چھوڑ کر معمولی کھانوں کے متعلق کی گئی تھی مطلب یہ ہوگا کہ درخواست تھی تو گستاخی لیکن خیر اب اگر اس ادب اور حکم کو بجا لائے تو اس کو معاف کردیں گے اور ہر قول پر یہ معافی تو سب کہنے والوں کے لئے عام ہوگی اور جو اخلاص سے اعمال صالحہ کریں گے ان کا انعام اس کے علاوہ ہے،

Al-Baqara 2:58Listen in Qur'an →
59

فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

خلاصہ تفسیر :- سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس (کے کہنے) کی ان سے فرمائش کی گئی تھی اس پر ہم نے نازل کی ان ظالموں پر ایک سماوی آفت اس وجہ سے کہ وہ عدول حکمی کرتے تھے،- فائدہ : یہ آیت آیت سابقہ کا تتمہ ہے وہ کلمہ خلاف یہ تھا کہ حطۃ بمعنی توبہ کی جگہ از راہ تمسخر۔ حبۃ فی شعیرۃ (یعنی غلہ درمیان جو کے) کہنا شروع کیا وہ آفت سماوی طاعون تھا جو حدیث کی رو سے بےحکموں کے لئے عذاب اور حکم برداروں کے لئے رحمت ہے اس شرارت کی ان کو یہ سزا ملی کہ ان میں طاعون پھوٹ پڑا اور بہت سے آدمی فنا ہوگئے (بعضوں نے ہلاک شدگان کی تعداد ستر ہزار تک بتائی) (قرطبی) - معارف و مسائل :- کلام میں لفظی تغیر وتبدل کا حکم شرعی :- اس آیت سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس شہر میں حطۃ یعنی توبہ توبہ کہتے ہوئے داخل ہوں انہوں نے شرارت سے ان الفاظ کو بدل کر حنطۃ کہنا اختیار کیا اس کی وجہ سے ان پر آسمانی عذاب نازل ہوا یہ الفاظ کی تبدیلی ایسی تھی کہ جس میں صرف الفاظ ہی نہیں بدلے بلکہ معنی بھی بالکل الٹ گئے حطۃ کے معنی توبہ یعنی گناہوں کو نظر انداز کرنے کے تھے اور حنطۃ کے معنی گندم کے ہیں جس کا کلمہ مامور بہا سے کوئی تعلق نہیں الفاظ کی ایسی تبدیلی خواہ قرآن میں ہو یا حدیث میں یا اور کسی امر الہی میں بلاشبہ اور بالاتفاق حرام ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا استہزاء یا تحریف ہے اسی پر یہ عذاب نازل ہوا،- اب رہا یہ مسئلہ کہ معنی اور مقصود کو محفوظ رکھتے ہوئے صرف الفاظ کی تبدیلی کا کیا حکم ہے ؟ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض کلمات اور اقوال میں معنی کی طرح الفاظ بھی مقصود اور اداء عبارت کے لئے ضروری ہوتے ہیں ایسے اقوال میں لفظی تبدیلی بھی جائز نہیں جیسے اذان کے الفاظ مقررہ کے بجائے اسی معنی کے دوسرے الفاظ پڑھنا جائز نہیں اسی طرح نماز میں جو دعائیں مثلا سبحانک اللہم، التحیات، دعائے قنوت، یا تسبیحات رکوع و سجود جن الفاظ سے منقول ہیں انہی الفاظ میں ادا کرنا ضروری ہے دوسرے الفاظ میں اگرچہ معنی وہی محفوظ بھی رہیں مگر تبدیلی جائز نہیں اسی طرح تمام قرآن کریم کے الفاظ کا یہی حکم ہے کہ تلاوت قرآن سے جو احکام متعلق ہیں وہ صرف انہی الفاظ کے ساتھ ہیں جو قرآن کریم کے نازل ہوئے ہیں اگر کوئی ان الفاظ کا ترجمہ دوسرے لفظوں میں کرکے پڑھے جس میں معنی بالکل محفوظ رہیں اس کو اصطلاح شریعت میں تلاوت قرآن نہ کہا جائے گا اور نہ اس پر وہ ثواب حاصل ہوگا جو قرآن پڑھنے پر مقرر ہے کہ ایک حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں کیونکہ قرآن صرف معنی کا نام نہیں بلکہ معنی اور الفاظ نازل شدہ کے مجموعہ کو قرآن کہا جاتا ہے، - آیت مذکورہ میں فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَھُمْ کے الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو توبہ کے لئے جو الفاظ حطۃ کے بتلائے گئے تھے یہ الفاظ بھی ماموربہ تھے ان کا بدلنا خود بھی گناہ تھا پھر تبدیلی ایسی کردی کہ معنی ہی الٹ گئے اس لئے عذاب آسمانی کے مستحق ہوگئے، - لیکن جن اقوال اور کلمات میں اصل معنی ہی ہیں الفاظ مقصود نہیں ان میں اگر لفظی تبدیلی ایسی کی جائے کہ معنی پر کوئی اثر نہ پڑے وہ پوری طرح محفوظ رہیں تو جمہور محدثین اور فقہا کے نزدیک یہ تبدیلی جائز نہیں۔ بعض حضرات محدثین حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسی لفظی تبدیلی کو بھی جائز کہتے ہیں، قرطبی نے امام مالک، شافعی، امام اعظم ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ حدیث میں روایت بالمعنی بھی جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ روایت کرنے والا عربی زبان کا ماہر اور مواقع خطاب اور جس ماحول میں حدیث وارد ہوئی ہے اس سے پوری طرح واقف ہو تاکہ اس کی غلطی سے معنی میں فرق نہ آجائے،- اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت جس طرح الفاظ حدیث سنے ہیں اسی طرح نقل کرنا ضروری …

Al-Baqara 2:59Listen in Qur'an →
60

۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے، اس پر ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) حکم دیا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (عصا پتھر پر مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ ہی خاندان تھے چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور ہم نے یہ نصیحت کی کہ کھانے کو) کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سر زمین میں۔- فائدہ : یہ قصہ بھی وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک خاص پتھر کو صرف عصا مارنے سے قدرت خداوندی سے بارہ چشمے نکل پڑے اور ان کے بارہ خاندان اس طرح تھے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ فرزند تھے ہر ایک کی اولاد کا ایک ایک خاندان تھا ان کو انتظامی معاملات میں الگ الگ ہی رکھا جاتا تھا سب کے افسر بھی جدا جدا تھے اس لئے چشمے بھی بارہ ہی نکلے،- کھانے سے مراد من وسلویٰ اور پینے سے مراد یہی پانی تھا اور نافرمانی اور ترک احکام کو فتنہ و فساد سے تعبیر فرمایا،- قاضی بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایسے خوارق (اور معجزات) کا انکار بہت بڑی غلطی ہے جب بعض پتھروں میں اللہ تعالیٰ نے بعید ازقیاس اور خلاف عقل یہ تاثیر رکھی ہے کہ لوہے کو جذب کرتا ہے تو اس پتھر میں اگر یہ تاثیر پیدا کردی ہو کہ اجزاء زمین سے پانی کو جذب کرلے اور اس سے پانی نکلنے لگے تو کیا محال ہے،- ہمارے زمانے کے عقلاء کو اس بیان سے سبق حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر یہ نظیر بھی محض سطحی نظر والوں کے لئے ہے ورنہ خود اگر اس پتھر کے اجزاء ہی میں پانی پیدا ہوجائے تو بھی کون سا محال لازم آتا ہے جو حضرات ایسے امور کو محال کہتے ہیں تو واللہ وہ اب تک محال کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھے،- معارف و مسائل :- آیت مذکورہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے استسقاء کی دعاء فرمائی اللہ تعالیٰ نے پانی کا سامان کردیا کہ پتھر پر لاٹھی مارنے سے چشمے ابل پڑے اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کی اصل دعا ہی ہے شریعت موسویہ میں بھی صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہے کہ استسقاء کی اصل پانی کے لئے دعا کرنا ہے یہ دعا کبھی خاص نماز استسقاء کی صورت میں لی گئی ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز استسقاء کے لئے عیدگاہ کے میدان میں تشریف لے جانا اور نماز اور خطبہ اور دعا کرنا منقول ہے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بغیر کسی خاص نماز کے صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے منقول ہے کہ خطبہ جمعہ ہی میں آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمادی،- اور یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ استسقاء خواہ بصورت نماز کیا جائے یا صرف دعا کی صورت میں اس کے مؤ ثر ہونے کے لئے گناہوں سے توبہ اپنے فقر ومسکنت اور عبودیت کا اظہار ضروری ہے گناہوں پر اصرار اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر قائم رہتے ہوئے تاثیر دعا کے انتظار کا کسی کو حق نہیں اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے یوں بھی قبول فرمالیں ان کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے،

Al-Baqara 2:60Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.