Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 286

41

وَءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلْتُ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوٓا۟ أَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهِۦ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا وَإِيَّٰىَ فَٱتَّقُونِ

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منعفت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو

بنی اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان معاہدوں کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وہ اللہ کے نازل کردہ کلام پر ایمان لائیں ، جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہیں ، وہ اس کلام کا انکار کرنے اور کفر کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ، کیونکہ ان کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے ۔

وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ” اور میں جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اسی کتاب کی تائید میں ہے ، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ “

اسلام ، جسے اب حضرت محمد ﷺ اپنی آخری صورت میں لے کر آئے ہیں ، وہ وہی لازوال دین ہے جو ہمیشہ اللہ کی جانب سے آتا رہا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مسلسل پیغام ہے اور آغاز انسانیت سے یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ اس سے پہلے بھی اس نے پوری انسانیت کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا اور آئندہ بھی وہ انسانیت کا ہادی ورہبر ہوگا ۔ یہ دین عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید کو باہم ملاتا ہے ۔ اور مستقبل کی انسایت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جو خیر اور بھلائی مطلوب تھی ، اس کا اضافہ کرتا ہے ۔ یہ دین اب پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور انہیں باہم متعارف بھائی بھائی قرار دیتا ہے ۔ وہ انسانیت کو مختلف گروہوں ، جماعتوں ، نسلوں اور اقوام کی صورت میں تقسیم نہیں کرتا ، بلکہ وہ ان سب کو اللہ کے ایک ایسے بندوں کی صورت میں منظّم کرتا ہے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جو فجر انسانیت سے آج تک ناقابل تغیر ہے ۔

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اس بات سے رو کتے ہیں کہ وہ اس کتاب کا انکار محض دنیاوی مفادات کی خاطر نہ کریں جبکہ وہ ان تمام کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے ، جو تمہارے پاس ہیں ۔ وہ زندگی کی تمام مصلحتوں اور ذاتی اغراض کی خاطر ، اس سچائی کو رد نہ کریں ، بالخصوص احبار اور مذہبی راہنما جو محض اسلام قبول کرنے سے ہچکچاتے تھے کہ انہیں معاشرے میں سیادت و قیادت کا جو مقام حاصل تھا ، وہ چلانہ جائے اور جو مالی مفادات وہ حاصل کررہے تھے ، وہ بند نہ ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں ۔ ایسے برے اور گھٹیاں خیالات دل میں نہ لائیں وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔ “

دام و درہم ، مال و دولت اور دنیاوی مفادات کی بندگی یہود کا قدیم وصف ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں مالی مفادات سے یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں کے وہ مفادات مراد ہوں جو وہ دینی خدمات ، جھوٹے فتو وں اور رؤسائے یہود کو شرعی سزاؤں سے بچانے کی خاطر ، آیات الٰہی میں تحریف کرنے کے عوض حاصل کرتے تھے ۔ جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس کی تفصیلات آئی ہیں ۔ ان تمام مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے یہ لوگ اپنی قوم کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے ، کیونکہ اس صورت میں اس بات کا خطرہ تھا کہ ان کے ہاتھ سے قیادت اور سرداری چلی جائے گی ۔ نیز جیسا کہ بعض صحابہ اور تابعین نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں تصریح کی ہے ، یہ دنیا پوری کی پوری ثمن قلیل ہے ۔ کیونکہ آیات الٰہی پر ایمان لے آنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن اہل ایمان کو جو بہتر انجام ہونے والا ہے ، اس کے مقابلے میں اس پوری دنیا کی بلکہ اس پوری کائنات کی حقیقت ہی کیا ہے ۔

Al-Baqara 2:41Listen in Qur'an →
42

وَلَا تَلْبِسُوا۟ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُوا۟ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

اگلے فقرے میں انہیں ان کی دوسری بری خصلت سے روکا جاتا ہے ، ان کی عادت تھی کہ وہ باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے تھے اور سچائی کو چھپاتے تھے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیا کررہے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اسلامی معاشرے کے اندر فکری انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا ایک طوفان کھڑا ہوجائے۔ وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ “ یہودیوں نے ہر موقع اور ہر مناسبت میں سے حق کو چھپایا ، اس میں باطل کی رنگ آمیزی کی اور جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے انسانیت کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کی ۔ اس لئے قرآن کریم نے بار بار ان کی اس صفت اور عادت کی تفاصیل کو بیان کیا۔ وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی جماعت میں ہمیشہ فتنے اور اضطرابات پیدا کرتے رہتے تھے۔ خلجان اور انتشار پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ چناچہ ان کے اس کردار کی کئی مثالیں اسی سورت میں آگے بیان کی گئی ہیں ۔

Al-Baqara 2:42Listen in Qur'an →
43

وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرْكَعُوا۟ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ بدبختو قافلہ ایمان جارہا ہے ، اس میں شامل ہوجاؤ، جماعت کا ساتھ دو ، ورنہ مٹ جاؤگے ، مذموم تعصبات کو چھوڑ دو اور اس انفرادیت کو ترک کرکے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی عبادات اور فرائض ادا کرو۔ اس لئے کہ علیحدگی پسندی زمانہ قدیم سے یہودیوں کی عادت مستمر چلی آرہی ہے ۔ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

” نماز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔

Al-Baqara 2:43Listen in Qur'an →
44

۞ أَتَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ ٱلْكِتَٰبَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

“ اس کے بعد یہودیوں کو عموماً اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو خصوصاً اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مشرکین اہل عرب میں اپنے آپ کو ایمان کا داعی کہتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے ہیں بھی ، اس لئے کہ وہ مشرکین کے مقابلے میں اہل توحید ہیں ، لیکن اس کے باوجود ، خود اپنی قوم کو ، اللہ کے اس دین پر ایمان لانے سے روکتے ہو ، جو تمام سابق ادیان کی تصدیق کرتا ہے۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا تَعْقِلُونَ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ “ اگرچہ ابتداء میں یہ آیت اس وقت بنی اسرائیل کے اندر موجود کمزوریوں کی عکاسی کررہی ہے ، تاہم یہ نفس انسانی اور بالخصوص ہر مذہب وملت کے دینی پیشواؤں کے لئے سرمہ بصیرت ہے ۔ کسی قوم اور ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ نہ کسی خاص فعل اور زمانے تک محدود ہے ۔

جب کوئی دین ایک زندہ اور موجزن نظریہ حیات کے بجائے محض ایک پیشہ اور کاروبار بن جاتا ہے تو دین کے پیشواؤں کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے جو

کچھ کہتے ہیں ، وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا ! وہ بھلائی کا وعظ کرتے ہیں اور خود کار دیگر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو بر اور تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں ، لیکن بر وتقویٰ جس چیز کا نام ہے ، وہ خود انہیں چھوکر بھی نہیں گزری ہوتی۔ وہ سیدھی بات کو غلط معنی پہناکر بتنگڑ بناتے ہیں ، نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قطعی نصوص میں تاویلات کرتے ہیں ۔ وہ ایسی ایسی حسین تاویلات اور ایسے ایسے مدلل فتوے میدان میں لاڈالتے ہیں جو بظاہر آیات ونصوص کے ظاہر مفہوم سے بالکل موافق ہوتے ہیں لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کی حقیقت اور اصلیت سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ یہ لوگ اپنے مفادات اور دلی خواہشات کے لئے کرتے ہیں اور ان لوگوں کی خاطر جو یا تو مالدار ہوتے ہیں یا اہل اقتدار ۔ یہودیوں کے مذہبی پیشوا یہی کام کرتے تھے ۔

لوگوں کو بھلائی کی طرف دعوت دینا ، اور پھر اپنی عملی زندگی میں خود ، اس کے خلاف چلنا ، ایک ایسا مرض ہے اور ایک ایسی وبا ہے جو نہ صرف یہ کہ خود داعیوں کے دلوں میں شبہات وشکوک پیدا کردیتی ہے ، بلکہ دعوت بھی اس سے مشکوک ہوجاتی ہے ۔ قول وفعل کے اس تضاد کی وجہ سے لوگوں کے دلوں اور ان کے افکار میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ لوگ کانوں سے تو بہترین بات سنتے ہیں لیکن آنکھوں سے قبیح ترین افعال دیکھتے ہیں ۔ قول وفعل کا یہ تضاد دیکھ کر وہ بےچارے حیران رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ایمان نے یہ دعوت ووعظ سن کر جو دیا ان کی روحانی دنیا میں روشن کیا تھا ، وہ بجھ جاتا ہے ، دلوں سے ایمان کی روشنی ختم ہوجاتی ہے اور جب انہیں مذہبی پیشواؤں میں سے کوئی عقیدت نہیں رہتی ، تو اس کے نتیجہ میں پھر خود دین سے ان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

داعی بےعمل کی بات بےجان ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہوتی ہے جو دوسروں تک پہنچتے پہنچتے بجھ جاتی ہے ۔ ایسے داعیوں کی بات بےاثر ہوتی ہے ۔ اگرچہ وہ بات مقفع ومسجع ، چکنی چپڑی اور جوش و خروش سے پر ہو ، کیونکہ یہ بات ایسے دل سے نکلی ہی نہیں جو اس پر یقین رکھتا ہو۔ اثر تو اسی بات میں ہوتا ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ ایک داعی اپنی بات کا صحیح مومن اسیوقت ہوسکتا ہے ، جب وہ اپنے کردار کے اعتبار سے اس بات کی تفسیر اور ترجمہ ہو ، جو دعوت وہ دے رہا ہے ، وہ خود اس کی زندگی کی صورت میں عملاً مجسم ہو۔ جب کوئی انسان اس معیار تک پہنچ جاتا ہے ، تو پھر لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس پر یقین کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس کی باتیں چکنی چپڑی نہ ہوں اور اس کی تقریر ، دھواں دھار نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس بات کے اندر اس کی چرب لسانی سے نہیں بلکہ اس کی واقعیت …

Al-Baqara 2:44Listen in Qur'an →
45

وَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ

اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “

میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔

سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟

نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ ﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔

اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔

جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔

چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔

Al-Baqara 2:45Listen in Qur'an →
46

ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “

میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔

سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟

نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ ﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔

اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔

جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔

چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔

Al-Baqara 2:46Listen in Qur'an →
47

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔

انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔

لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “

کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔

وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔

اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا …

Al-Baqara 2:47Listen in Qur'an →
48

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔

انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔

لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “

کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔

وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔

اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا …

Al-Baqara 2:48Listen in Qur'an →
49

وَإِذْ نَجَّيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

یہاں اس کربناک صورتحال کو ان کے پردہ ذہن پر دوبارہ اجاگر کیا جارہا ہے ، جس میں ان کے آباء و اجداد فرعون کے زمانے میں مبتلا تھے ۔ کیونکہ یہ لوگ ان بنی اسرائیل کی اولاد تھے جو اس عذاب میں مبتلا ہوئے ۔ تعذیب اور مظالم کی تصویر کشی کے بعد ، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ منظر بھی پیش فرماتے ہیں ، جس سے انہیں نجات دی گئی ۔ انہیں کہا جاتا ہے ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی ، جو تمہیں مسلسل عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ يَسُومُونَ کے معنی ہیں ” ہمیشہ تمہیں عذاب میں رکھتے تھے۔ “ یہ لفاظ سام الماشیتہ ” اس نے مویشیوں کو ہمیشہ چرنے والا (سائمہ) بنایا۔ “ گویا فرعونیوں نے ان مظالم کو بنی اسرائیل کے لئے ایک قسم کی غذا بنادیا تھا ، جو انہیں مسلسل کھلائی جاتی تھی ۔ اس کے بعد اس عذاب کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جارہا ہے یعنی وہ مردوں کو ذبح کرتے تھے ۔ اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کم ہو۔

اس سے پہلے کہ بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی تفصیلات پیش ہوں انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے لئے ابتلا عظیم تھی ۔ تاکہ ان کے احساس و شعور بلکہ ہر مسلمان کے احساس و شعور میں جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو ، یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کے بندوں پر مصائب کا آنا دراصل ان کے لئے ابتلا وامتحان ہوتا ہے ۔ انہیں آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ جو شخص ابتلا کی اس حقیقت کو سمجھتا ہے وہ سختی اور مصیبت سے فائدہ حاصل کرتا ہے ، وہ اپنے اس شعور کی وجہ سے مصائب وشدائد سے کچھ حاصل ہی کرلیتا ہے ۔ رنج والم میں مبتلا شخص اگر یہ جانتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جارہا ہے اور اس کے بعد اس سختی سے ، اسے کوئی فائدہ ہی پہنچنے والا ہے تو یہ رنج والم اس کے لئے بےفائدہ نہیں ہوتے ۔ جب آدمی اس تصور کے ساتھ مصیبت کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کی مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں ۔ بالخصوص جبکہ ان دردناک تجربات کے دوران حاصل ہونے والے ثبات اور علم ومعرفت کو پیش نظر رکھا جارہا ہو۔

نیز جبکہ یہ احساس بھی ہو کہ اللہ کے ہاں اس مصیبت کا اجر محفوظ ہے اور اللہ کے سامنے سلسلہ عجز ونیاز بھی جاری ہو اور اس کی جانب سے نجات کی پوری امید بھی ہو اور اس کی رحمت و شفقت سے کسی قسم کی مایوسی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے ذکر کے ساتھ ہی یہ فرمادیا

وَفِي ذَلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ” اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ “

اس کے بعد بنی اسرائیل کے قصہ نجات کی تمہید شروع ہوتی ہے۔

Al-Baqara 2:49Listen in Qur'an →
50

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ “ اس نجات کی تفصیلات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بالتفصیل آچکی تھی۔ یہاں ان لوگوں کو جو تفصیلات سے واقف تھے ، محض یاددہانی کے طور پر بتایا جارہا ہے ۔ مخاطب اس قصے کی تفصیلات کو جانتے تھے ، قرآن کریم سے یا اپنے محفوظ قصوں یا مذہبی کتابوں کی وساطت سے ، یہاں ان کے سامنے دوبارہ اس نجات کی تصویر کشی کی جارہی ہے تاکہ وہ اسے پردہ خیال پر لاکر اس سے متاثر ہوں ۔ انداز بیان تو دیکھئے کہ گویا خودمخاطب دیکھ رہے ہیں کہ دریا پھٹ رہا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں دریا کو پار کررہے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان ، یعنی منظر کشی کے ذریعے مخاطب کو تاثر دینا ، وہ خاص معجزانہ اسلوب بیان ہے جو قرآن کے لئے مخصوص ہے ۔ اب گفتگوکا سلسلہ خروج بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ بنی اسرائیل مصر کی غلامی سے نجات پاچکے ہیں۔

Al-Baqara 2:50Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.