Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 286

41

وَءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلْتُ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوٓا۟ أَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهِۦ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا وَإِيَّٰىَ فَٱتَّقُونِ

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منعفت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو

(اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ) کافر ہونا خواہ سب سے پہلے ہو یا بعد میں بہرحال انتہائی ظلم اور جرم ہے مگر اس آیت میں یہ فرمایا کہ پہلے کافر نہ بنو اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو شخص اول کفر اختیار کرے گا تو بعد میں اس کو دیکھ کر جو بھی کفر میں مبتلا ہوگا اس کا وبال جو اس شخص پر پڑے گا اس پہلے کافر پر بھی اس کا وبال آئے گا اس طرح یہ پہلا کافر اپنے کفر کے علاوہ بعد کے لوگوں کے کفر کا سبب بن کر ان سب کے وبال کفر کا بھی ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کا عذاب چند ورچند ہوجائے گا۔- فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا میں دوسروں کے لئے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے مبتلائے گناہ ہوں گے ان سب کا گناہ ان لوگوں کو بھی ہوگا اور اس شخص کو بھی اسی طرح جو شخص دوسروں کے لئے کسی نیکی کا سبب بن جائے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے نیک عمل کریں گے اس کا ثواب جیسا ان لوگوں کو ملے گا ایسا ہی اس شخص کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا قرآن مجید کی متعدد آیات اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متعدد احادیث میں یہ مضمون بار بار آیا ہے،- (٤) وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے میں قیمت لینے کی ممانعت کا مطلب وہ ہی ہے جو آیت کے سباق وسیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی مرضی اور ان کی اغراض کی خاطر اللہ تعالیٰ کی آیات کا مطلب غلط بتلا کر یا چھپا کر لوگوں سے پیسے لئے جائیں یہ فعل باجماع امت حرام ہے،- (٥) تعلیم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے :- رہا یہ معاملہ کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات صحیح صحیح بتلا کر یا پڑھا کر اس کی اجرت لینا کیسا ہے ؟ اس کا تعلق آیت مذکورہ سے نہیں، خود یہ مسئلہ اپنی جگہ قابل غور وبحث ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت و معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں فقہا امت کا اس میں اختلاف ہے امام مالک شافعی، احمد بن حنبل جائز قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ منع فرماتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کو ذریعہ کسب معاش کا بنانے سے منع فرمایا ہے ،- لیکن متاخرین حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا کہ قرآن مجید کے معلمین کو اسلامی بیت المال سے گذارہ ملا کرتا تھا اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب ان معلمین کو عموماً کچھ نہیں ملتا یہ اگر آپ نے معاش کے لئے کسی محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں تو بچوں کو تعلیم قرآن کا سلسلہ یکسر بند ہوجائے گا کیونکہ وہ دن بھر کا مشغلہ چاہتا ہے اس لئے تعلیم قرآن پر تنخواہ لینے کو بضرورت جائز قرار دیا جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے کہ آج کل اسی پر فتویٰ دینا چاہئے کہ تعلیم قرآن پر اجرت وتنخواہ لینا جائز ہے صاحب ھدایہ کے بعد آنے والے دوسرے فقہا نے بعض ایسے ہی دوسرے وظائف جن پر تعلیم قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے مثلاً امامت و اذان اور تعلیم حدیث وفقہ وغیرہ کو تعلیم قرآن کے ساتھ ملحق کرکے ان کی بھی اجازت دی (درمختار، شامی) - (٦) ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن پر اجرت لینا باتفاق جائز نہیں :- علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی تفصیل اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کو جن متاخرین فقہاء نے جائز قرار دیا ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے مواقع میں محدود رکھنا ضروری ہے اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے کیونکہ اس پر کسی عام دینی ضرورت کا مدار نہیں اور اجرت لے کر پڑہناحرام ہوا تو اس طرح پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہوئے اور جب پڑھنے والے ہی کو کوئی ثواب نہ ملا تو میت کو وہ کیا پہنچائے گا علامہ …

Al-Baqara 2:41Listen in Qur'an →
42

وَلَا تَلْبِسُوا۟ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُوا۟ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

(٧) حق بات کو چھپانا یا اس میں خلط ملط کرنا حرام ہے :- آیت وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ الخ سے ثابت ہوا کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ گڈمڈ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب مغالطہ میں پڑجائے جائز نہیں اسی طرح کسی خوف یا طمع کی وجہ سے حق بات کا چھپانا بھی حرام ہے مسئلہ واضح ہے اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں حق کو چھپانے سے پرہیز کرنے کا ایک واقعہ اور مفصل مکالمہ حضرت ابو حازم تابعی اور خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا نقل کیا ہے جو بہت سے فوائد کی وجہ سے قابل ذکر ہے،- حضرت ابو حازم تابعی سلیمان ابن عبد الملک کے دربار :- مسند دارمی میں سند کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبد الملک مدینہ طیبہ پہنچے اور چند روز قیام کیا تو لوگوں سے دریافت کیا کہ مدینہ طیبہ میں اب کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس نے کسی صحابی کی صحبت پائی ہو ؟ لوگوں نے بتلایا ہاں ابوحازم ایسے شخص ہیں سلیمان نے اپنا آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا جب وہ تشریف لائے تو سلیمان نے کہا کہ اے ابوحازم یہ کیا بےمروتی اور بیوفائی ہے ؟ ابوحازم نے کہا آپ نے میری کیا بےمروتی اور بیوفائی دیکھی ہے ؟ سلیمان نے کہا کہ مدینہ کے سب مشہور لوگ مجھ سے ملنے آئے آپ نہیں آئے ابوحازم نے کہا امیر المؤ منین میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں جو واقعہ کے خلاف ہے آج سے پہلے نہ آپ مجھ سے واقف تھے اور نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا تھا ایسے حالات میں خود ملاقات کے لئے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیوفائی کیسی ؟- سلیمان نے جواب سن کر ابن شہاب زہری اور حاضرین مجلس کی طرف التفات کیا تو امام زہری نے فرمایا کہ ابوحازم نے صحیح فرمایا آپ نے غلطی کی، - اس کے بعد سلیمان نے روئے سخن بدل کر کچھ سوالات شروع کئے اور کہا اے ابوحازم یہ کیا بات ہے کہ ہم موت سے گھبراتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت کو ویران اور دنیا کو آباد کیا ہے اس لئے آبادی سے ویرانہ میں جانا پسند نہیں۔- سلیمان نے تسلیم کیا اور پوچھا کہ کل اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کیسے ہوگی ؟ فرمایا کہ نیک عمل کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جائے گا جیسا کوئی مسافر سفر سے واپس اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہے اور برے عمل کرنے والا اس طرح پیش ہوگا جیسا کوئی بھاگا ہوا غلام پکڑ کر آقا کے پاس حاضر کیا جائے،- سلیمان یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا صورت تجویز کر رکھی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ اپنے اعمال کو اللہ کی کتاب پر پیش کرو تو پتہ لگ جائیگا، سلیمان نے دریافت کیا کہ قرآن کی کس آیت سے یہ پتہ لگے گا ؟ فرمایا اس آیت سے، اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ۚوَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ (١٤: ١٣: ٨٢) یعنی بلاشبہ نیک عمل کرنے والے جنت کی نعمتوں میں ہیں اور نافرمان گناہ شعار دوزخ میں، - سلیمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو بڑی ہے وہ بدکاروں پر بھی حاوی ہے فرمایا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (٥٦: ٧) یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک عمل کرنے والوں سے قریب ہے، سلیمان نے پوچھا اے ابو حازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ کون عزت والا ؟ فرمایا وہ لوگ جو مروّت اور عقل سلیم رکھنے والے ہیں،- پھر پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے ؟ تو فرمایا کہ فرائض وواجبات کی ادائیگی حرام چیزوں سے بچنے کے ساتھ، - پھر دریافت کیا کہ کونسی دعا زیادہ قابل قبول ہے ؟ تو فرمایا کہ جس شخص پر احسان کیا گیا ہو اس کی دعا اپنے محسن کے لئے اقرب الی القبول ہے،- پھر دریافت کیا کہ صدقہ کونسا افضل ہے ؟ تو فرمایا کہ مصیبت زدہ سائل کے لئے باوجود اپنے افلاس کے جو کچھ ہوسکے اس طرح خرچ کرنا کہ نہ اس سے پہلے احسان جتائے اور نہ ٹال مٹول کرکے ایذاء پہونچائے،- پھر …

Al-Baqara 2:42Listen in Qur'an →
43

وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرْكَعُوا۟ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

خلاصہ تفسیر :- اور نماز قائم کرو تم لوگ نماز کو (یعنی مسلمان ہو کر) اور زکوٰۃ دو اور عاجزی کرو عاجزی کرنے والوں کے ساتھ (علماء بنی اسرائیل کے بعض اقارب مسلمان ہوگئے تھے جب ان سے گفتگو ہوتی تو خفیہ طور پر یہ علماء ان سے کہتے تھے کہ بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول برحق ہیں ہم لوگ تو کسی مصلحت سے مسلمان نہیں ہوتے مگر تم اس مذہب اسلام کو نہ چھوڑنا اسی بنا پر حق تعالیٰ نے فرمایا) کیا غضب ہے کہ کہتے ہو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کو (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کو) اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی (یعنی تورات کی جس میں جابجا ایسے عالم بےعمل کی مذمتیں مذکور ہیں) تو پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے اور مدد لو (یعنی اگر تم کو حب مال وحب جاہ کی وجہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہو تو مدد لو) صبر اور نماز سے (یعنی ایمان لاکر صبر کا التزام بہت دشوار ہے تو سن لے کہ) بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ بھی دشوار نہیں وہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں اس کا کہ وہ بیشک ملنے والے ہیں اپنے رب سے اور اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں (تو اس وقت اس کا حساب کتاب بھی دینا ہوگا ان دونوں خیالوں سے رغبت بھی پیدا ہوگی اور یہی دو چیزیں ہر عمل کی روح ہیں) - معارف و مسائل - ربط آیات :- بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت دی ہے پچھلی تین آیتوں میں ایمان و عقائد سے متعلق ہدایات تھیں اور ان چار آیتوں میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اور ان میں جو اعمال سب سے زیادہ اہم ہیں ان کا ذکر ہے اور حاصل مطلب آیات کا یہ ہے کہ اور اگر تم کو حب مال وجاہ کے غلبہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو صبر سے حب مال گھٹ جائے گی کیونکہ مال اسی وجہ سے مطلوب و محبوب ہے کہ وہ ذریعہ ہے لذات وشہوات کے پورا کرنے کا جب ان لذات وشہوات کی مطلق العنانی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو پھر مال کی فراوانی کی نہ ضرورت رہے گی نہ اس کی محبت ایسی غالب آئے گی کہ اپنے نفع نقصان سے اندھا کردے اور نماز سے حب جاہ کم ہوجائے گی کیونکہ نماز میں ظاہری اور بابنی ہر طرح کی پستی اور عاجزی ہی ہے جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہوجائے گی توحب جاہ ومنصب اور تکبر و غرور گھٹے گا اصل مادہ فساد جس کے سبب ایمان لانا دشوار تھا یہی مال وجاہ کی محبت تھی جب یہ مادہ فساد گھٹ گیا تو ایمان لانا آسان ہوجائے گا،- اب سمجئے کہ صبر میں تو صرف غیر ضروری خواہشات اور شہوات کا ترک کرنا ہے اور نماز میں بہت سے افعال کا واقع کرنا بھی ہے اور بہت سی جائز خواہشات کو بھی وقتی طور پر ترک کرنا ہے مثلا کھانا، پینا، کلام کرنا، چلنا پھرنا، اور دوسری انسانی ضرورت جو شرعا جائز ومباح ہیں ان کو بھی نماز کے وقت ترک کرنا ہے اور بھی اوقات کی پابندی کے ساتھ دن رات میں پانچ مرتبہ اس لئے نماز نام ہے کچھ افعال معینہ کا اور معین اوقات میں تمام ناجائز و جائز چیزوں سے صبر کرنے کا،- غیر ضروری خواہشات کے ترک کرنے پر انسان ہمت باندھ لے تو چند روز کے بعد طبعی تقاضا بھی ختم ہوجاتا ہے کوئی دشواری نہیں رہتی لیکن نماز کے اوقات کی پابندی اور اس کی تمام شرائط کی پابندی اور ضروری خواہشات سے بھی ان اوقات میں پرہیز کرنا یہ انسانی طبیعت پر بہت بھاری اور دشوار ہے اس لئے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ایمان کو آسان بنانے کا جو نسخہ تجویز کیا گیا کہ صبر اور نماز سے کام لو اس نسخہ کا استعمال خود ایک دشوار چیز ہے خصوصا نماز کی پابندیوں کا تو اس دشواری کا کیا علاج ہوگا ؟ اس کے لئے ارشاد فرمایا بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب …

Al-Baqara 2:43Listen in Qur'an →
44

۞ أَتَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ ٱلْكِتَٰبَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

بےعمل واعظ کی مذمت :- اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ اس آیت میں خطاب اگرچہ علمائے یہود سے ہے ان کو ملامت کی جارہی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ تلقین کرتے کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے رہو اور دین اسلام پر قائم رہو (جو علامت ہے اس بات کی کہ علمائے یہود دین اسلام کو یقینی طور پر حق سمجھتے تھے) مگر خود نفسانی خواہشات سے اتنے مغلوب تھے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کی مذمت ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو خدا سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے ایسے شٰخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک وعیدیں آئی ہیں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میرا گذر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچوں سے کترے جارہے تھے میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون ہیں جبرئیل نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے دنیادار واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر اپنی خبر نہ لیتے تھے (ابن کثیر) - ابن عساکر نے ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بعض جنتی بعض دوخیوں کی آگ میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ تم آگ میں کیونکر پہنچ گئے ؟ حالانکہ ہم تو بخدا انہی نیک اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہوئے ہیں جو ہم نے تم سے سیکھے تھے اہل دوزخ کہیں گے ہم زبان سے کہتے ضرور تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے (ابن کثیر) - کیا فاسق وعظ و نصیحت نہیں کرسکتا ؟:- لیکن مذکورہ بیان سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ بےعمل یا فاسق کے لئے دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنا جائز نہیں اور جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہو وہ دوسروں کو اس گناہ سے باز رہنے کی تلقین نہ کرے کیونکہ کوئی اچھا عمل الگ نیکی ہے اور اس اچھے عمل کی تبلیغ دوسری مستقل نیکی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک نیکی کو چھوڑنے سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسری نیکی بھی چھوڑدی جائے، جیسے ایک شخص اگر نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ لازم نہیں کہ وہ روزہ بھی ترک کردے بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کو نماز پڑھنے کے لئے بھی نہ کہے اسی طرح کسی ناجائز فعل کا ارتکاب الگ گناہ ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اس ناجائز فعل سے نہ روکنا دوسرا گناہ ہے اور ایک گناہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا گناہ بھی ضرور کیا جائے (روح المعانی) - چنانچہ امام مالک نے حضرت سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر ہر شخص یہ سوچ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدے کہ میں خود گنہگار ہوں جب گناہوں سے خود پاک ہوجاؤں گا تو لوگوں کو تبلیغ کروں گا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تبلیغ کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہے گا کیونکہ ایسا کون ہے جو گناہوں سے بالکل پاک ہو ؟ حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اسی غلط خیال میں پڑ کر تبلیغ کا فریضہ چھوڑ بیٹھیں (قرطبی) بلکہ حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی تو فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے اپنی کسی بری عادت کا علم ہوتا ہے تو میں اس عادت کی مذمت اپنے مواعظ میں خاص طور سے بیان کرتا ہوں تاکہ وعظ کی برکت سے یہ عادت جاتی رہے،- خلاصہ یہ ہے کہ آیت، اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےعمل آدمی کو وعظ کہنا جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ واعظ کو بےعمل نہیں ہونا چاہئے اور دونوں میں فرق واضح ہے مگر یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ بےعمل ہونا نہ تو واعظ کیلئے جائز ہے نہ غیر واعظ کیلئے پھر واعظ کی تخصیص کیوں ؟ جواب یہ ہے کہ ناجائز تو دونوں کے لئے ہے مگر واعظ کا جرم غیر واعظ کے جرم کے مقابلے میں زیادہ سنگین اور زیادہ قابل ملامت ہے کیونکہ واعظ جرم کو جرم سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر کرتا ہے اس کے پاس یہ …

Al-Baqara 2:44Listen in Qur'an →
45

وَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ

اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں

خشوع کی حقیقت :- اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں۔- بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروق (رض) نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے ،- حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد ہے کہ موٹا پہننے موٹا کھانے اور سر جھکانے کا نام خشوع نہیں خشوع تو یہ ہے کہ تم حق کے معاملہ میں شریف ورذیل کے ساتھ یکساں سلوک کرو اور اللہ نے جو تم پر فرض کیا ہے اسے اداس کرنے میں اللہ تعالیٰ کے لئے قلب کو فارغ کرلو،- حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) جب بات کرتے تو سنا کرتے تھے جب چلتے تو تیز چلتے اور جب مارتے تو زور سے مارتے تھے حالانکہ بلاشبہ وہ خشوع رکھنے والے تھے،- خلاصہ یہ کہ اپنے قصد واختیار سے خاشعین کی سی صورت بنانا شیطان اور نفس کا دھوکہ ہے اور مذموم ہے ہاں اگر بےاختیار یہ کیفیت ظاہر ہوجائے تو معذور ہے (قرطبی) - فائدہ : خشوع کے ساتھ ایک دوسرا لفظ خضوع بھی استعمال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ بھی بار بار آیا ہے یہ دونوں لفظ تقریباً ہم معنی ہیں لیکن خشوع کا لفظ اصل کے اعتبار سے آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو قرآن کریم میں ہے، خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ (آوازیں پست ہوگئیں) اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن حکیم میں ہے،- فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ (٤: ٢٦) پس ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک گئیں،- نماز میں خشوع کی فقہی حیثیت :- نماز میں خشوع کی تاکید قرآن وسنت میں بار بار آئی ہے قرآن کریم کا ارشاد ہے :- وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (١٤: ٢٠) اور نماز قائم کر مجھے یاد کرنے کے لئے، - اور ظاہر ہے کہ غفلت یاد کرنے کی ضد ہے جو نماز میں اللہ تعالیٰ سے غافل ہے وہ اللہ کو یاد کرنے کا فریضہ ادا نہیں کررہا ؛- ایک اور آیت میں ارشاد ہے :- وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ (٢٠٥: ٧) اور تو غافلوں میں سے نہ ہو :- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے نماز تو صرف تمسکن اور تواضع ہی ہے جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ جب تمسکن اور تواضع دل میں نہ ہو تو وہ نماز نہیں۔- ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز اسے بےحیائی اور برائیوں سے نہ روک سکے وہ اللہ سے دور ہوتا جاتا ہے اور غافل کی نماز بےحیائی سے اور برائیوں سے نہیں روکتی معلوم ہوا کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا اللہ سے دور ہی ہوتا جاتا ہے، - امام غزالی نے مذکورہ آیات و روایات اور دوسرے دلائل پیش کرکے فرمایا ہے کہ ان کا یہ تقاضا ہے کہ خشوع نماز کے لئے شرط ہو اور نماز کی صحت اس پر موقوف ہو پھر فرمایا کہ سفیان ثوری حسن بصری اور معاذ بن جبل کا مذہب یہی تھا کہ خشوع کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ فاسد ہے لیکن ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نے خشوع کو شرط صلوٰۃ قرار نہیں دیا بلکہ اسے نماز کی روح قرار دینے کے باوجود صرف اتنا شرط کیا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قلب کو حاضر کرکے اللہ کے لئے نماز کی نیت کرے باقی نماز میں اگر خشوع حاصل نہ ہو تو اگرچہ اتنی نماز کا ثواب اسے نہیں ملے گا جتنے حصہ میں خشوع نہیں رہا لیکن فقہ کی رو سے وہ تارک صلوٰۃ نہیں کہلائے گا اور نہ اس پر تعزیر وغیرہ کے وہ احکام مرتب ہوں گے جو تارک صلوٰۃ پر لگتے ہیں، - امام غزالی نے اس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ فقہاء …

Al-Baqara 2:45Listen in Qur'an →
46

ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:46Listen in Qur'an →
47

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

خلاصہ تفسیر - اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہ تم لوگ میری اس نعمت کو یاد کرو (تاکہ شکر اور اطاعت کی تحریک ہو) جو میں نے تم کو انعام میں دی تھی اور اس (بات) کو (یاد کرو) کہ میں نے تم کو (خاص خاص برتاؤ میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی تھی (اور ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو ایک بڑے حصہ مخلوق پر فوقیت دی تھی مثلاً اس زمانہ کے لوگوں پر) ۔- فائدہ : اس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جاسکتا ہے، - اور ڈرو تم ایسے دن سے کہ (جس میں) نہ تو کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکتا ہے اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوسکتی ہے (جبکہ خود اس شخص میں ایمان نہ ہو جس کی سفارش کرتا ہے) اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی معاوضہ لیا جاسکتا ہے اور نہ ان لوگوں کی طرفداری چل سکے گی، - فائدہ : آیت میں جس یوم کا ذکر ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطالبہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی کے ذمہ نماز روزہ کا مطالبہ ہو اور دوسرا کہہ دے کہ میرا نماز روزہ لے کر اس کا حساب بیباق کردیا جائے اور معاوضہ یہ کہ کچھ مال وغیرہ داخل کرکے بچا لادے سو دونوں باتیں نہ ہوں گی اور بدون ایمان کے سفارش قبول نہ ہونے کو جو فرمایا ہے تو اور آیتوں سے معلوم ہوا کہ اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایسوں کی خود سفارش ہی نہ ہوگی جو قبول کی گنجائش ہو اور طرفداری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی زوردار حمایت کرکے زبردستی نکال لادے،- غرض یہ کہ دنیا میں مدد کرنے کے جتنے طریقے ہوتے ہیں بدون ایمان کے کوئی طریقہ بھی نہ ہوگا،

Al-Baqara 2:47Listen in Qur'an →
48

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں

Explained together with ayah 47

Al-Baqara 2:48Listen in Qur'an →
49

وَإِذْ نَجَّيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

خلاصہ تفسیر :- اوپر جن خاص برتاؤں کا حوالہ دیا ہے اب یہاں سے ان کی تفصیل بیان کرنی شروع کی پہلا معاملہ تو یہ ہے کہ اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ رہائی دی ہم نے تم (لوگوں کے آباء و اجداد) کو متعلقین فرعون سے جو فکر میں لگے رہتے تھے تمہاری دل آزاری کے گلے کاٹتے تھے تمہاری اولاد (ذکور) کے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو (لڑکیوں کو کہ زندہ رہ کر بڑی عورتیں ہوجائیں) اور اس واقعہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا ایک بڑا بھاری امتحان تھا، - فائدہ : کسی نے فرعون سے پشینگوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری سلطنت جاتی رہے گی اس لئے اس نے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور چونکہ لڑکیوں سے کوئی اندیشہ نہ تھا اس لئے ان سے کچھ تعرض نہیں کیا دوسرے اس میں اس کا اپنا ایک مطلب بھی تھا کہ ان عورتوں سے ماماگری اور خدمت گاری کا کام لیتا تھا سو یہ عنایت بھی اپنے مطلب کے لئے تھی اور اس واقعہ سے یا تو یہ ذبح و قتل مذکور مراد ہے اور مصیبت میں صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یا رہائی دینا مراد ہے جو کہ ایک نعمت ہے اور نعمت میں شکر کا امتحان ہوتا ہے اور اس نجات دینے کی تفصیل آگے بیان فرمائی،

Al-Baqara 2:49Listen in Qur'an →
50

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ شق کردیا ہم نے تمہارے ( رستہ دینے کی) وجہ سے دریائے شور کو پھر ہم نے (ڈوبنے سے) بچا لیا تم کو اور غرق کردیا متعلقین فرعون کو (مع فرعون کے) اور تم (اس کا) معائنہ کر رہے تھے،- فائدہ : یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر لے کر یہاں سے چلے جاؤ، راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آپہنچا حق تعالیٰ کے حکم سے دریا شق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو گذرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہوگئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب کی غرض سے اس میں گھس گیا اس وقت سب طرف سے دریا سمٹ کر اپنی سابق حالت پر ہوگیا اور فرعون اور اس کے ساتھی سب وہاں ہی غرق ہو کر ختم ہوگئے،

Al-Baqara 2:50Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.