Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 286

31

وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “

دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ …

Al-Baqara 2:31Listen in Qur'an →
32

قَالُوا۟ سُبْحَٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “

دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ …

Al-Baqara 2:32Listen in Qur'an →
33

قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْهُم بِأَسْمَآئِهِمْ ۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسْمَآئِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “

دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ …

Al-Baqara 2:33Listen in Qur'an →
34

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا

آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ ہم نے حکم دیا کہ ” اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔ “ اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا ” پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے ۔ اب ذرا اس مفسد اور خوں آشام مخلوق کی عزت افزائی دیکھئے کہ وہ کروبیوں کی مسجود ہورہی ہے ۔ فرشتوں سے بھی بلند ہوجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے ایک تو اسے معرفت الٰہی کا راز بخشا گیا دوسرے یہ کہ اسے ایک صاحب ارادہ مخلوق بنایا گیا ہے ۔ انسان جس راہ کو اختیار کرنا چاہے آزادانہ اختیار کرسکتا ہے ۔ غرض فطرت انسانی کی یہ دورنگی اپنے ارادے پر اس کا اختیار اور اس کے ذریعے اپنے لئے راہ حیات کے تعین کی آزادی اور اپنی خاص کوششوں اور جدوجہد سے ہداقیت انسانیت کی ذمہ داری اور اس فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی قدرت وغیرہ ہی وہ چیزیں ہیں جن میں اس کے اس عظیم اعزاز کا راز پوشیدہ ہے ۔

چناچہ اس تقریب میں باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سب فرشتے آدم خاکی کے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ” مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا “

اس تقریب میں شریر مخلوق مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے خود ذات اقدس کی بارگاہ میں باری تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے اور صاحب فضیلت کے فضل اور اعزاز کا انکار کیا جاتا ہے ۔ یہ شریر مخلوق گناہ پر مصر ہے اور فہم و فراست کے تمام دروازے اس کے لئے بند ہوجاتے ہیں ۔

سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابلیس اگرچہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا لیکن وہ ملائکہ میں سے نہ تھا کیونکہ اگر وہ فرشتوں میں سے ہوتا تو اسے سرتابی کی مجال نہ ہوتی کیونکہ فرشتوں کی صفت اور خاصیت یہ ہے کہ لَا یَعۡصُوۡنَ مَا اَمَرَھُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُوۡمَرُوۡنَ ” اللہ جو انہیں حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں ۔ “ اگرچہ یہ استثنائی جملہ کہ ” سب فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے “ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا لیکن وہ چونکہ فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا اسی لئے سلسلہ کلام میں ایسی استثناء لائی گئی ۔ عرب کہتے ہیں جَاءَ بَنُوا فُلَانٍ اِلَّا اَحۡمَدٌ فلاں قوم کے سب لوگ آگئے مگر احمد حالانکہ احمد ان میں سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ان کے جوار میں رہتا ہے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید اس کی تصریح کرتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا اور جنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ بات قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجاتی ہے کہ وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔

Al-Baqara 2:34Listen in Qur'an →
35

وَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

اس تقریب کے بعد اب ہمارے سامنے میدان کارزار ہے جس میں خلیفہ شر ‘ ابلیس ‘ اور خلیفہ خدا انسان ہے اور دونوں کے درمیان مسلسل جنگ ہورہی ہے ۔ یہ جنگ درحقیقت انسانی ضمیر اور اس کے دل و دماغ کے میدانوں میں لڑی جارہی ہے اور اس میں وہی انسان کامیاب ہوتے ہیں جو پختہ ارادے کے مالک ہوتے ہیں ۔ وہی سرخرو ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں ۔ جوں جوں انسان اپنی خواہشات نفس کا بندہ بنتا چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے دورہوتا جاتا ہے۔ شر کی قوتوں کو پیش قدمی حاصل ہوتی جاتی ہے۔

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ” پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہوں گے ........ “۔ آدم وحوا کے لئے جنت کے تمام پھل جائز قرار دیئے گئے ‘ صرف ایک درخت کو مستثنیٰ رکھا گیا۔

صرف ایک درخت ........ شاید اس میں یہ اشارہ تھا کہ زمین میں نسل انسانی حلال و حرام کے قیود کی پابند ہوگی ‘ کیونکہ حدودوقیود کے بغیرآزاد اور خود مختار ارادہ کیونکر پیدا ہوسکتا ہے اور ایک متحرک بالارادہ انسان اور ایک مجبور حیوان کے درمیان فرق کیونکر ہوسکتا ہے ۔ اس کے سوا تو اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد شدہ حدود وقیود کی پابندی کے سلسلے میں انسان کو آزمایا جائے ۔ یہ قوت ارادہ ہی ہے جو ایک حقیقی انسان اور ایک انسان نماحیوان کے درمیان فرق کردیتی ہے جو مویشیوں کی طرح دنیا میں چرتا پھرتا ہے اور بس۔

Al-Baqara 2:35Listen in Qur'an →
36

فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ” آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ “ ........ ذرا تعبیر کا شاہ کار دیکھئے ۔ شیطان نے انہیں پھسلایا ۔ “ پھسلانے کا لفظ ہی پوری صور تحال کی تصویر کھینچ دیتا ہے ۔ گویا ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں کہ شیطان انہیں دھکیل دھکیل کر جنت سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے ۔ گویا وہ اچانک ان کی ثابت قدمی کو دھکا دیتا ہے اور وہ گرجاتے ہیں اور نیچے آرہتے ہیں ۔

یہاں آدم اور ابلیس کشمکش کا پہلاتجربہ مکمل ہوجاتا ہے ۔ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول جاتے ہیں ‘ وہ اس کے بھٹکانے کے سامنے کمزور پڑجاتے ہیں ۔ اللہ کا حکم سچائی بن کر سامنے آتا ہے اور قضائے الٰہی کا اعلان یوں ہوتا ہے ۔

وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ ” ہم نے حکم دیا کہ اب تم یہاں سے اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔ “ یہ اعلان تھا کہ اب آدم وابلیس کا معرکہ اپنی مقرر جگہ یعنی اس زمین پر شروع ہوجانا ہے۔ اور اب یہ معرکہ قیامت تک یوں ہی برپا رہے گا ۔

آدم (علیہ السلام) گرنے کے بعد اب سنبھلتے ہیں اور اٹھتے ہیں ‘ کیونکہ گرنا اور اٹھنا فطرت انسانی ہے ۔ اب اللہ کی رحمت انہیں اپنے سایہ رحمت وعاطفت میں لے لیتی ہے اور جو بھی اللہ کی رحمت کے دامن میں پناہ لے اور اس کی چوکھٹ پر آگرے یہ رحمت بےپایاں ہمیشہ اسے ڈھانپ لیا کرتی ہے ۔

Al-Baqara 2:36Listen in Qur'an →
37

فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍۢ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ‘ جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ آدم اور نسل آدم کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک دآئمی معاہدہ ہے ۔ بات مکمل ہوگئی ۔ آدم اس زمین پر اللہ کا ایک بااختیار اور ذی ارادہ خلیفہ قرار پایا ۔ اس کا کام ہے کہ وہ فلاح کی راہ اختیار کرتا ہے یا ہلاکت و بربادی کی ۔

Al-Baqara 2:37Listen in Qur'an →
38

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْهَا جَمِيعًۭا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًۭى فَمَن تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟

٭ ........ ٭ ........ ٭

لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟ کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا ؟ اسے ابتلا ‘ میں ڈالا گیا ‘ یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیداہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمین پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟

میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم (علیہ السلام) کو کاربار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی پوشیدہ قوتوں کو جگادیا گیا ۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور اس کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی ‘ توبہ ‘ دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔

شجر ممنوعہ کی کہانی ‘ اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی ‘ انسان اول کا نسیان عہد ‘ نسیان کے بعد ہوش میں آنا ‘ پشیمانی اور استغفار ۔ یہ سب کیفیات دو اروات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔

اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا ۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس) کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔

آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟ وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم وحوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟ فرشتے کیا ہیں ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا ؟ اور انہوں نے کیونکرجواب دیا ؟

بھائی ! یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں ۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ‘ اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے ‘ وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی ۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے ۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے ۔ نیز فریضہ ٔ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں ۔ اللہ کے قوانین قدرت کو کس قدر انسان نے مسخر کیا ہے ۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟ کتنے اسرار غیبیہ ہیں ‘ جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم وادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بیشمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود ‘ وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بیخبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں ۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ........ اور ذرائع کے علم کے باوجودجو اسے میسر ہیں ‘ وہ کچھ نہیں جانتا کہ …

Al-Baqara 2:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟

٭ ........ ٭ ........ ٭

لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟ کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا ؟ اسے ابتلا ‘ میں ڈالا گیا ‘ یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیداہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمین پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟

میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم (علیہ السلام) کو کاربار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی پوشیدہ قوتوں کو جگادیا گیا ۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور اس کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی ‘ توبہ ‘ دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔

شجر ممنوعہ کی کہانی ‘ اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی ‘ انسان اول کا نسیان عہد ‘ نسیان کے بعد ہوش میں آنا ‘ پشیمانی اور استغفار ۔ یہ سب کیفیات دو اروات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔

اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا ۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس) کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔

آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟ وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم وحوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟ فرشتے کیا ہیں ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا ؟ اور انہوں نے کیونکرجواب دیا ؟

بھائی ! یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں ۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ‘ اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے ‘ وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی ۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے ۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے ۔ نیز فریضہ ٔ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں ۔ اللہ کے قوانین قدرت کو کس قدر انسان نے مسخر کیا ہے ۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟ کتنے اسرار غیبیہ ہیں ‘ جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم وادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بیشمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود ‘ وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بیخبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں ۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ........ اور ذرائع کے علم کے باوجودجو اسے میسر ہیں ‘ وہ کچھ نہیں جانتا کہ …

Al-Baqara 2:39Listen in Qur'an →
40

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِىٓ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں ‎تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ‘ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ‘ اسے پورا کرو ‘ تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ “

یہاں جس عہد کا ذکر ہورہا ہے ‘ وہ کون سا عہد ہے ؟ کیا اس سے ” عہد اول “ مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یا یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا ‘ جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے ۔ یہ فطری معاہدہ تو ایسا ہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بناپر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے ۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے ۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ‘ بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہوگا۔ وَاِذبۡتَلٰیَ اِبۡرَاھِیۡمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِیۡ قَالَ لَا یَنَالُ عَھۡدِیۡ الظَّالِمِیۡنَ ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا ” میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “ اس نے جواب دیا ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ (2۔ 124) یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا ، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دی جارہی ہیں ، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (2۔ 93) آرہا ہے۔

یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل وجان سے اس کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کردیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے ، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلہ ایمان ، اسی دین کو شعار بناکر چلتا رہا۔

غرض …

Al-Baqara 2:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.