Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 286

31

وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

اس کے بعد فرشتوں کو اس کا کچھ تفصیلی علم کرانے کے لئے ایک خاص واقعہ کا اظہار کیا گیا کہ تمام کائنات عالم کے نام اور ان کے خواص وآثار جن کے علم کی صلاحیت صرف آدم (علیہ السلام) ہی میں ودیعت کی گئی تھی فرشتوں کی فطرت وجبلت اس کے مناسب نہ تھی وہ سب آدم (علیہ السلام) کو سکھائے اور بتلائے گئے تھے مثلاً دنیا کی نافع ومضر چیزیں اور ان کے خواص وآثار، ہر جاندار اور ہر قوم کے مزاج و طبائع اور ان کے آثار، ان چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے طبیعت ملکی متحمل نہیں فرشتہ کیا جانے کہ بھوک کیا ہوتی ہے پیاس کی تکلیف کیسی ہوتی ہے نفسانی جذبات کا کیا اثر ہوتا ہے کسی چیز سے نشہ کس طرح پیدا ہوتا ہے سانپ اور بچھو کا زہر کس بدن پر کیا اثر کرتا ہے،- غرض زمینی مخلوقات کے نام اور خواص و آثار کی دریافت فرشتوں کے مزاج اور مخصوص طبیعت سے بالکل علیحدہ چیز تھی یہ علم صرف آدم ہی کو سکھلایا جاسکتا تھا انہی کو سکھلایا گیا پھر قرآن کی کسی تصریح یا اشارہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آدم (علیہ السلام) کو یہ تعلیم کسی تنہائی میں فرشتوں سے علیحدہ دی گئی اس لئے ہوسکتا ہے کہ تعلیم سب کے لئے عام ہی ہو مگر اس تعلیم سے فائدہ اٹھانا آدم (علیہ السلام) کی طبیعت میں تھا وہ سیکھ گئے فرشتوں کی فطرت میں نہ تھا وہ نہ سیکھ سکے اسی لئے یہاں تعلیم کو آدم کی طرف منسوب کیا گیا اگرچہ یہ تعلیم فی نفسہ عام تھی آدم اور ملائکہ دونوں کو شامل تھی اور یہ بھی ہوسکتا کہ ظاہری تعلیم کی صورت ہی عمل میں نہ آئی ہو بلکہ آدم (علیہ السلام) کی فطرت میں ان چیزوں کا علم ابتدائے آفرینش سے ودیعت کردیا گیا ہو جیسے بچہ ابتداء ولادت میں ماں کا دودھ پینا جانتا ہے بطخ کا بچہ تیرنا جانتا ہے اس میں کسی ظاہری تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔- اب رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو سب کچھ ہے وہ فرشتوں کا مزاج اور طبیعت بدل کر ان کو بھی یہ چیزیں سکھا سکتے تھے تو ان کو کیوں نہ سکھایا گیا ؟ مگر اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ فرشتوں کو ہی انسان کیوں نہ بنادیا کیونکہ اگر فرشتوں کی جبلت و فطرت کو بدلا جاتا تو پھر فرشتے نہ رہتے بلکہ انسان ہی ہوجاتے،- خلاصہ یہ ہے کہ زمینی مخلوقات کے اسماء اور ان کے خواص وآثار کا آدم (علیہ السلام) کو علم دیا گیا جو فرشتوں کے بس میں نہیں تھا اور پھر ان مخلوقات کو فرشتوں کے سامنے کرکے سوال کیا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ ہم سے زیادہ کوئی مخلوق اعلم و افضل پیدا نہیں ہوگی یا یہ کہ زمین کی خلافت ونیابت کے لئے فرشتے بہ نسبت انسان کے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ جن پر خلیفہ زمین کو حکومت کرنا ہے، - یہاں سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوگیا کہ حاکم کے لئے ضروری ہے کہ اپنی محکوم رعایا کے مزاج و طبائع سے اور ان کے خواص وآثار سے پورا واقف ہو اس کے بغیر وہ ان پر عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی نہیں کرسکتا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ بھوک سے کیسی اور کتنی تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی عدالت میں کوئی دعویٰ کسے کو بھوکا رکھنے کے متعلق پیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ کیا اور کس طرح کرے گا ؟- غرض اسی واقعہ سے حق تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بتلا دیا کہ زمین کی نیابت کے لئے معصوم ہونے کو دیکھنا نہیں بلکہ اس کو دیکھنا ہے کہ وہ زمین کی چیزوں سے پورا واقف ہو ان کے استعمال کے طریقوں اور ان کے ثمرات کو جانتا ہو اگر تمہارا یہ خیال صحیح ہے کہ فرشتے اس خدمت کے لئے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ ،- فرشتوں کا اظہار رائے چونکہ کسی اعتراض یا فخر و غرور یا اپنا استحقاق جتلانے کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے خیال کا اظہار ایک نیاز مندخادم کی طرح اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تھا اس لئے فوراً بول اٹھے : قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَ آ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ :- (پاک ہیں آپ، ہم کو علم نہیں، مگر …

Al-Baqara 2:31Listen in Qur'an →
32

قَالُوا۟ سُبْحَٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر :- اور جس وقت حکم دیا ہم نے سب فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے غرض ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ) سجدہ میں گرجاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدہ میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے،

Al-Baqara 2:32Listen in Qur'an →
33

قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْهُم بِأَسْمَآئِهِمْ ۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسْمَآئِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے

Explained together with ayah 32

Al-Baqara 2:33Listen in Qur'an →
34

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا

معارف و مسائل :- ربط آیات :- پچھلے واقعہ میں جب آدم کی فضیلت فرشتوں پر ظاہر ہوچکی اور دلائل سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ صلاحیت خلافت کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے وہ آدم (علیہ السلام) میں سب مجتمع ہیں اور ملائکہ کو ان میں سے بعض علوم حاصل ہیں اور جنوں کو تو بہت ہی کم حصہ ان علوم کا حاصل ہے جیسا کہ اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے اور اس حیثیت خاص سے کہ ملائکہ وجن ہر دو گروہ کے علوم کے یہ جامع ہیں ان کا شرف ہر دو گروہ پر ظاہر فرما دیا جاوے اور ملائکہ اور جنوں سے ان کو کوئی خاص تعظیم کرائی جاوے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ دونوں سے کامل اور مصداق، - آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری - کے ہیں اور آدم (علیہ السلام) ان علوم خاصہ میں ملائکہ اور جن ہر دو گروہ سے کامل اور دونوں کے علوم وقویٰ کو جامع ہیں جیسا کہ مفصل طور پر مذکور ہوا اب حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ان غیر کاملوں سے اس کامل کی کوئی ایسی تعظیم کرائی جاوے کی عملاً بھی یہ امر ظاہر ہوجاوے کہ یہ ان دونوں سے کامل اور جامع ہیں جب تو یہ دونوں ان کی تعظیم کر رہے ہیں اور گویا بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ جو اوصاف ہم میں الگ الگ ہیں وہ ان کے اندر یکجا ہیں اس لئے جو عمل تعظمیی تجویز فرمایا گیا ہے اس کی حکایت ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور غرور میں آگیا،- کیا سجدہ کا حکم جنات کو بھی تھا - اس آیت میں جو بات صراحۃ مذکور ہے وہ تو یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا تو اس سے فرشتے اور جنات سب داخل ہیں مگر حکم میں صرف فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفا کیا گیا کہ وہ سب سے افضل اور اشرف تھے جب آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کا حکم ان کو دیا گیا تو جنات کا بدرجہ اولیٰ اس حکم میں شامل ہونا معلوم ہوگیا،- سجدہ تعظیمی پہلی امتوں میں جائز تھا اسلام میں ممنوع ہے :- اس آیت میں فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں اور سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور بھائیوں کا مصر پہنچنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا مذکور ہے - وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا (١٢: ١٠٠) یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سجدہ عبادت کے لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک و کفر ہے جس میں احتمال ہی نہیں کہ کسی وقت کسی شریعت میں جائز ہوسکے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں کہ قدیم انبیاء (علیہم السلام) کے زمانے میں سجدے کا بھی وہی درجہ ہوگا جو ہمارے زمانے میں سلام، مصافحہ، معانقہ اور دست بوسی یا تعظیم کے لئے کھڑے ہوجانے کا ہے۔- امام جصاص نے احکام القرآن میں یہی فرمایا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم اور تحیہ کے لئے سجدہ مباح تھا شریعت محمدیہ میں منسوخ ہوگیا اور بڑوں کی تعظیم کے لئے صرف سلام مصافحہ کی اجازت دی گئی، رکوع، سجدہ اور بیئت نماز ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کو ناجائز قرار دے دیا گیا ،- توضیح اس کی یہ ہے کہ اصل کفر و شرک اور غیر اللہ کی عبادت تو اصول ایمان کے خلاف ہے وہ کبھی کسی شریعت میں جائز نہیں ہوسکتے لیکن کچھ افعال و اعمال ایسے ہیں جو اپنی ذات میں شرک و کفر نہیں مگر لوگوں کی جہالت اور غفلت سے وہ افعال ذریعہ شرک و کفر کا بن سکتے ہیں ایسے افعال کو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں مطلقاً منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ذریعہ شرک بنانے سے روکا گیا جیسے جانداروں کی تصویر بنانا اور استعمال کرنا اپنی ذات میں کفر و شرک نہیں اس لئے پچھلی شریعتوں میں جائز تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ میں مذکور ہے،- يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ (٣٧: ١٣) یعنی جنات ان کے لئے بڑی محرابیں اور تصویریں بنایا کرتے تھے،- اسی طرح سجدہ تعظیمی پچھلی …

Al-Baqara 2:34Listen in Qur'an →
35

وَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم رہا کرو تم اور تمہاری بی بی (جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے کوئی مادہ لے کر بنادیا تھا) بہشت میں پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی انہی میں شمار ہوجاؤ گے جو اپنا نقصان کر بیٹھے ہیں (خدا جانے وہ کیا درخت تھا مگر اس کے کھانے سے منع فرما دیا اور پھر آقا کو اختیار ہے کہ اپنے گھر کی چیزوں سے غلام کو جس چیز کے برتنے کی چاہے اجازت دیدے اور جس چیز کو چاہے منع کردے) پس لغزش دے دیآدم وحوا کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھہرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک (یعنی وہاں جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا) - معارف و مسائل :- یہ آدم (علیہ السلام) کے قصہ کا تکملہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جس آدم (علیہ السلام) کی فضیلت اور خلافت ارضی کیلئے صلاحیت فرشتوں پر واضح کردی گئی انہوں نے تسلیم کرلیا اور ابلیس اپنے تکبر اور معارضہ کی وجہ سے کافر ہو کر نکال دیا گیا تو آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ حوّا کو یہ حکم ملا کہ تم دونوں جنت میں رہو اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ مگر ایک معین درخت کے لئے یہ ہدایت کی کہ اس کے پاس نہ جانا یعنی اس کے کھانے سے مکمل پرہیز کرنا شیطان جو آدم (علیہ السلام) کی وجہ سے مردود ہوا وہ خار کھائے ہوئے تھا اس نے کسی طرح موقع پاکر اور مصلحتیں بتلا کر ان دونوں کو اس درخت کے کھانے پر آمادہ کردیا ان کی لغزش کی وجہ سے ان کو بھی یہ حکم ملا کہ اب تم زمین پر جاکر رہو اور یہ بھی بتلا دیا کہ زمین کی رہائش جنت کی طرح بےغل وغش نہ ہوگی بلکہ آپس میں اختلافات اور دشمنیاں بھی ہوں گی جس سے زندگی کا لطف پورا نہ رہے گا،- وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ اور ہم نے کہا کہ اے آدم ٹھرو تم اور تمہاری زوجہ جنت میں یہ واقعہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ملائکہ کے سجدہ کے بعد کا ہے بعض حضرات نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ تخلیق اور سجدہ کا واقعہ جنت سے باہر کہیں ہوا ہے اس کے بعد جنت میں داخل کیا گیا لیکن ان الفاظ میں یہ مفہوم یقینی نہیں بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تخلیق بھی جنت میں ہوئی اور سجدے کا واقعہ بھی جنت میں پیش آیا مگر اس وقت تک ان کو کوئی فیصلہ اس کے متعلق نہیں سنایا گیا تھا کہ آپ کا مسکن ومستقر کہاں ہوگا اس واقعہ کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا،- وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا۔ رَغَدًا کے معنی عربی لغت میں اس نعمت ورزق کے ہیں جس کے حاصل کرنے میں کوئی محنت ومشقت بھی نہ ہو اور وہ اتنی کثیر اور وسیع ہو کہ اس کے کم یا ختم ہوجانے کا خطرہ نہ ہو معنی یہ ہوئے کہ آدم وحوّا (علیہما السلام) کو فرمایا کہ جنت کے پھل با فراغت استعمال کرتے رہو نہ ان کے حاصل کرنے میں تمہیں کسی محنت کی ضرورت ہوگی اور نہ یہ فکر کہ یہ غذا ختم یا کم ہوجائے گی، وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَة کسی خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کا پھل نہ کھاؤ مگر تاکید کے طور پر عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ اس کے پاس بھی نہ جاؤ اور مراد یہی ہے کہ کھانے کے لئے اس کے پاس نہ جاؤ یہ درخت کونسا تھا قرآن کریم نے متعین نہیں کیا اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی تعین مذکور نہیں ائمہ تفسیر میں سے کسی نے گندم کا درخت قرار دیا کسی نے انگور کا کسی نے انجیر کا مگر جس کو قرآن و حدیث نے مبہم چھوڑا ہے اس کو متعین کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے (قرطبی) - فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِينَ یعنی اگر آپ نے اس شجر ممنوعہ کو کھایا تو آپ ظالموں …

Al-Baqara 2:35Listen in Qur'an →
36

فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے

(آیت) فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا۔ زلۃ کے معنی عربی میں لغزش کے ہیں ازلال کے معنی کسی کو لغزش دینا معنی یہ ہیں کہ شیطان نے آدم وحوا کو لغزش دے دی قرآن کے یہ الفاظ صاف اس کا اظہار کررہے ہیں کہ حضرت آدم وحوّا کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی جو عام گناہگاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے بلکہ شیطانی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار دیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے۔ عنہا میں لفظ عن بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب و ذریعہ سے شیطان نے آدم وحوّا کو لغزش میں مبتلا کردیا،- یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب شیطان کو سجدے سے انکار کی بنا پر پہلے ہی مردود کرکے جنت سے نکال دیا گیا تھا تو یہ آدم وحوا کو بہکانے کے لئے جنت میں کیسے پہنچا ؟ اس کا بےغبار جواب یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے اور وہاں تک پہنچنے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ بغیر ملاقات کے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان جنات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو بہت سے ایسے تصرفات پر قدرت دی ہے جو عام طور پر انسان نہیں کرسکتے ان کی مختلف شکلوں میں متشکل ہوجانے کی بھی قدرت دی ہے ہوسکتا ہے کہ اپنی قوت جنیہ کے ذریعہ مسمریزم کی صورت سے آدم وحوّا کے ذہن کو متأثر کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دوسری شکل میں مثلاً سانپ وغیرہ کی شکل میں متشکل ہو کر جنت میں داخل ہوگیا ہو اور شاید یہی سبب ہوا کہ آدم (علیہ السلام) کو اس کی دشمنی کی طرف دھیان نہ رہا قرآن مجید کی آیت وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ (٢١: ٧) سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے صرف وسوسہ اور ذہنی اثر ڈالنے سے کام نہیں لیا بلکہ آدم وحوّا سے زبانی گفتگو کرکے اور قسمیں کھا کر متاثر کیا۔- فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ یعنی شیطان نے اس دھوکہ اور لغزش کے ذریعہ آدم وحوا (علیہما السلام) کو ان نعمتوں سے نکال دیا جن میں وہ آرام سے گذر بسر کر رہے تھے یہ نکالنا اگرچہ بحکم خداوندی ہوا مگر سبب اس کا شیطان تھا اس لئے نکالنے کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔- وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ یعنی ہم نے حکم دیا کہ نیچے اتر جاؤ اس طرح کہ تم میں بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اس حکم کے مخاطب حضرت آدم وحوا ہیں اور اگر شیطان کو اس وقت تک آسمانوں سے باہر نہیں کیا گیا تھا تو وہ بھی اسی خطاب میں شامل ہے اس صورت میں باہم عداوت ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ شیطان کے ساتھ تمہاری عداوت کا سلسلہ دنیا میں بھی جاری رہے گا اور اگر بقول بعض اس واقعہ کے وقت سے پہلے ہی شیطان نکالا جاچکا تھا تو پھر اس کلام کا رخ آدم وحوا اور ان کی اولاد کی طرف ہوگا کہ ان کو بطور عتاب کے یہ جتلایا گیا کہ ایک سزا تو یہ ہے کہ جنت سے زمین پر اتارا گیا دوسری سزا اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آپ کی اولاد کے درمیان باہم عداوتیں بھی ہوں گی، اور ظاہر ہے کہ اولاد کے باہم عداوت ہونے سے والدین کا لطف زندگی بھی رخصت ہوجاتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کی معنوی اور روحانی سزا ہوگی (بیان القرآن) - وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) کو یہ بھی ارشاد ہوا کہ تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھرنا ہے اور ایک میعاد معین تک کام چلانا ہے یعنی زمین پر جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ مدت کے بعد اس گھر کو بھی چھوڑنا پڑے گا،

Al-Baqara 2:36Listen in Qur'an →
37

فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍۢ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

خلاصہ تفسیر :- بعدازاں حاصل کرلئے حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند الفاظ (یعنی معذرت کے کلمات کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل ہوئے تھے حضرت آدم (علیہ السلام) کی ندامت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی اور خود ہی معذرت کے الفاظ تلقین فرما دئیے) تو اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی ان پر (یعنی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑی توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان (اور حضرت حوّا کی توبہ کا بیان سورة اعراف میں ہے قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی توبہ اور قبول توبہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شریک رہیں مگر معاف فرمانے کے بعد بھی زمین پر جانے کے حکم کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ اس میں ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم زمین پر اترنے کا حاکمانہ طور پر بطرز سزا تھا اب یہ حکم حکیمانہ انداز سے اس طرح ارشاد ہوا قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا الآیہ یعنی) ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت (یعنی احکام شرعیہ بذرعیہ وحی) سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے (یعنی ان پر کوئی خوفناک واقعہ نہ پڑے گا اور قیامت کے ہولناک واقعات سے ان کا بھی خوف زدہ ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ احادیث صحیحہ میں سب پر ہول اور خوف کا عام ہونا معلوم ہوتا ہے حزن وہ کیفیت ہے جو کسی مضرت و مصیبت کے واقع ہوجانے کے بعد قلب میں پیدا ہوتی ہے، اور خوف ہمیشہ قبل وقوع ہوا کرتا ہے، یہاں حق تعالیٰ نے حزن وغم دونوں کی نفی فرمادی کیونکہ ان پر کوئی آفت وکلفت واقع نہ ہوگی جس سے حزن یا خوف آگے ان لوگوں کا حال بیان کیا ہے جو اس ہدایت کی پیروی نہ کریں فرمایا) اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ کو رہیں گے،- معارف و مسائل :- ربط آیات :- پچھلی آیات میں شیطانی وسوسہ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور اسکے نتیجہ میں جنت سے نکلنے اور زمین پر اترنے کا حکم مذکور تھا حضرت آدم (علیہ السلام) نے ایسے خطاب و عتاب کہاں سنے تھے نہ ایسے سنگدل تھے کہ اس کی سہار کرجاتے بےچین ہوگئے اور فوراً ہی معافی کی التجاء کرنے لگے مگر پیغمبرانہ معرفت اور اس کی وجہ سے انتہائی ہیبت سے کوئی بات زبان سے نہ نکلتی تھی یا اس خوف سے کہ معافی کہ التجا کہیں خلاف شان ہو کر مزید عتاب کا سبب نہ بن جائے زبان خاموش تھی اللہ رب العزت دلوں کی بات سے واقف اور رحیم و کریم ہیں یہ حالت دیکھ کر خود ہی معافی کے لئے کچھ کلمات ان کو سکھا دئیے اس کا بیان ان آیات میں ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے حاصل کرلئے اپنے رب سے چند الفاظ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی (یعنی ان کی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑے توبہ قبول کرنے والے مہربان مگر چونکہ روئے زمین پر آنے میں اور بھی ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں مثلاً ان کی نسل سے فرشتوں اور جنات کے درمیان ایک نئی نوع انسان کا وجود میں آنا اور ان کو ایک طرح کا اختیار دے کر احکام شرعیہ کا مکلف بنانا پھر ان میں خلافت الہیہ قائم کرنا حدود اور احکام شرعیہ نافذ کرنا تاکہ یہ نئی مخلوق ترقی کرکے اس مقام پر پہنچ سکے جو بہت سے فرشتوں کو بھی نصیب نہیں اور ان مقاصد کا ذکر تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے ہی کردیا گیا تھا، اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً - اس لئے خطا معاف کرنے کے بعد بھی زمین پر اترنے کا حکم منسوخ نہیں فرمایا البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم حاکمانہ اور زمین پر اترنا بطور سزا کے تھا اب یہ ارشاد حکیمانہ اور زمین پر آنا خلافت الہیہ کے اعزاز کے ساتھ ہوا اس لئے بعد کی آیات میں ان فرائض منصبی کا بیان ہے جو ایک …

Al-Baqara 2:37Listen in Qur'an →
38

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْهَا جَمِيعًۭا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًۭى فَمَن تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

آدم کا زمین پر اترنا سزا کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقصد کی تکمیل کے لئے تھا۔- قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا جنت سے زمین پر اترنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں آچکا ہے اس جگہ پھر اس کو مکرر لانے میں غالبا حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں زمین پر اتارنے کا ذکر بطور عتاب اور سزا کے آیا تھا اسی لئے اس کے ساتھ انسانوں کی باہمی عداوت کا بھی ذکر کیا گیا اور یہاں زمین پر اتارنے کا ذکر ایک خاص مقصد خلافت الہیہ کی تکمیل کے لئے اعزاز کے ساتھ ہے اسی لئے اس کے ساتھ ہدایت بھیجنے کا ذکر ہے جو خلافت الہیہ کے فرائض منصبی میں سے ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگرچہ زمین پر اترنے کا ابتدائی حکم بطور عتاب اور سزا کے تھا مگر بعد میں جب خطا معاف کردی گئی تو دوسری مصالح اور حکمتوں کے پیش نظر زمین پر بھیجنے کے حکم کی حیثیت سے ہوا اور یہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر تخلیق آدم کے وقت ہی فرشتوں سے کیا جاچکا تھا کہ زمین کے لئے ان کو خلیفہ بنانا ہے،- رنج وغم سے نجات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ فرمانبردار ہیں :- فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ اس آیت میں آسمانی ہدایات کی پیروی کرنے والوں کے لئے دو انعام مذکور ہیں ایک یہ کہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا، دوسرے وہ غمگین نہ ہوں گے،- خَوْفٌ آئندہ پیش آنے والی کسی تکلیف و مصیبت کے اندیشہ کا نام ہے اور حزن کسی مقصد و مراد کے فوت ہوجانے سے پیدا ہونے والے غم کو کہا جاتا ہے غور کیا جائے تو عیش و راحت کی تمام انواع و اقسام کا ان دو لفظوں میں ایسا احاطہ کردیا گیا ہے کہ آرام و آسائش کا کوئی فرد اور کوئی قسم اس سے باہر نہیں پھر ان دونوں لفظوں کی تعبیر میں ایک خاص فرق کیا گیا ہے کہ خوف کی نفی تو عام انداز میں کردی گئی مگر حزن کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ لاحزن علیہم بلکہ بصیغہ فعل لایا گیا اور اس کی ضمیر فاعل کو مقدم کرکے وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ فرمایا گیا اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کسی چیز یا مراد کے فوت ہونے کے غم سے آزاد ہونا صرف انہی اولیاء اللہ کا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کی مکمل پیروی کرنے والے ہیں ان کے سوا کوئی انسان اس غم سے نہیں بچ سکتا خواہ وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا مالدار، کیونکہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس کو اپنی طبیعت اور خواہش کے خلاف کوئی بات پیش نہ آئے اور اس کا غم نہ ہو جیسا کہ کہا گیا ہے،- دریں دنیا کسے بےغم نباشد - وگر باشد بنی آدم نباشد - بخلاف اولیاء اللہ کے کہ وہ اپنی مرضی اور ارادے کو اللہ رب العزت کی مرضی اور ارادے میں فنا کردیتے ہیں اس لئے ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا غم نہیں ہوتا قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی اس کو ظاہر کیا گیا ہے کہ خاص اہل جنت ہی کا یہ حال ہوگا کہ وہ جنت میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا اس پر شکر کریں گے کہ ان سے غم دور کردیا گیا،- الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (٣٤: ٣٥) اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کچھ نہ کچھ غم ہونا ہر انسان کے لئے ناگزیز ہے بجز اس شخص کے جس نے اپنا تعلق حق تعالیٰ کے ساتھ مکمل اور مضبوط کرلیا ہو خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے خوب فرمایا،- جو بچنا ہو غموں سے آپ کا دیوانہ ہوجائے،- اس آیت میں اللہ والوں سے خوف وغم کی نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی کسی تکلیف یا کسی خواہش و مراد پر ان کو خوف وغم نہ ہوگا آخرت کی فکر وغم اور اللہ جل شانہ کی ہیبت و جلال تو ان پر اور سب سے زیادہ ہوتی ہے اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں یہ آیا ہے کہ آپ اکثر غمگین اور متفکر رہتے تھے وجہ یہ ہے کہ آپ کا یہ فکر وغم کسی دنیوی نعمت کے فوت ہونے یا کسی مصیبت کے خطرہ سے نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کی ہیبت و جلال سے اور امت کے حالات کی وجہ سے تھا، - نیز اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ دنیا میں جو …

Al-Baqara 2:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

آخری آیت والَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیں یعنی کفار اور مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں وہ عملاً کیسے بھی گہنگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے، واللہ اعلم :

Al-Baqara 2:39Listen in Qur'an →
40

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِىٓ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

خلاصہ تفسیر :- اے بنی اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد) یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کئے ہیں میں نے تم پر (تاکہ حق نعمت سمجھ کر ایمان لانا تمہارے لئے آسان ہوجائے، آگے اس یاد کرنے کی مراد بتلاتے ہیں) اور پورا کرو تم میرے عہد کو (یعنی تم نے جو تورات میں مجھ سے عہد کیا تھا جس کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (١٢: ٥) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو (یعنی میں نے جو عہد تم سے کیا تھا ایمان لانے پر جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو (اپنے عوام معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کا اعتقاد نہ رہے گا اور ان سے آمدنی بند ہوجاوے گی) اور ایمان لے آؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) ایسی حالت میں کہ وہ سچ بتلانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے (یعنی تورات کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس میں تحریفات کی گئی ہیں وہ خود تورات و انجیل ہونے ہی سے خارج ہیں ان کی تصدیق اس سے لازم نہیں آتی) اور مت بنو تم پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے (یعنی تمہیں دیکھ کر جو دوسرے لوگ انکار کریں گے ان سب میں اول بانی انکار و کفر کے تم ہوگے اس لئے قیامت تک ان کے کفر و انکار کا وبال تمہارے نامہ اعمال میں ہی درج ہوتا رہے گا) اور مت لو بمقابلہ میرے احکام کے معاوضہ حقیر اور خاص مجھ ہی سے پورے طور پر ڈرو (یعنی میرے احکام چھوڑ کر یا ان کو بدل کر یا چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کو عادت تھی جس کی تصریح آگے آتی ہے وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ اور مخلوط مت کرو حق کو ناحق کے ساتھ اور پوشیدہ بھی مت کرو حق کو جس حالت میں کہ تم جانتے بھی ہو (کہ حق کو چھپانا بری بات ہے) - معارف و مسائل :- ربط آیات :- سورة بقرہ قرآن کے ذکر سے شروع کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ قرآن کی ہدایت اگرچہ ساری مخلوق کے لئے عام ہے مگر اس سے نفع صرف مؤمنین اٹھائیں گے اس کے بعد ان لوگوں کے عذاب شدید کا ذکر فرمایا جو اس پر ایمان نہیں لائے ان میں ایک طبقہ کھلے کافروں اور منکروں کا تھا دوسرا منافقین کا دونوں کا مع ان کے کچھ حالات اور غلط کاریوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد مؤمنین مشرکین، منافقین کے تینوں طبقوں کو خطاب کرکے سب کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تاکید کی گئی اور قرآن مجید کے اعجاز کا ذکر کرکے سب کو دعوت ایمان دی گئی پھر تخلیق آدم (علیہ السلام) کا ذکر کرکے ان پر ان کی اصلیت اور حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ واضح کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی ترغیب اور نافرمانی سے بچنے کی فکر ہو،- پھر کفار کی دو جماعتیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے کھلے کافر اور منافق ان دونوں میں دو طرح کے لوگ تھے ایک تو بت پرست مشرکین جو محض باپ دادوں کی رسوم کی پیروی کرتے تھے کوئی علم قدیم یا جدید ان کے پاس نہ تھا عام طور پر ان پڑھ امی تھے جیسے عام اہل مکہ اسی لئے قرآن میں ان لوگوں کو امیین کہا گیا ہے - دوسرے وہ لوگ تھے جو انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے اور پہلی کتابوں تورات و انجیل وغیرہ کا علم ان کے پاس تھا لکھے پڑھے لوگ کہلاتے تھے ان میں بعض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے عیسیٰ (علیہ السلام) پر نہیں ان کو یہود کہا جاتا تھا اور بعض موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو بحیثیت نبی معصوم نہیں مانتے تھے یہ نصاریٰ کہلاتے تھے ان دونوں کو قرآن میں اس بناء پر اہل کتاب کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتاب تورات یا انجیل پر ایمان رکھتے تھے یہ لوگ لکھے پڑھے اہل علم ہونے کہ وجہ سے لوگوں کی نظر میں معزز اور قابل اعتماد مانے جاتے تھے ان کی بات ان پر …

Al-Baqara 2:40Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.