Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 281–286 of 286

281

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

اس کے بعد آخری آیت میں پھر روز قیامت کا خوف اور محشر کے حساب کتاب اور ثواب و عذاب کے ذکر پر احکام سود کی آیات کو ختم کیا ارشاد فرمایا :- وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ یعنی ڈرو اس روز سے جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی میں لائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اپنے اپنے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔- حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت نزول کے اعتبار سے سب سے آخری آیت ہے اس کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اس کے اکتیس روز بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور بعض روایات میں صرف نو دن بعد وفات ہونا مذکور ہے۔- یہاں تک ربا کے احکام سے متعلقہ سورة بقرہ کی آیات کی تفسیر آئی ہے ربا کی حرمت و ممانعت پر قرآن کریم میں سورة بقرہ میں مذکورہ سات آیتیں اور سورة آل عمران میں ایک آیت سورة نسآء میں دو آیتیں آئی ہیں اور ایک آیت سورة روم میں بھی ہے جس کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے اس کو بھی سود بیاج کے مفہوم پر محمول کیا ہے، بعض نے دوسری تفسیر بیان کی ہے اس طرح قرآن حکیم کی دس آیتیں ہیں جن میں سود وربا کے احکام مذکور ہیں۔- سود کی پوری حقیقت بتلانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان باقی آیات کا ترجمہ اور تفسیر بھی اسی جگہ لکھ دی جائے جو سورة آل عمران اور سورة نسآء اور سورة روم میں آئی ہیں تاکہ آیات یک جا ہو کر رباء کی حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو۔ - يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (١٣٠: ٣) یعنی اے ایمان والو سود مت کھاؤ حصے سے زائد اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔ - اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے کہ جاہلیت عرب میں سود خوری کا عام طور پر یہ طریق تھا کہ ایک خاص میعاد معین کے لئے اُدھار سود پر دیا جاتا تھا اور جب وہ میعاد آگئی اور قرضدار اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو مزید مہلت اس شرط پر دی جاتی تھی کہ سود کی مقدار بڑھا دی جائے اسی طرح دوسری میعاد پر بھی ادائیگی نہ ہوئی تو سود کی مقدار اور بڑھا دی۔ یہ واقعہ عام کتب تفسیر میں بالخصوص لباب النقول میں بروایت مجاہد مذکور ہے۔- جاہلیت عرب کی اس ملت کش رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی اسی لئے اس آیت میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً (یعنی کئی حصے زائد) فرما کر ان کے مروجہ طریقہ کی مذمت اور ملت کشی وخود غرضی پر تنبیہ فرما کر اس کو حرام قرار دیا اس کے معنی یہ نہیں کہ اضعاف ومضاعف نہ ہو تو حرام نہیں کیونکہ سورة بقرہ اور نسآء میں مطلقا ربا کی حرمت صاف صاف مذکور ہے اضعاف مضاعف ہو یا نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن کریم میں جابجا فرمایا گیا ہے لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا یعنی میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت مت لو، اس میں تھوڑی سی قیمت اس لئے فرمایا کہ آیات الہیہ کے بدلے میں اگر ہفت اقلیم کی سلطنت بھی لے لے تو وہ تھوڑی ہی قیمت ہوگی اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کی آیات کے بدلے میں تھوڑی قیمت لینا تو حرام ہے اور زیادہ لینا جائز، اسی طرح اس آیت میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کا لفظ ان کے شرمناک طریقہ پر فکر کرنے کے لئے لایا گیا حرمت کی شرط نہیں۔- اور اگر سود کے مروجہ طریقوں پر غور کیا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب سود خوری کی عادت پڑجائے تو پھر وہ سود تنہا سود ہی نہیں رہتا بلکہ لازماً اضعاف مضاعف ہوجاتا ہے کیونکہ جو رقم سود سے حاصل ہو کر سود خور کے مال میں شامل ہوئی تو اب اس سود کی زائد رقم کو بھی سود پر چلائے گا اور یہی سلسلہ آگے چلا تو اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ہوجائے گا، اس طرح ہر سود اضعاف مضاعفہ بن کر رہے گا۔- اور سورة نسآء میں دو آیتیں سود کے متعلق یہ ہیں فَبِظُلْمٍ …

Al-Baqara 2:281Listen in Qur'an →
282

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌۭ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً حَاضِرَةًۭ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌۭ وَلَا شَهِيدٌۭ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

خلاصہ تفسیر :- اے ایمان والوں جب معاملہ کرنے لگو ادھار کا (خواہ دام ادھار ہوں یا جو چیز خریدنا ہے وہ ادھار ہو جیسے بیع سلم میں) ایک میعاد معین تک ( کے لئے) تو اس (کی یاد داشت ودستاویز) کو لکھ لیا کرو اور یہ ضرور ہے کہ تمہارے آپس میں (جو) کوئی لکھنے والا (ہو وہ) انصاف کے ساتھ لکھے (یعنی کسی کی رعایت کرکے مضمون میں کمی بیشی نہ کرے) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار بھی نہ کرے جیسا کہ خدا نے اس کو (لکھنا) سکھایا ہے، اس کو چاہئے کہ لکھ دیا کرے اور (کاتب کو) وہ شخص (بتلادے اور) لکھوا دے جس کے ذمہ وہ حق واجب ہو (کیونکہ دستاویز کا حاصل اقرار حق کا ہوتا ہے، تو جس کے ذمہ حق ہے اسی کا اقرار ضرور ٹھرا) اور (لکھاتے وقت) اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرتا رہے اور اس (حق) میں سے ذرہ برابر (بتلانے میں) کمی نہ کرے، پھر جس شخص کے ذمہ حق واجب تھا وہ اگر ضعیف العقل (یعنی معتوہ یا مجنون) ہو یا ضیعف البدن (یعنی نابالغ یا پیر فرتوت) ہو یا (اور کسی اتفاقی امر سے) خود (بیان کرنے کی اور) لکھانے کی قدرت نہ رکھتا ہو، (مثلا گونگا ہے اور لکھنے والا اس کا اشارہ نہیں سمجھتا یا مثلا دوسرے ممالک کا رہنے والا ہے اور زبان غیر رکھتا ہے اور لکھنے والا اس کی بولی نہیں سمجھتا) تو (ایسی حالت میں) اس کا کارکن ٹھیک ٹھیک طور پر لکھوا دے اور دو شخصوں کو اپنے مردوں میں سے گواہ (بھی) کرلیا کرو (اور شرعا اصل مدار ثبوت دعویٰ کا یہی گواہ ہیں گو دستاویز نہ ہو اور خالی دستاویز بدون گواہوں کے ایسے معاملات میں حجت اور معتبر نہیں۔ دستاویز لکھنا صرف یاد داشت کی آسانی کے لئے رہے کہ اس کا مضمون دیکھ کر اور سن کر طبعی طور پر اکثر تمام واقعہ یاد آجاتا ہے جیسا عنقریب قرآن ہی میں آتا ہے) پھر اگر وہ گواہ مرد (میسر) نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بنالی جائیں) ایسے گواہوں میں سے جن کو تم (ان کے معتبر ہونے کی وجہ سے) پسند کرتے ہو (اور ایک مرد کی جگہ دو عورتیں اس لئے تجویز کی گئیں) تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے کوئی ایک بھی (شہادت کے کسی حصہ کو خواہ ذہن سے یا شہادت کے وقت بیان کرنے سے) بھول جائے تو ایک دوسری کو یاد دلادے (اور یاد دلانے کے بعد شہادت کا مضمون مکمل ہوجائے) اور گواہ بھی انکار نہ کریں جب (گواہ بننے کے لئے) بلائے جایا کریں (کہ اس میں اعانت ہے اپنے بھائی کی) اور تم اس (دین) کے (بار بار) لکھنے سے اکتایا مت کرو خواہ وہ (معاملہ دین کا) چھوٹا ہو یا بڑا ہو یہ لکھ لینا انصاف کا زیادہ قائم رکھنے والا ہے اللہ کے نزدیک اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ سزا وار ہے اس بات کا کہ تم (معاملہ کے متعلق) کسی شبہ میں نہ پڑو (اس لئے لکھ ہی لینا اچھا ہے) مگر یہ کہ کوئی سودا دست بدست ہو جس کو باہم لیتے دیتے ہو تو اس کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی الزام (اور مضرت) نہیں اور (اتنا اس میں بھی ضرور کیا کرو کہ اس کے) خریدو فروخت کے وقت گواہ کرلیا کرو (شاید کل کو کوئی بات نکل آئے، مثلاً بائع کہنے لگے کہ مجھ کو دام ہی وصول نہیں ہوئے یا یہ چیز میں نے فروخت ہی نہیں کی یا مشتری کہنے لگے کہ میں نے تو واپسی کا اختیار بھی لے لیا تھا یا ابھی تو مبیع پوری میری پاس نہیں پہنچی) اور (جس طرح ہم نے اوپر کاتب اور گواہ کو منع کیا ہے کہ کتابت اور شہادت سے انکار نہ کریں اسی طرح ہم تم کو بھی تاکید کرتے ہیں کہ تمہاری طرف سے) کسی کاتب کو تکلیف نہ دی جائے اور نہ کسی گواہ کو (مثلا اپنی مصلحت کے لئے ان کی طرف سے) کسی مصلحت میں خلل ڈالا جائے) اور اگر تم ایسا کرو گے تو اس میں تم کو گناہ ہوگا اور خدا تعالیٰ سے ڈرو (اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے وہ مت کرو) اور اللہ تعالیٰ (کا تم پر احسان ہے کہ) تم کو (احکام مفیدہ کی) تعلیم فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کے جاننے والے ہیں (تو وہ مطیع اور عاصی کو بھی جانتے ہیں ہر ایک کو مناسب …

Al-Baqara 2:282Listen in Qur'an →
283

۞ وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبًۭا فَرِهَٰنٌۭ مَّقْبُوضَةٌۭ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًۭا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا۟ ٱلشَّهَٰدَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌۭ قَلْبُهُۥ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌۭ

اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

Explained together with ayah 282

Al-Baqara 2:283Listen in Qur'an →
284

لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر :- اللہ ہی کی ملک میں ہیں سب (مخلوقات) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (جیسے خود زمین و آسمان بھی اسی کی ملک میں ہیں) اور (جب وہ مالک ہیں تو ان کو اپنی مملوکہ اشیاء میں ہر طرح قانون بنانے کا حق ہے اس میں مجال کلام نہ ہونی چاہئے جیسا کہ ایک قانون یہ ہے کہ) جو باتیں (عقائد فاسدہ یا اخلاق مذمومہ یا گناہوں پر پختہ عزم و ارادہ کی) تمہارے نفسوں میں ہیں ان کو اگر تم (زبان وجوارح سے) ظاہر کرو گے (مثلا زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا یا اپنے تکبر حسد وغیرہ کا خود اظہار کردیا یا کسی گناہ جس کا قصد تھا اسی کو کر ہی ڈالا) یا کہ (دل ہی میں) پوشیدہ رکھو گے (دونوں حالتوں میں) حق تعالیٰ تم سے (مثل دوسرے معاصی کے ان کا) حساب لیں گے پھر (حساب لینے کے بعد بجز کفر و شرک کے) جس کے لئے (بخشنا) منظور ہوگا بخش دیں گے اور جس کو (سزا دینا) منظور ہوگا سزا دیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔- معارف و مسائل :- پہلی آیت میں شہادت کے اظہار کا حکم اور چھپانے کی ممانعت مذکور تھی یہ آیت بھی اسی مضمون کا تکملہ ہے اس میں انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ شہادت کا چھپانا حرام ہے اگر تم نے معاملہ کو جانتے ہوئے چھپایا تو رب علیم وخبیر تم سے اس کا حساب لے گا۔ حضرت ابن عباس، عکرمہ، شعبی، اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے (قرطبی) - اور عموم الفاظ کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعتقادات، عبادات اور معاملات کو شامل ہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مشہور قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا محاسبہ فرمائیں گے وہ عمل بھی جس کو وہ کر گذرے ہیں اور وہ بھی جن کا دل سے پختہ ارادہ کرلیا اور اس کو دل میں چھپا کر رکھا مگر عمل کی نوبت نہیں آئی جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں بروایت حضرت ابن عمر منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ مومن قیامت کے روز اپنے رب عزوجل وعلیٰ سے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ حق تعالیٰ اس کے ایک ایک گناہ کو یاد دلائیں گے، اور سوال کریں گے کہ تو جانتا ہے کہ تو نے نہ یہ گناہ کیا تھا، بندہ مومن اقرار کرے گا، حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے دنیا میں بھی تیری پردہ پوشی کی اور تیرا گناہ لوگوں میں ظاہر نہیں ہونے دیا اور میں آج اس کو معاف کرتا ہوں اور حسنات کا اعمالنامہ اس کو دے دیا جائے گا لیکن کفار اور منافقین کے گناہوں کو مجمع عام میں بیان کیا جائے گا۔- اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں پوشیدہ چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور دلوں کے پوشیدہ راز کھولے جائیں گے اور یہ کہ میرے کاتب اعمال فرشتوں نے تو تمہارے صرف وہ اعمال لکھے ہیں جو ظاہر تھے اور میں ان چیزوں کو بھی جانتا ہوں جن پر فرشتوں کو اطلاع نہیں اور نہ انہوں نے وہ چیزیں تمہارے نامہ اعمال میں لکھی ہیں اور اب وہ سب تمہیں بتلاتا ہوں اور ان پر محاسبہ کرتا ہوں پھر جس کو چاہوں گا بخش دوں گا اور جس کا چاہوں گا عذاب دوں گا پھر مؤمنین کو معاف کردیا جائے گا اور کفار کو عذاب دیا جائے گا (قرطبی) - یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے :- ان اللہ تجاوز عن امتی عما حدثت انفسہا مالم یتکلموا او یعملوا بہ (قرطبی) اللہ تعالیٰ نے میری امت کو معاف کردیا ہے وہ جو ان کے دل میں خیال آیا جب تک اس کو زبان سے نہ کہا یا عمل نہ کیا ہو۔ - اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کے ارادہ پر کوئی عذاب و عتاب نہیں ہے۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ حدیث احکام دنیا کے متعلق ہے، طلاق، عتاق، بیع، ہبہ، وغیرہ محض دل میں ارادہ کرلینے سے منعقد نہیں ہوجاتے جب تک ان کو زبان سے یا عمل سے نہ کیا جائے اور آیت میں جو کچھ مذکور ہے وہ احکام آخرت سے متعلق ہے اس لئے کوئی تعارض نہیں …

Al-Baqara 2:284Listen in Qur'an →
285

ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

خلاصہ تفسیر :- اعتقاد رکھتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز (کے حق ہونے) کا جو ان کے پاس رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور (دوسرے) مؤمنین بھی (اس کا اعتقاد رکھنا کہا جائے گا) سب کے سب (رسول بھی اور دوسرے مؤمنین بھی) عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ (کہ وہ موجود ہے اور واحد اور ذات وصفات میں کامل ہے) اور اس کے فرشتوں کے ساتھ (کہ وہ موجود ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں اور مختلف کاموں پر مقرر ہیں) اور اس کی کتابوں کے ساتھ (کہ اصل میں سب سچی ہیں) اور اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں (عقیدہ رکھنے میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی کو پیغمبر سمجھیں کسی کو نہ سمجھیں) اور ان سب نے یوں کہا کہ ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا (اور اس) کو خوشی سے مانا ہم آپ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار اور آپ ہی کی طرف (ہم سب کو) لوٹنا ہے (یعنی ہم نے جو پہلی آیت میں کہا ہے کہ نفوس کی پوشیدہ باتوں پر بھی محاسبہ ہوگا اس سے مراد امور غیر اختیاری نہیں بلکہ صرف امور اختیاریہ ہیں کیونکہ) اللہ کسی کو (احکام شرعیہ میں) مکلف نہیں بناتا (یعنی ان امور کو واجب یا حرام نہیں فرماتا) مگر اسی کا جو اس کی طاقت (اور اختیار) میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور اس پر عذاب بھی اسی کا ہوگا جو ارادہ سے کرے (اور جو وسعت سے باہر ہے اس کا مکلف نہیں کیا گیا اور جس کے ساتھ قصد اور ارادہ متعلق نہیں اس کا نہ ثواب ہے نہ عذاب اور وساوس طاقت سے خارج ہیں تو ان کے آنے کو حرام اور ان کے نہ آنے دینے کو واجب نہیں کیا اور نہ ان پر عذاب رکھا) اے ہمارے رب ہم پر داروگیر نہ فرمائیے اگر ہم بھول جاویں یا چوک جاویں اے ہمارے رب (ہماری یہ بھی درخواست ہے کہ) ہم پر کوئی سخت حکم نہ بھیجئے جیسے ہم سے پہلے لوگوں پر آپ نے بھیجے تھے، اے ہمارے رب اور (ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ) ہم پر کوئی ایسا بار (تکلیف کا دنیا یا آخرت میں) نہ ڈالئے جس کی ہم کو سہار نہ ہو اور درگذر کیجئے ہم سے اور بخش دیجئے ہم کو اور رحم کیجئے ہم پر آپ ہمارے کارساز ہیں (اور کارساز طرف دار ہوتا ہے) سو آپ ہم کو کافر لوگوں پر غالب کیجئے۔- معارف و مسائل :- ان دو آیتوں کے خاص فضائل :- یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں احادیث صحیحہ معتبرہ میں ان دو آیتوں کے بڑے بڑے فضائل مذکور ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے رات کو یہ دو آیتیں پڑھ لیں تو یہ اس کے لئے کافی ہیں۔- اور ابن عباس کی روایت میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو آیتیں جنت کے خزائن میں سے نازل فرمائی ہیں جس کو تمام مخلوق کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے خود رحمنٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھ دیا تھا، جو شخص ان کو عشاء کی نماز کے بعد پڑھ لے تو وہ اس کے لئے قیام اللیل یعنی تہجد کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور مستدرک حاکم اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے سورة بقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس خزانہ خاص سے عطاء فرمائی ہیں جو عرش کے نیچے ہے اس لئے تم خاص طور پر ان آیتوں کو سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو سکھاؤ اسی لئے حضرت فاروق اعظم اور علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ کوئی آدمی جس کو کچھ بھی عقل ہو وہ سورة بقرہ کی ان دونوں آیتوں کو پڑھے بغیر نہ سوئے گا ان دونوں آیتوں کی معنوی خصوصیات تو بہت ہیں لیکن ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سورة بقرہ میں اکثر احکام شرعیہ اجمالاً وتفصیلاً ذکر کردیئے گئے ہیں اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت وغیرہ۔ آخری دو آیتوں میں پہلی آیت میں اطاعت شعار مؤمنین کی مدح کہ گئی ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کے تمام احکام پر لبیک کہا اور تعمیل کے لئے تیار ہوگئے، اور دوسری آیت میں ایک شبہ کا جواب دیا گیا جو ان دو آیتوں …

Al-Baqara 2:285Listen in Qur'an →
286

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًۭا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

اس کے بعد دوسری آیت میں ایک خاص انداز سے وہ شبہ دور کیا گیا جو پچھلی آیت کے بعض جملوں سے پیداہو سکتا تھا کہ دل میں چھپے ہوئے خیالات پر حساب ہوا تو عذاب سے کیسے بچیں گے۔ ارشاد فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زائد کام کا حکم نہیں دیتے اس لئے غیر اختیاری طور پر جو خیالات و وسوسے دل میں آجائیں اور پھر ان پر کوئی عمل نہ ہو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاف ہیں حساب اور مؤ اخذہ صرف ان افعال پر ہوگا جو اختیار اور ارادہ سے کئے جائیں۔- تفصیل اس کی یہ ہے کہ جس طرح انسان کے اعمال و افعال جو ہاتھ، سر، آنکھ اور زبان وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کو اعمال ظاہرہ کہا جاتا ہے ان کی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جو ارادہ اور اختیار سے کئے جائیں جیسے ارادہ سے بولنا ارادہ سے کسی کو مارنا دوسرے غیر اختیاری جو بلا ارادہ سرزد ہوجائیں جیسے زبان سے کہنا چاہتا تھا کچھ اور نکل گیا کچھ یا رعشہ سے بلا اختیار ہاتھ کی حرکت ہوئی اس سے کسی کو تکلیف پہنچ گئی ان میں سب کو معلوم ہے کہ حساب و کتاب اور جزاء وسزا افعال اختیار یہ کے ساتھ مخصوص ہیں افعال غیر اختیاریہ کا نہ انسان مکلف ہے نہ ان پر اس کو ثواب یا عذاب ہوتا ہے۔- اسی طرح وہ افعال جن کا تعلق باطن یعنی دل کے ساتھ ہے ان کی بھی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جیسے کفر و شرک کا عقیدہ جس کو قصد واختیار کے ساتھ دل میں جمایا ہے یا سوچ سمجھ کر ارادہ کے ساتھ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا جس کو تکبر کہا جاتا ہے یا پختہ ارادہ کرنا کہ شراب پیوں گا، اور دوسرے غیر اختیاری مثلاً بغیر قصد و ارادہ کے دل میں کسی برے خیال کا آجانا ان میں بھی حساب و کتاب اور مؤ اخذہ صرف اختیاری افعال پر ہے غیر اختیاری پر نہیں۔- اس تفسیر سے جو خود قرآن نے بیان کردی۔ صحابہ کرام (رض) اجمعین کو اطمینان ہوگیا کہ غیر اختیاری وساوس و خیالات کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب وثواب نہ ہوگا اسی مضمون کو آخر میں اور زیادہ واضح کرنے کے لئے فرمایا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ یعنی انسان کو ثواب بھی اس کام کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور عذاب بھی اس کام پر ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے۔- اور مراد یہ ہے کہ ابتداءً بلاواسطہ اس عمل کا ثواب یا عذاب ہوگا جو قصد و ارادہ سے کرے کسی ایسے عمل کا ثواب و عذاب بالواسطہ ہوجانا جس کا اس نے ارادہ نہیں کیا اس کے منافی نہیں، اس سے اس شبہ کا جواب ہوگیا کہ بعض اوقات آدمی کو بلاقصد و ارادہ بھی ثواب یا عذاب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کی دوسری آیات اور بہت سی روایات حدیث سے ثابت ہے کہ جو آدمی کوئی ایسا نیک کام کرے جس سے دوسرے لوگوں کو بھی اس نیکی کی توفیق ہوجائے تو جب تک لوگ یہ نیک کام کرتے رہیں گے اس کا ثواب اس پہلے والے کو بھی ملتا رہے اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی طریقہ گناہ کا جاری کیا تو آئندہ جتنے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہوں گے اس کا وبال اس شخص کو بھی پہنچے گا جس نے اول یہ برا طریقہ جاری کیا تھا، اسی طرح روایات حدیث سے ثابت ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کا ثواب دوسرے آدمی کو دینا چاہے تو اس کو یہ ثواب پہنچتا ہے۔ ان سب صورتوں میں بغیر قصد و ارادہ کے انسان کو ثواب یا عذاب ہورہا ہے۔- اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ ظاہر ہے کہ یہ ثواب و عذاب بلاواسطہ اس کو نہیں پہنچا بلکہ دوسرے کے واسطے سے پہنچا ہے اس کے علاوہ جو واسطہ بنا ہے اس میں اس کے اپنے عمل اور اختیار کو بھی دخل ضرور ہے کیونکہ جس شخص نے کسی کا ایجاد کیا ہوا اچھا یا برا طریقہ اختیار کیا اس میں پہلے شخص کے عمل اختیاری کا دخل ضروری ہے اگرچہ اس نے اس خاص اثر کا ارادہ نہ کیا ہو اس طرح کوئی کسی کو ایصال ثواب جبھی کرتا ہے جب اس نے اس پر کوئی احسان کیا ہو اس لحاظ سے یہ دوسرے کے عمل کا ثواب و عذاب بھی درحقیقت اپنے ہی عمل کا ثواب یا عذاب ہے۔- بالکل …

Al-Baqara 2:286Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.