Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 281–286 of 286

281

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)

[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت …

Al-Baqara 2:281Listen in Qur'an →
282

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌۭ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً حَاضِرَةًۭ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌۭ وَلَا شَهِيدٌۭ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں معاملہ کرو ساتھ ادھار کے ایک وقت مقرر تک، تو لکھ لو اسے،اور چاہیے کہ لکھے تمھارے درمیان ایک کاتب ساتھ انصاف کے،اور نہ انکار کرے کاتب اس سے کہ لکھے وہ جس طرح سکھایا اسے اللہ نے، پس چاہیے کہ لکھے وہ، اور چاہیے کہ لکھوائے وہ شخص کہ اوپر اس کے حق(قرض) ہے،اور چاہیے کہ ڈرے وہ، اللہ اپنے رب سے،اور نہ کم کرے اس میں سے کوئی چیز، پھر اگر ہو وہ شخص کہ اوپر اس کے حق (قرض) ہے، بے وقوف یا ضعیف یا نہیں استطاعت رکھتا وہ اس بات کی کہ لکھوائے وہ خود، تو چاہیے کہ لکھوائے مختار اس (مقروض) کا ساتھ انصاف کے،اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے (مسلمان) مردوں میں سے، پس اگر نہ ہوں دو مرد تو (گواہی دیں) ایک مرد اور دو عورتیں، ان میں سے جنھیں تم پسند کرتے ہو گواہوں سے، (یہ اس سبب سے) کہ بھول جائے ایک عورت ان دو میں سے تو یاد کرا دے ایک ان میں سے دوسری کو،اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائے جائیں، اور نہ اکتاہٹ ہو تمھیں اس سے کہ لکھو تم اس کو، چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا، اس کے مقرر وقت تک، یہ (لکھنا) زیادہ قرین انصاف ہے نزدیک اللہ کے،اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو،اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ نہ شک میں پڑو تم، مگر یہ کہ ہو سودا ہاتھوں ہاتھ کہ لیتے دیتے ہو تم اسے آپس میں، تو نہیں تم پر کوئی گناہ یہ کہ نہ لکھو تم اس کو،اور گواہ بنا لو جب تم آپس میں سودا کرو،اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو،اور اگر تم ایسا کرو گے تو بے شک یہ نافرمانی ہے (جس کا گناہ ہوگا) تمھیں اور ڈرو اللہ سے،اور تمھیں سکھلاتا ہے اللہ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(282)اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ تم کوئی کاتب، تو رہن (کے طور پر) قبضے میں دے دی جائے (کوئی چیز)، پس اگر امین سمجھے بعض تمھارا بعض کو تو چاہیے کہ ادا کر دے وہ شخص کہ جس کو امین سمجھا گیا ہے، امانت اس کی، اور چاہیے کہ ڈرے وہ اللہ سے اپنے رب سےاور نہ چھپاؤ تم گواہی کو،اور جو شخص چھپائے گا اس (گواہی) کو، تو بلاشبہ وہ شخص، گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے(283)

[282] یہ آیت ’’آیتِ دَیْن‘‘ (قرض کے مسائل والی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (۱) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کیے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (۲۔۳) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لیے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جبکہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (۴) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (۵) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (۶) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے، تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (۷) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (۸) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لیے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے ﴿ وَلۡيَكۡتُبۡ بَّيۡنَؔكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمھارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘ (۹) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ …

Al-Baqara 2:282Listen in Qur'an →
283

۞ وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبًۭا فَرِهَٰنٌۭ مَّقْبُوضَةٌۭ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًۭا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا۟ ٱلشَّهَٰدَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌۭ قَلْبُهُۥ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌۭ

اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں معاملہ کرو ساتھ ادھار کے ایک وقت مقرر تک، تو لکھ لو اسے،اور چاہیے کہ لکھے تمھارے درمیان ایک کاتب ساتھ انصاف کے،اور نہ انکار کرے کاتب اس سے کہ لکھے وہ جس طرح سکھایا اسے اللہ نے، پس چاہیے کہ لکھے وہ، اور چاہیے کہ لکھوائے وہ شخص کہ اوپر اس کے حق(قرض) ہے،اور چاہیے کہ ڈرے وہ، اللہ اپنے رب سے،اور نہ کم کرے اس میں سے کوئی چیز، پھر اگر ہو وہ شخص کہ اوپر اس کے حق (قرض) ہے، بے وقوف یا ضعیف یا نہیں استطاعت رکھتا وہ اس بات کی کہ لکھوائے وہ خود، تو چاہیے کہ لکھوائے مختار اس (مقروض) کا ساتھ انصاف کے،اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے (مسلمان) مردوں میں سے، پس اگر نہ ہوں دو مرد تو (گواہی دیں) ایک مرد اور دو عورتیں، ان میں سے جنھیں تم پسند کرتے ہو گواہوں سے، (یہ اس سبب سے) کہ بھول جائے ایک عورت ان دو میں سے تو یاد کرا دے ایک ان میں سے دوسری کو،اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائے جائیں، اور نہ اکتاہٹ ہو تمھیں اس سے کہ لکھو تم اس کو، چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا، اس کے مقرر وقت تک، یہ (لکھنا) زیادہ قرین انصاف ہے نزدیک اللہ کے،اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو،اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ نہ شک میں پڑو تم، مگر یہ کہ ہو سودا ہاتھوں ہاتھ کہ لیتے دیتے ہو تم اسے آپس میں، تو نہیں تم پر کوئی گناہ یہ کہ نہ لکھو تم اس کو،اور گواہ بنا لو جب تم آپس میں سودا کرو،اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو،اور اگر تم ایسا کرو گے تو بے شک یہ نافرمانی ہے (جس کا گناہ ہوگا) تمھیں اور ڈرو اللہ سے،اور تمھیں سکھلاتا ہے اللہ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(282)اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ تم کوئی کاتب، تو رہن (کے طور پر) قبضے میں دے دی جائے (کوئی چیز)، پس اگر امین سمجھے بعض تمھارا بعض کو تو چاہیے کہ ادا کر دے وہ شخص کہ جس کو امین سمجھا گیا ہے، امانت اس کی، اور چاہیے کہ ڈرے وہ اللہ سے اپنے رب سےاور نہ چھپاؤ تم گواہی کو،اور جو شخص چھپائے گا اس (گواہی) کو، تو بلاشبہ وہ شخص، گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے(283)

[282] یہ آیت ’’آیتِ دَیْن‘‘ (قرض کے مسائل والی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (۱) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کیے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (۲۔۳) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لیے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جبکہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (۴) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (۵) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (۶) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے، تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (۷) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (۸) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لیے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے ﴿ وَلۡيَكۡتُبۡ بَّيۡنَؔكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمھارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘ (۹) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ …

Al-Baqara 2:283Listen in Qur'an →
284

لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،اور اگر ظاہر کرو تم اس کو جو تمھارے دلوں میں ہے یا چھپاؤ تم اس کو، حساب لے گا تم سے اس کا اللہ، پھر بخش دے گا وہ جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گااور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(284)

[284] اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چنانچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لیے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مر کر جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطابق ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انھیں کچھ کاموں کاحکم دیاہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے اس کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ ﴿ فَيَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔‘‘ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب موجود ہوں گے۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔‘‘ اسے ان گناہوں کی سزا ملے گی، جن کی معافی کے اسباب حاصل نہیں ہوئے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز اس کے بس سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کے غلبہ، مشیت، تقدیر اور جزا و سزا کے قوانین کے ماتحت ہیں۔

Al-Baqara 2:284Listen in Qur'an →
285

ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

ایمان لائے رسول(ﷺ) ساتھ اس (کتاب) کے جو نازل کی گئی ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اور سارے مومن بھی، سب ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے، (کہتے ہیں) ہم نہیں تفریق کرتے درمیان کسی کے، اس کے رسولوں میں سےاور کہا انھوں نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے، (ہم طلب کرتے ہیں) تیری مغفرت، اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف ہے لوٹنا(285)نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق ہی، واسطے اسی کے ہے جو کمائی اس نے (بھلائی)،اور اسی پر ہے وبال جو کمائی اس نے (برائی)، اے ہمارے رب! نہ مؤاخذہ کرنا ہمارا اگر ہم بھول جائیں یا ہم چوک جائیں، اے ہمارے رب! نہ ڈالیو ہم پر ایسا بھاری بوجھ جیسا کہ ڈالا تھا تونے وہ اوپر ان لوگوں کے جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ نہیں طاقت ہمیں اس (کے اٹھانے) کی اور درگزر فرما ہم سےاور بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر تو ہی کارساز ہے ہمارا، پس تو مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(286)

[286,285] اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیاہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامر و نواہی کاعلم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔‘‘ یعنی اے اللہ تونے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے، اور جن سے منع کیا ہے، ہم نے انھیں توجہ سے سن لیا ہے ﴿ وَاَطَعۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے اطاعت کی‘‘ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنھوں نے کہا تھا: ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾(البقرۃ:2؍93)’’ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔‘‘ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں ﴿غُفۡرَانَكَ ﴾ ’’تیری بخشش‘‘ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی، پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ اس کاحساب تم سے لے گا‘‘ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آکر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہو۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ …

Al-Baqara 2:285Listen in Qur'an →
286

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًۭا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

ایمان لائے رسول(ﷺ) ساتھ اس (کتاب) کے جو نازل کی گئی ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اور سارے مومن بھی، سب ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے، (کہتے ہیں) ہم نہیں تفریق کرتے درمیان کسی کے، اس کے رسولوں میں سےاور کہا انھوں نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے، (ہم طلب کرتے ہیں) تیری مغفرت، اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف ہے لوٹنا(285)نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق ہی، واسطے اسی کے ہے جو کمائی اس نے (بھلائی)،اور اسی پر ہے وبال جو کمائی اس نے (برائی)، اے ہمارے رب! نہ مؤاخذہ کرنا ہمارا اگر ہم بھول جائیں یا ہم چوک جائیں، اے ہمارے رب! نہ ڈالیو ہم پر ایسا بھاری بوجھ جیسا کہ ڈالا تھا تونے وہ اوپر ان لوگوں کے جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ نہیں طاقت ہمیں اس (کے اٹھانے) کی اور درگزر فرما ہم سےاور بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر تو ہی کارساز ہے ہمارا، پس تو مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(286)

[286,285] اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیاہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامر و نواہی کاعلم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔‘‘ یعنی اے اللہ تونے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے، اور جن سے منع کیا ہے، ہم نے انھیں توجہ سے سن لیا ہے ﴿ وَاَطَعۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے اطاعت کی‘‘ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنھوں نے کہا تھا: ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾(البقرۃ:2؍93)’’ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔‘‘ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں ﴿غُفۡرَانَكَ ﴾ ’’تیری بخشش‘‘ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی، پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ اس کاحساب تم سے لے گا‘‘ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آکر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہو۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ …

Al-Baqara 2:286Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.