Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 271–280 of 286

271

إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ (الیٰ قولہٖ ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ - بظاہر یہ آیت فرض اور نفل سب صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اس میں دینی مصلحت بھی ہے کہ ریاء سے ابعد ہے لینے والا بھی نہیں شرماتا، اور دنیوی مصلحت بھی ہے کہ اپنے مال کی مقدار عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسہ ہے، پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید اقتداء وغیرہ سے اظہار کو ترجیح ہوجاوے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ کفارہ سیات کچھ اخفاء کے ساتھ تو خاص نہیں صرف اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے اخفاء کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے کہ اخفاء میں تجھے اگر کوئی ظاہری فائدہ نظر نہ آئے تو منقبض نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے اور یہ تمہارے لئے فائدہ عظیمہ ہے۔

Al-Baqara 2:271Listen in Qur'an →
272

۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ (الیٰ قولہ) وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی ہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا پھر ان زوائد پر کیوں نظر کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں اور کافر کو نہ دیں۔- یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے جس کا ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے زکوٰۃ مراد نہیں ہے کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں (مظہری) - (١) مسئلہ : حربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ وغیرہ دینا جائز نہیں۔- (٢) مسئلہ : کافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ وعشر دینا جائز نہیں اور دوسرے صدقات واجبہ ونفل سب جائز ہیں اور آیت میں زکوٰۃ داخل نہیں۔

Al-Baqara 2:272Listen in Qur'an →
273

لِلْفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًۭا فِى ٱلْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَٰهُمْ لَا يَسْـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافًۭا ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الی قولہ) فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یہاں فقراء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دینی مشغولیت کی وجہ سے دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتے۔- يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی فقیر قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اس کی وجہ سے اس کو غنی کہا جائے گا اور ایسے آدمی کو زکوٰۃ دینا بھی صحیح ہوگا (قرطبی) - تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ سے معلوم ہوا کہ علامات کو دیکھ کر حکم لگانا صحیح ہے، چناچہ اگر کوئی مردہ اس قسم کا پایا جائے کہ اس پر زنا رہے اور اس کا ختنہ بھی نہیں کیا ہوا ہو تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا (قرطبی) - لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا اس آیت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ لپٹ کر نہیں مانگتے لیکن بغیر لپٹ کر مانگنے کی نفی نہیں ہے، چناچہ بعض حضرات کا یہی قول ہے لیکن جمہور کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سوال بالکل ہی نہیں کرتے، لانہم متعففون عن المسألۃ عفۃ تامۃ (قرطبی )

Al-Baqara 2:273Listen in Qur'an →
274

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

آٹھویں آیت اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَار میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضلیت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں تمام حالات واوقات میں رات میں اور دن میں خفیہ اور علانیہ ہر طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں اس کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں نہ رات اور دن کی کوئی تعیین ہے اس طرح خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ثواب ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے نام ونمود مقصود نہ ہو خفیہ خرچ کرنے کی فضیلت بھی اسی حد تک ہے کہ علانیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی ضرورت داعی نہ ہو اور جہاں ایسی ضرورت ہو وہاں علانیہ خرچ کرنا ہی افضل ہے۔- روح المعانی میں بحوالہ ابن عساکر نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اسی طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن میں دس ہزار رات میں، دس ہزار خفیہ اور دس ہزار علانیہ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا شان نزول اسی واقعہ صدیق اکبر کو لکھا ہے اسکے شان نزول کے متعلق اور بھی مختلف اقوال ہیں۔

Al-Baqara 2:274Listen in Qur'an →
275

ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے

خلاصہ تفسیر :- جو لوگ سود کھاتے ہیں (یعنی لیتے ہیں) نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شخص جس کو شیطان نے خبطی بنادیا ہو لپٹ کر (یعنی حیران مدہوش) یہ سزا اس لئے ہوگی کہ ان (سود خوار) لوگوں نے (سود کے حلال ہونے پر استدلال کرنے کے لئے) کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے (کیونکہ اس میں بھی مقصود نفع حاصل کرنا ہوتا ہے، اور بیع یقیناً حلال ہے پھر سود بھی جو کہ اس کا مثل ہے حلال ہونا چاہئے) حالانکہ (دونوں میں کھلا فرق ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے (جو کہ مالک ہیں احکام کے) بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے (اس سے زیادہ اور کیا فرق ہوگا) پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے (اس بارہ میں) نصیحت پہنچی اور وہ (اس سود کے فعل اور اس کفر کے قول سے یعنی حلال کہنے سے) باز آگیا (یعنی حرام سمجھنے لگا اور لینا بھی چھوڑ دیا) تو جو کچھ (اس حکم کے آنے سے) پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اس کا رہا (یعنی ظاہر شرع کے نزدیک اس کی یہ توبہ قبول ہوگئی اور لیا ہوا مال اسی کی ملک ہے) اور (باطنی) معاملہ اس کا (کہ وہ دل سے باز آیا ہے یا منافقانہ توبہ کرلی ہے یہ) خدا کے حوالے رہا (اگر دل سے توبہ کی ہوگی عنداللہ نافع ہوگی ورنہ کالعدم ہوگی تم کو بدگمانی کا کوئی حق نہیں) اور جو شخص (نصیحت مذکور سن کر بھی اسی قول اور اسی فعل کی طرف) پھر عود کرے تو (بوجہ اس کے کہ ان کا یہ فعل خود گناہ کبیرہ ہے) یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے (اور بوجہ اس کے کہ ان کا یہ قول کفر ہے اس لئے) وہ اس (دوزخ) میں ہمیشہ رہیں گے (اور سود لینے سے فی الحال مال بڑہتا نظر آتا ہے لیکن مآل کار) اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں (کبھی تو دنیا ہی میں سب برباد ہوجاتا ہے ورنہ آخرت میں تو یقینی برباد ہے کیونکہ وہاں اس پر عذاب ہوگا) اور (برخلاف اس کے صدقہ دینے میں گو فی الحال مال گھٹتا معلوم ہوتا ہے لیکن مآل کار اللہ تعالیٰ ) صدقات کو بڑھاتے ہیں (کبھی تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو یقیناً بڑہتا ہے کیونکہ وہاں اس پر بہت سا ثواب ملے گا جیسا اوپر آیات میں مذکور ہوا) اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا (بلکہ مبغوض رکھتے ہیں) کسی کفر کرنے والے کو (جو کہ قول مذکور کے مثل کلمات کفر منہ سے بکے اور اسی طرح پسند نہیں کرتے) کسی گناہ کے کام کرنے والے کو (جو کہ فعل مذکور یعنی سود کے مثل کبائر کا مرتکب ہو) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور (بالخصوص) نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دی ان کے لئے ان کا ثواب ہوگا ان کے پروردگار کے نزدیک اور (آخرت میں) ان پر کوئی خطرہ (واقع ہونے والا) نہیں ہوگا اور نہ وہ (کسی مقصود کے فوت ہونے سے) مغموم ہوں گے،- اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو (کیونکہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے) پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی تمہارے خلاف جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جاویں گے (اس قانون کے بعد) نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے (کہ تم اصل مال سے زیادہ لینے لگو) اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پاوے گا (کہ تمہارا اصل مال بھی نہ دلایا جاوے) اور اگر (قرضدار) تنگ دست ہو ( اور اس لئے میعاد پر نہ دے سکے) تو (اس کو) مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک (یعنی جب اس کے پاس ادا کی گنجائش ہو) اور یہ (بات) کہ (بالکل) معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کو (اس کے ثواب کی) خبر ہو۔ - اور (مسلمانو) اس دن سے ڈرو جس میں تم (سب) اللہ تعالیٰ کی پیشی میں لائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اس کا کیا ہوا (یعنی اس کا بدلہ) پورا پورا ملے گا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا، تو تم پیشی کے لئے اپنی کارگزاری درست رکھو اور کسی قسم کی خلاف ورزی مت …

Al-Baqara 2:275Listen in Qur'an →
276

يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَٰتِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

دوسری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں، یہاں سود کے ساتھ صدقات کا ذکر ایک خاص مناسبت سے لایا گیا ہے کہ سود اور صدقہ دونوں کی حقیقت میں بھی تضاد ہے، اور ان کے نتائج بھی متضاد ہیں، اور عموماً ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی غرض ونیت بھی متضاد ہوتی ہے۔- حقیقت کا تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں تو بغیر کسی معاوضہ کے اپنا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے، اور سود میں بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے، ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض اس لئے متضاد ہے کہ صدقہ کرنے والا محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور ثواب آخرت کے لئے اپنے مال کو کم یا ختم کردینے کا فیصلہ کرتا ہے، اور سود لینے والا اپنے موجودہ مال پر ناجائز زیادتی کا خواہشمند ہے اور نتائج کا متضاد ہونا قرآن کریم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ سود سے حاصل شدہ مال کو یا اس کی برکت کو مٹا دیتے ہیں، اور صدقہ کرنے والے کے مال یا اس کی برکت کو بڑھاتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ مال کی ہوس کرنیوالے کا مقصد پورا نہیں ہوتا، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والا جو اپنے مال کی کمی پر راضی تھا اس کے مال میں برکت ہو کر اس کا مال یا اس کے ثمرات وافوائد بڑھ جاتے ہیں۔- یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آیت میں سود کو مٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا کیا مطلب ہے ؟ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ مٹانا اور بڑھانا آخرت کے متعلق ہے کہ سود خور والوں کا مال آخرت میں کچھ کام نہ آئے گا بلکہ اس پر وبال بن جائے گا، اور صدقہ خیرات کرنے والوں کا مال آخرت میں ان کے لئے ابدی نعمتوں اور راحتوں کا ذریعہ بنے گا اور یہ بالکل ظاہر ہے جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور عامہ مفسرین نے فرمایا ہے کہ سود کا مٹانا اور صدقہ کا بڑھانا آخرت کے لئے تو ہے ہی، مگر اس کے کچھ آثار دنیا میں بھی مشاہدہ میں آجاتے ہیں۔- سود جس مال میں شامل ہوجاتا ہے، بعض اوقات وہ مال خود ہلاک و برباد ہوجاتا ہے، اور پچھلے مال کو بھی ساتھ لے جاتا ہے، جسے کہ ربوٰ اور سٹہ کے بازاروں میں اس کا ہمیشہ مشاہدہ ہوتا رہتا ہے کہ بڑے بڑے کروڑ پتی اور سرمایہ دار دیکھتے دیکھتے دیوالیہ اور فقیر بن جاتے ہیں، بےسود کی تجارتوں میں بھی نفع و نقصان کے احتمالات رہتے ہیں اور بہت سے تاجروں کو نقصان بھی کسی تجارت میں ہوجاتا ہے، لیکن ایسا نقصان کہ کل کروڑ پتی تھا اور آج ایک ایک پیسہ کو بھی محتاج ہے، یہ صرف سود اور سٹہ کے بازاروں میں ہی ہوتا ہے، اور اہل تجربہ کے بیشمار بیانات اس بارے میں مشہور و معروف ہیں کہ سود کا مال فوری طور پر کتنا ہی بڑھ جائے لیکن وہ عموماً پائیدار اور باقی نہیں رہتا، جس کا فائدہ اولاد اور نسلوں میں چلے، اکثر کوئی نہ کوئی آفت پیش آکر اس کو برباد کردیتی ہے، حضرت معمر نے فرمایا کہ ہم نے بزرگوں سے سنا ہے کہ سود خور پر چالیس سال گذرنے نہیں پاتے کہ اس کے مال پر محاق (یعنی گھاٹا) آجاتا ہے۔- اور اگر ظاہری طور پر مال ضائع و برباد بھی نہ ہو تو اس کے فوائد و برکات وثمرات سے محرومی تو یقینی اور لازمی ہے، کیونکہ یہ بات کچھ مخفی نہیں کہ سونا چاندی خود تو نہ مقصود ہے نہ کارآمد، نہ اس سے کسی کی بھوک مٹ سکتی ہے، نہ پیاس نہ سردی، نہ گرمی سے بچنے کے لئے اوڑھا بچھایا جاسکتا ہے، نہ وہ کپڑوں برتنوں کا کام دے سکتا ہے، پھر اس کو حاصل کرنے اور محفوظ کرنے میں ہزاروں مشقتیں اٹھانے کا منشاء ایک عقلمند انسان کے نزدیک اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ سونا چاندی ذریعہ ہیں ایسی چیزوں کے حاصل کرنے کا کہ جن سے انسان کی زندگی خوشگوار بن سکے، اور وہ راحت و عزت کی زندگی گزار سکے، اور انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ یہ راحت وعزت جس طرح اسے حاصل ہوئی اس کی اولاد اور متعلقین کو بھی حاصل ہو۔ - یہی وہ چیزیں ہیں جو مال و دولت کے فوائد وثمرات کہلا سکتے ہیں، اس کے …

Al-Baqara 2:276Listen in Qur'an →
277

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

تیسری آیت میں مؤمنین صالحین جو نماز و زکوٰۃ کے پابند ہیں ان کے اجر عظیم اور آخرت کی راحت کا ذکر ہے، چونکہ اس سے پہلی آیت میں سود خوروں کے لئے عذاب جہنم اور ان کی ذلت و خواری کا ذکر آیا تھا۔- قرآن کریم کے عام اسلوب کے مطابق اس کے ساتھ ہی ایمان وعمل کے پابند نماز و زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے ثواب اور درجات آخرت کا ذکر کردیا گیا۔

Al-Baqara 2:277Listen in Qur'an →
278

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَذَرُوا۟ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

چوتھی آیت يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ کا خلاصہ یہ ہے کہ سود و ربوٰ کی حرمت نازل ہونے کے بعد جو سود کی بقایا رقمیں کسی کے ذمہ باقی تھیں ان کا لینا دینا بھی حرام کردیا گیا۔- تشریح اس کی یہ ہے کہ سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے عام عرب میں سود کا رواج پھیلا ہوا تھا، آیات متذکرہ سے پہلی آیتوں میں اس کی ممانعت آئی تو حسب عادت تمام مسلمانوں نے سود کے معاملات ترک کردیئے لیکن کچھ لوگوں کے مطالبات سود کی بقایا رقموں کے دوسرے لوگوں پر تھے اسی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بنی ثقیف اور بنی مخزوم کے آپس میں سودی معاملات کا سلسلہ تھا اور بنو ثقیف کے لوگوں کا کچھ مطالبہ بنی مخزوم کی طرف تھا بنو مخزوم مسلمان ہوگئے تو اسلام لانے کے بعد انہوں نے سود کی رقم ادا کرنا جائز نہ سمجھا ادھر بنوثقیف کے لوگوں نے مطالبہ شروع کیا کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر مسلمانوں سے مصالحت کرلی تھی بنومخزوم کے لوگوں نے کہا کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہم اپنی اسلامی کمائی کو سود کی ادائیگی میں خرچ نہ کریں گے،- یہ جھگڑا مکہ مکرمہ میں پیش آیا اس وقت مکہ فتح ہوچکا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مکہ کے امیر حضرت معاذ اور دوسری روایت میں عتاب بن اسید تھے انہوں نے اس جھگڑے کا قضیہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بغرض دریافت حکم لکھ بھیجا، اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سود کے سابقہ معاملات ختم کردئیے جائیں پچھلا سود بھی وصول نہ کیا جائے۔- یہ اسلامی قانون رائج کیا گیا تو مسلمان تو اس کے پابند تھے ہی جو غیر مسلم قبائل بطور صلح و معاہدہ اسلامی قانون کو قبول کرچکے تھے وہ بھی اس کے پابند ہوچکے تھے، لیکن اس کے باوجود جب حجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قانون کا اعلان کیا تو اس کا اظہار فرمایا کہ یہ قانون کسی خاص شخص یا قوم یا مسلمانوں کے مالی مفاد کے پیش نظر نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تعمیر اور صلاح و فلاح کے لئے جاری کیا گیا ہے اسی لئے ہم سب سے پہلے مسلمانوں کی بہت بڑی رقم سود جو غیر مسلموں کے ذمہ تھی اس کو چھوڑتے ہیں، تو اب ان کو بھی اپنے بقایا سود کی رقم چھوڑنے میں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے۔ چناچہ اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :- (الا ان کل ربا کان فی الجاھلیۃ موضوع عنکم کلہ لکم رؤس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون واول ربا موضوع ربا العباس ابن عبد المطلب کلہ) - یعنی زمانہ جاہلیت میں جو سودی معامعلات کئے گئے سب کو سود چھوڑ دیا گیا اب ہر شخص کو اصل رقم ملے گی سود کی زائد رقم نہ ملے گی نہ تم زیادتی وصول کرکے کسی پر ظلم کرسکو گے اور نہ کوئی اصل رأس المال میں کمی کرکے تم پر ظلم کرسکے گا اور سب سے پہلے جو سود چھوڑا تھا وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، جس کی بہت بھاری رقمیں غیر مسلموں کے ذمہ بطور سود کے عائد ہوتی تھیں، قرآن مجید کی آیت متذکرہ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ اور بقایا سود چھوڑنے کا حکم مذکور ہے۔- اس آیت کو شروع اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں کو خطاب کرکے اول اِتَّقُوا اللّٰهَ کا حکم سنایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس کے بعد اصل مسئلہ کا حکم بتلایا گیا یہ قرآن حکیم کا وہ خاص طرز ہے جس میں وہ دنیا بھر کے قانون کی کتابوں سے ممتاز ہے کہ جب کوئی ایسا قانون بنایا جاتا ہے جس پر عمل کرنے میں لوگوں کو کچھ دشواری معلوم ہو تو اس کے آگے پیچھے خدا تعالیٰ کے سامنے پیشی اعمال کے حساب اور آخرت کے عذاب وثواب کا ذکر کرکے مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں کو اس پر عمل کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس کے بعد حکم سنایا جاتا ہے یہاں بھی پیچھے عائد شدہ سود کی رقم کا چھوڑ دینا انسانی طبیعت پر بار ہوسکتا تھا اس لئے پہلے اِتَّقُوا …

Al-Baqara 2:278Listen in Qur'an →
279

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان

اس کے بعد پانچویں آیت میں اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی جس کا مضمون یہ ہے کہ اگر تم نے سود کو نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یہ وعید شدید ایسی ہے کہ کفر کے سوا اور کسی بڑے سے بڑے گناہ پر قرآن میں ایسی وعید نہیں آئی پھر اس آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا ہے :- وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ یعنی اگر تم توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے سود کی بقایا رقم چھوڑنے کا عزم کرلو تو تمہیں تمہارے اصل رأس المال مل جائیں گے نہ تم اصل رأس المال سے زائد حاصل کرکے کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ کوئی اصل راس المال میں کمی یا دیر کرکے تم پر ظلم کرنے پائے گا اس میں اصل رأس المال دینے کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے کہ تم توبہ کرلو اور آئندہ کو سود چھوڑنے کا عزم کرلو تب اصل رأس المال ملے گا۔- اس سے بظاہر اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اگر سود چھوڑنے کا عزم کرکے توبہ نہ کی تو اصل رأس المال بھی نہ ملے گا سو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوجانے کے باوجود سود کو حرام ہی نہ سمجھے اس لئے سود چھوڑنے کے لئے توبہ نہیں کرتا تب تو یہ شخص اسلام سے خارج اور مرتد ہوگیا جس کا حکم یہ ہے کہ مرتد کا مال اس کی ملک سے نکل جاتا ہے پھر جو زمانہ اسلام کی کمائی ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کو مل جاتی ہے اور جو کفر کے بعد کی کمائی ہے تو وہ بیت المال میں جمع کردی جاتی ہے اس لئے سود سے توبہ نہ کرنا اگر حلال سمجھنے کی بناء پر ہو تو اس کو اصل راس المال بھی نہ ملے گا اور اگر حلال تو نہیں سمجھتا مگر عملاً باز نہیں آتا اور اس کے ساتھ جتہ بنا کر حکومت اسلامیہ کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ باغی ہے اس کا بھی سب مال ضبط کرکے بیت المال میں امانت رکھا جاتا ہے کہ جب یہ توبہ کرلے تب اس کا مال اس کو واپس دے دیا جائے شاید اس قسم کی جزئیات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بصورت شرط فرمایا گیا۔- وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ یعنی اگر تم توبہ نہ کرو گے تو تمہارے رأس المال بھی ضبط ہوجائیں گے۔

Al-Baqara 2:279Listen in Qur'an →
280

وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

اس کے بعد چھٹی آیت میں سود خوری کی انسانیت سوز حرکت کے بالمقابل پاکیزہ اخلاق اور غریبوں اور ناداروں کے ساتھ مساہلت کے سلوک کی تعلیم دی جاتی ہے ارشاد ہوتا ہے، وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ۔- یعنی اگر تمہارا مدیون تنگدست ہو تمہارا قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو حکم شرعی یہ ہے کہ اس کو فراخی اور آسودگی کے وقت تک مہلت دی جائے اور اگر تم اس کو اپنا قرض معاف ہی کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔- سود خوروں کی عادت تو یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی مدیون مفلس ہے اور میعاد مقررہ پر وہ قرض ادا نہیں کرسکتا تو سود کی رقم اصل میں جمع کرکے سود درسود کا سلسلہ چلاتے ہیں اور سود کی مقدار بھی اور بڑھا دیتے ہیں۔- یہاں احکم الحاکمین نے یہ قانون بنادیا کہ اگر کوئی مدیون واقعی مفلس ہے ادائے قرض پر قادر نہیں تو اس کو تنگ کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو اس وقت تک مہلت دینی چاہئے جب تک کہ وہ ادا کرنے پر قادر نہ ہوجائے ساتھ ہی اس کی ترغیب بھی دے دی کہ اس غریب کو اپنا قرض معاف کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔- یہاں معاف کرنے کو قرآن نے بلفظ صدقہ تعبیر فرمایا ہے جس میں اشارہ ہے کہ یہ معافی تمہارے لئے بحکم صدقہ ہو کر موجب ثواب عظیم ہوگی نیز یہ جو فرمایا کہ معاف کردینا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے حالانکہ بظاہر تو ان کے لئے نقصان کا سبب ہے کہ سود تو چھوڑا ہی تھا اصل راس المال بھی گیا مگر قرآن نے اس کو بہتر فرمایا اس کی دو وجہ ہیں اول تو یہ کہ یہ بہتری اس دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد مشاہدہ میں آجائے گی جب کہ اس حقیر مال کے بدلہ میں جنت کی دائمی نعمتیں اس کو ملیں گی۔- دوسرے شاید اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ دنیا میں بھی تمہیں اس عمل کی بہتری کا مشاہدہ ہوجائے گا کہ تمہارے مال میں برکت ہوگی۔ برکت کی حقیقت یہ ہے کہ تھوڑے مال میں کام بہت نکل جائیں یہ ضروری نہیں کہ مال کی مقدار یا تعداد بڑھ جائے سو یہ مشاہدہ ہے کہ صدقہ خیرات کرنے والوں کے مال میں بیشمار برکت ہوتی ہے ان کے تھوڑے مال سے اتنے کام نکل جاتے ہیں کہ حرام مال والوں کے بڑے بڑے اموال سے وہ کام نہیں نکلتے۔- اور جس مال میں بےبرکتی ہوتی ہے اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لئے خرچ کرتا ہے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا یا غیر مقصود چیزوں میں مثلا دواء علاج اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں ایسے مالداروں کی بڑی بڑی رقمیں خرچ ہوجاتی ہیں جس کا غریبوں کو کبھی سابقہ نہیں پڑتا اول تو اللہ تعالیٰ ان کو تندرستی کی نعمت عطا فرماتے ہیں کہ علاج میں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے اور اگر کبھی بیماری آئی بھی تو معمولی اخراجات سے تندرستی حاصل ہوجاتی ہے اس لحاظ سے مدیون مفلس کو قرض معاف کردینا جو بظاہر اس کے لئے نقصان دہ نظر آتا تھا اس قرآنی تعلیم کے پیش نظر وہ ایک مفید ونافع کام بن گیا۔- مدیون مفلس کے ساتھ نرمی ومساہلت کی تعلیم کے لئے احادیث صحیحہ میں جو ارشادات وارد ہوئے ہیں ان کے چند جملے سنئے۔ طبرانی کی ایک حدیث ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کے سر پر اس روز اللہ کی رحمت کا سایہ ہو جبکہ اس کے سوا کسی کو کوئی سایہ سر چھپانے کے لئے نہ ملے گا تو اس کو چاہئے کہ تنگدست مقروض کے ساتھ نرمی اور مساہلت کا معاملہ کرے یا اس کو معاف کردے۔- اسی مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی مفلس مدیون کو مہلت دے گا تو اس کو ہر روز اتنی رقم کے صدقہ کا ثواب ملے گا جتنی اس مدیون کے ذمہ واجب ہے اور یہ حساب میعاد قرض پورا ہونے سے پہلے مہلت دینے کا ہے اور جب میعاد قرض پوری ہوجائے اور وہ شخص ادا کرنے پر قادر نہ ہو اس وقت اگر کوئی دے گا تو اس کو ہر روز اس کی دوگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔- ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کی دعاء قبول ہو یا اس کی مصیبت دور ہو تو اس …

Al-Baqara 2:280Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.