Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 261–270 of 286

261

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

مثال ان لوگوں کی، جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں مانند مثال اس دانے کی ہے جو اگاتا ہے سات بالیاں، ہر ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ بڑھاتا ہے، واسطے جس کے چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(261)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، پھر نہیں پیچھے لگاتے اس کے جو انھوں نے خرچ کیا احسان جتلانا اور نہ ایذا دینا، واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(262)

[261] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تشریح ہوتی ہے: ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً﴾(البقرہ:2؍245) ’’کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تو اللہ اس کے قرض کو اس کے لیے کئی گنا بڑھا دے گا۔‘‘یہاں فرمایا: ﴿ مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کی خوشنودی کے کاموں میں۔ ان میں سب سے اہم جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے۔ ﴿ كَمَثَلِ حَبَّؔةٍ اَنۢۡبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِيۡ كُلِّ سُنۢۡبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ﴾ ’’ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔‘‘ اس مثال کے ذریعے عمل کے ثواب میں اضافے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ اضافہ بندہ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ثواب میں اضافے کو اپنی بصیرت سے دیکھتا ہے۔ اس طرح آنکھوں دیکھی چیز کی وجہ سے ایمان کے ذریعے دیکھی ہوئی چیز پر یقین بڑھتا ہے۔ لہٰذا دل حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پوری آمادگی کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اسے اس قدر اضافے اور اس اللہ کے عظیم احسان کی امید ہوتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے۔‘‘ یعنی خرچ کرنے والے کے حال اور اس کے خلوص کے مطابق یا خرچ کی کیفیت، منافع اور برمحل ہونے کی مناسبت سے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ ﴾ ’’اور اللہ بڑھا چڑھا کر دے۔‘‘ اس سے بھی زیادہ ﴿ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’جسے چاہے‘‘ یعنی بے حساب اجر و ثواب عنایت فرمائے۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ﴾ ’’اور اللہ کشادگی والا ہے۔‘‘ اس کا فضل وسیع ہے، اس کی عطا بے حساب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی۔ لہٰذا خرچ کرنے والے کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ شاید کئی گنا بڑھا کر دینے کا ذکر مبالغے کے طورپر کیا گیا ہے۔ اللہ کے لیے تو کوئی انعام بھی مشکل نہیں۔ بے شمار عطا کے باوجود اسے کمی نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ وہ علیم بھی ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون اس دگنے چوگنے ثواب کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ لہٰذا وہ اضافہ وہیں کرتا ہے جہاں اس کا صحیح مقام ہو، کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور حکمت بھی۔

[262] جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے، مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی یا عملی طورپر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انھیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انھیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انھوں نے اللہ کے لیے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔

Al-Baqara 2:261Listen in Qur'an →
262

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنًّۭا وَلَآ أَذًۭى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

مثال ان لوگوں کی، جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں مانند مثال اس دانے کی ہے جو اگاتا ہے سات بالیاں، ہر ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ بڑھاتا ہے، واسطے جس کے چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(261)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، پھر نہیں پیچھے لگاتے اس کے جو انھوں نے خرچ کیا احسان جتلانا اور نہ ایذا دینا، واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(262)

[261] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تشریح ہوتی ہے: ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً﴾(البقرہ:2؍245) ’’کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تو اللہ اس کے قرض کو اس کے لیے کئی گنا بڑھا دے گا۔‘‘یہاں فرمایا: ﴿ مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کی خوشنودی کے کاموں میں۔ ان میں سب سے اہم جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے۔ ﴿ كَمَثَلِ حَبَّؔةٍ اَنۢۡبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِيۡ كُلِّ سُنۢۡبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ﴾ ’’ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔‘‘ اس مثال کے ذریعے عمل کے ثواب میں اضافے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ اضافہ بندہ دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ثواب میں اضافے کو اپنی بصیرت سے دیکھتا ہے۔ اس طرح آنکھوں دیکھی چیز کی وجہ سے ایمان کے ذریعے دیکھی ہوئی چیز پر یقین بڑھتا ہے۔ لہٰذا دل حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پوری آمادگی کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اسے اس قدر اضافے اور اس اللہ کے عظیم احسان کی امید ہوتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے۔‘‘ یعنی خرچ کرنے والے کے حال اور اس کے خلوص کے مطابق یا خرچ کی کیفیت، منافع اور برمحل ہونے کی مناسبت سے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ ﴾ ’’اور اللہ بڑھا چڑھا کر دے۔‘‘ اس سے بھی زیادہ ﴿ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’جسے چاہے‘‘ یعنی بے حساب اجر و ثواب عنایت فرمائے۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ﴾ ’’اور اللہ کشادگی والا ہے۔‘‘ اس کا فضل وسیع ہے، اس کی عطا بے حساب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی۔ لہٰذا خرچ کرنے والے کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ شاید کئی گنا بڑھا کر دینے کا ذکر مبالغے کے طورپر کیا گیا ہے۔ اللہ کے لیے تو کوئی انعام بھی مشکل نہیں۔ بے شمار عطا کے باوجود اسے کمی نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ وہ علیم بھی ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون اس دگنے چوگنے ثواب کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ لہٰذا وہ اضافہ وہیں کرتا ہے جہاں اس کا صحیح مقام ہو، کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور حکمت بھی۔

[262] جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے، مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی یا عملی طورپر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انھیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انھیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انھوں نے اللہ کے لیے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔

Al-Baqara 2:262Listen in Qur'an →
263

۞ قَوْلٌۭ مَّعْرُوفٌۭ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌۭ مِّن صَدَقَةٍۢ يَتْبَعُهَآ أَذًۭى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌۭ

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے

بات کہنا اچھی اور درگزر کرنا بہت بہتر ہے اس صدقے سے جس کے پیچھے ہو ایذا دینااور اللہ بے پروا ہے، نہایت بردبار(263)

[263]﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾ ’’اچھی بات۔‘‘ جس کو دل پہچانتے ہیں، اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔ اس میں ہر اچھی بات شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے دل کی خوشی کا باعث بننا کار ثواب ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سائل کو جواب دینا ہو تو اچھے الفاظ سے جواب دیا جائے، اور اسے دعا دی جائے۔ ﴿وَّمَغۡفِرَةٌ﴾ ’’اور برائی کرنے والے کو معاف کردینا۔‘‘ یعنی اس سے مواخذہ نہ کرنا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر سائل کوئی نامناسب حرکت کرے تو اسے معاف کردیا جائے۔ نرم بات کہنا قولی احسان ہے۔ اور معاف کردینا عملی احسان ہے کہ اس کا مواخذہ نہیں کیا گیا۔ یہ دونوں احسان ایسے ہیں، جن کے ساتھ ان کو تباہ کرنے والی کوئی غلطی موجود نہیں۔ لہٰذا یہ اس صدقے کے احسان سے بہتر ہیں، جن کے ساتھ احسان جتلانے کی یا کسی اور انداز سے تکلیف پہنچانے کی خرابی موجود ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس صدقہ کے ساتھ تکلیف پہنچانے کی خرابی موجود نہ ہو، وہ صدقہ نرم بات کہنے اور معاف کرنے سے افضل ہے۔ صدقہ کرکے احسان جتلانا حرام ہے جس سے عمل ضائع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اصل احسان اللہ ہی کا ہے۔ لہٰذا بندے کے لیے مناسب نہیں کہ کسی کو ایسا احسان جتلائے جو اس کی طرف سے نہیں ہوا (بلکہ اصل میں اللہ کی طرف سے ہوا ہے) علاوہ ازیں احسان جتلانا غلام بنانے کے مترادف ہے اور عبودیت اور جھکنا صرف اللہ کے لیے روا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ جو تمام مخلوقات سے مستغنی ہے۔ اور تمام مخلوقات تمام حالات اور تمام اوقات میں اس کی محتاج ہیں، لہٰذا تمھارا صدقہ، تمھارا خرچ کرنا اور تمھاری نیکیاں ان سب کا فائدہ خود تم ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ ﴾’’اور اللہ بے نیاز ہے‘‘ اسے ان کی ضرورت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’بردبار ہے‘‘ جو اس کی نافرمانی کرے اسے فوراً سزا نہیں دیتا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اس کی رحمت، احسان اور بردباری اسے گناہ گاروں کو فوری سزا دینے سے مانع ہوجاتی ہے۔ بلکہ وہ انھیں مہلت دیتاہے، انھیں مختلف انداز سے اپنی آیات سناتا اور دکھاتا ہے، تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، البتہ جب یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں میں خیر کی کوئی رمق نہیں رہی اور انھیں آیات سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ پھر ان پر عذاب نازل فرما دیتا ہے اور اپنے عظیم ثواب سے محروم فرما دیتا ہے۔

Al-Baqara 2:263Listen in Qur'an →
264

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌۭ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌۭ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًۭا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)

[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی …

Al-Baqara 2:264Listen in Qur'an →
265

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌۭ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌۭ فَطَلٌّۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)

[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی …

Al-Baqara 2:265Listen in Qur'an →
266

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌۭ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَابٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌۭ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌۭ فِيهِ نَارٌۭ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)

[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی …

Al-Baqara 2:266Listen in Qur'an →
267

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)

[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ …

Al-Baqara 2:267Listen in Qur'an →
268

ٱلشَّيْطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةًۭ مِّنْهُ وَفَضْلًۭا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)

[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ …

Al-Baqara 2:268Listen in Qur'an →
269

يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

اللہ دیتا ہے حکمت جسے چاہتا ہے اور جو شخص دیا جائے حکمت پس تحقیق دیا گیا وہ بھلائی بہت، اور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(269)

[269] چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں۔ اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح، اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرمادی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائی کون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتاہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور عملی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے۔ اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں ، حق کے طالب ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انھیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انھوں نے اس پر عمل کیا۔ اور انھیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘

Al-Baqara 2:269Listen in Qur'an →
270

وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

اگر ظاہر کرو تم خیرات، تو اچھی بات ہے یہ، اور اگر چھپاؤ تم اس کو اور دو وہ فقیروں کو تو وہ بہت ہی بہتر ہے تمھارے لیے،اور دور کر دے گا (اللہ) تم سے تمھارے گناہ اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(271) اور جو خرچ کرو تم کسی قسم کا خرچ یا نذر مانو تم کوئی بھی نذر، تو بے شک اللہ جانتا ہے اسے،اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(270)

[271,270] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طورپرعظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ﴾ ’’اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔‘‘یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ﴿ فَنِعِمَّا هِيَ ﴾ ’’تو وہ بھی اچھا ہے۔‘‘ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طورپر صدقہ دینا، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جارہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طورپر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دارومدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو، اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کرکے دینا افضل ہوگا۔ ﴿ وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اسے مسکینوں کو دے دو۔‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے۔ اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لیے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿ وَيُكَـفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی، اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔

Al-Baqara 2:270Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.