Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 261–270 of 286

261

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

درس نمبر 19 ایک نظر میں

اس پارے میں سابقہ تینوں سبق مجموعی طور پر بعض اساسی ایمانی تصورات کے بارے میں تھے ۔ اور ان میں اس تصور حیات کے بارے میں بعض وضاحتیں کی گئی تھیں ۔ اور مختلف پہلوؤں سے اس کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ یہ اس طویل سورت کی اس لائن کا ایک مرحلہ تھا ، جس پر یہ پوری سورت جارہی ہے یعنی انسانیت کی قیادت کے نصب العین کی راہ میں امت مسلمہ پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے امت کو تیار کرنا جیسا کہ اس سے قبل ہم بات کی تشریح کرچکے ہیں۔

یہاں سے لے کر تقریباً اس سورت کے اختتام تک اب بیان کا رخ ان اساسی معاشی اصولوں کے بیان کی طرف ہے جن پر امت مسلمہ کے اجتماعی نظام کی نیو اٹھائی جانی مقصود ہے ۔ اور جن کے مطابق جماعت مسلمہ کی تنظیم بھی مقصود تھی ۔ اور یہ اجتماعی نظام دراصل باہم تعاون اور تکافل پر مبنی ہے اور جس کی تشکیل عشر وزکوٰۃ اور خیرات وصدقات پر مبنی ہے ۔ اور یہ معاشی نظام اس سودی نظام سے بالکل مختلف ہے ۔ جو اس دور جاہلیت میں رائج تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں صدقہ کی فضیلت اور آداب کا بیان کیا جاتا ہے اور ربا کی مذمت کی جاتی ہے ۔ اور اگلے اسباق میں آپ پڑھیں گے کہ قرضہ اور تجارت کے اساسی اصول بیان کئے گئے ہیں اور مجموعی طور پر یہ سب چیزیں اسلام کے اقتصادی نظام کا حصہ ہیں اور اسلام کی اجتماعی زندگی ان پر قائم ہے ۔ آگے آنے والے تینوں اسباق باہم مربوط ہیں ۔ یہ سب دراصل ایک موضوع (اقتصادیات) کے مختلف پہلو ہیں یعنی اسلام کا اقتصادی نظام۔

اس سبق میں انفاق فی سبیل اللہ اور دولت کے خرچ کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ اور اسلام کے ایک اقتصادی پہلو یعنی صدقہ اور اجتماعی کفالتی نظام کے بارے میں زور دیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ دراصل جہاد کی ایک قسم ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ امت مسلمہ پر فرض کیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی جانب سے امت مسلمہ پر یہ ڈیوٹی عائد کی گئی ہے کہ وہ پوری دنیا میں اس دعوت کو پھیلائے ۔ پوری دنیا تک اس پیغام کو پہنچائے ۔ پوری دنیا میں اہل ایمان کی حمایت کرے اور پوری دنیا سے شر و فساد اور ظلم و زیادتی کو ختم کردے اور ان تمام قوتوں کو پاش پاش کردے جو اہل اسلام کے مقابلے میں غالب ہیں اور جو زمین پر فساد پھیلاتی ہیں اور اہل دنیا کو اللہ کی سیدھی راہ اپنانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ۔ اور باالفاظ دیگر دنیا کو اس خیر عظیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔ جس کا حامل اسلامی نظام حیات ہے۔ دنیا کو اس خیر سے محروم کرنا اس قدر بڑا جرم ہے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور انسانی روح اور انسانی جسم اور مال کے خلاف اس سے بڑی دست درازی اور کوئی فرق نہیں ہے ۔

اس سورت میں بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے اصول وآداب کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ یہاں دستور انفاق کی تصویر کشی بڑے ہی پیارے اور مانوس پرتو سے کی جاتی ہے۔ اس کے اجتماعی اصول اور آداب و اثرات اور نفسیاتی مضمرات سے تفصیلاً بحث کی جاتی ہے ۔ ایسے آداب جن کی وجہ سے خود انفاق کرنے والے کی نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے ۔ اور دوسری جانب صدقہ وصول کرنے والے کے لئے وہ مفید بن جاتا ہے ۔ اور اس کے نتیجہ میں معاشرتی انقلاب یوں برپا ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ اجتماعی طور پر باہم متعاون اور متکافل (Socally Sacure) معاشرہ بن جاتا ہے ۔ اور اس کے افراد میں باہم محبت اور ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسانیت ایک بلند مقام تک جاپہنچتی ہے ۔ اور جس میں دہندہ اور گیرندہ بالکل ایک ہی سطح کے لوگ بن جاتے ہیں۔

اس حققیت کے باوجود کہ اس سبق میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ عمومی ہیں اور کسی زمان ومکان کی قید کے ساتھ مقید نہیں ہیں ۔ اور ایک دائمی دستور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ لیکن یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس وقت جماعت مسلمہ …

Al-Baqara 2:261Listen in Qur'an →
262

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنًّۭا وَلَآ أَذًۭى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

احسان جتلانا ایک مکروہ ، ناپسندیدہ اور گھٹیا درجے کی حرکت ہے ۔ یہ ایک ایسا شعور ہے جو نہایت ہی پست ہے ۔ نفس انسانی صرف اس صورت میں احسان جتلاتا ہے جب وہ جھوٹے احساس برتری میں مبتلاہو اور اسے تعلی کا روگ لگا ہو۔ یا وہ گیرندہ کو ذلیل کرنا چاہتا ہو ، یا وہ دل میں یہ خواہش رکھتا ہو کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے اس فعل انفاق کو پسندیدہ نظروں سے دیکھیں ۔ اس صورت میں بھی مطمح نظر لوگ ہیں ۔ اللہ کی ذات نہیں ہے ۔ یہ تمام جذبات ایسے ہیں جو کبھی ایک پاکیزہ دل میں پروان نہیں چڑھ سکتے ۔ اور نہ ایسے جذبات ایک سچے مومن کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ پس احسان جتلانا بیک وقت ایک دہندہ کے لئے اور گیرندہ کے لئے موجب اذیت ہے ۔ دہندہ کے لئے اذیت ہے کہ اس کے دل میں کبر و غرور پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے دل میں یہ خیال اور یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ایک بھائی اس کے سامنے ذلیل اور شکستہ حال صورت میں ظاہر ہو ۔ اور خود دہندہ کے دل میں نفاق ، ریا کاری اور اللہ سے دوری کے جذبات پیدا ہوں گے اور گیرندہ کے لئے اذیت یوں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کمتر اور شکستہ حال تصور کرتا ہے اور پھر اس کے دل میں حقارت اور انتقام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ انفاق فی سبیل اللہ سے اسلام کی غرض صرف یہ نہیں ہے کہ ایک خلا کو پر کردیاجائے ، کسی کی حاجت پوری ہو اور بھوکا پیٹ بھر جائے ۔ صرف یہ غرض ہرگز نہیں ہے ۔ اس سے اسلام ایک طرف تو عطا کنندہ کی اخلاقی تطہیر کا بندوبست کرتا ہے اس کے نفس کو پاک کرتا ہے ۔ اس کے اندر ہمدردی کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ اور ایک مسلم بھائی اور بھائی کے درمیان رابطہ پیدا کرکے بحیثیت انسان اور مسلمان صرف رضائے الٰہی کے لئے اسے ایک فقیر کی امداد پر آمادہ کرتا ہے ۔ اسلام ایک دہندہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس پر اللہ کا فضل ہے اور اس نے اس فضل کے بارے میں اللہ سے ایک عہد بھی کررکھا ہے ۔ اور وہ عہد یہ ہے کہ وہ اس فضل ونعمت سے بغیر اسراف کے بقدر ضرورت کھائے بھی اور اس سے فی سبیل اللہ خرچ بھی کرے ۔ یعنی بغیر کسی رکاوٹ اور احسان جتلانے کے ۔ دوسری جانب اس سے اللہ تعالیٰ گیرندہ کی دلجوئی اور رضامندی کا سامان بھی کرتے ہیں ۔ اور ایک انسان اور ایک انسان اور ایک مومن اور مومن کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں ۔ اور اسلامی معاشرہ میں یہ خطرہ بھی نہیں رہتا کہ اس کے درمیان تعاون وتکافل نہ ہو ۔ یوں ایک اسلامی معاشرہ کی تعمیر وحدت ، اس کے رجحانات میں یکسوئی ، اس کے فرائض وذمہ داریوں میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ لیکن احسان جتلانے سے یہ تمام فائدے ختم ہوجاتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ زہر اور آگ بن جاتا ہے ۔ اگرچہ انسان کے ہاتھ اور اس کی زبان سے کسی گیرندہ کو کوئی اذیت نہ پہنچی ہو لیکن مجرد احسان جتلانا ہی بہت بڑی اذیت ہے ۔ یہ بذات خود مجسم اذیت ہے ۔ اس سے انفاق بےاثر ہوجاتا ہے ۔ معاشرہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور افراد معاشرہ کے درمیان دشمنیاں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ جدید علوم نفسیات کے ماہرین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ احسان جتلانے یا احسان کرنے کے نتیجے میں بالآخر محسن اور وہ شخص جس کے ساتھ احسان کیا گیا ، کے درمیان کسی نہ کسی وقت دشمنی ضرور پیدا ہوجاتی ہے ۔ وہ اس سلسلے میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک گیرندہ اپنے دل ہی دل میں احساس کمتری اور معطی کے سامنے اپنے ضعف جذبات اپنے دل میں پیدا کرلیتا ہے ۔ اور یہ شعور ہر وقت اس کے دل میں چبھتا رہتا ہے ۔ اور ایک احسان مند شخص اس شعور پر غلبہ پانے کے لئے ردعمل میں خود احسان کنندہ پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور اپنے دل میں اس کی دشمنی کو چھپالیتا ہے ۔ اس لئے کہ احسان کنندہ کی نسبت سے وہ ہمیشہ اپنے آپ کو کمتر سمجھتا ہے اور خود احسان کنندہ بھی یہ شعور اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے کہ وہ اس شخص کے مقابلے میں برتر ہے ۔ اور یوں یہ شعور یعنی ایک جانب احساس برتری اور دوسری جانب …

Al-Baqara 2:262Listen in Qur'an →
263

۞ قَوْلٌۭ مَّعْرُوفٌۭ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌۭ مِّن صَدَقَةٍۢ يَتْبَعُهَآ أَذًۭى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌۭ

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے

یہاں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ جس صدقہ کے بعد نادار کو اذیت دی جاتی ہو ، ایسے صدقے کے سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس سے تو ایک میٹھا بول اور ایک نرم بات ہی بہتر ہے ۔ ایک اچھی بات سے دلوں کے زخم جڑجاتے ہیں ۔ اس سے خوشی اور رضاجوئی پیدا ہوتی ہے ، جس سے زخم بھر آتے ہیں ۔ معافی اور چشم پوشی سے دلوں کی میل دور ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے بدلے بھائی چارہ اور دوستی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے حالات میں میٹھابول اور عفو و درگزر دوستی اور اخوت کے راستے میں خشت اول کا کام دیتے ہیں ۔ اس سے نفوس میں پاکیزگی اور دودلوں میں یگانگت پیدا ہوتی ہے ۔

یہ بات کہنے کے بعد کہ صدقہ عطا کنندہ کی طرف سے گیرندپر کوئی برتری نہیں اس لئے کہ صدقہ کرکے ایک شخص دراصل اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہے ، تو اس کے بعد کیا جاتا ہے وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ................ ” اور اللہ بےنیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے ۔ “ وہ عطاکنندہ کی ایسی عطا سے مستغنی ہے جس کے بعد وہ ایک نادار کو اذیت دیتا ہو ، اور وہ برد بار ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے اور پھر بھی وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں سزا دینے میں عجلت سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی شتابی سے انہیں اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے اور سب کچھ دینے سے پہلے انہیں وجود عطا کرتا ہے ۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے بردباری سیکھیں ۔ وہ اگر اللہ کے دیئے میں سے کسی کو کچھ دے بھی دیں تو فوراً ہی اس احسان مند کے درپے آزار نہ ہوجائیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ انہیں ان کی کوئی بات پسند نہ ہو یا یہ کہ وہ احسان مند شخص ان کا شکر ادا کررہاہو۔

قرآن کریم بار بار لوگوں کے سامنے صفات باری کا ذکر کرتا ہے ۔ اور مطلوب یہ ہے کہ لوگ حتی الوسع اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں ۔ اسلامی زندگی کے آداب میں سے یہ ایک اہم طرز عمل ہے کہ ایک مسلم اپنے اندر صفت باری پیدا کرتاہرے اور اس راہ کے مختلف مراحل مسلسل طے کرتا رہے ۔ اور ان صفات میں سے جو حصہ اس کا ہے وہ اسے حاصل کرتا رہے ۔ اپنے مزاج اور اپنی طبیعت کی صلاحتیوں کے مطابق ۔

جب یہ وجدانی تاثر اپنی انتہاؤں کو چھولیتا ہے اور جو لوگ اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، جب ان کے سامنے ترقی پذیر اور مفید زندگی کے طبعی مطاہر پیش کردئیے جاتے ہیں ، اور یہ انفاق ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کوئی احسان مندی ، احسان جتلاکر اذیت رسانی نہیں ہوتی اور یہ اشارہ دینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے انفاق اور ایسے صدقات اور احسانات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ جن کے بعد ایذا رسانی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ رازق اور داتا ہے۔ وہ اپنا قہر وغضب نازل کرنے میں اور اذیت رسانی میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ غرض جب یہ وجدانی تاثر اپنی ان اتہاؤں تک جاپہنچتا ہے ۔ تو اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اہل ایمان ہیں کہ وہ احسان جتاکر اور احسان کے بعد اذیت دے کر اپنے صدقات اور نیکیوں کو ضائع نہ کریں ۔

قرآن یہاں ان کے سامنے ایک عجیب صورتحال کی منظر کشی کرتا ہے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو بڑے خوبصورت ہیں ۔ جو پہلے منظر کے ساتھ ایک جگہ چلتے ہیں ۔ پہلا منظر یہ تھا کہ ایک کھیت ہے جو نشوونما پارہا ہے ۔ لیکن ان دونئے مناظر میں اس انفاق فی سبیل اللہ کا مزاج بتایا جارہا ہے جو خالص للّٰہ ہو اور اس انفاق کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے جو احسان مندی اور اذیت رسانی کے ساتھ ہو اور یہ مناظر قرآن کریم کے اسلوب میں ہیں جو وہ فن کارانہ تصویر کشی کے لئے اختیار کرتا ہے یعنی مفہوم اور معنی کو ایک مشخص شکل میں پیدا کیا جاتا ہے اور اس میں کسی عمل کے اثرات متحرک شکل میں ہوتے ہیں اور یہ منظر کشی ایسے حالات میں ہوتی ہے کہ پورا نظارہ ہمارے تخیل کے سامنے ہوتا ہے۔

Al-Baqara 2:263Listen in Qur'an →
264

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌۭ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌۭ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًۭا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

یہ ہے وہ پہلا منظر یہ ایک مکمل اور دواجزاء سے مرکب منظر ہے ، جو اپنی شکل وضع اور اپنے نتائج کے اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد مناظر ہیں ۔ ہر منظر کے پھر مختلف اجزاء ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ متناسق ہیں ۔ وہ تعبیر اور مشاہدے کے اعتبار سے بھی باہم متوافق اور ہم رنگ ہیں ۔ اور معانی اور جذبات کے اعتبار سے بھی جو معانی اور جو جذبات اس منظر کشی سے پیدا کرنے مطلوب تھے ۔ جن کا اظہار اس پوری منظرکشی سے مطلوب تھا یا جو شعور ان مناظر کی وجہ سے پیدا کیا جانا مطلوب تھا۔

پہلے منظر میں ہمیں ایک ایسے دل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پتھر سے بھی سخت ہے۔ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ................ ” اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو محض لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے ۔ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ آخرت پر ۔ “ اسے ایمان کی تروتازگی اور مٹھاس کا شعور نہیں ہوتا لیکن وہ اپنی اس سنگ دلی پر ریاکاری کا پردہ ڈالتا ہے ۔ یہ دل جس پر ریاکاری کا پردہ ہوتا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو اور اس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہو ۔ ایک ایسا پتھر جس پر کوئی تروتازگی نہ ہو ، جس میں کوئی نرمی نہ ہو ۔ اس پر مٹی کی ایک ہلکی سی تہہ ہو اور اس کی سختی اور درشتی کو اس تہہ نے چھپارکھا ہو ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح ایک شخص اپنی ریاکاری کی وجہ سے اپنے دل کی کیفیت کو چھپالیتا ہے جو ایمان سے خالی ہو۔

فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ................ ” اس پر زور کا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی ۔ “ موسلا دھار بارش نے مٹی کی اس خفیف تہہ کو ختم کردیا۔ چٹان ظاہر ہوگئی اور وہ کیا تھی ؟ ایک سخت اور مضبوط اور کرخت چٹان ۔ جس پر کوئی روئیدگی ممکن نہ تھی۔ نہ اس سے کسی قسم کی پیداوار حاصل ہوسکتی تھی ۔ یہی مثال اس دل کی ہے جو اپنا مال محض ریاکاری کے طور پر خرچ کرتا ہے ۔ جس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔

Al-Baqara 2:264Listen in Qur'an →
265

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌۭ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌۭ فَطَلٌّۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

اس منظر کے بالمقابل ایک دوسرا منظر ہے ، جو اس کے بالکل متضاد ہے ۔ ایک دل ہے جو ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ایمان کی تروتازگی سے سرشار ہے ۔ وہ اپنے مال کو محض رضائے الٰہی کی خاطر خرچ کرتا ہے ۔ اسے پورا پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے اس کا وہ اجر ضرور پائے گا۔ اور یہ خرچ وہ محض اپنے ایمان اور نظریہ کے تقاضے کے طور پر کرتا ہے ۔ یہ نظریہ اس کے دل کی گہرائیوں میں رچا بسا ہے ۔ ایک طرف یہاں ریاکار دل ہے ، اس کو ایک ایسے پتھر کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے جس پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ ہے۔ اور دوسری جانب ایک ایسا دل ہے جو ایمان سے بھرپور ہے اور اسے ایک سرسبز باغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی زمین زرخیز ہے اور مٹی گہری ہے جبکہ پتھر پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ تھا ۔ باغ ایک اونچے مقام پر ہے اور مذکورہ چٹان ایک گہرے گڑھے میں ہے ۔ تاکہ یہ دونوں مناظر متناسب اور ہم شکل ہوجائیں ۔ اب اگر اس باغ پر موسلادھار بارش برس جاتی ہے تو اس سے اس کی تروتازگی ختم نہیں ہوتی ۔ جس طرح چٹان پر سے مٹی کی خفیف تہہ بہہ نکلتی ہے ۔ بلکہ بارش اس باغ کو زیادہ سرسبز اور شاداب کردیتی ہے ۔ اسے نئی زندگی عطا کرتی ہے اور اس کی نشوونما ہوتی ہے ۔ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ................ ” اور اس پر زور کی بارش ہوجائے تو دگنا پھل لائے۔ “

یہ بارش اس باغ کو زندہ اور سرسبز کردیتی ہے ۔ جس طرح صدقہ ایک مومن کے دل کو پاک وصاف کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک مومن کا تعلق باللہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ دل مومن کی طرح ایک مومن کا مال بھی صاف ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتے ہیں اور اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے اور اس سے اجتماعی روابط بڑھتے ہیں ۔ اور اگر وہ بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کے لئے کافی ہوجاتی ہے جبکہ مٹی میں پہلے سے نم موجود ہو تو ہلکی بارچ بھی کافی ہوتی ہے۔

یہ ہے ایک مکمل نظارہ ، جس کے مناظر ایک دوسرے کے بالمقابل صاف نظر آتے ہیں جس کی جزئیات باہم متناسب ہیں اور جسے ایک معجزانہ پیرایہ اظہار میں پیش کیا گیا ہے۔ طرز ادا میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس کے مناظر تمام دلی خلجانات اور تمام غلط تصورات کے علاج کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ یہ منظر انسانی وجدان اور انسانی شعور کے سامنے ایک صاف تصویر پیش کرتا ہے ۔ تمام حالات اور تمام محسوسات کو بڑے امتیاز کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔ جو انسان کے قلب پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ اور انسان بڑی آسانی سے راہ ہدایت پالیتا ہے ۔

اس منظر کا تعلق چونکہ فکر ونظر سے تھا ۔ اور اس سے اصل غرض وغایت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی جائے اور اس ظاہری دنیا سے آگے اس کے کرشمہ ہائے قدرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے ۔ اس لئے اس کے آخر میں یہ نتیجہ نکالا گیا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ................ ” رہا دوسرا منظر تو احسان جتلانے اور اذیت دینے کی انتہائی تمثیل ہے ۔ اس میں باری تعالیٰ بتاتے ہیں کہ اس قسم کے صدقے اور احسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح تباہ وبرباد کردیتے ہیں ، جبکہ صاحب صدقہ اور صاحب احسان اس وقت اس صدقے اور احسان کے فائدے کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ وہ ضعیف ہوجاتا ہے ۔ جسمانی قوتیں ختم ہوتی ہیں لیکن وہ اس بربادی کا کوئی علاج نہیں کرسکتا ۔ یہ انجام بد کی ایک انتہائی قسم کی بری منظر کشی ہے ۔ اور نہایت ہی موثر اور سبق آموز۔ اس منظر میں امن اور خوشحالی کے بعد مکمل تباہی اور ویرانی ہے ۔

Al-Baqara 2:265Listen in Qur'an →
266

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌۭ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَابٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌۭ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌۭ فِيهِ نَارٌۭ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

یہاں صدقہ کو اپنی حقیقت اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک محسوس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ................ ” یہ صدقہ گویا ایک باغ ہے جو نہروں سے سیراب ہے ۔ کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا۔ “ اس کی چھاؤں گھنی ہے ، خوشگوار اور تروتازہ ہے ۔ اس میں ہر قسم کے پھل کثرت سے ہیں جس طرح یہ باغ مفید ہے اس طرح صدقہ بھی مفید اور فائدہ بخش اور فرحت بخش تھا ۔ یہ صدقہ دینے والے کے لئے بھی مفید تھا ۔ لینے والے کے لئے بھی مفید تھا اور پورے معاشرے کے لئے بھی مفید تھا ۔ جس کے روحانی فائدے بیشمار تھے اور اس میں خیر و برکت تھی جس کے ذریعہ معاشرے کو مفید غذامل رہی تھی اور جو معاشرے میں اجتماعی نشوونما اور ترقی کا باعث تھا۔

کوئی ایسا بدبخت ہے جو اس قسم کے باغ کا مالک ہو اور جو اس قسم کے اعلیٰ بھائی چارے اور نیکی کا مالک ہو اور پھر وہ ایسے باغ کو احسان جتلانے یا احسان کے بعد اذیت دینے کی افادیت وبلیات کے ذریعے جلا کر خاکستر کردے ، جس طرح ایک آتشی بگولا کسی سرسبز و شاداب باغ کو جھلسا کر خاکستر کردیتا ہے۔

اور پھر یہ عمل کیسے حالات میں ہو ؟ ایسے حالات میں کہ اس باغ کا مالک صاب احتیاج ہو ۔ جسمانی لحاظ سے ضعیف ہوگیا ہو ، عیالدار ہو اور اسے اس باغ کی چھاؤں اور نعمتوں کی اشد ضروت بھی ہو وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ................ ” وہ خود بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی کسی لائق نہ ہوں اور ایسے میں ایک تیز بگولے کی زد میں آجائے جس میں آگ ہو ۔ “ کون ہے جو ایسی صورتحال کو پسند کرے گا ؟ کون ہے جو اگر ایسے انجام کو سمجھ سکتا ہو اور اس سے بچنے کی سعی نہ کرے ؟

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ................ ” اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید تم غوروفکر کرو۔ “

یوں یہ زندہ وتابندہ منظر اسٹیج ہوتا ہے ۔ اس کی ابتدا نہایت خوشی ، خوشگواری اور آرام سے ہوتی ہے ۔ منظر کا آغاز تروتازگی ، فراخ و سرور اور حسن و جمال سے ہوتا ہے ۔ اس کے بعد تباہی کا منظر آتا ہے اور یہ ایک خوفناک منظر ہوتا ہے ۔ ایک بگولا آتا ہے جو اس کی تروتازگی کو پژمردہ کردیتا ہے ۔ جب یہ سب مناظر اسٹیج پر پر آتے ہیں تو انسان کو ایک لاشعوری احساس دلاتے ہیں اور یہ شعور اس قدر پرتاثیر ہوتا ہے کہ ایک باشعور آدمی کو ایک صحیح راہ اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں رہتا ۔ اس سے پہلے کہ انسان کے ہاتھ سے موقعہ جاتا رہے اور اس سے پہلے کہ گھنی چھاؤں والے باغات اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت پژمردہ ہوجائیں اور جھلس جائیں ۔ ایک باشعور انسان رد و قبول کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے۔

میں یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ حسین و جمیل انداز کلام اور مربوط اور ہم آہنگ مناظر جن سے اس سبق کا ہر انفرادی منظر تشکیل پاتا ہے اور پھر جس خوش اسلوبی سے ہر ایک انفرادی منظر کو پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ ربط وہم آہنگی صرف ان انفرادی مناظر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہم آہنگی مجموعی طور پر ان تمام مناظر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ تمام مناظر بھی باہم مربوط اور متناسب ہیں ۔ دیکھئے ! ایک زرعی ماحول ہے ۔ ایک دانہ ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں ۔ ایک چٹان ہے جس پر مٹی کی ایک خفیف تہہ جمی ہوئی ہے ۔ اور اس پر اچانک موسلا دھار بارش ہوجاتی ہے ۔ پھر ایک اونچی جگہ پر ایک باغ ہے جو ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ اور دوچند پھل لگا ہوا ہے ۔ یہ باغ کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ہے ۔ کہیں زوردار بارش اور کہیں پھوار ہے ۔ اور پھر ایک بگولا ہے جو اکثر زرعی کھیتوں میں تباہی مچاتا ہے ۔ غرض ایک زرعی ماحول کے تمام قدرتی اجزاء یہاں موجود ہیں اور کوئی …

Al-Baqara 2:266Listen in Qur'an →
267

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے

انفاق فی سبیل اللہ کے آداب اور نتائج کے بیان کے بعد اب یہاں سیاق کلام ، انفاق فی سبیل اللہ کے دستور کو لے کر اب مزید آگے بڑھتا ہے ۔ انفاق کی حقیقت ، انفاق کا طریقہ کار اور لوازمات کو بیان کیا جاتا ہے۔

اس آیت سے پہلی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو قواعد اور اساسات متعین کئے گئے تھے اور جن پر اس کی عمارت اٹھانے کا حکم دیا تھا ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین مال خرچ کیا جائے ۔ اللہ کی راہ میں ردی اور گھٹیا اشیاء خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے جن میں خود مالک کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسی اشیاء اگر خود ایسے شخص کو کسی سودے یا بیوپار میں دی جائیں تو وہ ان کے دعوض حقیر قیمت دینے کے لئے بمشکل تیار ہو۔ اللہ غنی بادشاہ ہے ۔ اسے ضرورت نہیں ہے کہ ایسی ردی اشیاء قبول کرے ۔

اللہ کی یہ پکار تمام مسلمانوں کے لئے ہے ۔ وہ جب کبھی ہوئے ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں اور یہ حکم تمام اموال کے لئے ہے جو ان کے ہاتھ آجائیں ۔ وہ تمام اموال جو انہوں نے حلال اور پاکیزہ طریقے سے کمائے ہوں یا وہ اموال ہوں جو ان کے لئے زمین سے پیدا کئے گئے ہوں۔ زرعی اجناس ہوں معدنیات ہوں مثلاپٹرول وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں عمومی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ یعنی وہ اموال جو رسول اللہ ﷺ کے وقت موجود تھے یا وہ جو بعد میں پیدا ہوئے ۔ اس لئے آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ ان کا اطلاق ان اموال پر بھی ہوتا ہے جو بعد میں پیدا ہوں ۔ ان تمام پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ ہاں نصاب زکوٰۃ کا تعین سنت نبوی ﷺ نے کردیا ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی پیداوار کو ان اموال پر قیاس کرلیا جائے ۔ جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھے ۔ ہر نئی پیداوار کو ان اجناس پر قیاس کرلیا جائے جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھیں ، اپنی اپنی نوعیت کے مطابق ۔

بعض روایات میں ، اس آیت کا شان نزول بھی بیان ہوا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ان کا تذکرہ غیر موزوں نہ ہوگا ۔ کیونکہ ان روایات کے ذریعہ وہ حالاتدوبارہ سامنے آجاتے ہیں ، جن میں ان آیات کا نزول ہوا ۔ ان روایات سے وہ پست معاشرتی صورتحال بھی مستحضر ہوجاتی ہے جس کی اصلاح قرآن کے پیش نظر تھی اور جس کے معیار کی بلندی کے لئے قرآن کریم جدوجہد کررہا تھا۔

ابن جریر نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں ” یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب کھجوریں توڑنے کا وقت قریب آتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے ایسے کو شے توڑ لاتے جن کے رنگ پیلے ہوجاتے تھے ، لیکن ابھی پکے نہ ہوتے تھے اور وہ انہیں مسجد نبوی کے دوستونوں کے درمیان لٹکادیتے تھے ، تو فقراء مہاجرین ان سے کھاتے تھے ۔ بعض لوگ ردی قسم کی کھجوریں بھی لاکر ان میں لٹکا دیتے ۔ وہ یہ سمجھتے کہ یہ جائز ہے ۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ................ ” اور خبیث کا ارادہ نہ کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرو۔ “ اس حدیث کو براء سے حاکم نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ بخاری اور مسلم کی شرائط کی صحت کے مطابق ہے ۔ لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت براء ؓ سے روایت کی ہے ۔ کہتے ہیں یہ ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ ہم کھجوروں کے مالک تھے تو ہر شخص تھوڑی بہت کھجوریں لایا کرتا تھا ، بعض لوگ ناپختہ لاتے تھے اور مسجد میں لٹکاتے تھے ۔ اہل صفہ کے طعام و قیام کا بندوبست کوئی نہ تھا ۔ ان میں سے جو بھی بھوکا ہوجاتا ، وہ آتا اور اپنی لاٹھی کو ان لٹکی ہوئی کھجوروں پر مارتا اور نیم پختہ اور پوری پختہ کھجوروں میں سے جو کچھ گرتا ، وہ کھالیتا۔

لوگوں میں سے بعض ایسے بھی تھے جو مائل بخیر نہ تھے ، وہ ناپختہ اور ردی قسم کی کھجوریں لے آتے ۔ وہ خصوصاً ایساخوشہ لاتے جو ٹوٹ چکا ہوتا تھا اور جس کے دانے ناپختہ …

Al-Baqara 2:267Listen in Qur'an →
268

ٱلشَّيْطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةًۭ مِّنْهُ وَفَضْلًۭا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

شیطان تمہیں فقر اور تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے ۔ اس وجہ سے تمہارے نفوس کے اندر حرص ، بخل پیدا کرتا ہے ۔ شیطان تمہیں فحاشی کا حکم دیتا ہے ۔ عربی زبان میں فحاشی ہر اس معصیت کو کہتے ہیں ، جس میں انسان حد سے تجاوز کرجائے ۔ اگرچہ زیادہ تر اس کا استعمال ایک خاص معصیت میں ہوتا ہے ۔ تاہم یہ لفظ عام ہے ۔ تنگدستی کا یہ خوف ہی تھا ، جس کی وجہ سے ایام جاہلیت میں اقوام عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے جو ایک قسم کی فحاشی تھی ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا جذبہ انہیں سود خوری پر آمادہ کرتا تھا ۔ جو ایک قسم کی فحاشی تھا ۔ نیز یہ خوف کہ انفاق فی سبیل اللہ سے وہ تنگدست ہوجائیں گے بجائے خود فحاشی ہے ۔

ایک طرف شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور فحشاء پر آمادہ کرتا ہے ، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ تمہیں مغفرت کا یقین دلاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ پر وہ تمہیں اجر عطا کرے گا وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلا ................ ” لیکن اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ “

یہاں لفظ مغفرت کو پہلے لایا گیا ہے ، اس لئے کہ کہ فضل وکرم مغفرت کے بعد ہوتا ہے ۔ اور اس فضل وکرم میں اس سرزمین پر وسائل رزق بھی شامل ہیں یعنی بطور جزائے انفاق فی سبیل اللہ اس دنیا میں بھی رزق فراواں ہوگا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ................ ” اللہ بہت بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ “

وہ اپنی وسعت اور فراخ دستی سے عطا کرتا ہے ، وہ تمام دلی خلجانات کو بخوبی جانتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کے تمام میلانات اور رجحانات سے بھی واقف ہے ، اس لئے وہ فقط مال ہی عطا نہیں کرتا ، فقط مغفرت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ حکمت ودانشمندی بھی عطا کرتا ہے۔ اور دانشمندی اور حکمت سے انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔ انسان اسباب اور مقاصد کے ادراک سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ہر چیز کو ماہیت کے مطابق مقام عطا کرتا ہے ۔ اور وہ تمام فیصلے فہم و فراست کے ساتھ سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔

Al-Baqara 2:268Listen in Qur'an →
269

يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ................” جس کو چاہتا ہے ، حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ “

اسے میانہ روی دی گئی اور اعتدال نصیب ہوا ، اس لئے وہ انتہاپسندی اور حد سے تجاوز سے محفوظ ہوگیا ۔ اسے تمام چیزوں کے اسباب ونتائج سمجھائے گئے۔ اس لئے وہ ان اشیاء کی قدروقیمت کے تعین میں غلطی نہیں کرتا ، اسے روشن بصیرت دی گئی ، اس لئے وہ حرکات و سکنات اور اعمال وافعال میں سے صالح اور صائب کا انتخاب کرتا ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔

وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ................ ” ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں ۔ “ غرض وہی لوگ سبق لیتے ہیں صاحب بصیرت ہیں اور عقلمند ہیں ۔ ایسے لوگ سبق کو یاد بھی کرتے ہیں ، بھول بھی جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ اگر متنبہ ہوجائیں تو پھر غفلت نہیں کرتے ۔ اگر کسی واقعہ سے عبرت پکڑیں تو پھر گمراہی کے راستے پر نہیں پڑتے ۔ یہ سب کام عقل کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں ۔ عقل کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ راہ ہدایت اور اس کے نشانات کو پالے ۔ وہ معقول روش اختیار کرے اور لہو ولعب کی بےمقصد زندگی نہ گزارے ۔

یہ حکمت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے پسند کرتا ہے ، اسے عطا کردیتا ہے ، یہ حکمت و دانائی اللہ کی مشیئت پر موقوف ہے ۔ اسلامی تصور حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ یہاں ہر چیز کا مرجع اللہ جل شانہ کی بااختیار مشیئت ہے ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے ایک دوسرا بھی اصول بیان کیا ہے ۔ وہ یہ کہ جو شخص بھی راہ ہدایت کی تلاش کا ارادہ کرے اور اس کے لئے پوری جدوجہد کرے تو اللہ کبھی بھی اسے راہ ہدایت سے محروم نہیں کرتا بلکہ وہ اس سلسلے میں اس متلاشی کی پوری پوری اعانت کرتا ہے۔

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ................ ” جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے ، اور یقینا ًاللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ “ (69 : 29) اس لئے ہر وہ شخص جو راہ ہدایت اختیار کرنا چاہتا ہے ، پوری طرح مطمئن رہے کہ مشیئت ایزدی اس کا حصہ ضرور کرے گی اور اسے راہ ہدایت کے ساتھ ساتھ حکمت ودانشمندی بھی عطا ہوگی اور اسے اس کے ساتھ ساتھ خیر کثیر بھی عطاء ہوگی۔

ذرا رکئے ! اس سے قبل کہ ہم اس آیت پر غور وخوص ختم کردیں ۔ ایک دوسری اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ ذرا غو رکیجئے ، شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے ۔ اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔

انسان کے سامنے صرف دو راستے ہیں ، کوئی تیسراراستہ نہیں ہے ۔ ایک اللہ کا راستہ ہے اور ایک شیطان کا راستہ ہے ۔ وہ یا تو اللہ کے وعدہ کی طرف کان لگائے اور یا شیطان کی پکار پر لبیک کہے گا ۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی راہ پر گامزن نہیں اور اللہ کی پکار نہیں سن رہا ہے ، وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے ورغلانے میں آگیا ہے ۔ صرف ایک ہی طریق زندگی ہے ، یعنی حق کا راستہ ۔ وہ منہج ، وہ نظام جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ ہے وہ شیطان کا راستہ ہے اور اس کی انتہاء شیطان تک ہے ۔ وہ شیطان تک پہنچتا ہے۔

قرآن کریم اس حقیقت کو بار بار بیان کرتا ہے ۔ بار بار اس کی تاکید کرتا ہے ۔ اس لئے کہ جو شخص اسلامی طریقہ حیات کو ترک کرکے شیطانی نظام زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے کوئی ایسا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہ رہے کہ وہ کسی طرح بھی راہ ہدایت پر ہے ۔ اس میں اب نہ کوئی شبہ کی گنجائش ہے اور نہ اس میں …

Al-Baqara 2:269Listen in Qur'an →
270

وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

انسان اپنی دولت میں سے جو کچھ خرچ کرتا ہے ، اس پر صدقہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ خیرات وصدقات اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دیاجانے والا مال سب صدقات کے ضمن میں آتے ہیں ۔ نذر بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے ۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا ایک معلوم چیز کو اپنے اوپر لازم کردیتا ہے ۔ اللہ کے سوا کسی کے لئے ، کسی کی راہ میں ، کسی کی وجہ سے ، کسی قسم کی نذر ونیاز دینا منع ہے ۔ اللہ کے سوا ، اس کے بندوں میں کسی کی نذر ماننا ایک گونا شرک ہے ۔ جس طرح مشرکین اپنے الٰہوں اور بتوں کے استہانوں پر مختلف جانور ذبح کرتے تھے اور یہ کام جاہلیت کے مختلف ادوار میں ہوتا رہتا ہے۔

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ................ ” تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو ، اللہ کو اس کا علم ہے ۔ “ مومن کا یہ عقیدہ کہ ذات باری کو اس کی نیت کا پورا علم ہے ، وہ اس کی ضمیر کی پوشیدہ خواہشات سے بھی خبردار ہے اور اس کی تمام خفیہ حرکات بھی اس کی نظر میں ہیں ، اس کے شعور میں مختلف قسم کے زندہ احساسات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس بات سے پرہیز کرتا ہے کہ اس کی سوچ اور اس کے عمل میں کسی قسم کی ریاکاری یا دکھاوا پایا جائے ۔ وہ بخیلی اور کنجوسی سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اس کے دل میں کمی وسائل اور فقر مسکنت کا خوف پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں پوری پوری جزا پالے گا ۔ وہ راضی برضا ہوکر اطمینان اور راحت کی زندگی بسر کرنے لگتا ہے ۔ وہ اللہ کے دربار میں اس کے انعامات کا شکر ادا کرتے ہوئے حاضر ہوتا ہے۔

لیکن اس کے برعکس جو شخص حق نعمت ادا نہیں کرتا ، وہ اللہ اور اپنے بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا ۔ وہ اللہ کے دئیے سے خیرات وصدقات نہیں ادا کرتا ، تو وہ شخص ظلم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ اپنے عہد کے ساتھ ظلم کرتا ہے ، عوام الناس پر ظلم کرتا ہے ، خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ................ ” اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ “

Al-Baqara 2:270Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.