Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 251–260 of 286

251

فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لَّفَسَدَتِ ٱلْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:251Listen in Qur'an →
252

تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق …

Al-Baqara 2:252Listen in Qur'an →
253

۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَٰتٍۢ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

یہ سب رسول، فضیلت دی ہم نے ان کے بعض کو بعض پر، کچھ ان میں سے ایسے ہیں جن سے کلام فرمایا اللہ نےاور بلند کیا ان کے بعض کو درجوں میں اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح دلائل (معجزات) اور قوت دی ہم نے اس کو ساتھ روح القدس (جبریل) کےاور اگر چاہتا اللہ تو نہ باہم لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان (رسولوں) کے پیچھے، بعد اس کے کہ آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں لیکن انھوں نے اختلاف کیا، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے کفر کیااور اگر چاہتا اللہ تو وہ باہم نہ لڑتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(253)

[253] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ پہلے تو انھیں تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی طرف وحی نازل کرکے انھیں دوسروں کی طرف مبعوث فرمایا، اور انھوں نے مخلوق کو اللہ کی طرف بلایا۔ پھر انھیں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ ان میں خاص خوبیاں رکھ دیں، ان سے بہت زیادہ انسانوں کو فائدہ پہنچا۔ مثلاً موسیٰuکو ہم کلام ہونے کا خاص شرف عطا فرمایا۔ اور ہمارے نبیﷺکو دوسرے انبیاء سے افضل بنایا اور آپ میں وہ تمام فضائل جمع فرمادیے جو دوسرے رسولوں کو الگ الگ ملے تھے۔ اور آپ کو ایسے مناقب بخشے جن کی وجہ سے آپ اولین اور آخرین سے اشرف قرار پائے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے۔‘‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور مریم کی طرف نازل ہونے والا اللہ کا کلمہ، اور اس کی طرف سے آنے والی ایک روح ہیں۔ ﴿وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ﴾ ’’او رروح القدس سے ہم نے ان کی تائید کی۔‘‘ اس سے مراد ایمان اور یقین ہے جس کے ذریعے سے ان کو وہ فریضہ انجام دینے کی طاقت حاصل ہوئی، جو آ پ پر عائد کیا گیا تھا۔ایک قول کے مطابق روح القدس سے مراد جبریلuہیں، جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَـتَلَ الَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے۔‘‘ بلکہ ان دلائل کی وجہ سے سب مومن اور متحد ہوجاتے۔ ﴿ وَلٰكِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ كَفَرَ﴾ ’’لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر۔‘‘ پس اس اختلاف کے نتیجے میں افتراق، دشمنی اور لڑائی ہوئی۔ اس کے باوجود اگر اللہ چاہتا تو اختلاف کے باوجود لڑائی تک نوبت نہ پہنچتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مرضی اسباب پر غالب ہے۔ اسباب کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب مشیت اس کے برعکس نہ ہو۔ جب مشیت آجائے تو ہر سبب کالعدم ہوجاتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ﴾ ’’لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘ اس کا ارادہ غالب ہے، اس کی مرضی پوری ہوکر رہتی ہے۔ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں سے بعض کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ مثلاً استوا، نزول، کلام اور وہ افعال جنھیں ’’افعال اختیاریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔فائدہ: جس طرح اللہ کی پہچان حاصل کرنا فرض ہے۔ اسی طرح رسولوں کے بارے میں علم حاصل کرلینا بھی ضروری ہے، ان کی لازمی صفات کیا ہیں، کیا کچھ ان کے لیے محال ہے اور کیا کچھ ممکن ہے۔ ان امور کا علم قرآن مجید کی متعدد آیات سے ہوتا ہے۔ مثلاً رسول مرد ہیں عورتیں نہیں، وہ بستیوں میں رہنے والوں میں سے مبعوث ہوئے ہیں، خانہ بدوشوں میں سے نہیں۔ وہ اللہ کے منتخب اور پسندیدہ بندے ہوتے ہیں، ان میںایسی خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو انھیں اس انتخاب کا اہل بنا دیتی ہیں۔ ان …

Al-Baqara 2:253Listen in Qur'an →
254

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌۭ وَلَا شَفَٰعَةٌۭ ۗ وَٱلْكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم اس میں سے جو دیا ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے وہ دن کہ نہ خرید و فروخت ہوگی اس میں، اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی شفاعت، اور کافر لوگ وہی ہیں ظالم(254)

[254] اللہ کا اپنے بندوں پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حکم دیا ہے کہ اسی کے دیے ہوئے رزق میں سے تھوڑا سا واجب او رمستحب صدقہ پیش کریں تاکہ ان کے لیے ثواب کا ذریعہ ہوجائے اور انھیں اس دن زیادہ ہوکر ملے جس دن ایک ذرہ برابر نیکی کی ضرورت ہوگی تو مل نہیں سکے گی۔ اگر انسان زمین بھر سونا فدیہ کردے تاکہ اس دن کے عذاب سے بچ جائے، تو اس کی یہ پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔ نہ کوئی دوست اس کے کام آسکے گا نہ وجاہت کے ذریعے سے، نہ شفاعت کے ذریعے سے۔اس دن اہل باطل خسارے میں ہوں گے اور ظالم رسوا ہوں گے۔ ظالم وہ ہیں جو ایک چیز کو اس کے محل سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔ پس انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے واجب کو ترک کردیا۔ اور حلال کے بجائے حرام اختیار کیا۔ سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ کفر کرنا ہے، یعنی عبادت جو صرف اللہ کا حق ہے۔ کافر اسے اپنی جیسی مخلوق کے لیے کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَالۡكٰفِرُوۡنَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ حصر کے باب سے ہے، یعنی انھوں نے مکمل ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ﴾(لقمن:31؍13) ’’بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس کے بعد ارشاد ہے۔

Al-Baqara 2:254Listen in Qur'an →
255

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌۭ وَلَا نَوْمٌۭ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍۢ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

اللہ، نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے، زندہ سب کو سنبھالنے والا، نہیں آتی اس کو اونگھ اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو شفاعت کرے اس کے پاس؟ سوائے اس کی اجازت کے، وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے،اور وہ نہیں احاطہ کر سکتے کسی چیز کا اس کے علم میں سے، مگر ساتھ اس چیز کے جو ووہ چاہے، گھیر لیا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں گراں اس پر حفاظت ان دونوں کی، اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے(255)

[255] یہ آیت قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے اور یہ سب سے افضل آیت ہے جس میں عظیم مسائل اور اللہ کی صفات کریمہ بیان ہوئی ہیں، اس لیے بہت سی احادیث میں اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے کہ اسے صبح شام، سوتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ ہی معبود برحق ہے۔‘‘ لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور اطاعت اسی کے لیے ہونی چاہیے کیونکہ وہ تمام صفات سے متصف اور عظیم نعمتیں دینے والا ہے۔ بندے کا یہ حق ہے کہ اپنے رب کا بندہ بن کر رہے، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے، اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے بچتا رہے۔ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے، پس اس کے سوا ہر ایک کی عبادت باطل ہے، کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز مخلوق اور ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہے۔ لہٰذا کسی قسم کی کسی عبادت کا حق نہیں رکھتی۔‘‘ ﴿ اَلۡحَيُّ الۡقَيُّوۡمُ﴾ وہ زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔‘‘ ان دو اسمائے حسنیٰ (اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) میں دیگر تمام صفات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ خواہ وہ دلالت مطابقت سے ہو یا دلالت تضمن سے یا دلالت لزوم سے۔ ’’ اَلْحَیُّ ‘‘ سے مراد وہ ہستی ہے جسے کامل حیات حاصل ہو، اور یہ مستلزم ہے تمام صفات ذاتیہ کو، مثلاً سننا، دیکھنا، جاننا قدرت رکھنا وغیرہ۔ ’’القیوم‘‘ سے مراد وہ ذات ہے جو خود قائم ہو اور دوسروں کا قیام اس سے ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کے وہ تمام افعال شامل ہوجاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ متصف ہے، یعنی وہ جو چاہے کرسکتا ہے، استواء، نزول، کلام، قول، پیدا کرنا، رزق دینا، موت دینا، زندہ کرنا اور دیگر انواع کی تدبیر سب اس کے قیوم ہونے میں شامل ہیں، اس لیے بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہی وہ اسم اعظم ہے جس کے ذریعے کی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس کی حیات اور قیومیت کے تمام ہونے کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ ﴿ لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌؔ﴾ ’’اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔‘‘ ﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں۔‘‘ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک ہیں۔ وہ خالق، رازق اور مدبر ہے۔ باقی سب مخلوق، مرزدق اور مُدَبَّر۔ کسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے معاملات میں سے نہ اپنے لیے ذرہ بھر اختیار ہے نہ دوسروں کے لیے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟‘‘ یعنی کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ تو شفاعت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن وہ جب کسی بندے پر رحم کرنا چاہے گا، تو اپنے جس بندے کی عزت افزائی کرنا چاہے گا، اسے اس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے دے گا۔ اجازت ملنے سے پہلے کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا:﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔‘‘ یعنی ان کے گزشتہ اور آئندہ معاملات سے باخبر ہے۔ یعنی وہ تمام معاملات کی تمام تفصیلات جانتا ہے، یعنی اگلے پچھلے، ظاہر، پوشیدہ، غیب اور حاضر سب جانتا ہے۔ بندوں کو ان میں کوئی اختیار حاصل نہیں، نہ وہ ذرہ برابر معلومات رکھتے ہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتا دے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَيۡءٍ مِّنۡ …

Al-Baqara 2:255Listen in Qur'an →
256

لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے

نہیں ہے، کوئی زبردستی دین میں، تحقیق واضح ہو چکی ہے ہدایت گمراہی سے، پس جو شخص کفر کرے طاغوت سے اور ایمان لائے ساتھ اللہ کے، تو تحقیق تھام لیا اس نے کڑا مضبوط، نہیں ہے ٹوٹنا اس کے لیے،اور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(256)

[256] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ زبردستی تو اس کام کے لیے کی جاتی ہے جس کے حقائق واضح نہ ہوں یا جو کام انتہائی ناپسندیدہ ہو۔ اس صراط مستقیم کا تو ہر گوشہ واضح ہے۔ اس کا چپہ چپہ روشن ہے۔ کوئی بھی سمجھ دار آدمی معمولی سا غوروفکر کرے تو اسے قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ لیکن جس کی نیت درست نہ ہو، غلط ارادے رکھتا ہوا، ایسا بدظن آدمی حق کو دیکھ کربھی باطل کو اختیار کرلیتا ہے۔ اچھی چیز کو دیکھ کر پھر گندی چیز کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ اسے دین کو قبول کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور زبردستی قبول کرایا ایمان معتبر بھی نہیں۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جو کافر مسلمانوں سے لڑتے ہیں ان کے خلاف جہاد نہ کیا جائے۔ یہ آیت تو صرف یہ بات واضح کرتی ہے کہ دین بنیادی طورپر ایسی چیز ہے کہ ہر انصاف پسند اسے قبول کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ جنگ کرنے یا نہ کرنے کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مسئلہ دوسری نصوص سے ثابت ہے۔ البتہ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ یہودونصاریٰ کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں سے بھی جزیہ لینا درست ہے۔ جیسا کہ بہت سے علماء کا قول ہے۔ لہٰذا جو شخص غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت ترک کرکے اللہ پر صحیح ایمان لے آئے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم ہوجائے ﴿ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى﴾ ’’تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی ایسا پختہ دین اختیار کرلیا، جس کی بنیادیں بھی مضبوط ہیں اور عمارت بھی۔ وہ پورے اعتماد سے اس پر قائم رہتا ہے کیونکہ اس نے ایسا مضبوط کڑا تھام لیا ہے ﴿ لَاانۡفِصَامَ لَهَا﴾ ’’جو کبھی نہ ٹوٹے گا۔‘‘ اس کے برعکس جو شخص اللہ کا انکار کرکے شیطانوں پر یقین رکھتا ہے اس نے اس مضبوط کڑے کو چھوڑ دیا، جس کے ذریعے سے نجات حاصل ہوسکتی ہے اور ایسے باطل کو پکڑ لیا جو اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘ وہ ہر ایک کے نیک و بد اعمال سے واقف ہے لہٰذا اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔ اس کڑے کو پکڑنے والے اور نہ پکڑنے والے کا یہی انجام ہے۔

Al-Baqara 2:256Listen in Qur'an →
257

ٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اللہ دوست ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا، ان کے دوست ہیں شیطان، وہ نکال لے جاتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف، یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(257)

[257] اس کے بعد اللہ نے وہ سبب بیان فرمایا ہے جس کی و جہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ خود ہے۔‘‘ یہ آیت ان کی اپنے رب سے دوستی پر مشتمل ہے، بایں طور کہ وہ اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں، پس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے پیاروں سے محبت کرتے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں، اللہ نے بھی ان پر لطف و کرم اور احسان فرماتے ہوئے انھیں کفر، معاصی اور جہل کے اندھیروں سے نکالا اور ایمان، نیکی اور علم کی روشنی میں پہنچا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ قبر، حشر اور قیامت کے اندھیروں سے محفوظ رہ کر دائمی نعمت، راحت اور سرور والی جنت میں پہنچ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓؔــُٔـهُمُ۠ الطَّاغُوۡتُ﴾ ’’اور کافروں کے اولیاء شیطان ہیں۔‘‘ پس انھوں نے شیطان سے اور اس کی پارٹی سے دوستی کی۔ اپنے مالک اور آقا کی دوستی چھوڑ دی۔ اس کی سزا کے طورپر اللہ نے ان پر شیطانوں کو مسلط کردیا، جو انھیں گناہوں کی طرف ہانکتے اور برائی پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس طرح انھیں ایمان، علم اور نیکی کے نور سے ہٹا کر کفر، معاصی اور جہالت کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں وہ نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور نعمت اور خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ حسرت کے جہان (جہنم) میں بھی شیطان کی جماعت اور اس کے دوست ہی شمار ہوں گے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ جہنمی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘

Al-Baqara 2:257Listen in Qur'an →
258

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِۦمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

کیا نہیں دیکھا آپ نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اس وجہ سے کہ دے رکھی تھی اس کو اللہ نے بادشاہی، جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اس نے کہا میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں، کہا ابراہیم نے، پس بے شک اللہ لاتا ہے سورج کو مشرق سے، سو تو لے آ اس کو مغرب سے، پس ہکا بکا رہ گیا وہ جس نے کفر کیا تھا،اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو ظالم ہیں(258)

[258] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو ابراہیم(u)سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔‘‘ یعنی کیا آپ نے اس کی جراء ت، تجاہل، عناد اور ناقابل شک حقیقت کے بارے میں جھگڑے کا مشاہدہ نہیں فرمایا؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی۔ ﴿ اَنۡ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ﴾ ’’کہ اسے اللہ نے حکومت دی تھی۔‘‘ تو وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ رعیت کا حکمران بن گیا ہے تو اتنی جرأت کی کہ ابراہیمuسے اللہ کی ربوبیت کے بارے میں بحث کرنے لگا۔ اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ ابراہیمuنے فرمایا: ﴿ رَبِّيَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔‘‘ یعنی ہر کام کا اختیار اسی کو حاصل ہے۔ آپ نے زندہ کرنے اور مارنے کا خاص طورپر ذکر فرمایا کیونکہ یہ سب سے عظیم تدبیر ہے۔ اور اس لیے بھی کہ زندگی بخشنا دنیا کی زندگی کی ابتدا ہے اور موت دینا آخرت کے معاملات کی ابتدا ہے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا: ﴿ اَنَا اُحۡيٖ وَاُمِيۡتُ﴾ ’’میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں۔‘‘ اس نے یہ نہیں کہا: ’’میں ہی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔‘‘ کیونکہ اس کا دعویٰ مستقل تصرف کا نہیں تھا۔ بلکہ وہ کہتا تھا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے کام کرسکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک آدمی کو قتل کردیتا ہے تو گویا اسے موت دے دی۔ اور ایک آدمی کو زندہ رہنے دیتا ہے تو گویا اسے زندگی بخش دی۔ جب ابراہیمuنے دیکھا کہ یہ شخص بحث میں مغالطہ سے کام لیتا ہے۔ اور ایسی باتیں کہتا ہے جو دلیل تو درکنار شبہ بننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتیں تو ایک دوسری دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاۡتِيۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ﴾ ’’اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے۔‘‘ یہ حقیقت ہر شخص تسلیم کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا تھا۔ ﴿ فَاۡتِ بِهَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ﴾ ’’پس تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔‘‘ یہ الزامی دلیل ہے۔ اگر وہ اپنے دعوی میں سچا ہوتا تو یہ اس کے موافق ہوجاتی۔ جب آپ نے ایسی بات فرمادی جس میں شبہ پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ نہ اس کے پاس اس دلیل کا کوئی توڑ موجود تھا۔ ﴿ فَبُهِتَ الَّذِيۡ كَفَرَ﴾ ’’اس لیے وہ کافر حیران رہ گیا۔‘‘ یعنی حیرت زدہ ہوگیا، اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس کی دلیل غلط ثابت ہوگئی اور اس کا پیش کردہ شبہ کالعدم ہوگیا۔ جو بھی جھوٹا ضد اور عناد کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنا چاہے، وہ اسی طرح مغلوب اور شکست خوردہ ہوجایا کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ بلکہ انھیں کفر و ضلالت میں مبتلا رہنے دیتا ہے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے لیے خود یہ چیز پسند کرلی ہوتی ہے۔ اگر ان کا مقصد ہدایت کا حصول ہوتا تو اللہ انھیں ہدایت دے دیتا اور ہدایت تک پہنچنے کے اسباب مہیا کردیتا۔ یہ آیت ایک قطعی دلیل ہے کہ اللہ ہی خالق ہے اور وہی مختار کل ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عبادت اور ہر حال میں توکل اسی کا حق ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اس مناظرہ میں ایک باریک نکتہ ہے کہ دنیا میں شرک کا دارومدار ستاروں اور قبروں کی عبادت پر ہے۔ بعدمیں انھی کے نام سے بت تراشے گئے۔ ابراہیمuنے جو دلائل پیش کیے ہیں ان میں ان سب کی الوہیت کی اجمالاً تردید موجود ہے کیونکہ اللہ …

Al-Baqara 2:258Listen in Qur'an →
259

أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍۢ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍۢ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةًۭ لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًۭا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو گزرا ایک بستی پر اور وہ گری پڑی تھی اوپر اپنی چھتوں کے، اس نے کہا، کس طرح زندہ کرے گا اس کو اللہ بعد اس کی موت کے؟ پس موت دے دی اسے اللہ نے ایک سو سال، پھر زندہ کیا اسے، (اللہ نے) کہا تو کتنی دیر(یہاں) رہا؟ اس نے کہا، رہا میں ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، (اللہ نے) فرمایا، (نہیں)بلکہ تو (مرا) رہا سو سال، پس دیکھ تو طرف اپنے کھانے اور پینے کی، نہیں سڑا بسا وہ، اور دیکھ طرف اپنے گدھے کی اور (یہ اس لیے) تاکہ بنائیں ہم تجھے نشانی لوگوں کے لیےاور دیکھ طرف (گدھے کی) ہڈیوں کی، کیسے ہم اُٹھا کر جوڑ دیتے ہیں ان کو، پھر پہناتے ہیں ان کو گوشت (کا لباس) پس جب (یہ سب) واضح ہو گیا واسطے اس کے تو اس نے کہا، میں (بالیقین) جانتا ہوں کہ بے شک اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(259)اور جب کہا ابراہیم نے، اے رب! دکھا مجھے، کیسے تو زندہ کرے گا مردوں کو؟ فرمایا، کیا تو نہیں ایمان لایا؟ کہا، کیوں نہیں؟ اور لیکن تاکہ مطمئن ہو جائے میرا دل، (اللہ نے) فرمایا، پس پکڑ لے تو چار پرندے، پس ہلا لے ان کو اپنے ساتھ، (، پھر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر لے)، پھر رکھ دے اوپر ہر پہاڑ کے ایک ایک ٹکڑا ان میں سے، پھر بلا تو ان کو، آئیں گے وہ تیرے پاس دوڑتے ہوئےاور جان لے کہ بے شک اللہ غالب ہے، خوب حکمت والا(260)

[259] یہ ایک اور دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی خالق ہے۔ وہی سب فیصلے کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’یا اس شخص کے مانند جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو چھتوں کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی اس کے باشندے مرکھپ گئے تھے، اور چھتیں گر کر اوپر دیواریں گر چکی تھیں، وہاں کوئی نہیں رہتا تھا بلکہ بالکل ویران ہوچکی تھی۔ وہ شخص وہاں کھڑا ہوکر تعجب سے بولا:﴿ اَنّٰى يُحۡيٖ هٰؔذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا﴾ ’’اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا؟‘‘ اسے یہ چیز ناممکن محسوس ہوئی، اس نے اللہ کی قدرت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا تو خود اس کی ذات میں اور اس کے گدھے میں اپنی قدرت کا مشاہدہ کرادیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔ ﴿ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّؔ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَ١ؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’پس اللہ نے اسے سو سال کے لیے مار دیا۔ پھر اسے اٹھایا، پوچھا: کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ اسے یہ موت انتہائی مختصر محسوس ہوئی، کیونکہ اس کے احساسات ختم ہوچکے تھے۔ اسے اپنی صرف وہ حالت یاد تھی جو اسے موت سے پہلے معلوم تھی۔ اسے بتایا گیا:﴿ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡ﴾ ’’بلکہ تو سو سال تک رہا۔ پس اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا۔‘‘ سالوں کی مدت گزرنے کے باوجود اور مختلف اوقات گزرنے کے باوجود اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس میں اللہ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ اس نے کھانے پینے کی چیزوں کو تبدیل یا خراب ہونے سے بچائے رکھا حالانکہ یہ چیزیں سب سے جلدی خراب ہوتی ہیں۔ ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ﴾ ’’اور اپنے گدھے کوبھی دیکھ۔‘‘ وہ مرچکا تھا۔ اس کا گوشت اور چمڑاریزہ ریزہ ہوچکا تھا۔ اس کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ ﴿وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں۔‘‘ جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کرکے قبروں سے اٹھا سکتا ہے۔ تاکہ یہ ایسی مثال بن جائے جس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ پیغمبرنے جو خبریں دی ہیں وہ واقعی سچی ہیں۔ ﴿ وَانۡظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنۡشِزُهَا﴾ ’’اور تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں۔‘‘ اور انھیں ایک دوسری سے جوڑتے ہیں۔ ﴿ ثُمَّؔ …

Al-Baqara 2:259Listen in Qur'an →
260

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةًۭ مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍۢ مِّنْهُنَّ جُزْءًۭا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًۭا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو گزرا ایک بستی پر اور وہ گری پڑی تھی اوپر اپنی چھتوں کے، اس نے کہا، کس طرح زندہ کرے گا اس کو اللہ بعد اس کی موت کے؟ پس موت دے دی اسے اللہ نے ایک سو سال، پھر زندہ کیا اسے، (اللہ نے) کہا تو کتنی دیر(یہاں) رہا؟ اس نے کہا، رہا میں ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، (اللہ نے) فرمایا، (نہیں)بلکہ تو (مرا) رہا سو سال، پس دیکھ تو طرف اپنے کھانے اور پینے کی، نہیں سڑا بسا وہ، اور دیکھ طرف اپنے گدھے کی اور (یہ اس لیے) تاکہ بنائیں ہم تجھے نشانی لوگوں کے لیےاور دیکھ طرف (گدھے کی) ہڈیوں کی، کیسے ہم اُٹھا کر جوڑ دیتے ہیں ان کو، پھر پہناتے ہیں ان کو گوشت (کا لباس) پس جب (یہ سب) واضح ہو گیا واسطے اس کے تو اس نے کہا، میں (بالیقین) جانتا ہوں کہ بے شک اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(259)اور جب کہا ابراہیم نے، اے رب! دکھا مجھے، کیسے تو زندہ کرے گا مردوں کو؟ فرمایا، کیا تو نہیں ایمان لایا؟ کہا، کیوں نہیں؟ اور لیکن تاکہ مطمئن ہو جائے میرا دل، (اللہ نے) فرمایا، پس پکڑ لے تو چار پرندے، پس ہلا لے ان کو اپنے ساتھ، (، پھر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر لے)، پھر رکھ دے اوپر ہر پہاڑ کے ایک ایک ٹکڑا ان میں سے، پھر بلا تو ان کو، آئیں گے وہ تیرے پاس دوڑتے ہوئےاور جان لے کہ بے شک اللہ غالب ہے، خوب حکمت والا(260)

[259] یہ ایک اور دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی خالق ہے۔ وہی سب فیصلے کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’یا اس شخص کے مانند جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو چھتوں کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی اس کے باشندے مرکھپ گئے تھے، اور چھتیں گر کر اوپر دیواریں گر چکی تھیں، وہاں کوئی نہیں رہتا تھا بلکہ بالکل ویران ہوچکی تھی۔ وہ شخص وہاں کھڑا ہوکر تعجب سے بولا:﴿ اَنّٰى يُحۡيٖ هٰؔذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا﴾ ’’اس کی موت کے بعد اللہ اسے کس طرح زندہ کرے گا؟‘‘ اسے یہ چیز ناممکن محسوس ہوئی، اس نے اللہ کی قدرت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا تو خود اس کی ذات میں اور اس کے گدھے میں اپنی قدرت کا مشاہدہ کرادیا۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔ ﴿ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّؔ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَ١ؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’پس اللہ نے اسے سو سال کے لیے مار دیا۔ پھر اسے اٹھایا، پوچھا: کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ اسے یہ موت انتہائی مختصر محسوس ہوئی، کیونکہ اس کے احساسات ختم ہوچکے تھے۔ اسے اپنی صرف وہ حالت یاد تھی جو اسے موت سے پہلے معلوم تھی۔ اسے بتایا گیا:﴿ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡ﴾ ’’بلکہ تو سو سال تک رہا۔ پس اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا۔‘‘ سالوں کی مدت گزرنے کے باوجود اور مختلف اوقات گزرنے کے باوجود اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس میں اللہ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ اس نے کھانے پینے کی چیزوں کو تبدیل یا خراب ہونے سے بچائے رکھا حالانکہ یہ چیزیں سب سے جلدی خراب ہوتی ہیں۔ ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ﴾ ’’اور اپنے گدھے کوبھی دیکھ۔‘‘ وہ مرچکا تھا۔ اس کا گوشت اور چمڑاریزہ ریزہ ہوچکا تھا۔ اس کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ ﴿وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں۔‘‘ جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہو کہ وہ مردوں کو زندہ کرکے قبروں سے اٹھا سکتا ہے۔ تاکہ یہ ایسی مثال بن جائے جس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ پیغمبرنے جو خبریں دی ہیں وہ واقعی سچی ہیں۔ ﴿ وَانۡظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنۡشِزُهَا﴾ ’’اور تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں۔‘‘ اور انھیں ایک دوسری سے جوڑتے ہیں۔ ﴿ ثُمَّؔ …

Al-Baqara 2:260Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.