Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 231–240 of 286

231

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍۢ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًۭا لِّتَعْتَدُوا۟ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًۭا ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٢٨ عورتوں کو معلق رکھنے کی ممانعت :- اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی ہو پھر وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں تو تم ان کو قاعدہ کے موافق (رجعت کرکے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کے موافق ان کو رہائی دو اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے مت روکو اس ارادہ سے کہ ان پر ظلم کیا جائے اور جو شخص ایسا برتاؤ کرے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور حق تعالیٰ کے احکام کو کھیل نہ بناؤ اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو اور خصوصاً کتاب و حکمت کی باتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر (اس حیثیت سے) نازل فرمائی کہ ان کے ذریعے تم کو نصیحت فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کا اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔- حکم نمبر ٢٩ عورتوں کو نکاح ثانی سے منع کرنے کی ممانعت :- اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور عورتیں اپنی میعاد عدت پوری کرچکیں تو تم ان کو اس امر سے مت روکو کہ وہ اپنے (تجویز کئے ہوئے) شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجائیں قاعدہ کے موافق اس مضمون سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو تم میں سے اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو اس نصیحت کا قبول کرنا تمہارے لئے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ (تمہاری مصلحتوں کو) جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔- معارف و مسائل :- ان سے پہلے بھی دو آیتوں میں قانون طلاق کی اہم دفعات اور اسلام میں طلاق کا عادلانہ اور معتدلانہ نظام قرآن کریم کے حکیمانہ اسلوب کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اب مذکور الصدر دو آیتوں میں چند احکام و مسائل مذکور ہیں۔- احکام طلاق کے بعد رجعت یا انقطاع نکاح دونوں کے لئے خاص ہدایات :- پہلی آیت میں پہلا مسئلہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب مطلقہ رجعی عورتوں کی عدت گذرنے کے قریب آئے تو شوہر کو دو اختیار حاصل ہیں، ایک یہ کہ رجعت کرکے اس کو اپنے نکاح میں رہنے دے دوسرے یہ کہ رجعت نہ کرے اور تعلق نکاح ختم کرکے اس کو بالکل آزاد کردے۔- لیکن دونوں اختیاروں کے ساتھ قرآن کریم نے یہ قید لگائی کہ رکھنا ہو تو قاعدہ کے مطابق رکھا جائے اور چھوڑنا ہو تب بھی شرعی قاعدے کے مطابق چھوڑا جائے اس میں بالْمَعْرُوْفِ کا لفظ دونوں جگہ علیٰحدہ علیٰحدہ لاکر اس کی طرف اشارہ فرمادیا ہے کہ رجعت کے بھی کچھ شرائط اور قواعد ہیں اور آزاد کرنے کے لئے بھی دونوں حالتوں میں سے جس کو بھی اختیار کرے شرعی قاعدے کے موافق کرے محض وقتی غصے یا جذبات کے ماتحت نہ کرے دونوں صورتوں کے شرعی قواعد کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں بیان کردیا گیا ہے باقی تفصیلات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہیں۔- مثلا اگر واقعہ طلاق کے بعد مفارقت کے ناگوار عواقب کا خیال کرکے رائے یہ ہوجائے کہ رجعت کرکے نکاح قائم رکھنا ہے تو اس کے لئے شریعت کا قاعدہ یہ ہے کہ پچھلے غصہ وناراضی کو دل سے نکال کر حسن معاشرت کے ساتھ زندگی گذارنا اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنا پیش نظر ہو عورت کو اپنی قید میں رکھ کر ستانا اور تکلیف پہنچانا مقصود نہ ہو اسی کے لئے آیت متذکرہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے گئے، وَلَا تُمْسِكُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا یعنی عورتوں کو اپنے نکاح میں اس لئے نہ روکو کہ ان پر ظلم کرو۔ - دوسرا قاعدہ رجعت کا یہ ہے جو سورة طلاق میں ذکر کیا گیا ہے، وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ (٢: ٦٥) اور آپس میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلو پھر اگر گواہی کی حاجت پڑے تو ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے بلا رو رعایت گواہی دو ۔ - مطلب یہ ہے جب رجعت کا ارادہ کرو تو اس پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنالو اس میں کئی فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر عورت کی طرف سے رجعت کے خلاف کوئی دعویٰ ہو تو اس گواہی سے کام لیا جاسکے۔- دوسرے خود انسان کو اپنے نفس پر بھی بھروسہ …

Al-Baqara 2:231Listen in Qur'an →
232

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوْا۟ بَيْنَهُم بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے سے بلاوجہ شرعی روکنا حرام ہے :- دوسری آیت میں اس ناروا ظالمانہ سلوک کا انسداد کیا گیا ہے جو عام طور پر مطلقہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، کہ ان کو دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے پہلا شوہر بھی عموماً اپنی مطلقہ بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں جانے سے روکتا اور اس کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے اور بعض خاندانوں میں لڑکی کے اولیاء بھی اس کو دوسری شادی کرنے سے روکتے ہیں اور ان میں بعض اس طمع میں روکتے ہیں کہ اس کی شادی پر ہم کوئی رقم اپنے لئے حاصل کرلیں بعض اوقات مطلقہ عورت پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے مگر عورت کے اولیاء و اقرباء کو طلاق دینے کی وجہ سے ایک قسم کی عداوت اس سے ہوجاتی ہے وہ اب دونوں کے راضی ہونے کے بعد بھی ان کے باہمی نکاح سے مانع ہوتے ہیں، آزاد عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی سے بلاعذر شرعی روکنا خواہ پہلے شوہر کی طرف سے ہو یا لڑکی کے اولیاء کی طرف سے بڑا ظلم ہے اس ظلم کا انسداد اس آیت میں فرمایا گیا ہے :- اس آیت کا شان نزول بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کردی تھی اس نے طلاق دے دی اور عدت بھی گذر گئی اس کے بعد یہ شخص اپنے فعل پر پشیمان ہوا اور چاہا کہ دوبارہ نکاح کرلیں اس کی بیوی یعنی معقل بن یسار کی بہن بھی اس پر آمادہ ہوگئی لیکن جب اس شخص نے معقل سے اس کا ذکر کیا تو ان کو طلاق دینے پر غصہ تھا انہوں نے کہا کہ میں نے تمہارا اعزاز کیا اپنی بہن تمہارے نکاح میں دے دیتم نے اس کی یہ قدر کی کہ اس کو طلاق دے دیاب پھر تم میرے پاس آئے ہو کہ دوبارہ نکاح کروں خدا کی قسم اب وہ تمہارے نکاح میں نہ لوٹے گی۔- اسی طرح ایک واقعہ جابر بن عبداللہ کی چچازاد بہن کا پیش آیا تھا ان واقعات پر آیت مذکورہ نازل ہوئی جس میں معقل بن یسار اور جابر کے اس رویہ کو ناپسند و ناجائز قرار دیا گیا۔- صحابہ کرام (رض) اجمعین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سچے عاشق تھے آیت کریمہ کے سنتے ہی معقل بن یسار کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور خود جاکر اس شخص سے بہن کا دوبارہ نکاح کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا اسی طرح جابر بن عبداللہ نے بھی تعمیل فرمائی۔- اس آیت کے خطاب میں وہ شوہر بھی داخل ہیں جنہوں نے طلاق دی ہے اور لڑکی کے اولیاء بھی، دونوں کو یہ حکم دیا گیا کہ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بالْمَعْرُوْفِ یعنی مت روکو مطلقہ عورتوں کو اس بات سے کہ وہ اپنے تجویز کئے ہوئے شوہروں سے نکاح کریں خواہ پہلے ہی شوہر ہوں جنہوں نے طلاق دی تھی یا دوسرے لوگ مگر اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی گئی اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بالْمَعْرُوْفِ یعنی جب دونوں مرد و عورت شرعی قاعدہ کے مطابق رضامند ہوجائیں تو نکاح سے نہ روکو جس میں اشارہ فرمایا گیا کہ اگر ان دونوں کی رضامندی نہ ہو کوئی کسی پر زور زبردستی کرنا چاہے تو سب کو روکنے کا حق ہے یا رضامندی بھی ہو مگر شرعی قاعدہ کے موافق نہ مثلا بلا نکاح آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے پر رضامند ہوجائیں یا تین طلاقوں کے بعد ناجائز طور پر آپس میں نکاح کرلیں یا ایام عدت میں دوسرے شوہر سے نکاح کا ارادہ ہو تو ہر مسلمان کو بالخصوص ان لوگوں کو جن کا ان مرد و عورت کے ساتھ تعلق ہے روکنے کا حق حاصل ہے بلکہ بقدر اسطاعت روکنا واجب ہے۔- اسی طرح کوئی لڑکی بلا اجازت اپنے اولیاء کے اپنے کفو کے خلاف دوسرے کفو میں نکاح کرنا چاہے یا اپنے مہر مثل سے کم پر نکاح کرنا چاہے جس کا اثر خاندان پر پڑتا ہے جس کا اس کو حق نہیں تو یہ رضا مندی بھی قاعدہ شرعی کے مطابق نہیں اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو اس نکاح سے روکنے کا حق حاصل ہے اِذَا تَرَاضَوْا کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ عاقلہ بالغہ لڑکی بغیر اس کی رضا اجازت کے نہیں …

Al-Baqara 2:232Listen in Qur'an →
233

۞ وَٱلْوَٰلِدَٰتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٰدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى ٱلْمَوْلُودِ لَهُۥ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَٰلِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌۭ لَّهُۥ بِوَلَدِهِۦ ۚ وَعَلَى ٱلْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍۢ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍۢ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ ءَاتَيْتُم بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٣٠ رضاعت :- اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلایا کریں (یہ مدت اس کے لئے ہے) جو شیر خوارگی کی تکمیل کرنا چاہئے اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا کپڑا قاعدہ کے موافق اور کسی شخص کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہیں پہونچانا چاہئے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ کسی کے باپ کو تکلیف دینی چاہئے اس کے بچہ کی وجہ سے اور (اگر باپ زندہ نہ ہو تو) مثل طریق مذکور کے (بچے کی پرورش کا انتظام) اس کے (محرم قرابت دار کے) ذمہ ہے جو (شرعا بچے کا) وارث (ہونے کا حق رکھتا) ہے پھر (یہ سمجھ لو کہ) اگر دونوں (ماں اور باپ دو سال سے کم میں) دودھ چھڑانا چاہیں باہمی رضامندی اور مشورے سے تو بھی ان دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تو لوگ (ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی کسی مصلحت ضروریہ سے مثلا یہ کہ ماں کا دودھ اچھا نہیں بچے کو ضرر ہوگا) اپنے بچوں کو کسی اور انّا کا دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کے حوالے کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق، اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں۔- معارف و مسائل : - اس آیت میں رضاعت یعنی بچوں کو دودھ پلانے کے متعلق احکام ہیں اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں طلاق کے احکام مذکور ہیں درمیان میں دودھ پلانے کے احکام اس مناسبت سے ذکر کئے گئے ہیں کہ عموماً طلاق کے بعد بچوں کی پرورش اور دودھ پلانے یا پلوانے کے معاملات زیر نزاع آجاتے ہیں اور ان میں جھگڑے فساد ہوتے ہیں اس لئے اس آیت میں ایسے معتدل احکام بیان فرمادئیے گئے جو عورت ومرد دونوں کے لئے سہل اور مناسب ہیں خواہ دودھ پلانے یا چھڑانے کے معاملات قیام نکاح کی حالت میں پیش آئیں یا طلاق دینے کے بعد بہر دو صورت اس کا ایک ایسا نظام بتادیا گیا جس سے جھگڑے فساد یا کسی فریق پر ظلم وتعدی کا راستہ نہ رہے۔- مثلا آیۃ کے پہلے جملے میں ارشاد فرمایا : وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلایا کریں دو سال کامل جبکہ کوئی عذر قوی اس سے پہلے دودھ چھڑانے کے لئے مجبور نہ کرے اس آیت سے رضاعت کے چند مسائل معلوم ہوئے،- دودھ پلانا ماں کے ذمہ واجب ہے :- اول یہ کہ دودھ پلانا دیانۃ ماں کے ذمہ واجب ہے بلاعذر کسی ضد یا ناراضگی کے سبب دودھ نہ پلائے تو گنہگار ہوگی اور دودھ پلانے پر وہ شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی جب تک وہ اس کے اپنے نکاح میں ہے کیونکہ وہ اس کا اپنا فرض ہے۔- پوری مدت رضاعت :- دوسرامسئلہ : یہ معلوم ہوا کہ پوری مدت رضاعت دو سال ہے جب تک کوئی خاص عذر مانع نہ ہو بچے کا حق ہے کہ یہ مدت پوری کی جائے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کے لئے پوری مدت دو سال دی گئی ہے اس کے بعد دودھ نہ پلایا جائے البتہ بعض آیات قرآن اور احادیث کی بناء پر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اگر تیس مہینے یعنی ڈھائی سال کے عرصہ میں بھی دودھ پلا دیا تو احکام رضاعت کے ثابت ہوجائیں گے اور اگر بچے کی کمزوری وغیرہ کے عذر سے ایسا کیا گیا تو گناہ بھی نہ ہوگا۔- ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد بچہ کو مال کا دودھ پلانا باتفاق حرام ہے۔- اس آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد ہے وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۭ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا یعنی باپ کے ذمہ ہے ماؤں کا کھانا اور کپڑا قاعدہ کے موافق کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیا جاتا جس کو یہ برداشت نہ کرسکے۔- اس میں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ ماؤں کے لئے قرآن نے لفظ والْوَالِدٰتُ استعمال کیا مگر باپ کے لئے مختصر لفظ والِدُ چھوڑ کر اختیار فرمایا حالانکہ قرآن میں دوسری جگہ لفظ والد بھی مذکور ہے …

Al-Baqara 2:233Listen in Qur'an →
234

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًۭا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَعَشْرًۭا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٣١ شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں عدت کا بیان :- وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الیٰ قولہ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی (عدت کی) میعاد ختم کرلیں تو تم کو (بھی) کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات (کے جائز رکھنے) میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کارروائی (نکاح کی) کریں قاعدہ کے موافق (البتہ اگر کوئی خلاف قاعدہ شرع کریں اور تم باوجود روک سکنے کے نہ روکو تو تم بھی شریک گناہ ہوگے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں۔- حکم نمبر ٣٢ عدت میں نکاح کا پیغام دینا :- اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو (جو عدت وفات میں ہیں) پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارۃ کہہ دو (مثلا یہ کہ مجھ کو ایک نیک عورت سے نکاح کی ضرورت ہے) یا اپنے دل میں (آئندہ نکاح کرنے کے ارادہ کو) پوشیدہ رکھو (جب بھی گناہ نہیں اور وجہ اس اجازت کی یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) ذکر مذکور کرو گے (سو خیر ذکر مذکور کرو) لیکن ان سے (صاف لفظوں میں) نکاح کا وعدہ (اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدہ کے موافق کہو (تو مضائقہ نہیں اور وہ بات قاعدہ کے مطابق یہی ہے کہ اشارۃ کہو) اور تم تعلق نکاح (فی الحال) کا ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوجائے اور یقین رکھو اس کا کہ اللہ کو اطلاع ہے تمہارے دلوں کی بات کی سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو (اور ناجائز امر کا دل میں ارادہ بھی مت کیا کرو) اور (یہ بھی) یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں اور حلیم بھی ہیں۔- معارف و مسائل :- عدت کے بعض احکام :- (١) جس کا خاوند مرجائے اس کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور تیل بلاضرورت دوا لگانا مہندی لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، اور صریح گفتگوئے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا اگلی آیت میں آتا ہے اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں ترجمہ میں نکاح کے ساتھ جو وغیرہ کہا گیا ہے اس سے یہی امور مراد ہیں اور یہی حکم ہے اس عورت کا جس پر طلاق بائن واقع ہوئی یعنی جس میں رجعت درست نہیں مگر اس کو اپنے گھر سے دن کو بھی بدون سخت مجبوری کے نکلنا درست نہیں۔- (٢) اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی تب تو یہ مہینے خواہ تیس کے ہوں خواہ انتیس کے ہوں چاند کے حساب سے پورے کئے جاویں گے اور اگر چاند رات کے بعد وفات ہوئی ہے تو یہ سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کئے جاویں گے، پس کل ایک سو تیس دن پورے کریں گے، اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں اور جس وقت ہوئی ہو جب یہ مدت گزر کر وہی وقت آوے گا عدت ختم ہوجاوے گی اور یہ جو فرمایا کہ اگر عورتیں قاعدہ کے موافق کچھ کریں تو تم پر بھی گناہ نہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کوئی کام خلاف شرع کرے تو اوروں پر بھی واجب ہوتا ہے کہ بشرط قدرت اس کو روکیں ورنہ یہ لوگ بھی گنہگار ہوتے ہیں اور قاعدہ کے موافق سے یہ مراد ہے کہ جو نکاح تجویز ہو وہ شرعاً صحیح اور جائز ہو تمام شرائط حلت کی وہاں جمع ہوں۔

Al-Baqara 2:234Listen in Qur'an →
235

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِۦ مِنْ خِطْبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُوا۟ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا۟ عُقْدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْكِتَٰبُ أَجَلَهُۥ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ فَٱحْذَرُوهُ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

Explained together with ayah 234

Al-Baqara 2:235Listen in Qur'an →
236

لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا۟ لَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلْمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلْمُقْتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعًۢا بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٣٣ طلاق قبل الدخول کی صورت میں مہر کے وجوب اور عدم وجوب کا بیان :- طلاق قبل الدخول کے معنی یہ ہیں کہ زوجین میں یک جائی اور خلوت صحیہ سے پہلے ہی طلاق کی نوبت آجائے اس کی دو صورتیں ہیں یا تو اس نکاح کے وقت مہر مقرر کی مقدار متعین نہیں کی گئی یا مقدار متعین کردی گئی پہلی صورت کا حکم اولا مذکور ہے۔- لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ (الی قولہ) حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ یعنی تم پر (مہر کا) کچھ مواخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے (سو اس صورت میں مہر اپنے ذمہ مت سمجھو) اور (صرف) ان کو (ایک) فائدہ پہنچاؤ صاحب وسعت کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے، ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر (یعنی سب مسلمانوں پر کیونکہ خوش معاملگی کا بھی سب ہی کو حکم ہے مراد اس سے ایک جوڑا کپڑوں کا دینا ہے) اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ (الی قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو (اس صورت میں) جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف (واجب) ہے (اور نصف معاف) مگر (دو صورتیں اس مجموعی حکم سے مستثنیٰ ہیں ایک صورت تو) یہ کہ وہ عورتیں (اپنا نصف) بھی معاف کردیں (تو اس صورت میں نصف بھی واجب نہ رہا) یا دوسری صورت یہ (ہے) کہ وہ شخص رعایت کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق (رکھنا اور توڑنا) ہے (یعنی خاوند پورا مہر ہی اس کو دیدے تو اس صورت میں خاوند کی مرضی سے پورا ہی مہر ادا کرنا ہوگا) اور (اے اہل حق) تمہارا (اپنے حقوق کو) معاف کردینا (بہ نسبت وصول کرنے کے) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (کیونکہ معاف کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ثواب کا کام کرنا ظاہر ہے کہ تقویٰ کی بات ہے) اور آپس میں احسان (اور رعایت) کرنے سے غفلت مت کرو (بلکہ ہر شخص دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے کا خیال رکھا کرے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں (تو تم اگر کسی کے ساتھ رعایت و احسان کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جزائے خبر تم کو دیں گے) (بیان القرآن) - معارف و مسائل :- لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ (الیٰ قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ طلاق کی مہر اور صحبت کے لحاظ سے چار صورتیں ہو سکتی ہیں ان میں سے دو کا حکم ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ نہ مہر مقرر ہو نہ صحبت وخلوت، دوسری یہ کہ مہر تو مقرر ہو لیکن صحبت وخلوت کی نوبت نہ آئے، تیسری صورت یہ ہے کہ مہر بھی مقرر ہو اور صحبت کی بھی نوبت آوے اس میں جو مہر مقرر کیا ہے پورا دینا ہوگا، یہ حکم قرآن مجید میں دوسرے مقام پر بیان کیا گیا ہے چوتھی صورت یہ ہے کہ مہر معین نہ کیا، اور صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی اس میں مہر مثل پورا دینا ہوگا یعنی جو اس عورت کی قوم میں رواج ہے اس کا بیان بھی ایک دوسری آیت میں آیا ہے۔- مذکورہ آیت میں پہلی دو قسموں کا حکم بیان کیا گیا ہے، اس میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ مہر کچھ واجب نہیں مگر زوج پر واجب ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دیدے کم ازکم یہی کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے دراصل قرآن کریم نے اس عطیہ کی کوئی مقدار متعین نہیں کی البتہ یہ بتلا دیا کہ مالدار کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہئے جس میں اس کی ترغیب ہے کہ صاحب وسعت اس میں تنگی سے کام نہ لے۔ حضرت حسن نے ایسے ہی ایک واقعہ میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار کا عطیہ دیا اور قاضی شریح نے پانسو درہم کا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے (قرطبی)

Al-Baqara 2:236Listen in Qur'an →
237

وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةًۭ فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّآ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا۟ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ عُقْدَةُ ٱلنِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوٓا۟ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا۟ ٱلْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہوا ہو، اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دیہو تو مقرر کئے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمے واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دیدے تو اختیاری بات ہے جیسا کہ آیت اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سے معلوم ہوتا ہے۔- (١) مرد کے پورا مہر دینے کو بھی معاف کرنے کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا کہ عام عادت عرب کی یہ تھی کہ مہر کی رقم شادی کے ساتھ ہی دے دیجاتی تھی تو طلاق قبل از خلوت کی صورت میں وہ نصف واپس لینے کا حق دار ہوگیا اب اگر وہ رعایت کرکے اپنا نصف واپس نہ لے تو یہ بھی معاف ہی کرنا ہے اور معاف کرنے کو افضل اور اقرب للتقوٰی قرار دیا کیونکہ یہ معافی علامت اس کی ہے کہ تعلق نکاح کا قطع کرنا بھی احسان اور حسن سلوک کے ساتھ ہوا جو مقصد شریعت اور موجب ثواب عظیم ہے خواہ معافی عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے۔- (٢) الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ کی تفسیر خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ولی عقدۃ النکاح الزوج یعنی عقدہ نکاح کا مالک شوہر ہے یہ حدیث دار قطنی میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ منقول ہے، اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے بھی (قرطبی) اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ نکاح مکمل ہوجانے کے بعد نکاح کو قائم رکھنے یا ختم کرنے کا مالک شوہر ہے طلاق وہی دے سکتا ہے عورت کا طلاق میں کوئی اختیار نہیں۔

Al-Baqara 2:237Listen in Qur'an →
238

حَٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ

(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٣٤ نمازوں کی حفاظت کا بیان :- اس سے آگے پیچھے طلاق وغیرہ کے احکام ہیں درمیان میں نماز کے احکام بیان فرمانا اشارہ اس طرف ہے کہ مقصود اصلی توجہ الی الحق ہے اور معاشرت اور معاملات کے احکام سے علاوہ اور مصلحتوں کے اس توجہ کی حفاظت اور ترقی بھی مقصود ہے، چناچہ جب ان کو خدائی احکام سمجھ کر عمل کیا جاوے گا تو توجہ لازم ہوگی پھر یہ کہ ان احکام میں ادائے حقوق عباد بھی ہے اور حقوق عباد کے اتلاف سے درگاہ الہی سے دوری ہوتی ہے جس کے لوازم میں سے حق وعبد دونوں کی طرف سے بےتوجہی ہے چونکہ نماز میں یہ توجہ زیادہ ظاہر ہے اس لئے اس کے درمیان میں لانے سے اس توجہ کے مقصود ہونے پر زیادہ دلالت ہوگی تاکہ بندہ اس توجہ کو ہر وقت پیش نظر رکھے۔- حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى (الی قولہ) مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ محافظت کرو سب نمازوں کی (عموما) اور درمیان والی نماز (یعنی عصر) کی (خصوصا) اور (نماز) میں کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے پھر اگر تم کو (باقاعدہ نماز پڑھنے میں کسی دشمن وغیرہ کا) اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے (جس طرح بن سکے خواہ قبلہ کی طرف بھی منہ ہو یا نہ ہو اور گو رکوع و سجود صرف اشارہ ہی سے ممکن ہو) پڑھ لیا کرو (اس حالت میں بھی اس پر محافظت رکھو اس کو ترک مت کرو) پھر جب تم کو (بالکل) اطمینان ہوجاوے (اور اندیشہ جاتا رہے تو تم اللہ تعالیٰ کی یاد (یعنی اس ادائے نماز) اس طریق سے کرو جو تم کو (اطمینان کی حالت میں) سکھلایا ہے جس کو تم (پہلے سے) نہ جانتے تھے۔- معارف و مسائل :- کثرت سے علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز سے مراد نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر اور ایک طرف دو نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء، اس کی تاکید خصوصیت کے ساتھ اس لئے کی گئی کہ اکثر لوگوں کو یہ وقت کام کی مصروفیت کا ہوتا ہے اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں سکوت کے ساتھ آئی ہے۔- اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی ہے پہلے کلام کرنا درست تھا اور یہ نماز کھڑے کھڑے اشارہ سے جب صحیح ہوگی جب ایک جگہ کھڑا ہوسکے اور اس میں سجدے کا اشارہ ذرا زیادہ پست کرے اور چلنے سے نماز نہیں ہوگی البتہ جب ایسا ممکن نہ ہو مثلا عین لڑائی کا وقت ہے تو نماز کو قضا کردیا جاوے گا دوسرے وقت پڑھ لیں (بیان القرآن )

Al-Baqara 2:238Listen in Qur'an →
239

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًۭا ۖ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

Explained together with ayah 238

Al-Baqara 2:239Listen in Qur'an →
240

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًۭا وَصِيَّةًۭ لِّأَزْوَٰجِهِم مَّتَٰعًا إِلَى ٱلْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍۢ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِى مَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍۢ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٣٥ بیوہ عورت کی سکونت اور متاع کی بعض اقسام کا بیان :- وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الی قولہ) وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ اور جو لوگ وفات پاجاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کو (ان کے ذمہ لازم ہے کہ) وہ وصیت کرجایا کریں اپنی بیبیوں کے واسطے ایک سال تک (نان ونفقہ اور گھر میں سکونت رکھنے سے) منتفع ہونے کی اس طور پر کہ وہ گھر سے نکالی نہ جاویں ہاں اگر (چار مہینے دس دن کے بعد یا وضع حمل کے بعد عدت گذار کر) خود نکل جاویں تو تم کو کوئی گناہ نہیں، اس قاعدہ کی بات میں جس کو اپنے بارے میں (تجویز) کریں (جیسے نکاح وغیرہ) اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (ان کے خلاف حکم مت کرو) اور حکمت والے ہیں (کہ تمام احکام میں تمہاری مصلحتیں ملحوظ رکھی ہیں گو تمہاری فہم میں نہ آسکیں) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ (الیٰ قولہ) لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ اور سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے کچھ کچھ فائدہ پہنچانا (کسی درجہ میں مقرر ہے) قاعدہ کے موافق (اور یہ) مقرر ہوا ہے ان پر جو (شرک و کفر سے) پرہیز کرتے ہیں (یعنی مسلمانوں پر خواہ یہ مقرر ہونا وجوب کے درجہ میں ہو یا استحباب کے مرتبہ میں) اسی طرح حق تعالیٰ تمہارے (عمل کرنے کے) لئے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں اس توقع پر کہ تم (ان کو) سمجھو (اور عمل کرو) - معارف و مسائل : - (١) وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الی قولہ) وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ زمانہ جاہلیت میں وفات زوج کی عدت ایک سال تھی اور اسلام میں بجائے ایک سال کے چار مہینے دس دن مقرر ہوئے جیسا کہ ماقبل میں آیت يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا سے معلوم ہوچکا ہے مگر اس میں عورت کی اتنی رعایت رکھی گئی تھی کہ چونکہ اس وقت تک میراث کا حکم نازل نہ ہوا تھا، اور بیوی کا کوئی حصہ میراث میں مقرر نہ ہوا تھا بلکہ اوروں کے حق کا مدار محض مردے کی وصیت پر تھا جیسا کہ آیت كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ (١٨٠: ٢) کی تفسیر میں معلوم ہوچکا ہے اسلئے یہ حکم ہوگیا تھا کہ اگر عورت اپنی مصلحت سے خاوند کے ترکہ کے گھر میں رہنا چاہے تو سال بھر تک اس کو رہنے کا حق حاصل ہے اور اسی کے ترکہ سے اس مدت میں اس کو نان نفقہ بھی دیا جاوے اس آیت میں اسی کا بیان ہے اور خاوندوں کو حکم ہے کہ اس طرح کی وصیت کرجایا کریں، اور چونکہ یہ حق عورت کا تھا اس کو اس کے وصول کرنے نہ کرنے کا اختیار حاصل تھا اس لئے وارثوں کو تو گھر سے نکالنا جائز نہ تھا لیکن خود اس کو جائز تھا کہ خود اس کے گھر نہ رہے اور اپنا حق ورثہ کو چھوڑدے بشرطیکہ عدت پوری ہوچکے اور نکاح کرنا وغیرہ سب درست تھا اور یہی مراد ہے قاعدہ کی بات سے۔ البتہ عدت کے اندر نکلنا اور نکاح کرنا وغیرہ سب گناہ تھا عورت کے لئے بھی اور جو منع کرسکے اور نہ روکے اس کے لئے بھی پھر جب آیت میراث کی نازل ہوئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا سو اپنے حصہ میں رہے اور اپنے حصہ سے خرچ کرے یہ آیت منسوخ ہوگئی۔

Al-Baqara 2:240Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.