وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍۢ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًۭا لِّتَعْتَدُوا۟ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًۭا ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ
اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
زندگی کے رشتے کٹ رہے ہوں یا جڑ رہے ہوں ، ہر صورت میں اسلام یہ ہدایات دیتا ہے کہ احسان ، حسن سلوک اور معروف و مستحسن طرز عمل کو فضا پر غالب رہنا چاہئے۔ اگر رشتے ٹوٹ رہے ہوں تو نیت یہ نہ ہو کہ فریق مخالف کو اذیت دی جائے ، اسے بطور پالیسی دکھ پہنچایا جائے ۔ جدائی اور طلاق کی فضا میں نفوس اور مزاج ایک دوسرے سے کھنچے رہتے ہیں ، ایسے حالات میں حسن سلوک کا یہ اعلیٰ وارفع معیار صرف اس صورت میں قائم کیا جاسکتا ہے کہ اس کی اساس کسی ایسے اصول پر رکھی گئی ہو جو اس دنیاوی زندگی کے حالات سے بلند تر ہو ۔ ایسا اصول جو دلوں سے حسد اور بغض اور کینہ نکال دے ، زندگی کے آفاق کو وسیع تر کردے ، زندگی کو موجود اور حاضر سے وسیع کرکے غیر موجود اور دوسرے جہاں کو وسیع کردے ۔ یہ اساس صرف اللہ پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے ۔ آخرت پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے ۔ یہ اساس ہوسکتی ہے کہ انسان انعامات الٰہی پر غور کرے ۔ جن میں سب سے بڑی نعمت ، نعمت ایمان ہے ۔ پھر اس نے ہر شخص کو قدر کے مطابق جو فراخی رزق دیا ہے اس پر غور کرے ۔ پھر ہر شخص کو جو صحت اور توانائی دی ہے ، اس پر غور کرے تو انسان کے سوچ کی سطح بلند ہوسکتی ہے ۔ پھر اللہ کا خوف دل میں موجود ہو ، اور یہ امید بھی ہو کہ جو ازدواجی زندگی ناکام ہوگئی ہے جو نقصانات و اخراجات ضائع ہوچکے ، ان کے عوض اللہ تعالیٰ نعم البدل عطا کرسکتا ہے ۔ غرض یہ ہے وہ اساس جسے وہ آیات پیش کررہی ہیں ، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ رشتہ کٹ رہا ہو یا جڑ رہا ہو ، ہر صورت میں ایثار ، بھلائی اور احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔
زمانہ جاہلیت میں عورت پر جو مظالم ممکن تھے ، ہوا کرتے تھے ۔ بچپن میں اس پر مظالم ہوتے تھے ، اسے زندہ درگور کردیا جاتا ، اگر زندہ دفن کرنے سے بچ جاتی تو وہ ذلت ، مشقت اور سخت اہانت کی زندگی بسر کرتی ۔ پھر جب وہ ازدواجی زندگی میں قدم رکھتی تو اسے مرد کے عام سامان اور مال کی طرح ایک مال ہی سمجھا جاتا ہے ۔ مال بھی اس درجے کا کہ اس مقابلے میں گھوڑے کی قیمت زیادہ ہوتی ۔
بہت زیادہ اگر ناچاقی کے نتیجے میں خاوند اسے طلاق دے دیتا تو یہ عضو معطل کی طرح پابند رہتی اور جب تک طلاق دینے والا خاوند رحم کھا کر اسے اجازت نہ دیتا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرسکتی یا اس کے اہل خاندان غیرت میں آکر اسے بند کردے ۔ اور اگر طلاق دینے والا شخص پشیمان ہوکر رجوع کرنا چاہتا تو یہ لوگ اسے اس کے پاس واپس جانے سے روکتے۔
عمومی طور پر عورت کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ۔ معاشرے میں اسے گھٹیا درجے کی شئے تصور کیا جاتا ۔ غرض عرب معاشرہ میں عورت کی وہی حیثیت تھی جس طرح اس دور کے دوسرے جاہل معاشروں میں عورت کی حیثیت تھی ۔
ایسے حالات میں اسلامی نظام کا نزول ہوتا ہے ۔ اب ریگستان عرب کی طوفانی اور گرم ہواؤں کے بجائے ۔ مصیبت زدہ عورت باد نسیم کے خوشگوار جھونکے محسوس کرتی ہے ، جس کے کچھ نمونے ان آیات میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اب عورت کے بارے میں یہ نقطہ نظر دیا جاتا ہے کہ مرد و عورت دونوں ہی ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ دونوں کا خالق ایک ہے ۔ ازدواجی تعلقات کو محض ذریعہ لذت کے بجائے عبادت اور احسان کا درجہ دیا گیا ۔ اسے فریضہ حیات کا درجہ دیا گیا۔ یہ اس وقت اور ایسے حالات میں دیا گیا جبکہ عورتوں کی کسی انجمن نے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا ، نہ عورت اس وقت ان حقوق کی اہمیت سے واقف تھی ۔ نہ اس وقت عورت کے سرپرست مردوں نے عورت کے حقوق کے لئے کوئی مطالبہ کیا تھا ، نہ ایسا کوئی مطالبہ ان کے تصور ہی میں تھا ، یہ تو اللہ کی رحمت اور فضل کی ایک عام بارش تھی ، جس سے بیک وقت مرد اور عورت دونوں فیض یاب ہوئے اور پوری انسانیت اور انسانی زندگی کو سیراب کیا۔ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا …