وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌۭ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكَةٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ ۚ وَلَعَبْدٌۭ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِۦ ۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
درس 15 ایک نظر میں
یہ سبق گویا عائلی قوانین پر مشتمل ایک ضابطہ ہے ۔ اس میں خاندانی نظام کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ خاندان تحریک اسلامی کی تنظیم کی اساس ہے ۔ خشت اول ہے ۔ اس اساس کو اسلام نے ہر پہلو سے مضبوط کیا ہے ۔ اس پر بےحد توجہ دی گئی ہے ۔ اسے بڑی تفصیل سے منظم کیا ہے ۔ اسے ہر طرح سے بچاکررکھا گیا ہے۔ اسے دور جاہلیت کی انارکی سے پاک کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اتنی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جگہ جگہ اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں اور ان میں وہ تمام بنیادیں فراہم کردی گئی ہیں جو تحریک اسلامی کی تنظیم کے ابتدائی حلقے کی تنظیم اور تعمیر کے لئے ضروری تھیں ۔
اسلام کا اجتماعی نظام ایک قسم کا خاندانی نظام ہے ۔ اس کی اساس خاندان پر ہے ۔ اس لئے کہ انسان کے لئے اس کے رب کا تجویز کردہ نظام ہے ۔ اس میں انسان کی فطرت کی تمام ضروریات ، تمام خصوصیات اور تمام بنیادی باتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔
خاندانی نظام کی جڑیں ابتداً تخلیق تک جاپہنچتی ہیں ۔ اس کی کونپلیں شاخ فطرت سے پھوٹتی ہیں ۔ انسان بلکہ تمام حیوانات کی تخلیق ہی خاندانی نظام پر ہے ۔ قرآن مجید سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں ۔ شاید کے تم اس سے سبق لو۔ “
ایک دوسری آیت میں فرماتے ہیں سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الأزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الأرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لا يَعْلَمُونَ ” پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا ، ان تمام چیزوں سے سے جو زمین اگاتی ہے ۔ انسانی نفوس سے اور ان تمام دوسری چیزوں سے جو وہ نہیں جانتے۔ “
اب انسان کا مزید نقطہ نظر سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے وہ پہلا انسان یاد دلایا جاتا ہے جس کے واسطہ سے یہاں انسانوں کی بستی کا آغاز ہوا ۔ پہلی انسانی آبادی ایک جوڑا تھا ۔ پھر اس کی اولاد پیداہوئی ، پھر اس سے انسانیت اور انسانی آبادی پھیل گئی ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلادیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ وقربت کے تعلقات بگاڑنے سے پرہیز کرو ۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے ۔ “
دوسری جگہ ہے يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ” لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ “
پھر بتایا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک فطری جاذبیت ہے ۔ اس لئے نہیں کہ مرد و عورت علی الاطلاق اکٹھے ہوں ، بلکہ ان کے درمیان انس و محبت کا نتیجہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ خاندان کی بنیاد ڈالیں اور گھرانے تعمیر ہوں : وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ “ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُم وَاَنتُم لِبَاسٌ لَّھُنَّ ” وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ “ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا …