وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌۭ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكَةٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ ۚ وَلَعَبْدٌۭ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِۦ ۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
اٹھارہواں حکم مناکحت کفار :- اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے (چاہے وہ آزاد بی بی ہی کیوں نہ) گو وہ (کافر عورت بوجہ مال یا جمال کے) تم کو اچھی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان عورت ہی اس سے اچھی ہے) اور (اسی طرح اپنے اختیار کی) عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک یہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد (چاہے) غلام (ہی کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر مرد سے (چاہے وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو) گو وہ (کافر مرد بوجہ مال یا جاہ کے) تم کو اچھا ہی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان ہی اس سے اچھا ہے اور وجہ ان کافروں کے برا ہونے کی اور وہی اصل سبب ان سے ممانعت نکاح کا ہے یہ ہے کہ) یہ (کافر) لوگ دوزخ (میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں (کیونکہ کفر کی تحریک کرتے ہیں اور اس کا انجام جہنم ہے) اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت (کے حاصل کرنے) کی تحریک کرتے ہیں اپنے حکم سے ( اور اس حکم کا ظہور اس طرح ہوا کہ کفار کے متعلق یہ حکم صادر فرما دیا کہ ان سے نکاح نہ کیا جائے تاکہ ان کی تحریک کے اثر سے پوری حفاظت رہ سکے اور اس سے محفوظ رہ کر جنت اور مغفرت حاصل ہوجاوے) اللہ تعالیٰ اس واسطے اپنے احکام بتلا دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں (اور مستحق جنت و مغفرت ہوجاویں) - فوائد از بیان القرآن :- مسئلہ : جو قوم اپنی وضع اور طرز سے اہل کتاب سمجھے جاتے ہوں لیکن عقائد کی تحقیق کرنے سے کتابی ثابت نہ ہوں اور قوم کی عورتوں سے نکاح درست نہیں جیسے آجکل عموماً انگریزوں کو عام لوگ عیسائی سمجھتے ہیں حالانکہ تحقیق سے ان کے بعض عقائد بالکل ملحدانہ ثابت ہوئے کہ نہ خدا کے قائل نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے معتقد نہ انجیل کی نسبت آسمانی کتاب ہونے کا اعتقاد، سو ایسے لوگ عیسائی نہیں ایسی جماعت میں جو عورت ہو اس سے نکاح درست نہیں لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں کہ بلا تحقیق یورپ کی عورتیں بیاہ لاتے ہیں۔- مسئلہ : اس طرح جو مرد ظاہری حالت سے مسلمان سمجھا جائے لیکن عقائد اس کے کفر تک پہنچے ہوں اس سے مسلمان عورت کا نکاح درست نہیں اور اگر نکاح ہوجانے کے بعد ایسے عقائد خراب ہوجاویں تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے جیسے آج کل بہت سے آدمی اپنے مذہب سے ناواقف سائنس کے اثر سے اپنے عقائد تباہ کرلیتے ہیں لڑکی والوں پر واجب ہے کہ پیام آنے کے وقت اول عقائد کی تحقیق کرلیا کریں تب زبان دیں۔- معارف و مسائل :- مسلم و کافر کا باہمی ازدواج ممنوع ہے :- آیات مذکورہ میں ایک اہم مسئلہ یہ بیان فرمایا گیا کہ مسلمان مردوں کا نکاح کافر عورتوں سے اور کافر مردوں کا نکاح مسلمان عورتوں سے جائز نہیں وجہ یہ ہے کہ کافر مرد اور عورتیں انسان کو جہنم کی طرف لے جانے کے سبب بنتے ہیں کیونکہ ازدواجی تعلقات آپس کی محبت ومودت اور یگانگت کو چاہتے ہیں اور بغیر اس کے ان تعلقات کا اصلی مقصد پورا نہیں ہوتا اور مشرکین کے ساتھ اس قسم کے تعلقات قریبہ محبت ومودت کا لازمی اثر یہ ہے کہ ان کے دل میں بھی کفر و شرک کی طرف میلان پیدا ہو یا کم ازکم شرک سے نفرت ان کے دلوں سے نکل جائے اور اس کا انجام یہ ہے کہ یہ بھی کفر و شرک میں مبتلا ہوجائیں اور اس کا نتیجہ جہنم ہے اس لئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انسان کو جنت اور مغفرت کی طرف دعوت دیتا ہے اور صاف صاف اپنے احکام بیان فرما دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پر عمل کریں اس جگہ چند باتیں قابل غور ہیں۔- اول : یہ کہ اس آیت میں لفظ مشرک سے اگر مطلقا غیر مسلم مراد ہوں تو قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کی بنا پر اہل کتاب کی غیر مسلم عورتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اور اگر مشرک سے خاص وہ …