Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 221–230 of 286

221

وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌۭ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكَةٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ ۚ وَلَعَبْدٌۭ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِۦ ۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں

اٹھارہواں حکم مناکحت کفار :- اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے (چاہے وہ آزاد بی بی ہی کیوں نہ) گو وہ (کافر عورت بوجہ مال یا جمال کے) تم کو اچھی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان عورت ہی اس سے اچھی ہے) اور (اسی طرح اپنے اختیار کی) عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک یہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد (چاہے) غلام (ہی کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر مرد سے (چاہے وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو) گو وہ (کافر مرد بوجہ مال یا جاہ کے) تم کو اچھا ہی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان ہی اس سے اچھا ہے اور وجہ ان کافروں کے برا ہونے کی اور وہی اصل سبب ان سے ممانعت نکاح کا ہے یہ ہے کہ) یہ (کافر) لوگ دوزخ (میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں (کیونکہ کفر کی تحریک کرتے ہیں اور اس کا انجام جہنم ہے) اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت (کے حاصل کرنے) کی تحریک کرتے ہیں اپنے حکم سے ( اور اس حکم کا ظہور اس طرح ہوا کہ کفار کے متعلق یہ حکم صادر فرما دیا کہ ان سے نکاح نہ کیا جائے تاکہ ان کی تحریک کے اثر سے پوری حفاظت رہ سکے اور اس سے محفوظ رہ کر جنت اور مغفرت حاصل ہوجاوے) اللہ تعالیٰ اس واسطے اپنے احکام بتلا دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں (اور مستحق جنت و مغفرت ہوجاویں) - فوائد از بیان القرآن :- مسئلہ : جو قوم اپنی وضع اور طرز سے اہل کتاب سمجھے جاتے ہوں لیکن عقائد کی تحقیق کرنے سے کتابی ثابت نہ ہوں اور قوم کی عورتوں سے نکاح درست نہیں جیسے آجکل عموماً انگریزوں کو عام لوگ عیسائی سمجھتے ہیں حالانکہ تحقیق سے ان کے بعض عقائد بالکل ملحدانہ ثابت ہوئے کہ نہ خدا کے قائل نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے معتقد نہ انجیل کی نسبت آسمانی کتاب ہونے کا اعتقاد، سو ایسے لوگ عیسائی نہیں ایسی جماعت میں جو عورت ہو اس سے نکاح درست نہیں لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں کہ بلا تحقیق یورپ کی عورتیں بیاہ لاتے ہیں۔- مسئلہ : اس طرح جو مرد ظاہری حالت سے مسلمان سمجھا جائے لیکن عقائد اس کے کفر تک پہنچے ہوں اس سے مسلمان عورت کا نکاح درست نہیں اور اگر نکاح ہوجانے کے بعد ایسے عقائد خراب ہوجاویں تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے جیسے آج کل بہت سے آدمی اپنے مذہب سے ناواقف سائنس کے اثر سے اپنے عقائد تباہ کرلیتے ہیں لڑکی والوں پر واجب ہے کہ پیام آنے کے وقت اول عقائد کی تحقیق کرلیا کریں تب زبان دیں۔- معارف و مسائل :- مسلم و کافر کا باہمی ازدواج ممنوع ہے :- آیات مذکورہ میں ایک اہم مسئلہ یہ بیان فرمایا گیا کہ مسلمان مردوں کا نکاح کافر عورتوں سے اور کافر مردوں کا نکاح مسلمان عورتوں سے جائز نہیں وجہ یہ ہے کہ کافر مرد اور عورتیں انسان کو جہنم کی طرف لے جانے کے سبب بنتے ہیں کیونکہ ازدواجی تعلقات آپس کی محبت ومودت اور یگانگت کو چاہتے ہیں اور بغیر اس کے ان تعلقات کا اصلی مقصد پورا نہیں ہوتا اور مشرکین کے ساتھ اس قسم کے تعلقات قریبہ محبت ومودت کا لازمی اثر یہ ہے کہ ان کے دل میں بھی کفر و شرک کی طرف میلان پیدا ہو یا کم ازکم شرک سے نفرت ان کے دلوں سے نکل جائے اور اس کا انجام یہ ہے کہ یہ بھی کفر و شرک میں مبتلا ہوجائیں اور اس کا نتیجہ جہنم ہے اس لئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انسان کو جنت اور مغفرت کی طرف دعوت دیتا ہے اور صاف صاف اپنے احکام بیان فرما دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پر عمل کریں اس جگہ چند باتیں قابل غور ہیں۔- اول : یہ کہ اس آیت میں لفظ مشرک سے اگر مطلقا غیر مسلم مراد ہوں تو قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کی بنا پر اہل کتاب کی غیر مسلم عورتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اور اگر مشرک سے خاص وہ …

Al-Baqara 2:221Listen in Qur'an →
222

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًۭى فَٱعْتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَآءَ فِى ٱلْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلْمُتَطَهِّرِينَ

اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ١٩ حیض میں جماع کی حرمت اور پاکی کی شرائط :- وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ (الی قولہ) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اور لوگ آپ سے حیض کی (حالت میں صحبت وغیرہ کرنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ وہ (حیض) گندگی کی چیز ہے تو حالت حیض میں عورتوں (کے ساتھ صحبت کرنے) سے علیحدہ رہا کرو اور (حالت میں) ان سے قربت مت کرو جب تک وہ (حیض سے) پاک نہ ہوجاویں پھر جب وہ (عورتیں) اچھی طرح پاک ہوجاویں (کہ ناپاکی کا شک وشبہ نہ رہے) تو ان کے پاس آؤ جاؤ (یعنی ان سے صحبت کرو) جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے (مثلاً اتفاقا یا بےاحتیاطی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھا پھر متنبہ ہو کر توبہ کرلی) اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے (جو حالت حیض میں صحبت کرنے سے اور دوسرے منہیات سے بچتے ہیں اور حالت پاکی میں اجازت صحبت کی دینا پھر اس قید سے اجازت دینا کہ آگے کے موقع میں صحبت ہو اس لئے ہے کہ) تمہاری بیبیاں تمہارے لیے (بمنزلہ) کھیت (کے) ہیں جس میں نطفہ بجائے تخم کے اور بچہ بجائے پیداوار کے ہے) سو اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ (اور جس طرح کھیتوں میں اجازت ہے اسی طرح بیبیوں کے پاس پاکی کی حالت میں ہر طرف سے آنے کی اجازت ہے خواہ کروٹ سے ہو یا پیچھے سے یا آگے بیٹھ کر ہو یا اوپر یا نیچے لیٹ کر ہو یا جس ہیئت سے ہو مگر آنا ہو ہر حال میں کھیت کے اندر کہ وہ خاص آگے کا موقع ہے کیونکہ پیچھے کا موقع کھیت کے مشابہ نہیں اس میں صحبت نہ ہو اور ان لذات میں ایسے مشغول مت ہوجاؤ کہ آخرت ہی کو بھول جاؤ بلکہ) آئندہ کے واسطے اپنے لئے کچھ (اعمال صالحہ) کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے (ہر حال میں) ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے والے ہو اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے) ایمان داروں کو (جو نیک کام کریں خدا سے ڈریں خدا تعالیٰ کے سامنے جانے کا یقین رکھیں) خوشی کی خبر سنا دیجئے (کہ ان کو آخرت میں ہر طرح کی نعمتیں ملیں گی)

Al-Baqara 2:222Listen in Qur'an →
223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌۭ لَّكُمْ فَأْتُوا۟ حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُم مُّلَٰقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو

Explained together with ayah 222

Al-Baqara 2:223Listen in Qur'an →
224

وَلَا تَجْعَلُوا۟ ٱللَّهَ عُرْضَةًۭ لِّأَيْمَٰنِكُمْ أَن تَبَرُّوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَتُصْلِحُوا۟ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمر ٢٠ نیک کام نہ کرنے کی قسم کی ممانعت :- اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے ذریعے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فیما بین خلق کے کام کرو (یعنی اللہ کے نام کی یہ قسم نہ کھاؤ کہ ہم یہ نیک کام نہ کریں گے) اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں (تو زبان سنبھال کر بات کرو اور دل میں برے خیالات مت لاؤ )

Al-Baqara 2:224Listen in Qur'an →
225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٢١ جھوٹی قسمیں کھانے کا حکم :- اللہ تعالیٰ تم پر آخرت میں دارو گیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں ایسی بیہودہ قسم پر (جس میں بلا قصد جھوٹ بولا گیا) لیکن دارو گیر فرماویں گے اس جھوٹی قسم پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں (کہ ایسی بیہودہ قسم پر دارو گیر نہ فرمائی) حلیم ہیں (کہ قصدا جھوٹی قسم کھانے کی سزا میں آخرت تک کی مہلت دی )

Al-Baqara 2:225Listen in Qur'an →
226

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍۢ ۖ فَإِن فَآءُو فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٢٢ ایلاء کا حکم :- لِلَّذِيْنَ يُؤ ْلُوْنَ (الی قولہ) سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ یعنی جو لوگ (بلا قید مدت یا چار ماہ یا زائد مدت کے لئے) قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بیبیوں کے پاس جانے سے ان کیلئے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر (ان چار مہینے کے اندر) یہ لوگ (اپنی قسم کو توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں (تب تو نکاح باقی رہے گا اور) اللہ تعالیٰ (ایسی قسم کو توڑنے کا گناہ کفارہ سے) معاف کردیں گے (اور چونکہ اب بی بی کے حقوق ادا کرنے لگا اس پر) رحمت فرمادیں گے اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ( اور اس لئے چار ماہ کے اندر قسم توڑ کر رجوع نہیں کیا) تو (چار ماہ گذرتے ہی قطعی طلاق پڑجاویں گی اور) اللہ تعالیٰ (ان کی قسم کو بھی) سنتے ہیں اور ان کے اس پختہ ارادے کو بھی) جانتے ہیں (اس لئے اس کے متعلق حکم مناسب ارشاد فرمایا)

Al-Baqara 2:226Listen in Qur'an →
227

وَإِنْ عَزَمُوا۟ ٱلطَّلَٰقَ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

Explained together with ayah 226

Al-Baqara 2:227Listen in Qur'an →
228

وَٱلْمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٍۢ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِىٓ أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِى ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوٓا۟ إِصْلَٰحًۭا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٢٣، ٢٤ مطلقہ کی عدت اور مدت رجعت کا بیان :- وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ (الی قولہ) اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا اور طلاق دی ہوئی عورتیں (جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہو آزاد ہوں یعنی شرعی قاعدہ سے لونڈی نہ ہوں) اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض (ختم ہونے) تک ( اور اس کو عدت کہتے ہیں) اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے رحم (بچہ دان) میں پیدا کیا ہو (خواہ حمل ہو یا حیض) اس کو پوشیدہ کریں (کیونکہ اس کے پوشیدہ کرنے سے عدت کا حساب غلط ہوجاوے گا) اگر وہ عورتیں اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہیں (بوجہ اس کے کہ اس یقین کا مقتضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں کہ قیامت میں نافرمانی پر سزا نہ ہوجاوے) اور ان عورتوں کے شوہر (جب کہ ان کو طلاق رجعی ملی ہو جس کا بیان آگے آئے گا) ان کے (بلا تجدید نکاح) پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اس عدت کے اندر ( اور اس لوٹا لینے کو رجعت کہتے ہیں) بشرطیکہ (رجعت کرنے سے) اصلاح کا قصد رکھتے ہوں (ورنہ تنگ کرنے کے لئے رجعت کرنا لاحاصل ہے گو رجعت تو ہو ہی جاوے گی) اور (یہ حکم اصلاح کا اس لئے کیا گیا کہ) عورتوں کے حقوق میں (مردوں پر) جو کہ (نفس وجوب میں) مثل انہی کے حقوق کے ہیں جو ان عورتوں پر ہیں (مردوں کے کہ ان کو) قاعدہ (شرعی) کے موافق (ادا کیا جاوے) اور (اتنی بات ضرور ہے کہ) مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑھا ہوا ہے (اس لئے ان کے حقوق کی نوعیت عورتوں کے حقوق کی نوعیت سے بڑھی ہوئی ہے) اور اللہ تعالیٰ زبردست (حاکم) ہیں (اور) حکیم (بھی) ہیں۔- مسائل متعلقہ آیت از بیان القرآن :- (١) اگر غلبہ شہوت سے حالت حیض میں صحبت ہوگئی تو خوب توبہ کرنا واجب ہے اور کچھ خیر خیرات بھی دیدے تو زیادہ بہتر ہے۔- (٢) یپچھے کے موقع میں اپنی بی بی سے بھی صحبت کرنا حرام ہے۔- (٣) لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گذری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا نکلی تو ارادے سے مگر اس کو اپنے گمان میں صحیح سمجھتا ہے جیسے اپنے علم و گمان کے مطابق قسم کھا بیٹھا کہ زید آگیا ہے، اور واقع میں وہ نہ آیا تھا یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بےارادہ منہ سے قسم نکل گئی اس میں گناہ نہیں ہوتا اور اس کو اسی واسطے لغو کہتے ہیں، آخرت میں اس پر مواخذہ نہیں ہوگا اور اس کے مقابلہ میں جس پر مؤ اخذہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے یہ وہ قسم ہے جو قصداً جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو اس کو غموس کہتے ہیں اس میں گناہ ہوتا ہے، مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک کفارہ نہیں آتا اور لغو بالمعنی المذکور میں بدرجہ اولیٰ کفارہ نہیں اس آیت میں انہی دونوں کا بیان ہے جن میں کفارہ نہیں۔- دوسرے معنی لغو کے یہ ہیں جس پر کفارہ نہ ہو اور اس کو لغو اس لئے کہیں گے کہ مؤ اخذہ دنیوی یعنی کفارہ اس پر نہیں آتا اس معنی کے لحاظ سے لفظ لغو غموس کو بھی شامل ہے کہ اس میں اگرچہ گناہ ہوتا ہے لیکن کفارہ نہیں آتا اس مقابلہ میں وہ قسم جس پر کفارہ بھی آتا ہے منعقدہ کہلاتی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ قصداً یوں قسم کھائے کہ میں فلاں فعل کروں گا یا فلاں کام نہ کروں گا اس میں خلاف کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔- (٤) اگر قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے صبحت نہ کروں گا اس کی چار صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کوئی مدت معین نہ کرے دوم یہ کہ چار مہینے کی مدت کی قید لگادے، سوم یہ کہ چار ماہ سے زیادہ کی مدت کی قید لگادے، چہارم یہ کہ چار ماہ سے کم کی مدت کا نام لے، پس صورت اول دوم اور سوم کو شرع میں ایلاء کہتے ہیں اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بیوی کے پاس چلا آوے تو قسم کا کفارہ دے اور نکاح باقی ہے اور اگر چار ماہ گذر گئے اور قسم نہ توڑی تو اس عورت پر قطی طلاق پڑگئی …

Al-Baqara 2:228Listen in Qur'an →
229

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌۢ بِإِحْسَٰنٍۢ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا۟ مِمَّآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ شَيْـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

خلاصہ تفسیر :- حکم نمبر ٢٥، طلاق رجعی کی تعداد :- طلاق دو مرتبہ کی پھر (دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد دو اختیار ہیں) خواہ (یہ کہ رجعت کرکے عورت کو) قاعدہ کے مطابق رکھ لے خواہ (یہ کہ رجعت نہ کرے عدت پوری ہونے دے اور اس طرح) اچھے طریقے سے اس کو چھوڑ دے۔- حکم نمبر ٢٦، خلع :- اور تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ (بیبیوں کو چھوڑنے کے وقت ان سے) کچھ بھی لو (اگرچہ وہ لیا ہو) اسی (مال) میں سے (کیوں نہ ہو) جو تم نے (ہی مہر میں) ان کو دیا تھا مگر (ایک صورت البتہ حلال ہے وہ) یہ کہ (کوئی) میاں بیوی (ایسے ہوں کہ) دونوں کو خطرہ ہو کہ (دوبارہ حقوق زوجیت) وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو اگر تم کو (یعنی میاں بیوی کو) یہ خطرہ ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس ( مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑائے (بشرطیکہ مہر سے زیادہ نہ ہو) یہ سب احکام خدائی ضابطے ہیں تم ان سے باہر نہ نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں (کو توڑ کر) باہر نکل جائے تو ایسے لوگ اپنا ہی نقصان کرنے والے ہیں۔- حکم نمبر ٢٧، تین طلاقوں کے بعد حلالہ :- پھر اگر (دو طلاقوں کے بعد) کوئی (تیسری) طلاق (بھی) دیدے تو پھر وہ عورت اس (تیسری طلاق دینے) کے بعد اس شخص کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک وہ اس خاوند کے سوا دوسرے شخص کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح نہ کرے (اور حقوق زوجیت صحبت کے ادا نہ کرے) پھر اگر یہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دیدے (اور اس کی عدت بھی گذر جائے) تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ دوبارہ آپس میں نکاح کرکے) بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں کو اپنے اوپر یہ اعتماد ہو کہ آئندہ خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو دانشمند ہیں۔- معارف و مسائل :- طلاق ونکاح کے احکام پورے قرآن کریم میں بہت سی آیتوں میں آئے ہیں مگر یہ چند آیتیں جو یہاں مذکور ہیں طلاق کے معاملہ میں اہم ضابطوں کی حیثیت رکھتی ہیں ان کو سمجھنے کیلئے پہلے نکاح کی شرعی حیثیت کو جاننا ضروری ہے۔- نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت اور حکیمانہ نظام :- نکاح کی ایک حیثیت تو ایک باہمی معاملے اور معاہدے کی ہے جیسے بیع وشراء اور لین دین کے معاملات ہوتے ہیں دوسری حیثیت ایک سنت اور عبادت کی ہے اس پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ نکاح عام معاملات معاہدات سے بالاتر ایک حیثیت شرعی عبادت وسنت کی رکھتا ہے اسی لئے نکاح کے منعقد ہونے کے لئے باجماع امت کچھ ایسی شرائط ضروری ہیں جو عام معاملات بیع وشراء میں نہیں ہوتیں۔- اول تو یہ کہ ہر عورت سے اور ہر مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا اس میں شریعت کا ایک مستقل قانون ہے جس کے تحت بہت سی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔- دوسرے تمام معاملات ومعاہدات کے منعقد اور مکمل ہونے کے لئے کوئی گواہی شرط نہیں، گواہی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب فریقین میں اختلاف ہوجائے لیکن نکاح ایسا معاملہ نہیں یہاں اس کے منعقد ہونے کیلئے بھی گواہوں کا سامنے ہونا شرط ہے اگر دو مرد و عورت بغیر گواہوں کے آپس میں نکاح کرلیں اور دونوں میں کوئی فریق کبھی اختلاف و انکار بھی نہ کرے اس وقت بھی شرعاً وہ نکاح باطل کالعدم ہے جب تک گواہوں کے سامنے دونوں کا ایجاب و قبول نہ ہو اور سنت یہ ہے کہ نکاح اعلان عام کے ساتھ کیا جائے اسی طرح کی اور بہت سی شرائط اور آداب ہیں جو معاملہ نکاح کے لئے ضروری یا مسنون ہیں۔- امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے دوسرے حضرات ائمہ کے نزدیک تو نکاح میں معاملہ اور معاہدہ کی حیثیت سے زیادہ عبادت وسنت کی حیثیت غالب ہے اور قرآن وسنت کے شواہد اس پر قائم ہیں۔- نکاح کی اجمالی حقیقت معلوم کرنے کے بعد طلاق کو سمجھئے، طلاق کا حاصل نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ختم کرنا ہے جس طرح شریعت …

Al-Baqara 2:229Listen in Qur'an →
230

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۥ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

یہ مسئلہ ضمنی بیان فرمانے کے بعد پھر تیسری طلاق کا ذکر اس طرح فرمایا : فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی (جو شرعا پسندیدہ نہ تھی) تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا اس کو رجعت کرنے کا کوئی اختیار نہ رہا اور چونکہ اس نے شرعی حدود سے تجازو کیا کہ بلاوجہ تیسری طلاق دے دیتو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہو کر پھر آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو بھی نہیں کرسکتے اب ان کے آپس میں دوبارہ نکاح کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ عورت (عدت طلاق پوری کرکے) کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرکے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے پھر اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے (یا مرجائے) تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے آیت کے آخری جملے فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ کا یہی مطلب ہے۔- تین طلاق اور اس کے بعد احکام کی تفصیل :- یہاں قرآن کریم کے اسلوب بیان پر غور کرنے سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے کہ طلاق دینے کا اصل شرعی طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو طلاق تک پہنچا جائے، تیسری طلاق تک نوبت پہونچانا مناسب نہیں الفاظ آیت الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کے بعد تیسری طلاق کو حرف ان کے ساتھ فَاِنْ طَلَّقَھَا فرمانے میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے ورنہ سیدھی تعبیر یہ تھی کہ الطَّلَاقُ ثَلٰثٌ کہا جاتا اس کو چھوڑ کر یہ تعبیر اختیار کرنے میں واضح اشارہ ہے کہ تیسری طلاق تک پہنچنا نہیں چاہئے یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور بہت سے فقہاء نے تیسری طلاق کی اجازت ہی نہیں دی وہ اس کو طلاق بدعت کہتے ہیں، اور دوسرے فقہاء نے تین طلاق کو صرف اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں ان فقہاء کی اصطلاح میں اس کو بھی طلاق سنت کے لفظ سے تعبیر کردیا گیا ہے مگر اس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں ہے کہ اس طرح تین طلاقیں دینا مسنون اور محبوب ہے بلکہ طلاق بدعت کے مقابلے میں اس کو طلاق سنت اس معنی سے کہہ دیا گیا کہ یہ صورت بھی بدعت میں داخل نہیں۔- قرآن وسنت کے ارشادات اور تعامل صحابہ کرام (رض) اجمعین وتابعین سے عدد طلاق کے متعلق جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہے تو طلاق کا احسن طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق حالت طہر میں دیدے جس میں مجامعت نہ کی ہو اور یہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے عدت ختم ہونے کے ساتھ رشتہ نکاح خود ٹوٹ جائے گا اس کو فقہاء نے طلاق احسن کہا ہے، اور حضرات صحابہ کرام (رض) اجمعین نے اسی کو طلاق کا بہتر طریق قرار دیا ہے۔- ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام (رض) اجمعین طلاق دینے میں اس کو پسند کرتے تھے کہ صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دی جائے اور عدت طلاق تین حیض پورے ہونے دیئے جائیں تاکہ عورت آزاد ہوجائے۔- قرآن کریم کے الفاظ مذکورہ سے اس کی بھی اجازت نکلتی ہے کہ دو طلاق تک دے دیجائیں مگر مَرَّتٰانِ کے لفظ میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ دو طلاق بیک لفظ وبیک وقت نہ ہوں بلکہ دو طہروں میں الگ الگ ہوں الطَّلَاقُ طَلَاقاَنِ سے بھی طلاق کی اجازت ثابت ہوسکتی تھی مگر مَرَّتٰنِ ایک ترتیب وتراخی کی طرف مشیر ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ دو طلاقیں ہوں تو الگ الگ ہوں مثال سے یوں سمجھئے کہ کوئی شخص کسی کو دو روپیہ ایک دفعہ دیدے تو اس کو دو مرتبہ دینا نہیں کہتے، الفاظ قرآن میں دو مرتبہ دینے کا مقصد یہی ہے کہ الگ الگ طہر میں دو طلاق دی جائیں (روح المعانی) - بہرحال دو طلاقوں تک قرآن حکیم کے الفاظ سے ثابت ہے اس لئے باتفاق ائمہ وفقہاء یہ طلاق سنت میں داخل ہے یعنی بدعت نہیں، تیسری طلاق کے غیر مستحسن ہونے کی طرف تو خود اسلوب قرآن میں واضح …

Al-Baqara 2:230Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.