سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
بات پھر بنی اسرائیل کی طرف پلٹتی ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے ۔ ڈرایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جیسا موقف اختیار نہ کرو ، اس میں تو ہلاکت ہے۔ جو تردد اور انکار حق کا موقف ہے ۔ بغاوت اور سلامتی سے دور بھاگنے کا موقف ہے ۔ ہٹ دھرمی اور بار بار طلب معجزات کا موقف اور معجزات دیکھ کر بھی بغض وعناد رکھتے اور انکار کرتے چلے جانے کا موقف ۔ یہ ہیں وہ مقامات جہاں یہ قدم ڈگمگاسکتے ہیں ، پائے استقامت پھسل سکتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کردیتا ہے ، تاکہ مسلمان بنی اسرائیل کی طرح تلخ انجام تک نہ پہنچ جائیں۔
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ” بنی اسرائیل سے پوچھو کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے کیسی سخت سزا دیتا ہے۔ “
سوال سے مراد یہ نہیں ہے کہ رسول ﷺ جائیں اور بنی اسرائیل سے سوال کریں اور وہ پھر کوئی جواب دیں۔ یہ تو اسالیب قرآن میں سے ایک اسلوب ہے ۔ مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ بنی اسرائیل کے سامنے بکثرت معجزات پیش کئے گئے ۔ بیشمار کھلی نشانیاں ان کے سامنے آتی رہیں ۔ بعض نشانیاں تو ان کی ضد اور مطالبے پر دکھائی گئیں اور بعض معجزات اللہ تعالیٰ نے از خود اس وقت کی کسی مصلحت کی خاطر صادر فرمائے ، لیکن کثرت معجزات کے باوجود ان کا طرز عمل کیا تھا ، تردد اور وعدہ خلافی ، ہٹ دھرمی اور پش وپیش کرنا لیکن مسلسل یہ لوگ امن وسلامتی کے اس سایہ سے دور رہے جو صرف حظیرہ ایمان پر سایہ فگن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر ایک عام تعقیب آتی ہے وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کی نعمت پالینے کے بعد جو قوم اسے شقاوت سے بدلتی ہے ، اسے اللہ سخت سزا دیتا ہے۔ “ یہاں جس نصیحت کا ذکر ہورہا ہے وہ نصیحت اسلام ہے یا اس سے مراد ایمان کی نعمت ہے ۔ دونوں تقریباً مترادف ہیں ۔ اللہ کی نعمت کو شقاوت سے بدل دینے کی اعلیٰ مثال تاریخ بنی اسرائیل میں ملے گی ۔ جب انہوں نے نعمت کو شقاوت سے بدلا تو اطمینان اور سکون وقرار سے محروم ہوگئے ۔ انہوں نے تسلیم ورضا سے انکار کردیا ۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے آگے سرتسلیم خم نہ کیا۔ انہوں نے ہمیشہ شک اور تردد کا رویہ اپنایا ۔ قدم قدم پر معجزات طلب کرتے رہے ۔ ہر مرحلے پر دلائل پوچھتے رہے لیکن نہ معجزات سے انہیں اطمینان ہوا نہ دلائل بینات سے وہ قائل ہوئے ۔ نہ انہوں نے اللہ کے نور اور ہدایت سے استفادہ حاصل کیا ۔ اور ” اللہ کے عذاب شدید سے ڈرو “ اس کی اعلیٰ ترین مثال بھی تاریخ بنی اسرائیل ہے ۔ اور اس کے انجام بد کا انتظار وہ سب لوگ ، ہر دور میں اور ہر جگہ کرتے ہیں جو نعمت اسلام کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی کو اختیار کرتے ہیں اور پھر وہ اس پر فخر کرتے ہیں (تاریخ شاہد ہے کہ ایسے لوگ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے جس طرح بنی اسرائیل)
انسانیت نے جب بھی اس نعمت عظمیٰ کو بیچ کر شقاوت اور بدبختی حاصل کی ، اسے آخرت سے بھی پہلے اس کی اس دنیاوی زندگی میں سخت سے سخت سزادی گئی۔ ذرا کرہ ارض پر پھیلی ہوئی اس بدبخت انسانیت کی حالت زار پر نگاہ تو ڈالئے ! کیا وہ ایک شدید عذاب میں مبتلا نہیں ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر جگہ کس بدبختی اور تلخی ہی پاتی ہے ۔ ہر جگہ حیرت و اضطراب کا شکا رہے ۔ انسان ، انسان کو کھائے جارہا ہے بلکہ انسان خود اپنی جان اور اپنے اعصاب کو کھائے جارہا ہے ۔ فرد انسانیت کی تلاش میں دوڑتا ہے۔ اور انسانیت فرد کی متلاشی ہے۔ لیکن دونوں خالی سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ غرض عالم انسانیت میں اس وقت ایک مہلک خلا ہے ۔ اس خلاکو بعض نام نہاد تہذیب مغرب کے فرزند بھرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کبھی مسکرات کے استعمال سے اور کبھی منشیات کے کثرت استعمال سے ۔ بعض اوقات …