Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 211–220 of 286

211

سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

ربط آیات :- اوپر فرمایا تھا کہ بعد دلائل واضحہ آجانے کے حق کی مخالفت کرنا موجب سزا پہلی آیت میں اس کی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ جیسے بنی اسرائیل کو ایسی ہی مخالفت پر سزادی گئی :- خلاصہ تفسیر :- آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئے (تو سہی) ہم نے ان کو (یعنی ان کے بزرگوں کو) کتنی واضح دلیلیں دی تھیں (مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے اور الٹی گمراہی پر کمر باندھی پھر دیکھو سزائیں بھی بھگتیں مثلا توراۃ ملی، چاہئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہئے تھا سر آنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے ہلاک ہوئے اور مثلا دریا میں شگاف کرکے فرعون سے نجات دی گئی احسان مانتے مگر گوسالہ پرستی شروع کی جس پر سزائے قتل دی گئی اور مثلا من وسلویٰ نازل ہوا شکر کرنا چاہئے تھا نافرمانی کی وہ سڑنے لگا اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہوگیا، اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی اور مثلا انبیاء (علیہم السلام) کا سلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھتے ان کو قتل کرنا شروع کردیا جس پر یہ سزا دی گئی کہ ان سے حکومت و سلطنت چھین لی گئی وعلیٰ ھذاٰ بہت سے معاملات اسی سورة بقرہ کے شروع میں بھی مذکور ہوچکے ہیں) اور (ہمارا قانون ہی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی (ایسی بڑی) نعمت (دلائل واضحہ) کو بدلتا ہے اس کے پاس پہنچنے کے بعد (یعنی بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرے اور الٹا گمراہ بنتا ہے) تو یقینا حق تعالیٰ (ایسے شخص کو) سخت سزا دیتے ہیں۔- (دوسری آیت میں مخالفت حق کی اصلی علت اکثر یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ دنیا کی محبت ہے جس کے آثار میں سے اہل دین کو حقیر سمجھنا بھی ہے کیونکہ جب دنیا کا غلبہ ہوتا ہے دین کی طلب نہیں رہتی بلکہ دین کو اپنی دنیوی اغراض کے خلاف دیکھ کر ترک کر بیٹھتا ہے اور دوسرے طالبان دین پر ہنستا ہے چناچہ بعض رؤ سائے بنی اسرائیل اور جہلائے مشرکین غریب مسلمانوں کے ساتھ باستہزا پیش آیا کرتے تھے ان لوگوں کا بیان فرماتے ہیں) کہ دنیوی معاش کفار کو آراستہ پیراستہ معلوم ہوتی ہے اور (اسی وجہ سے) ان مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں حالانکہ یہ (مسلمان) جو کفر و شرک سے بچتے ہیں ان کافروں سے اعلیٰ درجہ (کی حالت) میں ہوں گے قیامت کے روز (کیونکہ کفار جہنم میں ہوں گے اور مسلمان جنت میں) اور (آدمی کو محض معاشی وسعت پر مغرور نہ ہونا چاہئے کیونکہ) روزی تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بےانداز (یعنی بکثرت) دیدیتے ہیں (پس اس کا مدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر سو یہ ضرور نہیں کہ جو روزی میں بڑا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی معزز ہو اور بڑی عزت وہی ہے جو اللہ کے نزدیک معتبر ہو پھر محض اس کے اوپر اپنے کو معزز اور دوسرے کو ذلیل سمجھنا بیوقوفی ہے) - معارف و مسائل :- دنیا کے مال و دولت اور عزت وجاہ پر مغرور ہونے اور غریب لوگوں کا استہزاء کرنے کی حقیقت قیامت کے روز آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔- حضرت علی مرتضیٰ (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن مرد یا عورت کو اس کے فقر وفاقہ کی وجہ سے ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو اولین وآخرین کے مجمع میں رسوا اور ذلیل کریں گے اور جو شخص کسی مسلمان مرد یا عورت پر بہتان باندھتا ہے اور کوئی ایسا عیب اس کی طرف منسوب کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو آگ کے ایک اونچے ٹیلہ پر کھڑا کریں گے جب تک کہ وہ خود اپنی تکذیب نہ کرے، (ذکرالحدیث القرطبی)

Al-Baqara 2:211Listen in Qur'an →
212

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ فَوْقَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَٱللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ

اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے

Explained together with ayah 211

Al-Baqara 2:212Listen in Qur'an →
213

كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّۦنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَمَا ٱخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلْحَقِّ بِإِذْنِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍ

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے

ربط آیات :- اوپر دین حق سے اختلاف کرنے کی علت حب دنیا کو بتایا ہے آگے اسی مضمون کی تائید فرماتے ہیں کہ مدت سے یہی قصہ چلا آرہا ہے کہ ہم دلائل واضحہ دین حق پر قائم کرتے ہیں اور طالبان دنیا اپنی دنیوی اغراض کے سبب اس سے خلاف کرتے رہے۔- خلاصہ تفسیر :- (ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق پر تھے (کیونکہ اول دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گذر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا حتی ٰکہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی) پھر (اس اختلاف کے رفع کرنے کو) اللہ تعالیٰ نے (مختلف) پیغمبروں کو بھیجا جو کہ (حق ماننے والوں کو) خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور (نہ ماننے والوں کو عذاب سے) ڈراتے تھے اور ان (پیغمبروں کی مجموعی جماعت) کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں (اور ان پیغمبروں کا بھیجنا اور کتابوں کا نازل فرمانا) اس غرض سے (تھا) کہ اللہ تعالیٰ (ان رسل وکتب کے ذریعہ سے اختلاف کرنے والے) لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمادیں (کیونکہ رسل وکتب امر واقعی کا اظہار کردیتے ہیں اور امر واقعی کے متعین ہونے سے ظاہر ہے کہ غیر واقعی کا غلط ہوجانا معلوم ہوجاتا ہے اور یہی فیصلہ ہے اور ان پیغمبروں کے ساتھ کتاب اللہ آنے سے چاہئے تھا کہ اس کتاب کو قبول کرتے اور اس پر مدار کار رکھ کر اپنے سب اختلافات مٹا دیتے مگر بعضوں نے خود اس کتاب ہی کو نہ مانا اور خود اسی میں اختلاف کرنا شروع کردیا) اور اس کتاب میں (یہ) اختلاف اور کسی نے نہیں کیا مگر صرف ان لوگوں نے جن کو (اولا) وہ کتاب ملی تھی (یعنی اہل علم واہل فہم نے کہ اول مخاطب وہی لوگ ہوتے ہیں دوسرے عوام ان کے ساتھ لگ لیا کرتے ہیں اور اختلاف بھی کیسے وقت کیا) بعد اس کے کہ ان کے پاس دلائل واضحہ پہنچ چکے تھے (یعنی ان کے ذہن نشین ہوچکے تھے اور اختلاف کیا کس وجہ سے صرف) باہمی ضدا ضدی کی وجہ سے (اور اصلی وجہ ضدا ضدی کی حب دنیا ہوتی ہے حب مال ہو یا حب جاہ پس مدار علت مخالفت حق کا وہی حب دنیا ٹھری اور یہی مضمون تھا سابق میں) پھر (یہ اختلاف کفار کا کبھی اہل ایمان کو مضر نہیں ہوا بلکہ) اللہ تعالیٰ نے (ہمیشہ) ایمان والوں کو وہ امر حق جس میں (مختلفین) اختلاف کیا کرتے تھے بفضلہ تعالیٰ (رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے کی بدولت) بتلا دیا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اسی کو راہ راست بتلا دیتے ہیں۔- معارف و مسائل : - اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی زمانہ میں تمام انسان ایک ہی مذہب وملت اور عقیدہ و خیال پر تھے جو ملت اور دین فطرت تھی پھر ان میں مزاج و مذاق اور رائے وفکر کے اختلاف سے بہت سے مختلف خیالات و عقائد پیدا ہوگئے جن میں یہ امتیاز کرنا دشوار تھا کہ ان میں حق کونسا ہے اور باطل کونسا حق کو واضح کرنے اور صحیح راہ حق بتلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے اور ان پر کتابیں اور وحی نازل فرمائی انبیاء (علیہم السلام) کی جدوجہد اور تبلیغ و اصلاح کے بعد انسان دو گروہوں میں منقسم ہوگئے ایک وہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات کو قبول کیا اور انبیاء (علیہم السلام) کے متبع ہوگئے جن کو مومن کہا جاتا ہے دوسرے وہ جنہوں نے آسمانی ہدایات اور انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا ان کی بات نہ مانی یہ لوگ کافر کہلاتے ہیں اس آیت کے پہلے جملہ میں ارشاد ہے وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ لفظ امۃ عربی لغت کے اعتبار سے ہر ایسی جماعت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی وجہ سے رابطہ و اتحاد اور وحدت قائم ہو خواہ یہ وحدت نظریات و عقائد کی ہو یا ایک زمانہ میں یا کسی ایک خطہ ملک میں …

Al-Baqara 2:213Listen in Qur'an →
214

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوا۟ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ ۗ أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے

ربط آیات :- اوپر کی آیت میں کفار کا ہمیشہ سے انبیاء ومؤ منین کے ساتھ اختلاف اور خلاف کرتے رہنا مذکور تھا جس میں ایک گونہ مسلمانوں کو اس طور پر تسلی دینا بھی مقصود تھا جن کو استہزاء کفار سے ایذاء ہوتی تھی کہ یہ خلاف تمہارے ساتھ نیا نہیں ہے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے آگے ان کفار مخالفین سے انبیاء ومؤ منین کو انواع انواع کی ایذائیں اور شدائد پہنچنے کی حکایت بیان فرماتے ہیں اور اس سے بھی مسلمانوں کو تسلی دلاتے ہیں کہ تم کو بھی کفار سے جو ایذائیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ کامل راحت تو آخرت کی محنت ہی اٹھانے سے ہے۔- خلاصہ تفسیر :- (دوسری بات سنو) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں (بےمشقت) جا داخل ہوگے حالانکہ (ابھی کچھ مشقت تو اٹھائی ہی نہیں کیونکہ) تم کو ہنوز ان (مسلمان) لوگوں کا سا عجیب واقعہ پیش نہیں آیا جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں ان پر (مخالفین کے سبب) ایسی ایسی تنگی اور سختی واقع ہوئی اور (مصائب سے) ان کو یہاں تک جنبشیں ہوئیں کہ (اس زمانہ کے) پیغمبر تک اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے (بےقرار ہوکر) بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد (موعود) کب ہوگی (جس پر ان کو جواب سے تسلی کی گئی کہ) یاد رکھو بیشک اللہ تعالیٰ کی امداد (بہت) نزدیک (ہونے والی) ہے۔- معارف و مسائل :- اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں۔- اول یہ کہ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بغیر مشقت و محنت کے اور بغیر مصائب وآفات میں مبتلا ہوئے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا حالانکہ ارشادات قرآنی اور ارشادات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کہ بہت سے گنہگار محض اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم اور مغفرت سے جنت میں داخل ہوں گے ان پر کوئی مشقت بھی نہ ہوگی وجہ یہ ہے کہ مشقت و محنت کے درجات مختلف ہیں ادنی ٰدرجہ نفس و شیطان سے مزاحمت کرکے یا دین حق کے مخالفین کے ساتھ مخالفت کرکے اپنے عقائد کا درست کرنا ہے اور یہ ہر مومن کو حاصل ہے آگے اوسط اور اعلیٰ درجات ہیں جس درجہ کی محنت ومشقت ہوگی اسی درجہ کا دخول جنت ہوگا اس طرح محنت ومشقت سے خالی کوئی نہ رہا ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔- اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل : سب سے زیادہ سخت بلائیں اور مصیبتیں انبیاء (علیہم السلام) کو پہنچتی ہیں ان کے بعد جو ان کے قریب تر ہیں۔- دوسری بات یہاں قابل نظر یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عرض کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی کسی شک وشبہ کی وجہ سے نہ تھا جو ان کی شان کے خلاف ہے بلکہ اس سوال کا منشاء یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ مدد کا وعدہ فرمایا ہے مگر اس کا وقت اور مقام متعین نہیں فرمایا اس لئے حالت اضطرار میں ایسے الفاظ عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ مدد جلد بھیجی جائے اور ایسی دعاء کرنا توکل یا منصب نبوت کے منافی نہیں بلکہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کی الحاح وزاری کو پسند فرماتے ہیں اس لئے انبیاء اور صلحاء امت اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

Al-Baqara 2:214Listen in Qur'an →
215

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍۢ فَلِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌۭ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

خلاصہ تفسیر :- بارہواں حکم صدقہ کے مصارف :- لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (ثواب کے واسطے) کیا چیز خرچ کیا کریں (اور کس موقع پر صرف کیا کریں) آپ فرما دیجئے کہ جو مال تم کو صرف کرنا ہو سو (اس کی تعیین تو تمہاری ہمت پر ہے مگر ہاں موقع ہم بتلائے دیتے ہیں کہ) ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کرو گے (خواہ راہ خدا میں خرچ کرنا ہو یا اور کچھ ہو) سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے) - معارف و مسائل : - اس سے پہلی آیتوں میں مجموعی حیثیت سے یہ مضمون بہت تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ کفر ونفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ حکم الہیٰ کے مقابل میں کسی کی بات مت سنو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جان اور مال خرچ کیا کرو اور ہر طرح کی شدت اور تکلیف پر تحمل کرو اب یہاں سے اسی اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے کے متعلق کچھ جزئیات کی تفصیل بیان ہوتی ہے جو کہ مال اور جان اور دیگر معاملات مثل نکاح و طلاق وغیرہ کے متعلق ہیں اور اوپر سے جو سلسلہ احکام ابواب البر کا جاری ہے اس میں داخل ہیں اور ان جزئیات کا بیان بھی ایک خاص نوعیت رکھتا ہے کہ اکثر ان میں سے وہ ہیں جن کے متعلق صحابہ کرام (رض) اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ان کے استفتاء اور سوالات کا جواب براہ راست عرش رحمٰن سے بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیا گیا اس کو اگر یوں سمجھا جائے کہ حق تعالیٰ نے خود فتویٰ دیا تو یہ بھی صحیح ہے اور قرآن کریم کی آیت قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ (١٢٧: ٤) میں صراحۃ حق تعالیٰ نے فتویٰ دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس لئے اس نسبت میں کوئی استبعاد بھی نہیں۔- اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ فتاوٰی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہیں جو آپ کو بذریعہ وحی تلقین کئے گئے ہیں بہرحال اس رکوع میں جو احکام شرعیہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کے چند سوالات کے جواب میں بیان ہوئے ہیں وہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں پورے قرآن میں اس طرح سوال و جواب کے انداز سے خاص احکام تقریباً سترہ جگہ میں آئے ہیں جن میں سے سات تو اسی جگہ سورة بقرہ میں ہیں ایک سورة مائدہ میں ایک سورة انفال میں، یہ نو سوالات تو صحابہ کرام کی طرف سے ہیں سورة اعراف میں دو اور سورة بنی اسرائیل، سورة کہف، سورة طٰہ، سورة نازعات میں ایک ایک، یہ کل چھ سوال کفار کی طرف سے ہیں جن کا جواب قرآن میں جواب کے عنوان سے دیا گیا ہے۔- مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی جماعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام سے بہتر نہیں دیکھی کہ دین کے ساتھ انتہائی شغف اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انتہائی محبت وتعلق کے باوجود انہوں نے سوالات بہت کم کئے کل تیرہ مسائل میں سوال کیا ہے جن کا جواب قرآن میں دیا گیا ہے کیونکہ یہ حضرات بےضرورت سوال نہ کرتے تھے (قرطبی) - متذکرہ بالا آیات میں سے پہلی آیت میں صحابہ کرام (رض) اجمعین کا استفتاء یعنی سوال ان الفاظ سے نقل فرمایا گیا ہے يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں یہی سوال اس رکوع میں تین آیتوں کے بعد پھر انہی الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ لیکن اس ایک ہی سوال کا جواب آیت متذکرہ میں کچھ اور دیا گیا ہے اور تین آیتوں کے بعد آنے والے سوال کا جواب اور ہے۔- اس لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک ہی سوال کے دو مختلف جواب کس حکمت پر مبنی ہیں یہ حکمت ان حالات و واقعات میں غور کرنے سے واضح ہوجاتی ہے جن میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں مثلا آیت متذکرہ کا شان نزول یہ ہے کہ عمرو بن جموح نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ …

Al-Baqara 2:215Listen in Qur'an →
216

كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ شَرٌّۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

خلاصہ تفسیر :- تیرہواں حکم فرضیت جہاد :- جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلوم ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی بات کو گراں سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں خیر (اور مصلحت) ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی کا ہو اور (ہر شے کی حقیقت حال کو) اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے (اچھے برے کا فیصلہ اپنی خواہش کی بنیاد نہ کرو جو کچھ اللہ کا حکم ہوجائے اسی کو اجمالا مصلحت سمجھ کر اس پر کار بند رہا کرو) - چودہواں حکم تحقیق قتال در شہر حرام :- (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کرام (رض) اجمعین کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوا رجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ کرام اس کو جمادی الاخریٰ کی تیس سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم میں سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کا بھی خیال نہیں کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور بعض روایات میں ہے کہ خود بعض کفار قریش نے بھی حاضر ہو کر اعتراضا سوال کیا اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے ) ۔- لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس میں خاص طور) یعنی عمدا) قتال کرنا جرم عظیم ہے (مگر مسلمانوں سے یہ فعل بالقصد صادر نہیں ہوا بلکہ تاریخ کی تحقیق نہ ہونے کے سبب غلطی سے ایسا ہوگیا یہ تو تحقیقی جواب ہے) اور (الزامی جواب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کا تو کسی طرح منہ ہی نہیں مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا، کیونکہ اگرچہ شہر حرام میں لڑنا جرم عظیم لیکن ان کفار کی جو حرکتیں ہیں یعنی) اللہ تعالیٰ کی راہ (دین) سے (لوگوں کو) روک ٹوک کرنا (یعنی مسلمان ہونے پر تکلیفیں پہنچانا کہ ڈر کے مارے لوگ مسلمان نہ ہوں) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ کفر کرنا (کہ وہاں بہت سے بت رکھ چھوڑے تھے اور بجائے خدا کی عبادت کے ان کی عبادت اور طواف کرتے تھے) اور جو لوگ مسجد حرام کے اہل تھے (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے مؤ منین) ان کو (تنگ اور پریشان کرکے) اس (مسجد حرام) سے خارج (ہونے پر مجبور) کردینا (جس سے نوبت ہجرت یعنی ترک وطن کی پہنچی سو یہ حرکتیں شہر حرام میں قتال کرنے سے بھی زیادہ) جرم عظیم ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (کیونکہ یہ حرکتیں دین حق کے اندر فتنہ پردازی کرنا) اور (ایسی) فتنہ پردازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے (جو مسلمانوں سے صادر ہوا) بدرجہا (قباحت میں) بڑھ کر ہے (کیونکہ اس قتل سے دین حق کو تو کوئی مضرت نہیں پہنچی بہت سے بہت اگر کوئی جان کر کرے خود ہی گنہگار ہوگا اور ان حرکتوں سے تو دین حق کو ضرر پہنچتا ہے کہ اس کی ترقی رکتی ہے) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ (وجدال کا سلسلہ جاری ہی) رکھیں گے اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں (ان کے اس فعل سے دین کی مزاحمت ظاہر ہے) - انجام ارتداد :- اور جو شخص تم میں سے اپنے دین (اسلام) سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجاوے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔- شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں مسلمانوں کو جواب مذکور سن کر گناہ نہ ہونے کا تو اطمینان ہوگیا تھا مگر اس خیال سے دل شکستہ تھے کہ ثواب تو ہوا ہی نہ ہوگا آگے اس میں تسلی کی گئی۔- وعدہ ثواب پر اخلاص نیت :- حقیقۃ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں (اور تم لوگوں میں یہ صفات علی سبیل منع الخلو موجود ہیں، …

Al-Baqara 2:216Listen in Qur'an →
217

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ قِتَالٍۢ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌۭ فِيهِ كَبِيرٌۭ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفْرٌۢ بِهِۦ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِۦ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَٰتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ ٱسْتَطَٰعُوا۟ ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

اشہر حرم میں قتال کا حکم :- آیات مذکورہ میں سے دوسری آیت اس پر شاہد ہے کہ اشہر حرم یعنی چار مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم میں قتال حرام ہے اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں پوری تصریح کے ساتھ اشہر حرم میں قتال کی ممانعت آئی ہے، مثلاً مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (اور حجۃ الوداع کے معروف و مشہور خطبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منہا اربعۃ حرم ثلاث متوالیات ورجب مضر۔- ان آیات وروایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ چار مہینوں میں قتال حرام ہے اور یہ حرمت ہمیشہ کے لئے ہے۔- اور امام تفسیر عطاء بن ابی رباح قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور بھی متعدد حضرات تابعین اس حکم کو ثابت غیر منسوخ قرار دیتے ہیں مگر جمہور فقہاء کے نزدیک اور بقول جصاص عام فقہاء امصار کے مسلک پر یہ حکم منسوخ ہے اب کسی مہینہ میں قتال ممنوع نہیں۔- اب رہا یہ سوال کہ اس کا ناسخ کونسی آیت ہے اس میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں بعض نے فرمایا کہ آیت کریمہ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً (٣٦: ٩) اس کی ناسخ ہے اور اکثر حضرات نے آیت فاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ (٥: ٩) کو ناسخ قرار دیا ہے اور لفظ حیث کو اس جگہ زمانے کے معنی میں لیا ہے کہ مشرکین کو جس مہینہ اور جس زمانے میں پاؤ قتل کردو اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس حکم کا ناسخ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا عمل ہے کہ خود آپ نے طائف کا محاصرہ اشہر حرم میں فرمایا اور حضرت عامر اشعری کو اشہر حرم ہی میں اوطاس کے جہاد کے لئے بھیجا اسی بناء پر عامہ فقہاء اس حکم کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ جصاص نے فرمایا وھو قول فقہاء الامصار۔ روح المعانی نے اسی آیت کے تحت میں اور بیضاوی نے سورة براءت کے پہلے رکوع کی تفسیر مظہری میں مذکورہ تمام دلائل کا جواب یہ دیا ہے کہ اشہر حرم کی حرمت کی تصریح خود اس آیت میں موجود ہے جس کو آیۃ السیف کہا جاتا ہے یعنی اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ (٣٦: ٩) اور یہ آیت آیات قتال میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور خطبہ حجۃ الوداع میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے صرف اسی (80) روز پہلے ہوا ہے اس میں بھی اشہر حرم کی حرمت کی تصریح موجود ہے اس لئے آیات متذکرہ کو اس کا ناسخ نہیں کہا جاسکتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا محاصرہ طائف ذوالقعدہ میں نہیں شوال میں ہوا ہے اس لئے اس کو بھی ناسخ نہیں کہہ سکتے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اشہر حرم میں قتال کی حرمت مطلقہ جو مذکورہ آیات سے معلوم ہوتی ہے اس میں سے وہ صورت مستثنیٰ کردی گئی ہے کہ خود کفار ان مہینوں میں مسلمانوں سے قتال کرنے لگیں تو جوابی حملہ اور دفاع مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہے اتنے حصہ کو منسوخ کہا جاسکتا ہے جس کی تصریح اس آیت میں ہے الشَّهْرُ الْحَرَام بالشَّهْرِ الْحَرَامِ (١٩٤: ٢) - تو خلاصہ یہ ہوا کہ ابتداءً قتال تو ان مہینوں میں ہمیشہ کے لئے حرام ہے مگر جب کفار ان مہینوں میں حملہ آور ہوں تو مدافعانہ قتال کی مسلمانوں کو بھی اجازت ہے جیسا کہ امام جصاص نے بروایت حضرت جابر بن عبداللہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی شہر حرام میں اس وقت تک قتال نہ کرتے تھے جب تک قتال کی ابتداء کفار کی طرف سے نہ ہوجائے۔- انجام ارتداد :- آیت مذکورہ يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ کے آخر میں مسلمان ہونے کے بعد کفر و ارتداد اختیار کرنے کا یہ حکم ذکر فرمایا ہے کہ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ (یعنی ان لوگوں کے اعمال دنیا وآخرت میں سب غارت ہوجائیں گے۔- مسئلہ : دنیا میں اعمال کا ضائع ہونا یہ ہے کہ اس کی …

Al-Baqara 2:217Listen in Qur'an →
218

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أُو۟لَٰٓئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

Explained together with ayah 217

Al-Baqara 2:218Listen in Qur'an →
219

۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَآ إِثْمٌۭ كَبِيرٌۭ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ ٱلْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

خلاصہ تفسیر :- پندرہواں حکم متعلقہ شراب وقمار :- لوگ آپ سے شراب اور قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں (چیزوں کے استعمال) میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی (پیدا ہوجاتی) ہیں اور لوگوں کو (بعضے) فائدے بھی ہیں اور (وہ) گناہ کی باتیں ان فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں (اس لئے دونوں قابل ترک ہیں) - معارف و مسائل : - صحابہ کرام (رض) اجمعین کے سوالات اور ان کے جوابات کا جو سلسلہ اس سورت میں بیان ہو رہا ہے، اس میں یہ آیت بھی ہے اس میں شراب اور جوُئے کے متعلق صحابہ کرام (رض) اجمعین کا سوال اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ہے، یہ دونوں مسئلے نہایت اہم ہیں اس لئے کسی قدر تفصیل کے ساتھ ان کی پوری حقیقت اور احکام سنئے۔- حرُمت شراب اور اس کے متعلقہ احکام :- ابتداء اسلام میں عام رسوم جاہلیت کی طرح شراب خوری بھی عام تھی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ میں بھی شراب اور قمار یعنی جوا کھیلنے کا رواج تھا عام لوگ تو ان دونوں چیزوں کے صرف ظاہری فوائد کو دیکھ کر ان پر فریفتہ تھے ان کے اندر جو بہت سے مفاسد اور خرابیاں ہیں ان کی طرف نظر نہیں تھی لیکن عادۃ اللہ یہ بھی ہے کہ ہر قوم اور ہر خطہ میں کچھ عقل والے بھی ہوتے ہیں جو طبیعت پر عقل کو غالب رکھتے ہیں کوئی طبعی خواہش اگر عقل کے خلاف ہو تو وہ اس خواہش کے پاس نہیں جاتے اس معاملہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام تو بہت ہی بلند تھا کہ جو چیز کسی وقت حرام ہونے والی تھی آپ کی طبیعت اس سے پہلے ہی نفرت کرتی تھی صحابہ کرام (رض) اجمعین میں بھی کچھ ایسے حضرات تھے جنہوں نے حلال ہونے کے زمانے میں بھی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد چند حضرات صحابہ کرام (رض) اجمعین کو ان کے مفاسد کا زیادہ احساس ہوا۔ حضرت فاروق اعظم اور معاذ بن جبل اور چند انصاری صحابہ کرام (رض) اجمعین اسی احساس کی بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ شراب اور قمار انسان کی عقل کو بھی خراب کرتے ہیں اور مال بھی برباد کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے اس سوال کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی یہ پہلی آیت ہے جس میں شراب اور جوئے سے مسلمانوں کو روکنے کا ابتدائی قدم اٹھایا گیا۔- اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ شراب اور جوئے میں اگرچہ لوگوں کے کچھ ظاہری فوائد ضرور ہیں لیکن ان دونوں میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو ان کے منافع اور فوائد سے بڑھی ہوئی ہیں اور گناہ کی باتوں سے وہ چیزیں مراد ہیں جو کسی گناہ کا سبب بن جائیں مثلاً شراب میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ عقل وہوش زائل ہوجاتا ہے جو تمام کمالات اور شرف انسانی کا اصل اصول ہے کیونکہ عقل ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسانوں کو برے کاموں سے روکتی ہے جب وہ نہ رہی تو ہر برے کام کے لئے راستہ ہموار ہوگیا۔- اس آیت میں صاف طور پر شراب کو حرام تو نہیں کہا گیا مگر اس کی خرابیاں اور مفاسد بیان کردیئے گئے کہ شراب کی وجہ سے انسان بہت سے گناہوں اور خرابیوں میں مبتلا ہوسکتا ہے گویا اس کے ترک کرنے کے لئے ایک قسم کا مشورہ دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ کرام (رض) اجمعین تو اس مشورہ ہی کو قبول کرکے اسی وقت شراب کو چھوڑ بیٹھے اور بعض نے یہ خیال کیا کہ اس آیت نے شراب کو حرام تو کیا نہیں بلکہ مفاسد دینی کا سبب بننے کی وجہ سے اس کو سبب گناہ قرار دیا ہے ہم اس کا اہتمام کریں گے کہ وہ مفاسد واقع نہ ہوں تو پھر شراب میں کوئی حرج نہیں اس لئے پیتے رہے یہاں تک کہ ایک روز یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے صحابہ کرام میں سے چند اپنے دوستوں کی دعوت کی، کھانے کے بعد حسب دستور شراب پی گئی اسی حال میں نماز مغرب کا وقت آگیا سب نماز کے لئے کھڑے ہوگئے تو ایک صاحب …

Al-Baqara 2:219Listen in Qur'an →
220

فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْيَتَٰمَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌۭ لَّهُمْ خَيْرٌۭ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

سترہواں حکم۔ مخالطت یتیم :- (چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لئے یہ وعید سنائی گئی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگار پیٹ میں بھرنا تو سننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے اور الگ رکھواتے اور اتفاقا اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا تھا کیونکہ اس کا استعمال نہ ان لوگوں کے لئے جائز تھا اور نہ یتیم کے مال کو صدقہ کردینے کا اختیار تھا اس طرح تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کا نقصان بھی اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا اس کے متعلق آیت میں یہ ارشاد آیا) اور لوگ آپ سے یتیم بچوں (کے خرچ علیٰحدہ یا شامل رکھنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ (اصل مقصود ہمارا ان کے اموال کھانے کی ممانعت سے یہ ہے کہ ان کی مصلحت کو ضائع نہ کیا جائے اور جب خرچ شامل رکھنے میں ان کی مصلحت ہے تو) ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا (علیٰحدہ خرچ رکھنے سے جو خلاف مصلحت ہے) زیادہ بہتر ہے اور تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو (کچھ ڈر کی بات نہیں کیونکہ) وہ بچے تمہارے (دینی) بھائی ہیں (اور بھائی بھائی شامل رہا ہی کرتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ مصلحت کے ضائع کرنے والے کو اور مصلحت کی رعایت رکھنے والے کو (الگ الگ) جانتے ہیں (اس لئے کھانے پینے میں اشتراک ایسا نہ ہونا چاہئے جس میں یتیم کی مصلحت ضائع ہوجائے اور بلا علم وبلا قصد کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی نیک نیتی معلوم ہے اس لئے اس پر مواخذہ ہوگا) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو (اس معاملہ میں سخت قانون مقرر کرکے) تم کو مصیبت میں ڈال دیتے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (مگر قانون سہل اس لئے مقرر فرمایا کہ وہ) حکمت والے (بھی) ہیں (ایسا حکم نہیں دیتے جو نہ ہوسکے)

Al-Baqara 2:220Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.