Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 201–210 of 286

201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

آیت 201 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ یہی وہ دعا ہے جو طواف کے ہر چکر میں رکن یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان چلتے ہوئے مانگی جاتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا خیر ایمان اور ہدایت ہے۔ دنیا کا کوئی خیر خیر نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ ہدایت اور ایمان نہ ہو۔ چناچہ سب سے پہلے انسان ہدایت ‘ ایمان اور استقامت طلب کرے ‘ پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں کشادگی اور رزق میں کشائش کی دعا بھی کرے تو یہ بات پسندیدہ ہے۔

Al-Baqara 2:201Listen in Qur'an →
202

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

آیت 202 اُولٰٓءِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا ط۔ یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ محض دعا کافی نہیں ہوجائے گی ‘ بلکہ اپنا عمل بھی ضروری ہے۔ یہاں پر یہ جو فرمایا کہ ان کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں سے کیوں ؟ وہ تو سارا ملنا چاہیے ! لیکن نہیں ‘ بندے کو اپنے اعمال پر غرّہ نہیں ہونا چاہیے ‘ اسے ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں کسی مسئلے میں میری نیت میں فساد نہ آگیا ہو ‘ ممکن ہے میرے کسی عمل کے اندر کوئی کمی یا کوتاہی ہوگئی ہو۔ اس لیے یہ نہ سمجھ لیں کہ جو کچھ بھی کیا ہے اس کا اجر لازماً ملے گا۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں اگر خلوص ہے ‘ ریاکاری نہیں ہے ‘ اس کے تمام آداب اور شرائط ملحوظ رکھے گئے ہیں تو ان کو ان کا حصہ ملے گا۔وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ اللہ تعالیٰ کو حساب چکانے میں دیر نہیں لگتی ‘ وہ بہت جلدی حساب کرلے گا۔ اب تو ہمارے لیے یہ سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں رہا ‘ ہمارے ہاں کمپیوٹرز پر کتنی جلدی حساب ہوجاتا ہے ‘ اللہ کے ہاں تو پتا نہیں کیسا سپر کمپیوٹر ہوگا کہ اسے حساب نکالنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی !

Al-Baqara 2:202Listen in Qur'an →
203

۞ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

آیت 203 وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ط اس سے مراد ذوالحجہ کی گیارہویں ‘ بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں جن میں یوم نحر کے بعد منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے۔ اِن تین دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے۔ دیگر اوقات میں بھی ان دنوں میں تکبیر اور ذکر الٰہی کثرت سے کرنا چاہیے۔فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج۔ یعنی جو کوئی تین دن پورے نہیں کرتا ‘ بلکہ دو دن ہی میں واپسی اختیار کرلیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔وَمَنْ تَاَخَّرَ یعنی منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تین دن کی مقدار پوری کرے۔فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی ط۔ اصل چیز تقویٰ ہے۔ جو کوئی زمانۂ حج میں پرہیزگاری کی روش اختیار کیے رکھے تو اس پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کرے یا تین دن۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہے۔ اگر کسی شخص نے منیٰ میں قیام تو تین دن کا کیا ‘ لیکن تیسرے دن اس نے کچھ اور ہی حرکتیں شروع کردیں ‘ اس لیے کہ جی اکتایا ہوا ہے اور طبیعت کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہے تو وہ تیسرا دن اس کے لیے کچھ خاص مفید ثابت نہیں ہوگا۔ اصل شے جو اللہ کے ہاں قبولیت کے لیے شرط لازم ہے ‘ وہ تقویٰ ہے۔ آگے پھر فرمایا :وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ تم سب کے سب ہانک کر اسی کی جناب میں لے جائے جاؤ گے۔

Al-Baqara 2:203Listen in Qur'an →
204

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

آیت 204 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا یہ منافقین میں سے ایک خاص گروہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ منافقین میں سے بعض تو ایسے تھے کہ ان کی زبانوں پر بھی نفاق واضح طور پر ظاہر ہوجاتا تھا ‘ جبکہ منافقین کی ایک قسم وہ تھی کہ بڑے چاپلوس اور چرب زبان تھے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی تھی گویا وہ تو بڑے ہی مخلص اور بڑے ہی فداکار ہیں۔ اپنا موقف اس انداز سے پیش کرتے کہ یوں لگتا تھا کہ بڑی ہی نیک نیتی پر مبنی ہے ‘ لیکن ان کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔ ان کی ساری بھاگ دوڑ رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی مخالفت کی راہ میں ہوتی تھی۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ لا اور وہ اللہ کو بھی گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر۔ اس کا انداز کلام یہ ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اللہ جانتا ہے کہ خلوص سے کہہ رہا ہوں ‘ پوری نیک نیتی سے کہہ رہا ہوں۔ منافق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔

Al-Baqara 2:204Listen in Qur'an →
205

وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

آیت 205 وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ط یہ لوگ جب آپ ﷺ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور لوگوں کی کھیتیاں اور جانیں تباہ و برباد کریں۔

Al-Baqara 2:205Listen in Qur'an →
206

وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

آیت 206 وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بالْاِثْمِ جب ایسے شخص سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کا خوف کرو ‘ اللہ سے ڈرو ‘ تم باتیں ایسی خوبصورت کرتے ہو اور عمل تمہارا اتنا گھناؤنا ہے ‘ ذرا سوچو تو سہی ‘ تو اس کو اپنی جھوٹی انا اور عزت نفس گناہ پر اور جما دیتی ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جس سے خطا ہوگئی تو اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔ جبکہ ایک شخص وہ ہے جس کا طرزعمل یہ ہوتا ہے کہ میں کیسے مان لوں کہ میری غلطی ہے ؟ اس کی جھوٹی انا اور جھوٹی عزت نفس اسے گناہ سے ہٹنے نہیں دیتی بلکہ مزید آمادہ کرتی ہے۔ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ط سو اس کے لیے جہنم کافی ہے۔ وَلَبِءْسَ الْمِہَادُ روایات میں آتا ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص اخنس بن شریق تھا ‘ یہ اس کا کردار بیان ہوا ہے۔ شان نزول کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے اور تاویل خاص میں اس کو بھی سامنے رکھا جائے گا ‘ لیکن درحقیقت یہ ایک کردار ہے جو آپ کو ہر جگہ ملے گا۔ اصل میں اس کردار کو پہچاننا چاہیے اور اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے کہ اس کردار سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔

Al-Baqara 2:206Listen in Qur'an →
207

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

آیت 207 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ط قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ کرداروں کا فوری تقابل simultaneous contrast کرتا ہے۔ چناچہ ایک ناپسندیدہ کردار کے ذکر کے فوراً بعد پسندیدہ کردار کا ذکر کیا گیا کہ لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے َ تج دیتے ہیں اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَاللّٰہُ رَءُ وْفٌم بالْعِبَادِ ۔ جس شخص نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنا سب کچھ تج دینے کا ارادہ کرلیا ہو ‘ نیت کرلی ہو ‘ اس سے بھی کبھی کوئی کوتاہی ہوسکتی ہے ‘ کبھی جذبات میں آکر کوئی غلط قدم اٹھ سکتا ہے۔ اپنے ایسے بندوں کو اللہ تعالیٰ بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ معاف فرمائے گا۔

Al-Baqara 2:207Listen in Qur'an →
208

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

آیت 208 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص اہل ایمان سے اب وہ بات کہی جا رہی ہے جس کا معکوس converse ہم بنی اسرائیل سے خطاب کے ذیل میں آیت 85 میں پڑھ چکے ہیں : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط کیا تم ہماری کتاب اور دین و شریعت کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کردیتے ہو ؟ سو جو کوئی بھی تم میں سے یہ روش اختیار کریں ان کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ دنیا میں ذلت ‘ و خواری ان پر مسلط کردی جائے اور قیامت کے دن ان کو شدید ترین عذاب میں جھونک دیاجائے۔ ّ اب مثبت پیرائے میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی اطاعت میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ تحفظات reservations اور استثناء ات exceptions کے ساتھ نہیں۔ یہ طرز عمل نہ ہو کہ اللہ کی بندگی تو کرنی ہے ‘ مگر فلاں معاملے میں نہیں۔ اللہ کا حکم تو ماننا ہے لیکن یہ حکم میں نہیں مان سکتا۔ اللہ کے احکام میں سے کسی ایک کی نفی سے کل کی نفی ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ جزوی اطاعت قبول نہیں کرتا۔ وََلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ

Al-Baqara 2:208Listen in Qur'an →
209

فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

آیت 209 فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ ‘ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اس میں تہدید اور دھمکی کا پہلو ہے کہ پھر اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہوگی۔ اور پھر یہ کہ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس کی پکڑ میں بھی حکمت ہے ‘ اگر اس کی طرف سے پکڑ کا معاملہ نہ ہو تو پھر دین کا پورا نظام بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے کسی گناہ پر پکڑ ہی نہیں ہے تو پھر یہ آزمائش کیا ہوئی ؟ پھر جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا معاملہ کیا ہوا ؟

Al-Baqara 2:209Listen in Qur'an →
210

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

آیت 210 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آجانے کے بعد بھی کج روی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواج قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے ؟انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے ‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے ‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہوجائیں ‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں ‘ بچے برسر روزگار ہوجائیں ‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہوجائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں ‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کرلوں گا۔ یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔ کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے ! یہ مہلت عمر تو اچانک ختم ہوسکتی ہے۔ پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 25جو مرگیا تو اس کی قیامت تو آگئی !تو کیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کرلو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کرسکو ؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہوسکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہوجائے۔

Al-Baqara 2:210Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.