Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 201–210 of 286

201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار یعنی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے دنیا کی بھلائی اور بہتری بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی بہتری بھی اور عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔- اس میں لفظ حسنۃ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے مثلاً دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت اہل و عیال کی صحت، رزق حلال میں وسعت و برکت دنیوی سب ضروریات کا پورا ہونا اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ علم نافع، عزت و وجاہت، عقائد کی درستی صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں اور آخرت کی حسنہ میں جنت اور اس کی بیشمار اور لازوال نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رضا اور اس کا دیدار یہ سب چیزیں شامل ہیں۔- الغرض یہ دعاء ایک ایسی جامع ہے کہ اس میں انسان کے تمام دنیوی اور دینی مقاصد آجاتے ہیں دنیا وآخرت دونوں جہان میں راحت و سکون میسر آتا ہے آخر میں خاص طور پر جہنم کی آگ سے پناہ کا بھی ذکر ہے یہی وجہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار اور حالت طواف میں خصوصیت کے ساتھ یہ دعاء مسنون ہے اس آیت میں ان جاہل درویشوں کی بھی اصلاح کی گئی ہے جو صرف آخرت ہی کی دعاء مانگنے کو عبادت جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ درحقیقت یہ ان کا دعوی غلط اور خیال خام ہے، انسان اپنے وجود اور بقاء اور عبادت وطاعت سب میں ضرورت دنیوی کا محتاج ہے وہ نہ ہوں تو دین کا بھی کوئی کام کرنا مشکل ہے اسی لئے انبیاء (علیہم السلام) کی سنت یہ ہے کہ جس طرح وہ آخرت کی بھلائی اور بہتری اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اسی طرح دنیا کی بھلائی اور آسائش بھی طلب کرتے ہیں، جو شخص دنیوی حاجات کے لئے دعاء مانگنے کو زہد و بزرگی کے خلاف سمجھے وہ مقام انبیاء (علیہم السلام) سے بیخبر اور جاہل ہے ہاں صرف دنیوی حاجات ہی کو مقصد زندگی نہ بنائے اس سے زیادہ آخرت کی فکر کرے اور اس کے لئے دعاء مانگے۔- آیت کے آخر میں اسی دوسرے طبقہ کا جو کہ اپنی دعاؤں میں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی مانگتا ہے انجام ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے اس صحیح اور نیک عمل اور دعاؤں کا نتیجہ ان کو دنیا وآخرت میں ملے گا اس کے بعد ارشاد ہے واللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَاب یعنی اللہ جلد حساب لینے والا ہے کیونکہ اس کا علم محیط اور قدرت کاملہ کے لئے ساری مخلوقات کے ایک ایک فرد اور پھر اس کی عمر بھر کے اعمال کا حساب لینے میں ان آلات و ذرائع کی ضرورت نہیں جن کا انسان محتاج ہے اس لئے وہ بہت جلد ساری مخلوقات کا حساب لے لیں گے اور ان پر جزاء وسزا مرتب فرمائیں گے۔

Al-Baqara 2:201Listen in Qur'an →
202

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

Explained together with ayah 201

Al-Baqara 2:202Listen in Qur'an →
203

۞ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

منیٰ میں دو یا تین دن کا قیام اور ذکر اللہ کی تاکید :- آٹھویں آیت جو اس جگہ احکام حج کی آخری آیت ہے اس میں حجاج کو ذکر اللہ کی طرف متوجہ کرکے ان کے مقصد حج کی تکمیل اور آئندہ زندگی کو درست رکھنے کی ہدایت اس طرح فرمائی گئی وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ یعنی اللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں ان چند دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں جن میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہنا واجب ہے، آگے ایک مسئلہ کی وضاحت کی گئی کہ منٰی میں قیام اور جمرات پر کنکریاں مارنا کب تک ضروری ہے اس میں اہل جاہلیت کا اختلاف رہا کرتا تھا بعض لوگ تیرہویں تاریخ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام اور جمرات پر رمی کرنے کو ضروری سمجھتے تھے اس سے پہلے بارہویں کو واپس آجانے کو ناجائز اور ایسا کرنے والوں کو گنہگار کہا کرتے تھے اسی طرح دوسرے لوگ بارہویں تاریخ کو چلے آنا ضروری سمجھتے اور تیرھویں تک ٹھہرنے کو گناہ جانتے تھے اس آیت میں ان دونوں کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ یعنی جو شخص عید کے بعد صرف دو دن منٰی میں قیام کرکے واپس آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن تک مؤ خر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ دونوں فریق جو ایک دوسرے کو گنہگار کہتے ہیں غلو اور غلطی میں مبتلا ہیں۔- صحیح یہ ہے کہ حجاج کو دونوں صورتوں میں اختیار ہے جس پر چاہیں عمل کریں ہاں افضل واولیٰ یہی ہے کہ تیسرے دن تک ٹھہریں، فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے دن غروب آفتاب سے پہلے منٰی میں چلا آیا اس پر تیسرے دن کی رمی واجب نہیں لیکن اگر آفتاب منیٰ میں غروب ہوگیا پھر تیسرے دن کی رمی کرنے سے پہلے وہاں سے واپس آجانا جائز نہیں رہتا البتہ تیسرے دن کی رمی میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ وہ زوال آفتاب سے پہلے صبح کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔- منیٰ سے واپسی کا اور اس میں حجاج کو اختیار دینے کا ذکر فرمانے کے بعد جو کچھ کہا گیا کہ دوسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں اور تیسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں یہ سب اس شخص کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والا ہے کیونکہ درحقیقت حج اسی کا ہے، جیسا قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (٢٧: ٥) یعنی اللہ تعالیٰ عبادت انہی کی قبول کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اطاعت شعار بندے ہیں، اور جو شخص حج سے پہلے بھی گناہوں میں ملوّث تھا اور حج کے اندر بھی بےپروائی سے کام لیتا رہا حج کے بعد بھی گناہوں سے پرہیز نہ کیا تو اس کا حج کوئی فائدہ نہ دے گا اگرچہ اس کا حج فرض ادا ہوگیا ترک حج کا مجرم نہیں رہا۔- آخر میں ارشاد فرمایا واتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ یعنی ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اور یقین کرو کہ تم سب اللہ کے پاس جمع ہونے والے ہو وہ تمہارے کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے اعمال کا حساب لیں گے اور ان پر جزا وسزا دیں گے احکام حج جو اوپر کی آیات میں بیان کئے گئے ہیں یہ جملہ درحقیقت ان سب کی روح ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ خاص ایام حج میں جب کہ اعمالِ حج میں مشغول ہو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو احکام حج میں کوئی کوتاہی نہ کرو کیونکہ وزن اعمال کے وقت انسان کے گناہ اس کے نیک اعمال کو کھا جائیں گے نیک اعمال کا اثر اور وزن ظاہر نہ ہونے دیں گے عبادت حج کے متعلق حدیث میں ہے کہ جب انسان حج سے فارغ ہو کر آتا ہے تو اپنے سابقہ گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے آج پیدا ہوا ہے اس لئے خاص طور سے حجاج کو آئندہ کے لئے تقویٰ کی ہدایت کی گئی کہ پچھلے گناہوں سے پاک ہوچکے ہو آگے احتیاط رکھو تو دنیا وآخرت کی بھلائی تمہارے لئے ہے ورنہ جو شخص حج کے بعد پھر گناہوں میں مبتلا ہوگیا تو پچھلے گناہوں کی …

Al-Baqara 2:203Listen in Qur'an →
204

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

ربط آیات :- اوپر کی آیتوں میں دعا مانگنے والے آدمیوں کی دو قسمیں ٹھرائی تھیں ایک کافر کہ منکر آخرت ہے اس لئے صرف دنیا مانگتا ہے دوسرا مومن کہ معتقد آخرت ہے دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتا ہے اب اگلی آیت میں اسی طرح کی تقسیم نفاق و اخلاص کے اعتبار سے فرماتے ہیں کہ بعض منافق ہوتے ہیں اور بعض مخلصین۔- خلاصہ تفسیر :- (کوئی شخص تھا اخنس بن شریق بڑا فصیح وبلیغ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر قسمیں کھا کھا کر دعویٰ اسلام کیا کرتا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت و ایذا رسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں فرماتے ہیں) اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے (کہ اظہار اسلام سے مسلمانوں کی طرح قرب وخصوصیت کے ساتھ رہوں گا اس کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے) مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ (اپنا اعتبار بڑھانے کو) اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہے اپنے دل کی سچائی پر حالانکہ (بالکل جھوٹا ہے کیونکہ واقع میں) وہ (آپکی) مخالفت میں (نہایت) شدید ہے اور (جس طرح آپ کا مخالف ہے اسی طرح اور مسلمانوں کو بھی ایذا پہنچاتا ہے چنانچہ) جب (آپ کی مجلس سے) پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ شہر میں (کوئی) فساد کردے اور (کسی کی) کھیت اور مواشی کو تلف کردے (چنانچہ ایک مسلمان کا اس طرح نقصان کردیا) اور اللہ تعالیٰ فساد (کی باتوں) کو پسند نہیں فرماتے اور (اس مخالفت و ایذاء کے ساتھ مغرور اس درجہ ہے کہ) جب اس سے کوئی کہتا ہے خدا سے ڈر تو (اور زیادہ) آمادہ کردیتا ہے اس کو غرور گناہ پر سو ایسے شخص کی کافی سزا جہنم اور وہ برا ٹھکانا ہے اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے بدلہ میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں۔- معارف و مسائل :- آیت کا آخری حصہ جس میں مومن کا یہ حال بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بھی بازی لگا دیتا ہے یہ ان مخلص صحابہ کرام (رض) اجمعین کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بےمثال قربانیاں اللہ کی راہ میں پیش کی ہیں، مستدرک حاکم ابن جریر، مسند ابن ابی حاتم وغیرہ میں بسند صحیح منقول ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رومی کے اس واقعہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں کفار قریش کی ایک جماعت نے راستہ روک لیا یہ دیکھ کر حضرت صہیب رومی اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور ان کے ترکش میں جتنے تیر تھے سب نکال لئے اور قریش کی اس جماعت سے خطاب کیا کہ اے قبیلہ قریش تم سب جانتے ہو کہ میں تیر اندازی میں تم سب سے زیادہ ماہر ہوں میرا تیر کبھی خطا نہیں کرتا اور اب میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ تم میرے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکو گے جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے اور تیروں کے بعد میں تلوار سے کام لوں گا جب تک مجھ میں دم رہے گا پھر جو تم چاہو کرلینا اور اگر تم نفع کا سودا چاہتے ہو تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ دیتا ہوں جو مکہ میں رکھا ہے تم وہ مال لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو اس پر قریش کی جماعت راضی ہوگئی اور حضرت صہیب رومی نے صحیح سالم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کر واقعہ سنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ فرمایا۔- ربح البیع ابا یحییٰ ربح البیع ابا یحییٰ تمہارا بیوپار نفع بخش رہا تمہاری بیع نفع بخش رہی، - اسی واقعہ میں آیت مذکورہ کے نزول نے اس کلام کی تصدیق کردی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔- اور بعض حضرات مفسرین نے کچھ دوسرے صحابہ کرام (رض) اجمعین کے ایسے ہی واقعات کو آیت کا شان نزول بتلایا ہے (مظہری)

Al-Baqara 2:204Listen in Qur'an →
205

وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

Explained together with ayah 204

Al-Baqara 2:205Listen in Qur'an →
206

وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

Explained together with ayah 204

Al-Baqara 2:206Listen in Qur'an →
207

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

Explained together with ayah 204

Al-Baqara 2:207Listen in Qur'an →
208

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

ربط آیات :- اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت باوجود حلال اعتقاد رکھنے کے صرف عملاً ترک کردیں تو شریعت موسویہ کی بھی رعایت ہوجاوے اور شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور اس میں خدا تعالیٰ کی زیادہ اطاعت اور دین کی زیادہ رعایت معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس خیال کی اصلاح آیت آئندہ میں کسی قدر اہتمام سے فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کامل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ ہو اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جاوے اور ایسے امر کو دین سمجھنا ایک شیطانی لغزش ہے اور بہ نسبت ظاہری معاصی کے اس کا عذاب زیادہ سخت ہونے کا خطرہ ہے۔- خلاصہ تفسیر :- اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو (یہ نہیں کہ کچھ یہودیت کی بھی رعایت کرو) اور ایسے خیالات میں پڑکر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (کہ ایسے پٹی پڑھا دیتا ہے کہ ظاہر میں تو سراسر دین معلوم ہو اور فی الحقیقت بالکل دین کے خلاف) پھر اگر تم بعد اس کے کہ تم کو واضح دلیلیں (احکام وشرائع اسلام کی) پہنچ چکی ہیں (پھر بھی صراط مستقیم سے) لغزش کرنے لگو تو یقین رکھو کہ حق تعالیٰ (بڑے) زبردست ہیں (سخت سزا دیں گے اور کچھ دنوں تک سزا نہ دیں تو اس سے دھوکہ مت کھانا کیونکہ وہ) یہ لوگ (جو کہ بعد وضوح دلائل حق کے کج راہی اختیار کرتے ہیں) صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس (سزا دینے کے لئے) آویں اور سارا قصہ ہی ختم ہوجاوے (یعنی کیا اس وقت امر حق قبول کریں گے جس وقت کا قبول کرنا مقبول بھی نہ ہوگا) اور یہ سارے (جزاء وسزا کے) مقدمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کئے جاویں گے (کوئی دوسرا صاحب اختیار نہ ہوگا سو ایسے زبردست کے ساتھ مخالفت کرنے کا انجام بجز خرابی کے کیا ہوسکتا ہے) - معارف و مسائل : - اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً سلم بالکسر والفتح دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک صلح دوسرے اسلام اس جگہ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اسلام مراد ہے (ابن کثیر) لفظ کافۃ جمیعا اور عامۃ کے معنی میں آتا ہے یہ لفظ اس جگہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے جس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ضمیر ادخلوا کا حال قرار دیا جائے دوسرے یہ کہ سلم بمعنی اسلام کا حال ہو پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم پورے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ یعنی تمہارے ہاتھ پاؤں، آنکھ کان، دل اور دماغ سب کا سب دائرہ اسلام و اطاعت الہہ کے اندر داخل ہونا چاہئے ایسا نہ کہ ہاتھ پاؤں سے تو احکام اسلامیہ بجا لارہے ہو مگر دل و دماغ اس پر مطمئن نہیں یا دل دماغ سے تو اس پر مطمئن ہو مگر ہاتھ پاؤں اور اعضاء وجوارح کا عمل اس سے باہر ہے۔- اور دوسری صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم داخل ہوجاؤ مکمل اور پورے اسلام میں یعنی ایسا نہ ہو کہ اسلام کے بعض احکام کو تو قبول کرو بعض میں پس وپیش رہے اور چونکہ اسلام نام ہے اس مکمل نظام حیات کا جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے خواہ اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا معاملات ومعاشرت سے حکومت وسیاست سے اس کا تعلق ہو یا تجارت وصنعت وغیرہ سے اسلام کا جو مکمل نظام حیات ہی تم سب اس پورے نظام میں داخل ہوجاؤ۔- خلاصہ …

Al-Baqara 2:208Listen in Qur'an →
209

فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

Explained together with ayah 208

Al-Baqara 2:209Listen in Qur'an →
210

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

Explained together with ayah 208

Al-Baqara 2:210Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.