Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 201–210 of 286

201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے :

فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ “

لوگوں میں دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے ۔ اسے حصول دنیا کا بےحد شوق ہوتا ہے ۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے ، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :” اللہ ! اس سال کو بارش کا سال بنائیے ، تروتازگی کا سال بنائیے ، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے ۔

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے ۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کردیتا ہے ۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو ، ان کے مقدر میں ہو ، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں ۔

دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے ۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے ۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں ۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں ۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ “

یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں ۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے ، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے ۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں ۔

اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کا حصہ انہیں ضرور ملے گا ۔ اس میں دیر نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں ۔

ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو ، اپنے تمام امور اس کو سپرد کردے ، اللہ کو اپنا اختیار دے دے ، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو ، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہوگی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیاہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھوبیٹھا ۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک …

Al-Baqara 2:201Listen in Qur'an →
202

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے :

فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ “

لوگوں میں دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے ۔ اسے حصول دنیا کا بےحد شوق ہوتا ہے ۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے ، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :” اللہ ! اس سال کو بارش کا سال بنائیے ، تروتازگی کا سال بنائیے ، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے ۔

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے ۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کردیتا ہے ۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو ، ان کے مقدر میں ہو ، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں ۔

دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے ۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے ۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں ۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں ۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ “

یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں ۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے ، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے ۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں ۔

اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کا حصہ انہیں ضرور ملے گا ۔ اس میں دیر نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں ۔

ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو ، اپنے تمام امور اس کو سپرد کردے ، اللہ کو اپنا اختیار دے دے ، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو ، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہوگی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیاہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھوبیٹھا ۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک …

Al-Baqara 2:202Listen in Qur'an →
203

۞ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں ۔ پھر جو کوئی جلدی کرے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔ “

راجح بات یہ ہے کہ ایام ذکر یوم عرفہ ، یوم نحر اور پھر ایام تشریق ہیں ۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں ۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ معدود دنوں میں ذکر سے مراد تکبیریں ہیں جو ایام تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں ۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔ پہلے ہم عبدالرحمن بن معمر دیلمی کی حدیث نقل کر آئے ہیں کہ ” منیٰ کے دن تین ہیں ۔ اب اگر کوئی دوہی دنوں میں شتاب واپس ہوگیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور اگر کوئی تاخیر کرکے پورے وقت کے بعد آئے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ غرض عرفہ ، حج اور ایام تشریق سب میں مناسب ہے کہ اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ ہو ، چاہے ان میں پہلے دونوں کو منتخب کیا جائے یا دوسرے دو دنوں کو ، لیکن ہر معاملے میں اللہ خوفی اور پرہیز گاری پیش نظر رہے۔” بشرطیکہ یہ دن تقویٰ کے ساتھ بسر کئے۔ “ لِمَنِ اتَّقَى۔

حج کی گہماگہمی کی مناسبت سے ، اب یہاں یوم حشر کا ذکر کیا گیا جہاں تمام مخلوق حساب و کتاب کے لئے جمع ہوگی ۔ وہاں ایک خوفناک منظر ہوگا لہٰذا اس مقام کی تیاری کرو اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ “

ان آیات کے مطالعے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عربوں کے مروجہ حج کو کس طرح ایک اسلامی فریضہ قرار دیا۔ اس کا ربط جاہلیت کے پس منظر سے ٹوٹ گیا ۔ اب وہ اسلامی زندگی کا ایک جزو بن گیا ۔ اسے بداخلاقیوں اور گندگیوں سے پاک کردیا ۔ اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے ، جس رسم ، جس عبادت کو بھی باقی رکھا ہے اسے جاہلیت کے شوائب سے پاک کرکے رکھا ہے ۔ اس کی وہ شکل بدل گئی ہے جو ایام جاہلیت میں ہوا کرتی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے جیسا کہ جدید لباس میں ایک موزوں ٹکڑا۔ اب حج معروف معنوں میں اہل عرب کا ایک عادی اور رسمی فعل نہ رہا بلکہ اب وہ ایک اسلامی عبادت قرار دے دی گئی ہے کیونکہ اب اسلام ہی معیار ہے۔ اسلام کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی مفید رسم کو باقی رکھے۔

Al-Baqara 2:203Listen in Qur'an →
204

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

درس 13 ایک نظر میں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ہدایات دیں۔ مختلف موضوعات پر قانون وضع کئے گئے ہیں ۔ ان ہدایات اور قوانین کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان سے ایک خدائی نظام زندگی وجود میں آتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے ۔ اس راہنمائی اور اس قانون سازی کے درمیان اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نظام تربیت بھی عطا کردیا ہے ۔ یہ ایک بہترین نظام اصلاح ہے ۔ اس لئے کہ اللہ نفس انسانی کی حقیقت کے بارے میں اس کی ظاہری اور خفیہ رسم وراہوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے ۔ اور مختلف انسانوں کی ایسی تصویر بناتا ہے ، جس کے خدوخال واضح ہوتے ہیں ۔ جس میں تمام مطلوبہ خصائص واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ جب انسان الفاظ کی اس تصویر کو آئینہ دماغ میں رکھ کر ، انسانوں کی بھیڑ میں ان اوصاف کے حاملین کی تلاش میں نکلتا ہے ، تو یوں لگتا ہے کہ گویا وہ لوگ گلیوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ۔ زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں اور ایک انسان انگلی رکھ کر بتاسکتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے ۔

اس سبق میں انسانوں کی دواقسام کے واضح خدوخال بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ اقسام عام طور پر انسانوں میں پائی جاتی ہیں ۔ پہلی قسم نمائشی ، شریر اور زبان دراز لوگوں کی ہے ۔ ایسا شخص اپنی ذات کو پوری زندگی کا محور بنالیتا ہے ۔ ایسا شخص بظاہر بہت ہی بھلامعلوم ہوتا ہے ، لیکن جب اندرون کھلتا ہے تو گندگی ہی گندگی ہوتی ہے ۔ اسے جب اصلاح احوال اور اللہ خوفی کی طرف دعوت دی جائے تو حق کی طرف نہیں آتا ۔ اپنی اصلاح نہیں کرتا ، اپنے وقار کا خیال اسے گناہ پر جما دیتا ہے ۔ اپنے غرور کی وجہ سے وہ سچائی اور بھلائی سے منہ پھیرلیتا ہے وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے اور نسل انسانی کو تباہ کرتا ہے ۔

دوسری قسم ان مومنین صادقین کی ہے جو اپنی پوری ہستی کا سودا رضائے الٰہی کے حصول کے عوض کرلیتے ہیں ۔ پوری زندگی بیچ دیتے ہیں ۔ اس کا کچھ حصہ بھی رہنے نہیں دیتے ۔ اپنی سعی اور عمل ، اپنی تمام تگ ودو میں ، وہ اپنا کوئی حصہ نہیں رکھتے ۔ وہ اپنے آپ کو فنا ۔۔۔۔ کردیتے ہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔

انسانوں کے یہ دومعیاری نمونے پیش کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ کسی تردد ، کسی جھجھک ، مطالبہ خوارق و معجزات کے بغیر پورے پورے دین اسلام میں داخل ہوجائیں ۔ بنی اسرائیل کی طرح نہ بنیں ، جنہوں نے قدم قدم پر خوارق ومعجزات کا مطالبہ کیا ، اللہ کی اس نعمت یعنی اسلامی نظام زندگی کی نعمت کو چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” پوری طرح اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ “ اشارہ اس طرف ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور تمہیں اپنی پوری زندگی کو اس نظام میں ڈھالنا ہے اس نظام پر عمل کرنا ہے ۔ (تفصیل آگے آرہی ہے )

ایمان کی نعمت عظمیٰ اور مسلمانوں پر اس کی امن وآشتی کی چھاؤں کے مقابلے میں ، کفار کے غلط نقطہ نظر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ لوگ اپنے ناقص تصور زندگی کی وجہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ لیکن بتادیا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک کس کی کیا قدر (Value) ہے۔” مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے کس طرح پیدا ہوگیا اور یہ کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ معیار حق کی طرف پلٹیں اور اسے اپنا حاکم تسلیم کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حق کا یہ معیار اللہ کی کتاب ہے ، جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے بارے میں جو اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ، اس میں ان کے درمیان فیصلہ کرے۔

اس مناسبت سے بتادیا جاتا ہے کہ اس معیار حق کتاب اللہ کے حاملین کی راہ میں بیشمار مشکلات ہیں ۔ امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں سختیاں ہیں ، …

Al-Baqara 2:204Listen in Qur'an →
205

وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

نفس انسانی کے یہ عجیب خدوخال ، کسی ماہر فن عکاس کی قلم سے ہیں اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ یہ تصویر کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے ۔ اس کلام اور اس نفسیاتی عکاسی کا سرچشمہ انسانی دماغ ہرگز نہیں ہے ۔ کیونکہ کوئی انسان اس قدر مختصر الفاظ میں ، اتنی مختصر عکاسی کے ساتھ ، اس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اور نفس انسانی کے ایسے گہرے خدوخال سامنے نہیں لاسکتا۔ جو اس قدر وسیع بھی ہوں اور اس قدر واضح بھی ۔

اس کلام کا ہر لفظ تصویر کی ایک لکیر ہے ، جو انسان کے کسی خدوخال ، کسی خصوصیت کا اظہار کرتی ہے ، جلد ہی یہ نقش ونگار چلتے پھرتے زندہ انسانوں کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ جس کی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ وہ ایک الگ شخصیت بن جاتی ہے ، جس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔ لاکھوں انسانوں میں سے ، اسے الگ کیا جاسکتا ہے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ شخص جس کی مصوری قرآن نے کی ہے ۔ الفاظ میں تصویر کشی بھی ایک قسم کی تخلیق ہے جس طرح زندہ چیزیں دست قدرت سے ، رات اور دن پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔

اب یہ زندہ شخصیت ہے ۔ گویا بھی ہے اور چلتی پھرتی ہے ۔ اور اس کی ذات نیکی کا خلاصہ اور اخلاص کا پتلا ہے ۔ محبت ویکسوئی کا نمونہ اور بلند ہمت ہے ، بھلائی و نیکی اور طہارت و پاکیزگی کی ایک تڑپ ہے ۔ جو اس کے اندر پائی جاتی ہے ۔

اور یہ دوسری شخصیت جس کی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں جو بہت زبان دراز ہے ۔ اس کی آواز کڑاکے دار ہے ، بات کرتا ہے تو بھلائی ، نیکی اور اصلاح کی بات کرتا ہے ۔ اپنی نیک نیتی پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی بات زیادہ موثر اور واضح ہو۔ اور اس کی یکسوئی اور خلوص میں شبہ نہ ہو ، اس سے بظاہر نیکی اور اللہ خوفی کا اظہار ہو ، حالانکہ یہ شخص فی الحقیقت اللہ کا بدترین دشمن ہے ۔ اس کا نفس کینے اور جھگڑے سے بھر پڑا ہے۔ اس میں محبت اور شرافت کا ہلکا سا پرتو بھی نہیں یہ محبت وبھلائی سے یکسر محروم ہے ۔ احسان وایثار اس میں نام کو نہیں ۔

اس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے الٹ ہے ۔ اس کا عیاں اس کے نمایاں سے دور ہے ۔ وہ جھوٹ کو بڑی چابکدستی سے سچ کا رنگ دے سکتا ہے لیکن جب عمل کا میدان آتا ہے تو وہ یہاں عیاں ہوجاتا ہے۔ حقیقت پردے سے باہر آجاتی ہے اور اس کا شر و فساد ، اور اس کا فتنہ کھل کر سامنے آجاتا ہے اس کی دشمنی اور کینہ پروری عیاں ہوجاتے ہیں وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ ” جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اسی لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کا غارت کرے ، اور نسل انسانی کو تباہ کرے ۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ “

جب وہ کسی عملی کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا رجحان شروفساد ، سنگدلی اور ظلم کی جانب ہوتا ہے ۔ ہر معاملے میں سخت جھگڑالو ۔ وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے ، کھیتوں کے پھل ، سبزیاں اور روئیدگی وسرسبزی چھین لیتا ہے اور نسل انسانی کو بھی برباد کردیتا ہے ۔

وہ ہر قسم کی بھلائی کا دشمن ہے ۔ کھیتوں کو غارت کردیتا ہے ۔ پھل اور سبزیاں اور غلے تباہ ہوجاتے ہیں ۔ سرسبزی اور شادابی کی جگہ خشکی وویرانی آبستی ہے ۔ اور اس کا غلبہ نسل انسانی کی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔

زندگی کی ہلاکت سے مراد وہ کینہ وشر اور وہ غدروفساد ہے ، جو اس بداخلاق شخص کے وجود میں پرورش پارہی تھی لیکن یہ شخص اسے اپنی چرب زبانی اور شیریں کلامی ، نیکی کے مظاہرے اور اصلاح و شرافت اور بھلائی وتقویٰ کی نمائش کے ذریعے چھپائے رکھتا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا اور ان مفسدین کو بھی پسند نہیں کرتا جو اس کائنات میں فساد پھیلانے کا موجب بنتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے اس قسم کے لوگ ہرگز پوشیدہ نہیں رہ سکتے ۔ اللہ …

Al-Baqara 2:205Listen in Qur'an →
206

وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

سیاق کلام آگے بڑھتا ہے ۔ یہی تصور سامنے ہے کچھ لکیریں مزید کھینچی جاتی ہیں اور کچھ نشانات اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں ۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ” جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنے وقار کیا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لئے تو بس جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ۔ “

جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ زمین میں فساد برپا کرتا ہے ، کھیتوں کو غارت کرتا ہے ، انسانی نسل کو تباہ کرتا ہے ، تباہی و بربادی کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ ایسے شخص کے سینے میں شروفساد اور کینہ کا جو لاوا پک رہا تھا وہ پھوٹ کر باہر نکل آتا ہے ۔ جب اس قسم کا شخص یہ سب کچھ کرنے لگتا ہے اور اسے نصیحت کی خاطر اللہ خوفی کی یاددہانی کے لئے اللہ کے غضب سے بچنے کے لئے اور اس محسن سے حیا کرنے کے لئے صرف یہ کہا جاتا ہے :” اللہ سے ڈرو “ (اتق اللہ) تو وہ سخت بگڑتا ہے کہ کیوں اس کے سامنے یہ جراءت کی گئی ۔ یہ بات اسے کیوں کہی گئی ، یہ تو بری چیز ہے ۔ اسے نیکی کی طرف متوجہ کرنے والے ہیں کون ؟ اس پر اعتراض کرنے والوں کو یہ جراءت کیسے ہوئی ۔ کیا یہ لوگ اسے ہدایت دے رہے ہیں چناچہ اسے اپنے وقار کا خیال ، حق پر نہیں ، انصاف پر نہیں ، بھلائی پر نہیں بلکہ گناہ پر جما دیتا ہے ۔ وہ جرم کو عزت سمجھنے لگتا ہے ۔ خطا کو صواب سمجھتا ہے ۔ گناہ کو نیکی تصور کرتا ہے اور حق کے مقابلے میں اکڑجاتا ہے ۔ گردن فرازی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بڑی ڈھٹائی سے اتراتا ہے ۔ حالانکہ پہلے خود اس کی حالت یہ تھی کہ یہ اپنی نیک نیتی پر ہر وقت اللہ کو گواہ ٹھہراتا ، اور ہر وقت بھلائی ، نیکی ، یکسوئی اور حیاچشمی کا مظاہرہ کرتا۔

یہ ایک آخری (Touch) ہے ، جس سے اس تصویر کے خدوخال پورے ہوجاتے ہیں۔ یہ واضح تر ہوجاتی ہے اور اس کی کئی اقسام بھی سامنے آجاتی ہیں ۔ یہ تصویر اب زندہ متحرک مثالوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ کسی تردد کے بغیر آپ یہ کہہ سکتے ہیں :” وہ ہے ! وہ ہے ! وہ ہے ! جس کی تصویر قرآن مجید نے ان الفاظ میں کھینچی ہے ۔ غرض ایسے لوگ تمہیں زندہ اشخاص کی صورت میں ہر دور میں اور ہر جگہ نظرآئیں گے ۔ “

ان صفات کفر پر جم جانے ، گناہ کو وطیرہ بنالینے ، حق کے ساتھ دشمنی اختیار کرنے ، سنگدلانہ فساد بپا کرنے اور فسق وفجور پھیلانے غرض ان سب صفات کے مقابلے میں اللہ کا صرف ایک ہی تازیانہ آتا ہے ۔ تازیانہ عبرت ! جو اس قماش کے لوگوں کے لئے موزوں اور ان کے حالات کے مطابق ہے کیا ؟ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ” ایسے لوگوں کے لئے تو جہنم ہی علاج ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ “

کافی ہے ان کے بس ، کفایت یہ کفایت کرتی ہے ، جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ۔ جہنم جس میں ایسے مفسدین کو الٹا کرکے گرایاجائے گا اور شیطان کا تمام لشکر اس میں الٹاکرکے گرایا جائے گا ۔ جہنم جس کی آگ دل کو جلاڈالے گی ۔ جس کی جلن بجلی کی طرح دل سے چیخیں نکال دے گی۔ جہنم جو ہر چیز کو نیست ونابود کردے گی ، جلا کر راکھ کردے گی ۔ جہنم جس کے شعلے خوفناک وغضبناک ہوں گے ........ یہ جہنم ہی اس کا علاج ہے ، بہت ہی براٹھکانہ ہے ۔

غور کیجئے ! کس قدر حقارت آمیز تصویر ہے جہنم کی ۔ اس حقیر ٹھکانے کی ۔ کس قدر بدحال ہوگا وہ شخص جس کا یہ ٹھکانہ ٹھہرے ۔ ابھی ابھی دنیا میں یہ شخص اکڑ کر چلتا تھا ۔ پھولا ہوا پھرتا تھا اور کبر و غرور کا عالم یہ تھا کہ برائی پر بھی جمن جاتا تھا ، لیکن اب کہاں ہے ؟ مقام ذلت میں !

Al-Baqara 2:206Listen in Qur'an →
207

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

یہ تو ہے ایک قسم کے لوگوں کی تصویر ۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ دوسرا بھی بھی دیکھئے ۔ اس دنیا میں کچھ اچھے لوگ بھی تو ہیں ۔ ذرا ان نفوس قدسیہ پر بھی نظر ڈالیں ۔ ان کے مقابلے میں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ” دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ “

لفظ یشری کا مفہوم وسیع ہے یعنی فروخت کردینا اپنی جان کو ، پوری جان کو ، پوری کی پوری حوالہ کردیتا ہے ۔ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑتا ، لیکن اس سودے میں قیمت کیا وصول کرتا ہے ؟ صرف رضائے الٰہی کی امید ۔ اب اس کا نفس اس کا اپنا نہیں رہا ہے ۔ نہ نفس کے بعد اس کے لئے کچھ رہ گیا ہے ، بےدھڑک اس نے سب کچھ بیچ ڈالا ۔ بےخطر سب کچھ دے دیا اور لیا بھی کچھ نہیں ۔ تمام پونجی ، تمام وجود بیچ ڈالا ، اللہ کو دے دیا ۔ غیر اللہ کے لئے نفس کا کوئی حصہ بچا کر نہ رکھا گیا۔

ایک تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے : اس نے اپنے نفس کو بیچا نہیں ، بلکہ خریدا ہے ۔ اس کا نفس اغراض دنیا وی کا غلام تھا ۔ اس نے اسے خرید لیا ۔ خرید کر آزاد کردیا ۔ آزاد کرکے اللہ تعالیٰ خالص اللہ کا کردیا۔ اب اس نفس کے ساتھ کسی کا کوئی حق وابستہ نہیں ہے ۔ صرف اللہ کا حق ہے ۔ مالک کا حق ہے ۔ یہ شخص دنیا کی تمام اغراض ، تمام مقاصد کو قربان کردیتا ہے اور اپنے نفس کو قابض کرکے اللہ کے لئے کردیتا ہے ۔ بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا موقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔

ابن کثیر نے لکھا ہے :” ابن عباس ؓ ، انس ؓ ، سعید بن مسیب (رح) ، ابوعثمان نہدی (رح) ، عکرمہ (رح) اور ایک پوری جماعت صحابہ وتابعین کا کہنا ہے : یہ آیت صہیب بن سنان رومی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ مکہ مکرمہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ہجرت کی تیاری کرنے لگے ۔ لوگوں نے کہا کہ تم اپنی دولت کے ساتھ نہیں جاسکتے ۔ اگر جانا ہی چاہتے ہو تو دولت یہاں چھوڑ دو اور انہوں نے ان کی شرائط کے مطابق جان چھڑائی ۔ تمام دولت ان کے حوالے کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے حق میں نازل فرمائی۔ حضرت عمر ؓ اور آپ کے بعض دوسرے رفقاء کی ملاقات ان سے حرہ کے گرد ونواح میں ہوئی ۔ انہوں نے اس سے کہا : سودا نفع بخش ہے ۔ “ انہوں نے کہا :” اچھا آپ لوگ ہیں ! اللہ آپ کی تجارت میں کبھی خسارہ نہ کرے ۔ معاملہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے انہیں پورا قصہ سنایا اور اطلاع دی کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا :” صہیب نے اس سودے میں بہت ہی نفع کمایا ہے۔ “

ابن مردویہ (رح) نے محمد بن ابراہیم (رح) ، محمد بن عبداللہ (رح) ، سلیمان بن داؤد ، جعفر بن ابی سلیمان ضبی ، عوف (رح) ، اور ابوعثمان نہدی (رح) کے واسطوں سے حضرت صہیب ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں :” جب میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو مجھے اہل قریش نے کہا صہیب ! جب تم آئے تھے تو تمہارے پاس ایک کوڑی نہ تھی ، اب تم جاتے ہو تو مال کے ساتھ ۔ یہ نہ ہوسکے گا ۔ میں نے ان سے کہا : اگر میں اپنی دولت تمہارے لئے چھوڑ دوں تو کیا تم مجھے جانے دوگے ؟ انہوں نے کہا :” بڑی خوشی سے ۔ “ میں نے اپنی دولت ان کے حوالے کردی انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔ میں نکل پڑا ۔ مدینہ پہنچا ۔ اس ماجرا کی اطلاع رسول ﷺ نے پائی تو آپ نے فرمایا :” صہیب خوب کمایا صہیب خوب کمایا۔ “ دو مرتبہ آپ نے فرمایا۔

چاہے آیت اس واقعے میں نازل ہوئی ہو یا اس واقعے پر رسول ﷺ اور صحابہ نے اسے منطبق پایا۔ لیکن اس کا مفہوم ایک حادثہ ایک فرد کے مقابلے میں بہت ہی وسیع ہے ۔ یہ تو ایک نفس کی نفسیاتی کییفیت کی ایک تصویر ہے ۔ اس میں لوگوں کی ایک قسم کے خدوخال بتائے گئے ہیں ۔ اس کی مثالیں جگہ جگہ ملتی ہیں ، دیکھی …

Al-Baqara 2:207Listen in Qur'an →
208

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

اہل ایمان کو بلایا جاتا ہے ایمان کے لقب کے ساتھ جو انہیں بہت ہی پیاری ہے ، جو انہیں امتیاز بخشتی ہے ۔ انہوں اوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو ان کے اور ان کے پکارنے والے ، ان کے اپنے رب کے درمیان واحد رابطہ ہے ۔ اہل ایمان کو پکار کر دعوت دی جاتی ہے کہ پورے پورے اسلام میں آجاؤ !

اس دعوت کا پہلا اور ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کلیتاً اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ اور ان کا پورا وجود ، اپنے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں ، اللہ کے لئے ہوجائے ۔ ان کے تصور اور ان کے شعور ، ان کی نیت اور ان کے عمل ، ان کی خواہش اور ان کی قناعت کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہ جائے ۔ وہ پورے کے پورے اسلام میں آجائیں ۔ پورے کے پورے اللہ کے تابع ہوجائیں ۔ اور ہر معاملے میں اللہ کے ہوں اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں ۔ وہ اپنی لگام اس ہاتھ میں ، مکمل یقین و اطمینان کے ساتھ تھمادیں جو ان کی قیادت کررہا ہے ۔ اور انہیں پورا یقین ہو کہ ان کا قائد بھلائی خیر خواہی اور صحیح راہنمائی کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتا ۔ وہ اطمینان کرلیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہیں ، جس منزل کی طرف وہ رواں دواں ہیں وہی حق ہے اور اسی میں دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔

اس مرحلے پر ، اہل ایمان کو مکمل تسلیم کی دعوت دینے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کے دلوں میں تردد تھا ، خلجان تھا جو ابھی تک اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہوں نے ظاہراً اور باطناً ہر طرح سے پوری پوری اطاعت کرنی ہے ۔ اور یہ کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے ۔ تحریکات میں ایک طرف اگر مطمئن ، پختہ کار اور مطیع فرمان لوگ ہوتے ہیں ، تو ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن میں کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ یہ پکار اور یہ دعوت ایسی ہے جو ہر وقت اہل ایمان کو دی جاتی رہے گی کہ وہ مخلص ہوجائیں ، یکسو ہوجائیں ۔ ان کے دل کی دھڑکنیں ، ان کے شعور اور میلانات اللہ کے حکم اور اللہ کے ارادے سے ہم آہنگ ہوجائیں ۔ وہ اللہ کے ہوجائیں جو انہیں ان کے نبی اور ان کے اپنے نظام کی طرف لے جاتا ہے ، بغیر کسی تردد ، بغیر کسی خلجان کے اور پوری یکسوئی کے ساتھ۔

اور ایک مومن جب اس دعوت کو قبول کرتا ہے ، شرح صدر کے ساتھ اور پورے طور پر ، تو وہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھتا ہے ، جو امن کی دنیا ہے ، جو سلامتی کی دنیا ہے۔ وہ ایک ایسے جہاں میں داخل ہوجاتا ہے جو اطمینان کا جہاں ہے ۔ جو رضا اور سکون کا جہاں ہے ، وہ ایک ایسے عالم میں جاپہنچتا ہے جس میں نہ حیرانی ہے نہ پریشانی ، جس میں فساد ہے نہ گمراہی جہاں ہر شخص اور ہر ذی روح کے ساتھ بن پڑتی ہے ۔ جہاں وجود اور موجودات کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ جہاں نفس انسانی کے خفیہ ترین اور پوشیدہ ترین گوشوں میں بھی سکون ہے اور انسان کی ظاہری اور اجتماعی زندگی میں سکون ہے ۔ ایسا عالم ، جس کی زمین میں امن و سکون اور جس کے ایمان پر بھی اطمینان وقرار۔

اس سلامتی کا قلب مومن پر پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے اللہ اور اپنے رب کے بارے میں ایک صحیح تصور ملتا ہے ۔ یہ تصور خالص بھی ہے اور ستھرا بھی ۔ یہ کہ وہ واحد معبود ہے صرف اسی کی طرف مومن متوجہ ہوتا ہے اور وہی اس کا قبلہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر مومن مستقلاً جم جاتا ہے اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے۔ نہ اب مختلف راستے رہتے ہیں نہ مختلف قبلے رہتے ہیں ۔ اب وہ حالت نہیں رہی وہ نہایت ہی اطمینان ، نہایت ہی وثوق اور نہایت صحت اور نہایت صفائی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔

وہ ایک ایسا آلہ ہے جو عزیز اور طاقتور ہے ، جو غالب اور قادر ہے ۔ جب مومن اس کی طرف پھرتا ہے تو وہ سچائی کی ایک زبردست قوت کی طرف پھرتا ہے ، جو اس کائنات کی واحد قوت ہے ۔ اب یہ اطمینان واستراحت کی زندگی بسر کرے گا اور اسے کسی جھوٹی قوت کا کوئی ڈر نہ ہوگا۔ وہ کسی چیز سے خوف نہ کھائے گا وہ ایسے معبود کی بندگی کرے گا جو عزیز اور …

Al-Baqara 2:208Listen in Qur'an →
209

فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اب بتایا جاتا ہے کہ اگر ان ہدایات اور واضح ہدایات کے بعد بھی تم لغزش کھاتے ہو تو تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا ۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کے پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حاکم ہے ۔ “

وہ عزیز ہے اور غالب ہے ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ قوت اور غلبے کا مالک ہے ۔ اگر وہ اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں اللہ کی قوت قاہرہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور وہ حکیم ہے ، صاحب حکمت ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اس نے تمہارے لئے جو نظام زندگی تجویز کیا ہے ، وہ بہتر ہے اور جس سے اس نے تمہیں روکا ہے وہ دراصل تمہارے لئے برا ہے اور اگر وہ اللہ کے احکام کی پیروی نہیں کریں گے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے نہیں چبیں گے تو انہیں سخت خسارہ ہوگا ۔ اس لئے اس تعقیب اور خلاصے کے دونوں حصے دراصل سخت تنبیہ ہیں اور ایک ڈراوا ہیں ۔

اب یہاں سے تنبیہ و تخویف کے لئے ایک جدید اسلوب اختیار کیا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں پورے نہ آنے اور شیطان کی پیروی اختیار کرنے پر نتائج کیا ہوسکتے ہیں ۔ اب خطاب کا انداز ترک کرکے غائب کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں۔

Al-Baqara 2:209Listen in Qur'an →
210

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا ۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہوگی اور وہ بات بھی درست کررہا ہوگا۔

اچانک ........ ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا ۔ معاملہ ختم ہی ہوگیا ۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آجاتا ہے ، جس سے انہیں ڈرایا جارہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہورہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ (” اور فیصلہ ہو ہی گیا) “ وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔ فرصت کے اوقات ختم ہوگئے ۔ نجات مشکل ہوگئی ۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ” تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ “

یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے ۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید ، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ ومتحرک صورت میں پیش کرتا ہے ۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کررہا ہے۔

کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے ۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے ۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے ۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے ۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی ، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے ۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا ۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے ۔ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ

اب اس اندازکلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے ۔ روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتا ہے ۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے ، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس وپیش کرتے تھے ۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے ” اللہ نے بیشمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا ۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ “

Al-Baqara 2:210Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.